• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا گھروں میں مرد نفلی اعتکاف کر سکتا ہے؟

شمولیت
جون 21، 2019
پیغامات
92
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
22
۩۝۞ کیا گھروں میں مرد نفلی اعتکاف کر سکتا ہے؟۞۝۩
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال۔ ایک بڑے عالم نے امام ابن ہمام کے حوالے سے قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے گھروں میں نفلی اعتکاف کو جائز قرار دیا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❊حامدا و مصلیا و مسلما❊
۩الجواب بعون الملك الوهاب۩: ابن ہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول یوں نقل کیا ہے:
عن أبي حنيفة رحمه الله : أنه لا يجوز إلا في مسجد يصلى فيه الصلوات الخمس قيل : أراد به غير الجامع ، أما الجامع فيجوز وإن لم يصل فيه الخمس ، وعن أبي يوسف : أن الاعتكاف الواجب لا يجوز في غير مسجد الجماعة والنفل يجوز.

[emoji419]اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ ابو یوسف رحمہ اللہ کے ہاں جامع مسجد کے علاوہ دیگر مساجد میں واجب اعتکاف درست نہیں ہے جبکہ نفلی اعتکاف جامع مسجد کے علاوہ دیگر مساجد میں درست ہے۔
یعنی ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کا یہ ماننا ہے کہ ان مساجد میں بھی نفلی اعتکاف درست ہو جائیگا جہاں جمعہ کی نماز قائم نہیں کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بدائع میں صراحت کے ساتھ مسجد کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ پر اعتکاف کے صحيح نہ ہونے کا قول مذکور ہے; خواہ واجب وہ یا نفل۔ بنایہ میں بھی اس قول کو نقل کیا گیا ہے۔
پس کسی کا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ گھروں میں نفلی اعتکاف درست ہے‌، فیہ نظر۔ تاہم اگر ایسی کوئی عبارت مل جائے تو ہمیں ضرور مطلع فرمائیں۔
هذا ما ظهر لي.
واللـه أعـلم بالصـواب
کتبه العبد محــمد عبد الرحـمن الأديـشـوي عفي عنه
Screenshot_20200515_014558_com.android.chrome.jpg


Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
 
Top