• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گائے کا پیشاب پینے کا حکم

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,398
ری ایکشن اسکور
454
پوائنٹ
209
صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ عرینہ اور عکل کے کچھ لوگوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا ۔
عن أنس أن ناسًا اجتَوَوا في المدينةِ، فأمَرهمُ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أن يَلحَقوا براعِيْه، يعني الإبلَ، فيَشرَبوا من ألبانِها وأبوالِها، فلَحِقوا براعِيْه، فشَرِبوا من ألبانِها وأبوالِها، حتى صلَحَتْ أبدانُهم.(صحیح بخاری: 5686 )
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مدینے کی آب وہوا موافق نہ آنے پر وہ لوگ بیمار ہوگئے ۔(ان کو استسقاء یعنی پیٹ میں یا پھیپھڑوں میں پانی بھرنے والی بیماری ہوگئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملاکر پینے کی دوا تجویز فرمائی ۔یہاں تک کہ اسے پی کروہ لوگ تندرست ہوگئے ۔

اس حدیث کی وجہ سے بعض اہل علم نے ماکول اللحم جانور کا پیشاب پینا جائز قرار دیا ہے ۔ تائید کے لئے کچھ نصوص اور بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

(1) لا بأسَ ببولِ ما أُكل لحمُه۔
ترجمہ : براء ابن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب میں حرج نہیں ہے ۔
٭ یہ قابل حجت نہیں ہے ، اسے شیخ البانی نے بہت ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة: 4850)
٭ اسے شیخ مبارکپوری نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ (تحفة الأحوذي 1/182)

(2) ما أُكِل لحمُه فلا بأسَ ببولِه۔
ترجمہ : جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب میں حرج نہیں ہے ۔
٭ اسے حافظ ابن حجر ؒ نے سخت ضعیف کہا ہے ۔ (التلخیص الحبیر1/64)
٭ اسے شیخ مبارکپوری نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ (تحفة الأحوذي 1/182)

ہندوستان میں گائے کو خدا کا درجہ دیا جاتا ہے،اس لئے جہاں اس کی پوجا کی جاتی ہے وہیں اس کے پیشاب کو متبرک سمجھ کر پیا بھی جاتا ہے ۔ ہندؤں کا خیال ہے کہ یہ متبرک ہونے کے ساتھ متعدد بیماریوں کا علاج بھی ہے ۔اس لئے ہندو اس کا خود بھی استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے فوائد بتاکر پینے کی ترغیب دیتے ہیں ۔

بخاری شریف کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اونٹ کا پیشاب پینا علاج کے طور پہ جائز ہے ، اسی طرح علماء کی رائے کے حساب سے ماکول اللحم جانور مثلا گائے، بھینس، بکری وغیرہ کا پیشاب بھی علاج کے طور پہ پیاجاسکتا ہے بشرطیکہ ماہرمسلم اطباء سے اس علاج کی تائید ہوجائے۔ یونہی ہندؤں کی اڑائی باتوں پہ یقین نہیں کیا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,580
پوائنٹ
384
آجکل کی چند مشہور دوائیوں میں بھی جانوروں کا پیشاپ استعمال ہوتا ہے مثلا ایک دوائی ہے PREMARIN نام کی، اسے حاملہ گھوڑی کے پیشاپ سے تیار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا غیر مسلموں کو بھی اس حدیث پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
428
پوائنٹ
198
صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ عرینہ اور عکل کے کچھ لوگوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا ۔
عن أنس أن ناسًا اجتَوَوا في المدينةِ، فأمَرهمُ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أن يَلحَقوا براعِيْه، يعني الإبلَ، فيَشرَبوا من ألبانِها وأبوالِها، فلَحِقوا براعِيْه، فشَرِبوا من ألبانِها وأبوالِها، حتى صلَحَتْ أبدانُهم.(صحیح بخاری: 5686 )
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مدینے کی آب وہوا موافق نہ آنے پر وہ لوگ بیمار ہوگئے ۔(ان کو استسقاء یعنی پیٹ میں یا پھیپھڑوں میں پانی بھرنے والی بیماری ہوگئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملاکر پینے کی دوا تجویز فرمائی ۔یہاں تک کہ اسے پی کروہ لوگ تندرست ہوگئے ۔

