• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گستاخ رسول کے قتل پر مدخلی فرقے کی منافقت

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
گستاخ رسول کے قتل پر مدخلی فرقے کی منافقت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا ”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔“

[سورۃ الأحزاب، آیت:
٥٧]

شیخ عبد الرحمٰن ابن ناصر السعدي اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہے:

{ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ } وهذا يشمل كل أذية، قولية أو فعلية، من سب وشتم، أو تنقص له، أو لدينه، أو ما يعود إليه بالأذى. { لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا } أي: أبعدهم وطردهم، ومن لعنهم [في الدنيا] أنه يحتم قتل من شتم الرسول، وآذاه
”{بے شک وہ لوگ جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو} یہ آیت کریمہ ہر قسم کی قولی و فعلی اذیت سب وشتم، آپ کی تنقیص، آپ کے دین کی تنقیص اور ہر ایسا کام جس سے آپ کو اذیت پہنچے، سب کو شامل ہے۔ (لعنھم اللہ فی الدنیا) ” ان پر دنیا میں اللہ کی پھٹکار ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں رحمت سے دور کر کے دھتکار دیا ہے۔ دنیا کے اندر ان پر لعنت یہ ہے کہ شاتم رسول کی حتمی سزا قتل ہے۔“

[تفسیر السعدی، تفسیر سورۃ الأحزاب، آیت: ٥٧]

الشیخ حافظ عبد الجبار شاکر فک اللہ اسرہ کا فرمان ہے
:

"صاف سن لیں اللہ کے نبی کی توہین کرنے والوں کے لئے روئے زمین پر کوئی معافی نہیں ہے نہ کسی حکمران کو حق ہے، نہ کعبہ کے امام کو حق ہے، نہ کسی مفتی کو حق ہے، نہ کسی شیخ الاسلام کو حق ہے، نہ کسی بڑے کو حق ہے کسی کو حق نہیں ہے امام کعبہ بهی کہتے ہیں وہ واجب القتل ہے، صحیح خالص کتاب و سنت کے علماء بهی کہتے ہیں کہ توہین رسالت کرنے والا چاہے کلمہ پڑهنے والا ہو چاہے کافر ہو واجب القتل ہے-"


[شیخ عبد الجبار شاکر حفظہ اللہ کا بیان بعنوان "گستاخ رسول ﷺ کی شرعی سزا"]

گستاخ رسول کا علاج احتجاج نہیں بلکہ صرف اور صرف جہاد بالسیف ہے اس پر تمام موحدین کا اتفاق ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور شاتم رسول جہاں پائے جائیں بُری طرح قتل کر دیئے جائیں۔ کچھ وقت پہلے شریف کواشی اور سعید کواشی نام کے دو موحد بھائیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرنے والی میگزین چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کیا اور توہین رسالت کرنے والے گستاخ کارٹونسٹوں کو جہنم واصل کیا۔

موحدین کے فرانس میں گستاخ رسول پر حملہ کر قتل کرنے پر مدخلیوں کی چیخیں نکل گئی اور ان بدبختوں کے منہ سے غلاظت بہنے لگ گئی چنانچہ گستاخ رسول کے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے مدخلیوں کا ایک مولوی عبید الجابری کہتا ہے:

"کوئی بھی صاحب سنت جس کے دل میں کسی بدعت کا شائبہ نہ ہو تو وہ ان کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے خواہ وہ عالم ہو، یا اہلیت رکھنے والا طالب علم، یا اس سے کم تر طالب علم، یا پھر عام انسان جو علماء وطلاب العلم کی مجالس اختیار کرتا ہے، اور چاہے یہ اس میگزین کے متعلق ہو یا اس کے علاوہ کسی کے۔"

[فرانسیسی صحافیوں کو قتل کیے جانے کے بارے میں سلفی(مدخلی) مؤقف (ص : ١) عبید بن عبداللہ الجابری، ترجمہ: طارق علی بروہی، مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: الموقف السلفي من قتل الصحفيين الفرنسيين۔]

اس مدخلی مولوی عبید الجابری کا گستاخ رسول میگزین چارلی ہیبڈو کے کارٹونیسٹ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ " صاحب سنت جس کے دل میں کسی بدعت کا شائبہ نہ ہو تو وہ ان کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے" خود قرآن و سنت کے خلاف ہے کیوں کہ شاتم رسول کے قتل کی اجازت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور یہ صحابہ کا عمل رہا ہے-

سنن ابو داؤد باب الحكم فيمن سب النبي ﷺ میں حدیث ہے :

