• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا پاگل انسان سیدھے جنت میں جائیں گئے ؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

شیخ محترم @اسحاق سلفی مسنن احمد کی یہ حدیث پوسٹ کر دے جو ویڈیو میں بتائی گئی ہے
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,401
ری ایکشن اسکور
1,091
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

شیخ محترم @اسحاق سلفی مسنن احمد کی یہ حدیث پوسٹ کر دے جو ویڈیو میں بتائی گئی ہے
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
محترم وہ حدیث یہ ھے:
عن الأسود بن سريع أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال أربعة يوم القيامة رجل أصم لا يسمع شيئا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة فأما الأصم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئا وأما الأحمق فيقول رب لقد جاء الإسلام والصبيان يحذفوني بالبعر وأما الهرم فيقول ربي لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئا وأما الذي مات في الفترة فيقول رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه فيرسل إليهم أن ادخلوا النار قال فوالذي نفس محمد بيده لو دخلوها لكانت عليهم بردا وسلاما
(لنک)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
یہاں مقرر محترم جو فرمایا وہ مجھے صحیح سمجھ نہ آسکا ،
پھر عمر بھائی نے جو حدیث پیش فرمائی ،وہ مقرر محترم کے بیان کے مطابق تو نہیں لگتی ،
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,401
ری ایکشن اسکور
1,091
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہاں مقرر محترم جو فرمایا وہ مجھے صحیح سمجھ نہ آسکا ،
محترم شیخ!
مقرر محترم ولیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ھوۓ بیچ میں پیدائشی پاگل کے بارے میں گفتگو کرتے ھوۓ بتا رھے ھیں. دلیل کے طور پر مسند احمد کی حدیث پیش کر رھے ھیں. واللہ اعلم بالصواب

پھر عمر بھائی نے جو حدیث پیش فرمائی ،وہ مقرر محترم کے بیان کے مطابق تو نہیں لگتی ،
محترم شیخ!
السؤال: هنالك سؤال يحيرني هو كيف يُحاسب الإنسان المجنون في الآخرة؟
الإجابة: المجنون لا يحاسب، وإذا كان عاقلا ثم أصبح مجنونا بعد البلوغ فإنه يكون من لحظة الجنون كأنه قد مات فيحاسب فقط على ما مضى، وأما يوم القيامة فإن الله تعالى يمتحن من ولد مجنونا حتى مات أو صار مجنونا قبل البلوغ حتى مات، يمتحنهم يوم القيامة فمن نجا في الامتحان دخل الجنة ومن هلك دخل النار وفي ذلك ورد الحديث التالي : ـ
"أربعة يوم القيامة يدلون بحجة: رجل أصم لا يسمع، و رجل أحمق، و رجل هرم، ومن مات في الفترة، فأما الأصم فيقول :يا رب جاء الإسلام و ما أسمع شيئا، وأما الأحمق فيقول : جاء الإسلام و الصبيان يقذفوني بالبحر، و أما الهرم فيقول: لقد جاء الإسلام و ما أعقل، و أما الذي مات على الفترة فيقول: يا رب ما أتاني رسولك، فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه، فيرسل إليهم رسولا أن ادخلوا النار، قال
: فوالذي نفسي بيده لو دخلوها لكانت عليهم بردا و سلاما."

لنک

اسی فتوے میں جو حدیث ھے میں نے اسکو سرچ کیا اور پھر اسکو یہاں پیسٹ کر دیا. اگر کہیں غلطی ھو تو اصلاح کا خواہشمند ھوں.
جزاك الله خيراً

والسلام
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
کیا پاگل انسان سیدھے جنت میں جائیں گئے ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

شیخ فیض حفظہ اللہ
محترم وہ حدیث یہ ھے:
عن الأسود بن سريع أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال أربعة يوم القيامة رجل أصم لا يسمع شيئا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة فأما الأصم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئا وأما الأحمق فيقول رب لقد جاء الإسلام والصبيان يحذفوني بالبعر وأما الهرم فيقول ربي لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئا وأما الذي مات في الفترة فيقول رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه فيرسل إليهم أن ادخلوا النار قال فوالذي نفس محمد بيده لو دخلوها لكانت عليهم بردا وسلاما
اس مذعومہ ”شیخ“ نے حدیث کا جو تأثر دینے کی کوشش کی ہے وہ انتہائی قبیح ہے۔
پاگل اللہ کے ولی نہیں ہو سکتے یہ صحیح ہے۔مگر پاگل جنتی ہیں یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ دونوں کو خلط ملط کرکے مذعومہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش بے جا ہے۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,433
پوائنٹ
791
آپ اس ویڈیو کو توجہ سے سنیں ،اس میں مقرر چالیس سیکنڈ پر جو فرماتے ہیں ،وہ اس حدیث سے کلی مطابقت تو نہیں رکھتا ، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ مفہوم پیش کیا ہے ، دوسری بات یہ کہ وہ تین آدمی بتاتے ہیں ،جبکہ اس حدیث میں چار کا ذکر ہے ؛
حدیث ترجمہ کے ساتھ پیش خدمت ہے؛
وعن الأسود بن سريع أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: أربعة يوم القيامة رجل أصم لا يسمع شيئًا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة، فأما الأصم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئًا، وأما الأحمق فيقول رب لقد جاء الإسلام والصبيان يخدفوني بالبعر، وأما الهرم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئًا، وأما الذى مات في الفترة فيقول رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه فيرسل إليهم أن أدخلوا النار قال فوالذي نفس محمد بيده لو دخلوها لكانت عليهم بردًا وسلامًا.
ترجمہ :
جناب اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
قیامت کے دن چار قسم کے لوگ ہوں گے (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی۔
(۱) چنانچہ بہرا آدمی عرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن میں کچھ سن ہی نہ سکا (۲) احمق عرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن (میری حالت ایسی تھی کہ )بچے مجھ پر مینگینیاں پھینکتے تھے ،
(۳) بوڑھاعرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن اس وقت میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا
(۴)اور فترت وحی کے زمانے میں مرنے والاکہے گا کہ : پروردگار میرے پاس تیرا کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا ؛
اللہ ان سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کریں گے ، اور پھر انہیں حکم دے گا کہ جہنم میں داخل ہوجائیں ؛
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ جہنم میں داخل ہوگئے تو وہ ان کے لئے ٹھنڈی اور باعث سلامتی بن جائے گی۔
 
