• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,403
ری ایکشن اسکور
1,094
پوائنٹ
412
کیا کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟؟؟


سوال: مجھے یہ جاننا تھا کہ کیا کدو کی فضیلت پر بھی کوئی حدیث ہے؟

جواب: کدو ایک قسم کی سبزی ہے جسے لوکی اور گھیا بھی کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ بے حد محبوب تھی چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ
ترجمہ: ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے (کھانے کے لیے) (انس رضی اللہ عنہ نے مزید) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔
(صحیح بخاری: 5379)

اسکے علاوہ اس مضمون کی اور بھی کئی صحیح احادیث ہیں لیکن خاص کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے (فیما ادری)۔ کچھ روایات تو ملتی ہیں لیکن ان میں کچھ ضعیف ہیں تو کچھ موضوع۔ تفصیل پیش خدمت ہے:
1) كان يكثر من أكل الدباء، فقلت: يا رسول الله! إنك تكثر من أكل الدباء، قال: إنه يكثر الدماغ، ويزيد في العقل
ترجمہ: (انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کدو بہت زیادہ کھاتے تھے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! آپ کدو بہت زیادہ کھاتے ہیں؟ (کیا بات ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دماغ کو بڑھاتا ہے اور عقل میں اضافہ کرتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 1608)

یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی جاتی ہے:
عليكم بالقرع فإنه يزيد بالدماغ
ترجمہ: تم کدو کو لازم پکڑو کیونکہ یہ دماغ کو بڑھاتی ہے.۔
یہ روایت بھی موضوع ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 510، 40)

2) يا عائشة! إذا طبخت قدراً، فأكثروا فيها من الدُّبَّاء، فإنه يشد قلب الحزين
ترجمہ: اے عائشہ! جب تم ہانڈی پکاؤ تو اس میں کدو کثرت سے ڈالا کرو کیونکہ وہ پریشان دل کو سکون دیتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 6935)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ: عمر اثری
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,410
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا۔
یہ ہوئی نہ بات ، سب سوال کرنے والے نہیں ، جواب دینے والے بھی ہونے چاہییں ۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,403
ری ایکشن اسکور
1,094
پوائنٹ
412
جزاکم اللہ خیرا۔
یہ ہوئی نہ بات ، سب سوال کرنے والے نہیں ، جواب دینے والے بھی ہونے چاہییں ۔
وایاکم!
اصل میں شیوخ سے غلطی کا امکان کم رہتا ہے اس لئے ان کو موقع دیتا ہوں اور انھیں سے سوال کرتا ہوں. مزید میں کوئی محقق بھی نہیں ہوں. اس لئے مضامین کے علاوہ کچھ لکھنے سے ڈرتا ہوں.
 
شمولیت
اپریل 18، 2020
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
8
کیا کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟؟؟


سوال: مجھے یہ جاننا تھا کہ کیا کدو کی فضیلت پر بھی کوئی حدیث ہے؟

جواب: کدو ایک قسم کی سبزی ہے جسے لوکی اور گھیا بھی کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ بے حد محبوب تھی چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ
ترجمہ: ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے (کھانے کے لیے) (انس رضی اللہ عنہ نے مزید) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔
(صحیح بخاری: 5379)

اسکے علاوہ اس مضمون کی اور بھی کئی صحیح احادیث ہیں لیکن خاص کدو کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے (فیما ادری)۔ کچھ روایات تو ملتی ہیں لیکن ان میں کچھ ضعیف ہیں تو کچھ موضوع۔ تفصیل پیش خدمت ہے:
1) كان يكثر من أكل الدباء، فقلت: يا رسول الله! إنك تكثر من أكل الدباء، قال: إنه يكثر الدماغ، ويزيد في العقل
ترجمہ: (انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کدو بہت زیادہ کھاتے تھے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! آپ کدو بہت زیادہ کھاتے ہیں؟ (کیا بات ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دماغ کو بڑھاتا ہے اور عقل میں اضافہ کرتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 1608)

یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت کی جاتی ہے:
عليكم بالقرع فإنه يزيد بالدماغ
ترجمہ: تم کدو کو لازم پکڑو کیونکہ یہ دماغ کو بڑھاتی ہے.۔
یہ روایت بھی موضوع ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کو موضوع قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 510، 40)

2) يا عائشة! إذا طبخت قدراً، فأكثروا فيها من الدُّبَّاء، فإنه يشد قلب الحزين
ترجمہ: اے عائشہ! جب تم ہانڈی پکاؤ تو اس میں کدو کثرت سے ڈالا کرو کیونکہ وہ پریشان دل کو سکون دیتا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: 6935)
واللہ اعلم بالصواب!

کتبہ: عمر اثری
اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ کدو اور اس خاندان کے تمام پھل و سبزیاں جیسے لوکی، توری وغیرہ ایشیاء میں نہیں اگتے تھے بلکہ امریکہ میں اگتے تھے۔ یہ سب وہاں سے پھیلے ہیں۔ اب کولمبس پہلے ایشیاء و یورپ کے لوگ کدو سے واقف نہ تھے۔ یہ یقیناً کوئی اور سبزی ہوگی۔ اس کی وضاحت کریں۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,403
ری ایکشن اسکور
1,094
پوائنٹ
412
اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ کدو اور اس خاندان کے تمام پھل و سبزیاں جیسے لوکی، توری وغیرہ ایشیاء میں نہیں اگتے تھے بلکہ امریکہ میں اگتے تھے۔ یہ سب وہاں سے پھیلے ہیں۔ اب کولمبس پہلے ایشیاء و یورپ کے لوگ کدو سے واقف نہ تھے۔ یہ یقیناً کوئی اور سبزی ہوگی۔ اس کی وضاحت کریں۔
میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکا. کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حدیث میں موجود لفظ کدو کے علاوہ کسی اور کے لیے ہے؟
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,625
ری ایکشن اسکور
739
پوائنٹ
290
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

والدباء بضم الدال المشددة هو ( القرع )، حيث يوضح د. الهادي أن زراعته تجود بالمناطق الحارة، وله عدة اسماء منها: القرع العسلي، أو الاستامبولي، أو التركي، وقد يسميه بعضهم بالقرع الأحمر، أو القرع المالطي، ويسمى باليقطين كما ذكر في قوله تعالى: (وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ). أي على سيدنا يونس، وقد أنبت الله عليه هذه الشجرة؛ لأنها تجمع خصالاً كثيرة منها: برد الظل، والملمس،وعظم الورق، ولا يقع عليه الذباب.
 
Top