• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ ترجمہ درست ہے؟

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,570
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ، فَلَمَّا جَاوَزَهُ نَادَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الرَّدِّ عَلَيْكَ خَشْيَةَ أَنْ تَذْهَبَ، فَتَقُولَ: إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَإِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى هَذِهِ الْحَالِ فَلا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ تَفْعَلْ لا أَرُدَّ عَلَيْكَ ".

اس حدیث کا ترجمہ میں اپنی طرف سے کرنے لگا ہوں، براہ مہربانی بس کوئی اتنا بتا دے کہ یہ ترجمہ صحیح ہے یا نہیں۔

"ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پیشاپ کر رہے تھے، تو اس (شخص) نے آپ کو سلام عرض کیا، تو نبی نے اس کا سلام لوٹا دیا (یعنی اس کا جواب دیا)، جب وہ (شخص) جانے لگا، تو نبی صلی اللہ الیہ وسلم نے اسے آواز دی اور کہا: تمہیں سلام لوٹانے پر مجھے کسی چیز نے مجبور نہیں کیا سوائے اس کہ کہ مجھے ڈر تھا کہ تم (اپنے لوگوں کی طرف) جاؤ گے اور کہو گے: میں نے اللہ کے رسول کو سلام عرض کیا اور انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا، پس جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو مجھ پر سلام مت کہو، پس اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں جواب نا دوں گا"
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
"ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پیشاب کر رہے تھے، تو اس (شخص) نے آپ کو سلام عرض کیا، تو نبی نے اس کا سلام لوٹا دیا (یعنی اس کا جواب دیا)، جب وہ (شخص) جانے لگا، تو نبی صلی اللہ الیہ وسلم نے اسے آواز دی اور کہا: تمہیں سلام لوٹانے پر مجھے صرف اس ڈر نے اُبھارا کہ تم چلے جاؤ اور کہو کہ میں نے اللہ کے رسول کو سلام عرض کیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا، پس جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو مجھ پر سلام مت کہو، پس اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں جواب نہ دوں گا"
 

شفیق ندوی

مبتدی
شمولیت
ستمبر 08، 2012
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
29
پوائنٹ
0
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص کا گذرہوا اوراس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کررہے تھے ،اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا ، جب وہ جانے لگا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور کہا : مجھے محض اس خوف کے سبب تمہارے سلام کا جواب دینا پڑا کہ تم چلے جاؤ اوریہ کہنے لگو کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیااور انہوں نے جواب ہی نہیں دیا ۔ لہٰذا تم جب بھی مجھے اس حالت میں دیکھنا مجھے سلام مت کرنا ، اوراگرتم نے ایسا کیا تو میں تمہارے سلام کا جواب نہیں دوں گا۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,570
پوائنٹ
384
اسلام علیکم۔
ترجمہ میں ایک اور مدد درکار ہے۔
مسند الشافعی کی اس حدیث میں، یہ الفاظ ہیں:

ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ ظِلِّهِ

کیا الْفَيْءُ اور ظِلِّ ایک ہی چیز کے دو نام نہیں؟
اس کا صحیح ترجمہ کیا ہو گا؟
 
Top