اس حدیث کی وجہ سے بعض اہل علم نے ماکول اللحم جانور کا پیشاب پینا جائز قرار دیا ہے ۔ تائید کے لئے کچھ نصوص اور بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

(1) لا بأسَ ببولِ ما أُكل لحمُه۔
ترجمہ : براء ابن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب میں حرج نہیں ہے ۔
٭ یہ قابل حجت نہیں ہے ، اسے شیخ البانی نے بہت ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة: 4850)
٭ اسے شیخ مبارکپوری نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ (تحفة الأحوذي 1/182)

(2) ما أُكِل لحمُه فلا بأسَ ببولِه۔
ترجمہ : جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب میں حرج نہیں ہے ۔
٭ اسے حافظ ابن حجر ؒ نے سخت ضعیف کہا ہے ۔ (التلخیص الحبیر1/64)
٭ اسے شیخ مبارکپوری نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ (تحفة الأحوذي 1/182)

ہندوستان میں گائے کو خدا کا درجہ دیا جاتا ہے،اس لئے جہاں اس کی پوجا کی جاتی ہے وہیں اس کے پیشاب کو متبرک سمجھ کر پیا بھی جاتا ہے ۔ ہندؤں کا خیال ہے کہ یہ متبرک ہونے کے ساتھ متعدد بیماریوں کا علاج بھی ہے ۔اس لئے ہندو اس کا خود بھی استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے فوائد بتاکر پینے کی ترغیب دیتے ہیں ۔

بخاری شریف کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اونٹ کا پیشاب پینا علاج کے طور پہ جائز ہے ، اسی طرح علماء کی رائے کے حساب سے ماکول اللحم جانور مثلا گائے، بھینس، بکری وغیرہ کا پیشاب بھی علاج کے طور پہ پیاجاسکتا ہے بشرطیکہ ماہرمسلم اطباء سے اس علاج کی تائید ہوجائے۔ یونہی ہندؤں کی اڑائی باتوں پہ یقین نہیں کیا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب
وصلى أبو موسى في دار البريد والسرقين والبرية إلى جنبه فقال ها هنا وثم سواء‏.‏
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے داربرید میں نماز پڑھی ( حالانکہ وہاں گوبر تھا ) اور ایک پہلو میں جنگل تھا۔ پھر انھوں نے کہا یہ جگہ اور وہ جگہ برابر ہیں۔

تشریح : دارالبرید کوفہ میں سرکاری جگہ تھی۔ جس میں خلیفہ کے ایلچی قیام کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کوفہ کے حاکم تھے۔ اسی جگہ اونٹ، بکری وغیرہ جانوربھی باندھے جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابوموسیٰ نے اسی میں نماز پڑھ لی اور صاف جنگل میں جوقریب ہی تھاجانے کی ضرورت نہ سمجھی پھر لوگوں کے دریافت کرنے پر بتلایا کہ مسئلہ کی رو سے یہ جگہ اور وہ صاف جنگل دونوں برابر ہیں اور اس قسم کے چوپایوں کالید اور گوبر نجس نہیں ہے۔
(بخاری)
۔
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، قال أخبرنا أبو التياح، يزيد بن حميد عن أنس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل أن يبنى المسجد في مرابض الغنم‏.‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا مجھے ابوالتیاح یزید بن حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز بکریوں کے باڑے میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بکریوں وغیرہ کے باڑے میں بوقت ضرورت نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بخاری

