• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یزید کی ماں نے قتل حسین پہ روزہ کی منت کی تھی؟

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,324
ری ایکشن اسکور
399
پوائنٹ
209
شیعہ لوگ مسلمانوں میں یہ بات پھیلارہے ہیں کہ اسلام میں عاشوراء کے روزے کی کوئی اہمیت نہیں خواہ مخواہ ضعیف و موضوع روایات کو لیکر عاشوراء کا روزہ ثابت کیا جاتا ہے۔
(1)حقیقت یہ ہے کہ "یزید کی ماں نے منت مانگی تھی کہ اگر میرا بیٹا کامیاب ہوا اور امام حسین قتل ہوگئے تو میں ہر سال اس دن کا روزہ رکھا کروں گی اور آج تک اس سنت پر عمل کیاجارہاہے "۔
(2) بعض شیعہ یہ خبر پھیلاتے ہیں کہ "یزید کی ماں نے منت مانی تھی کہ اگر یزید کو حسین نے قتل کردیا تو میں 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھوں گی اور پھر اس نے روزه رکھا جس کا یزید سے تعلق ہے وہ رکھ سکتا ہے 9 اور 10 محرم کا روزہ" ۔ اس کا حوالہ شیعہ نے دیا ہے کتاب :صحیح بخاری،باب:روزہ کے مسائل کابیان،حدیث نمبر2004، صفحہ نمبر:237،238۔۔
نعوذباللہ من ذلک اب دین کا اس طرح مذاق اڑایا جاتا ہے اور کیوں نہ اڑائے کہ بریلوی ,شیعہ کا پوری شد ومد کے ساتھ دیتا ہے اور اپنا بھائی مانتا ہے۔
اسلام میں عاشوراء کا روزہ ثابت ہے ، نبی ﷺ نے خود رکھا، صحابہ کرام کو رکھنے کا حکم دیا اور اس وقت سے مسلمان یہ روزہ رکھتے آرہے ہیں ۔ عاشوراء کا, واقعہ کربلا سے کوئی تعلق ہی نہیں ، یہ تو اس شیعی فتنے سے پچاس سال سے بھی پہلے سے موجود ہے جب نبی ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے آئے بلکہ اس ہجرت سے بھی پہلے سےعاشوراء کا ثبوت ملتا ہے وہ بھی کوئی ضعیف و موضوع روایت سے نہیں بلکہ اس کتاب حدیث سے جس کی صحت پر پوری امت کا اجماع ہے,حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے:
كان يومُ عاشوراءَ تصومُه قريشٌ في الجاهليةِ، وكان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يصومُه، فلما قَدِمَ المدينةَ صامه وأمَر بصيامِه، فلما فُرِضَ رمضانُ ترك يومَ عاشوراءَ، فمَن شاء صامه ومَن شاء ترَكَه .(صحيح البخاري:2002)
ترجمہ : قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
گویا عاشوراء اسلام میں ایک ثابت شدہ امر ہے اس کا انکار کرنے والامنکرحدیث ہے ۔ رہ گیا یزید کی ماں کا منت ماننا تو یہ سراسر جھوٹ اور یزید کی ماں پہ بہتان ہے کیونکہ یزید نے امام حسین کے قتل کا کبھی ارادہ کیا اور نہ ہی اس نے قتل کیا۔
ویسے بھی یہ جھوٹ شیعہ کے الفاظ سے ہی ظاہر ہے ۔

اولا: یہ کہنا کہ اسلام میں عاشوراء کے روزہ کا کوئی تصور نہیں جبکہ اس کے متعلق بہت ساری صحیح احادیث موجود ہیں ، سارے مسلمانوں کو معلوم ہے اور شروع اسلام سے یہ روزہ رکھتے آرہے ہیں ۔
ثانیا: شق نمبر دو میں شیعہ نے جو حوالہ دیا ہے وہ شیعى فراڈ ہے جس طرح حسین رضی اللہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرکے یزید کے سر الزام لگایا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر 2004 میں عاشوراء کے روزہ کا ذکر ہے۔ جس عاشوراء کا خود شیعہ انکار کرتا ہے اسی کا حوالہ بھی دیتا ہے ، کہاجاتا ہے کہ جب چور بھاگتا ہے تو کچھ نہ کچھ ثبوت چھوڑ جاتا ہے ۔ بخاری کی 2004 نمبر والی حدیث دیکھیں :
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَى قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 2004)
ترجمہ: ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے۔ ( دوسرے سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراءکے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن ( فرعون ) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر موسیٰ علیہ السلام کے ( شریک مسرت ہونے میں ) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔

ثالثا: یزید کی ماں کو کیسے معلوم ہوا کہ نواور دس محرم کو حسین قتل ہوں گے تاکہ اس دن روزہ رکھے ، اور ہاں ایک شبہ اور ہے کہ قتل تو ایک دن ہوتا ہے یہ دو روزہ کس لئے ؟ ضرور دال میں کچھ کالاہے ۔
خلاصةً یہ شیعى مکروفریب ہے اس کے ذریعہ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، میں تمام مسلمانوں سے گذارش کرتا ہوں کہ اگر اس قسم کاکوئی مشکوک مواد سوشل میڈیا کے ذریعہ ملے تو فورا ًعلماء سے رابطہ کرکے اس کی حقیقت معلوم کریں اور بلاتحقیق کوئی پوسٹ شیئر نہ کریں ۔

اللہ تعالی ہمیں ہرقسم کے قتنے سے نجات دے ۔ آمین
 
Top