Last edited:

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
میرے خیال میں مقرر لوگوں کی ٖغلط روش (ہر غبی اور پاگل کو پہنچی ہوئی ہستی سمجھنا) کی تردید کرنا چاہ رہے تھے اس میں گڑبڑا گئے اور دو مختلف باتوں (جنتی ہونے، اللہ کا ولی ہونے) کو خلط ملط کرگئے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,523
پوائنٹ
304
آپ اس ویڈیو کو توجہ سے سنیں ،اس میں مقرر چالیس سیکنڈ پر جو فرماتے ہیں ،وہ اس حدیث سے کلی مطابقت تو نہیں رکھتا ، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ مفہوم پیش کیا ہے ، دوسری بات یہ کہ وہ تین آدمی بتاتے ہیں ،جبکہ اس حدیث میں چار کا ذکر ہے ؛
حدیث ترجمہ کے ساتھ پیش خدمت ہے؛
وعن الأسود بن سريع أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: أربعة يوم القيامة رجل أصم لا يسمع شيئًا ورجل أحمق ورجل هرم ورجل مات في فترة، فأما الأصم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أسمع شيئًا، وأما الأحمق فيقول رب لقد جاء الإسلام والصبيان يخدفوني بالبعر، وأما الهرم فيقول رب لقد جاء الإسلام وما أعقل شيئًا، وأما الذى مات في الفترة فيقول رب ما أتاني لك رسول فيأخذ مواثيقهم ليطيعنه فيرسل إليهم أن أدخلوا النار قال فوالذي نفس محمد بيده لو دخلوها لكانت عليهم بردًا وسلامًا.
ترجمہ :
جناب اسود بن سریع سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
قیامت کے دن چار قسم کے لوگ ہوں گے (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی۔
(۱) چنانچہ بہرا آدمی عرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن میں کچھ سن ہی نہ سکا (۲) احمق عرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن (میری حالت ایسی تھی کہ )بچے مجھ پر مینگینیاں پھینکتے تھے ،
(۳) بوڑھاعرض کرے گا کہ پروردگار اسلام تو آیا تھا لیکن اس وقت میری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا
(۴)اور فترت وحی کے زمانے میں مرنے والاکہے گا کہ : پروردگار میرے پاس تیرا کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا ؛
اللہ ان سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کی اطاعت کریں گے ، اور پھر انہیں حکم دے گا کہ جہنم میں داخل ہوجائیں ؛
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ جہنم میں داخل ہوگئے تو وہ ان کے لئے ٹھنڈی اور باعث سلامتی بن جائے گی۔
السلام و علیکم و رحمت الله -

اس حدیث رسول کی تخریج اور صحیح مفہوم درکار ہے ؟؟ کیوں کہ :

اگر قرآن کی رو سے دیکھا جائے تو چار طرح کے مذکورہ افراد (١) بہرا آدمی جو کچھ سن نہ سکے ٢۔ احمق آدمی۔ ٣۔ بوڑھا آدمی۔ ٤۔ فترت وحی (انقطاع رسل) کے زمانے میں مرنے والا آدمی - اس آیت کے زمرے میں آتے ہیں جس میں الله رب العزت فرماتا ہے کہ : لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ (الله کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ) - چاروں افراد (خاص کر احمق یعنی پاگل آدمی) عمل کے معاملے میں معذور ہیں- تو الله رب العزت ان کو کس بنا پر جہنم میں جانے کو کہے گا ؟؟ دوسرے یہ کہ جہنم سے ہر زی روح پناہ مانگتی ہے یا پناہ مانگے گی - تو پھر جہنم کا باعث سلامتی بننے کا کیا مطلب ؟؟ تیسرے یہ کہ حدیث میں ہے کہ " لو دخلوها" (اگر وہ جہنم میں داخل ہو گئے) - جب کہ یوم آخرت میں تو کوئی بھی اللہ کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکے گا - جس کو جنّت میں جانے کا کہا جائے گا وہ جنّت میں داخل ہو گا اور جس کو جہنم میں جانے کو کہا جائے گا وہ جہنم میں ہی جائے گا - تو پھر لو دخلوها سے کیا مراد ہے ؟؟

براہ کرم اس پر روشنی ڈالیے -

میرے ناقص علم کے مطابق ایک صحیح حدیث میں (جو مجھے تلاش کے باوجود نہیں مل سکی) - مذکورہ بالا افراد قیامت کے دن أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ
جنت ودوزخ کے درمیان حد فاصل۔
میں شامل ہونگے اور کچھ انتظار کے بعد جنّت میں داخل کردیے جائیں گے (واللہ اعلم)-
 
Last edited:
Top