کپڑے کو اگر گوبر لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 09 March 2013 08:30 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کسی کپڑے میں گوبر یا پیشاب ماکول اللحم کا لگا ہوا ہو تو اس کپڑے میں نماز پڑھی جائز ہے یا نہیں اور ماکول اللحم کا گوبر یا پیشا ب ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ماکول اللحم کا گوبر یا پیشاب پاک ہے اور جس کپڑے میں لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھی درست ہے، طبعی شے دیگر ہے، اگر دھو لیا جائے تو بہتر ہے ورنہ شرعاً کوئی قباحت نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرابض الغنم یعنی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے و نیز بطور ادویات کے استعمال کرنا درست ہے چنانچہ آپ نے چند اصحاب کو اونٹنیوں کا دودھ و پیشاب پینے کا حکم فرمایا۔ (کتب صحاح ستہ) (فتاویٰ ستاریہ جلد اوّل ص ۶۳)
فتاویٰ علمائے حدیث

 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,398
ری ایکشن اسکور
454
پوائنٹ
209
وصلى أبو موسى في دار البريد والسرقين والبرية إلى جنبه فقال ها هنا وثم سواء‏.‏
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے داربرید میں نماز پڑھی ( حالانکہ وہاں گوبر تھا ) اور ایک پہلو میں جنگل تھا۔ پھر انھوں نے کہا یہ جگہ اور وہ جگہ برابر ہیں۔

تشریح : دارالبرید کوفہ میں سرکاری جگہ تھی۔ جس میں خلیفہ کے ایلچی قیام کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کوفہ کے حاکم تھے۔ اسی جگہ اونٹ، بکری وغیرہ جانوربھی باندھے جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابوموسیٰ نے اسی میں نماز پڑھ لی اور صاف جنگل میں جوقریب ہی تھاجانے کی ضرورت نہ سمجھی پھر لوگوں کے دریافت کرنے پر بتلایا کہ مسئلہ کی رو سے یہ جگہ اور وہ صاف جنگل دونوں برابر ہیں اور اس قسم کے چوپایوں کالید اور گوبر نجس نہیں ہے۔
(بخاری)
۔
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، قال أخبرنا أبو التياح، يزيد بن حميد عن أنس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل أن يبنى المسجد في مرابض الغنم‏.‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا مجھے ابوالتیاح یزید بن حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی تعمیر سے پہلے نماز بکریوں کے باڑے میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ بکریوں وغیرہ کے باڑے میں بوقت ضرورت نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بخاری

کپڑے کو اگر گوبر لگ جائے تو کیا حکم ہے؟
شروع از بتاریخ : 09 March 2013 08:30 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کسی کپڑے میں گوبر یا پیشاب ماکول اللحم کا لگا ہوا ہو تو اس کپڑے میں نماز پڑھی جائز ہے یا نہیں اور ماکول اللحم کا گوبر یا پیشا ب ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ماکول اللحم کا گوبر یا پیشاب پاک ہے اور جس کپڑے میں لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھی درست ہے، طبعی شے دیگر ہے، اگر دھو لیا جائے تو بہتر ہے ورنہ شرعاً کوئی قباحت نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرابض الغنم یعنی بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے و نیز بطور ادویات کے استعمال کرنا درست ہے چنانچہ آپ نے چند اصحاب کو اونٹنیوں کا دودھ و پیشاب پینے کا حکم فرمایا۔ (کتب صحاح ستہ) (فتاویٰ ستاریہ جلد اوّل ص ۶۳)
فتاویٰ علمائے حدیث

پتہ نہیں آپ کو میری بات سمجھ آئی کہ نہیں ؟
آپ نے پہلے تو تھریڈ کو غیر متفق ریٹ دیا اورپھر ادھر ادھر سے بغیر موضوع سمجھے کچھ مواد لیکر کاپی پیسٹ کردیا ۔

آپ اپنی بات اپنے لفظوں میں واضح کریں ۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
428
پوائنٹ
198
پتہ نہیں آپ کو میری بات سمجھ آئی کہ نہیں ؟
آپ نے پہلے تو تھریڈ کو غیر متفق ریٹ دیا اورپھر ادھر ادھر سے بغیر موضوع سمجھے کچھ مواد لیکر کاپی پیسٹ کردیا ۔

آپ اپنی بات اپنے لفظوں میں واضح کریں ۔


آپ نے درست فرمایا تھا ۔میرے سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔
 
Top