• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گرگٹ (چھپکلی ) کو مارنے پر ثواب

شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
[صحیح بخاری]
حدیث نمبر: 3359 --- ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا یا ابن سلام نے (ہم سے بیان کیا عبیداللہ بن موسیٰ کے واسطے سے) انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں عبدالحمید بن جبیر نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ام شریک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر پھونکا تھا ۔
@اسحاق سلفی صاحب
@خضر حیات صاحب
السلام علیکم

درج بالا حدیث کی تشریح درکار ہے ۔ اس مضمون کے تحت کافی احادیث آئی ہیں جس میں گرگٹ یا چھپکلی کو مارنے کا ذکر ہے۔ایک موذی جانور ہونے کی وجہ سے مارنا تو سمجھ میں آرہا ہے ۔
لیکن اس وجہ سے مارنا کہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے بھڑکائی جانے والی آگ کو پھونکا تھا میری ناقص عقل میں نہیں آرہا ہے۔ جانور تو عقل سے عاری ہیں کیا ان کو نبی یا غیر نبی کا ادراک ہے۔ اور وہ تو مکلف بھی نہیں ۔
اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر پھونکنے والے گرگٹ کو اس کا ادارک تھا تو ہر گرگٹ کو مارنے کا جواز اس وجہ سے کیسا بن سکتا ہے ۔ جب انسانوں کے کیلئے یہ قانون ہے کہ ہر کوئی اپنے کیے کا مکلف ہے تو پھر ایک جانور کس طرح اپنے پچھلی نسل کے گناہ کا ذمہ دار ہوسکتا ہے ۔
پھر اس کو مارنے کا ثواب بھی بیان ہورہا ہے ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,451
پوائنٹ
964
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کا جواب میں اسی دن دے چکا تھا، لیکن فورم میں کسی مسئلہ کی وجہ سے پوسٹ بار بار کرنے سے بھی نہیں ہوسکی۔
موذی جانور ہونے کی وجہ سے مارنے پر بھی تو سوال اٹھ سکتا ہےکہ اللہ نے اس کو موذی کیوں بنایا؟
اور اس طرح ہر چیز پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن سوائے حیرانی و پریشانی کے کچھ نہیں مل سکتا۔
گرگٹ کی آل اولاد کا کوئی قصور نہیں، تو اس طرح تو خود اس گرگٹ کا بھی تو کوئی قصور نہیں، کیونکہ اللہ تعالی نہ چاہتے تو وہ کیوں آگ بھڑکا پاتا۔
اللہ تعالی نے نظام قدرت اسی طرح بنایا ہے، جہاں وجہ بتادی گئی، اسے مان لینا چاہیے، جہاں نہیں بتایا گیا، خاموشی اختیار کریں۔
 
Last edited:
Top