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک نابینا تھا، اس کی ایک ام ولد ( ایسی لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو ) تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔ وہ اسے منع کرتا تھا مگر مانتی نہ تھی وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی۔ ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینے نے ایک برچھا لیا اسے اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا۔ اس لونڈی کے پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا ۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کاروائی کی ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ کھڑا ہو جائے ۔ “ تو وہ نابینا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اس کے قدم لرز رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا اور بولا : اے اللہ کے رسول ! میں اس کا قاتل ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔ میں اس کو منع کرتا تھا مگر باز نہ آتی تھی۔ میں اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی۔ میرے اس سے دو بچے بھی ہیں جیسے کہ موتی ہوں اور وہ میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی اور برا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا لیا اسے اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ اس کو قتل کر ڈالا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خبردار ! گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔“

[سنن ابو داؤد، باب الحكم فيمن سب النبي ﷺ، حدیث: ٤٣٦١]

اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ اس پرکوئی قصاص ہے نہ دیت۔ قاتل کا یہ عمل اس کی غیرت ایمانی کا اظہار اور باعث اجر و فضل ہوتا ہے الحمد للہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دیا ”أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ“ خبردار ! گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قتل کرنے والے صحابی کو بھی برا نہ کہا لیکن یہ مدخلی مولوی عبید الجابری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والوں کو قتل کرنے والوں کے متعلق کہتا ہے :

”اس قسم کی کارروائیوں کو صاحب سنت کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ تو بس ہجوم جمع کرنے والے، چیخ چلا کر افراتفری پیدا کرنے والے، جاہل وبیوقوف خوارج لوگوں کی طرف سے ہے۔“

[فرانسیسی صحافیوں کو قتل کیے جانے کے بارے میں سلفی(مدخلی) مؤقف (ص : ٢) عبید بن عبداللہ الجابری، ترجمہ: طارق علی بروہی]

یہ مدخلی فرقے کے مولوی عبید الجابری کی خباثت ہے جو یہ صحابہ کے عمل کو خوارج کا عمل کہہ رہا ہے! مدخلی مقلدین کا اصل مقصد ہی سلفیت کی مخالفت کرنا اور سلفی منہج والوں پر خوارج کے الزامات لگا کر لوگوں کو سلفی منہج سے دور کرنا ہے اس کے لئے یہ مدخلی مقلدین سلفیت کا لیبل لگا کر عام عوام کو ورغلاتے اور اپنی زندیقیت پھیلاتے ہیں

مدخلی مولوی عبید الجابری گستاخ رسول کو قتل کرنے والے عمل سے اعلان برائت کرتے ہوئے کہتا ہے:

"آخر میں میں یہی کہوں گا کہ میں اپنے سلفی (مدخلی) بیٹوں کو جہاں کہیں بھی وہ ہوں خصوصاً فرانس میں یا اس کے علاوہ بھی امریکہ، یورپ اور افریقہ کے غیرمسلم ممالک میں یہ نصیحت کرتا ہوں اور تمام خطباء، مدرسین، مکررین، میڈیاوالے مسلمان صحافیوں وغیرہ کو کہ وہ ایک ہی بات پر متفق ہوجائیں سب کے سب اور وہ یہ کہ اس قسم کی افراتفری پر مبنی کارروائیوں سے اعلان برأت کریں۔"

[فرانسیسی صحافیوں کو قتل کیے جانے کے بارے میں سلفی(مدخلی) مؤقف (ص : ٢) عبید بن عبداللہ الجابری، ترجمہ: طارق علی بروہی]

مدخلی مولوی عبید الجابری گستاخ رسول کے قتل کرنے والے عمل سے برائت کرتا ہے اس کی مذمت کرتا ہے اور اسے خوارج کا عمل کہتا ہے تو یہ مدخلیوں کی زندیقیت ہے جبکہ اسکے برعکس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ گستاخ رسول کو قتل کرنے والے عمل کے متعلق فرماتے ہیں:

"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب (خواہ مسلم ہو یا کافر) واجب القتل ہے۔ اکثر علماء کا موقف یہی ہے۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ عام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کی حد قتل ہے۔"

[الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص ۳۹، اردو ترجمہ غلام احمد حریری]

اسی طرح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے:

"ہم نے جو کہا ہے کہ گالی دینے والے مشرک کو حتمی طور پر قتل کیا جائے لیکن اس قسم کے دوسرے کفر کو معاف کر دیا جائے، یہ بات عہد رسالت میں اور اس کے بعد صحابہ کے نفوس میں جاگزیں تھی۔ وہ گالی دینے والے کو قصداً قتل کرتے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ وہ گالی دینے کو اس کے قتل کا موجب اور محرک قرار دیتے تھے اور اس راہ میں اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرتے تھے"

[الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص ۲۲۸، اردو ترجمہ غلام احمد حریری]

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں مدخلی مقلدین کے مکر و فریب و زندیقیت سے محفوظ رکھے اور قرآن، حدیث و صحیح سلفی منہج پر ثابت قدم رکھے اور گستاخ رسول پر سنت کے مطابق کاروائی کر ان گستاخوں کا قتل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
 
Last edited:
Top