• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ بادشاہ تھے خلیفہ نہیں۔۔

شمولیت
جنوری 24، 2012
پیغامات
181
ری ایکشن اسکور
121
پوائنٹ
53
کیا یہ حقیقت ہے کہ حضرت معاویہ بادشاہ تھے خلیفہ نہیں۔۔
تکون النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ ثم تکون ملکاً عاضا فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ ثم یکون ملکاً جبرّیاً فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.(منصب امامت ص١١٦۔١١٧)
'' نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالے گا اور بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشاء تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا۔پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشاء باری تعالیٰ تک رہے گی۔ پھر اسے بھی اُٹھالے گا اور اس کے بعد پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی، پھر آپﷺ خاموش ہو گئے۔''
 

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
اگر اس طرح ہو تو اس حدیث کا کیا ہوگا؟!

صحيح مسلم [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » كِتَاب الْإِمَارَةِ [FONT=Geneva, Arial, Helvetica] » [/FONT] بَاب النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ وَالْخِلَافَةُ فِي ...[/FONT]
رقم الحديث: 3399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ . ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ، قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ ، قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " .


ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.
یا پھر حدیث کے آخری حصے کے مطابق خلافۃ پھر سے آیگی تو سوال یہ ہوگا کہ پھر آٹھ 8 خلیفوں کو آنا چاہیے تاکہ 12 کا عدد پورا ہوسکے۔۔۔
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»
صحيح البخاري،كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
 
شمولیت
جولائی 24، 2012
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
150
پوائنٹ
66
اسلام علیکم۔۔۔۔۔
معذرت کے ساتھ۔۔۔۔
عربی متن کا ترجمہ بھی شائع کر یں تو مجھ جیسوں کا بھی بھلا ہو۔۔۔۔

جزاک اللہ خیراً
 

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»
صحيح البخاري،كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
بھائی کثیروں کو 12 سے تفسیر کیا جا سکتا ہے۔ مطلب کہ دونوں روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔۔۔

جزاک اللہ خیرا
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
بالکل درست فرمایا۔۔۔
کےجب بھی عربی عبارت پیش کی جائے تو اُس کا عربی متن لازمی۔۔۔
پیش کیا جانا چاہئے۔۔۔
تاکہ جس موضوع میں جو گفتگو چل رہی ہے۔۔۔
قاری صحیح طرح اس گفتگو کو سمجھ سکے۔۔۔
اس کےلئے انتظامیہ کو تھوڑی محنت درکار ہوگی۔۔۔
پڑھنے کا مزہ تب ہی زیادہ ہوتا ہے جب سمجھ میں آئی رہے۔۔۔
 
شمولیت
نومبر 04، 2012
پیغامات
82
ری ایکشن اسکور
351
پوائنٹ
36
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»
صحيح البخاري،كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ،بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
ترجمہ:۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب ایک نبی انتقال کرتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ۖکے بعد کون ہو گا فرمایا میرے بعد خلفاء ہوں گے کثیر تعداد میں۔ عرض کیا آپ ان کے بارے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو پہلے خلیفہ ہو جائے اس کی بیعت کو پورا کرنا پھر اس کے بعد جو پہلے خلیفہ ہو جو ان کا حق( اطاعت) ہے انہیں ادا کرنا اس لیے کہ اللہ ان سے تمہارے حق کے بارے میں خود پوچھے گا۔ ''
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
بھائی کثیروں کو 12 سے تفسیر کیا جا سکتا ہے۔ مطلب کہ دونوں روایتوں میں تعارض نہیں ہے۔۔۔
جزاک اللہ خیرا
بارہ سے ہی کیوں تفسیر کریں؟؟؟۔۔۔
اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔۔۔
 

اعتصام

مشہور رکن
شمولیت
فروری 09، 2012
پیغامات
483
ری ایکشن اسکور
725
پوائنٹ
130
بارہ سے ہی کیوں تفسیر کریں؟؟؟۔۔۔
اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں۔۔۔
بھائی اس لیے کہ 12 عدد کی روایتیں تماااااام مسلمین(سنی شیعہ) کے نزدیک متفقہ طور پر صحیح ہیں،
اس سے بڑھ کر یہ کہ 12 والی مسلم و بخاری کے صحیحین میں موجود ہیں
اور اگر 12 کے علاوہ کسی اور عدد سے تفسیر کرینگے تو پھر 12 والی روایات سے ہاتھ اٹھانا ہونا ہوگا پھر یہ بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ صحیحین میں ضعیف یا پھر نا قابل عمل روایات کے موجود ہونے کا اعتراف کرنا ہوگا۔۔۔۔

شاید آپ کے ذھن میں در اصل یہ سوال آتا ہوگا کہ پھر وہ 12 کون سے ہیں؟ کیونکہ میرے ذہن میں بھی یہی سوال ہے۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
بھائی اس لیے کہ 12 عدد کی روایتیں تماااااام مسلمین(سنی شیعہ) کے نزدیک متفقہ طور پر صحیح ہیں،
اس سے بڑھ کر یہ کہ 12 والی مسلم و بخاری کے صحیحین میں موجود ہیں ّ
یہ حدیث مل سکتی ہے؟؟؟
اگر مہربانی کریں تویہاں پیش کردیں۔۔۔
 
Top