• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گمراہی پر اجماع

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,893
پوائنٹ
436
گمراہی پر اجماع

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مخبر صادق نبی صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ

وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلاَّ مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي


میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی سوائے ایک جماعت کےسب دوزخ میں جائیں گے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ما انا علیہ و اصحابی یہ وہ جماعت ہو گی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں -


(رواه ترمذی)

اس روایت میں عقیدے کی اس خرابی کا ذکر ہے جس کی طرف نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ارشادات میں بھی اشارہ دیا تھا کہ

بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ غريباً، فطوبى للغرباء


اسلام ایک اجنبی کی طرح شروع ہوا اور یہ پھر اجنبی بن جائے گا پس ان اجنبیوں (جو اس کو اس زمانے میں قبول کریں) کے لئے بشارت ہے


یہ بھی فرمایا

أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، أنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعملكم مع عملهم، ويقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم


ابی سعيد الخدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا تم میں سے قوم نکلے گی جو تمہاری نمازوں کو اپنی نمازوں سے حقیر سمجھیں گے اور تمھارے روزوں کو اپنے روزوں سے اور تمھارے عمل کو اپنے ہر عمل سے اور قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جائے گا


آج اسی بنیاد پر مختلف مسلک چل رہے ہیں کہ کون صحیح نماز پڑھ رہا ہے کون امین بالجھر کہہ رہا ہے کون رفع یدین کر رہا ہے کون خوش الحانی سے قرآن پڑھ رہا ہے - جہاں آپ نے عقیدے کی بات کی وہاں جھٹ سے بول اٹھتے ہیں کہہ بزرگوں کی برائی نہ کریں ہم ان کے عقیدے کو چھوڑیں گے نہیں

امام مالک مرسل (عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار) اور حمیدی مرفوع (عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ) روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثنا، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا، أَوْ جَعَلُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ


اے الله میری قبر کو بت نہ بنا کہ پوجی جائے ، اللہ کی لعنت ہے ان قوموں پر جو اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بناتے ہیں

وفات کے وقت بھی نبی صلی الله علیہ وسلم کو ایک ہی خطرہ ہو رہا تھا کہ کہیں امت میں قبر پرستی نہ شروع ہو جائے آپ ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ الله کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا دیا

نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعض دعائیں قبول نہ ہوئی مثلا نبی صلی الله علیہ وسلم نے عبدللہ بن ابی کے لئے دعا کی لیکن قبول نہ ہوئی ، دعا کی کہ امت آپس میں نہ لڑے لیکن قبول نہ ہوئی

وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْقِيَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّ عَلَيَّ


اسی طرح قبر پرستی کا خطرہ صحیح ثابت ہوا امت نے یہود و نصاری سے بھی بڑھ کر قبر پرستی کی شاید وہ اپنے انبیاء کی قبروں کو دودھ سے نہیں دھوتے- ہم دھوتے ہیں - علی ہجویری کے عرس کے دن لاہور والے اپنی بھینسوں کو بچانے کے لئے دودھ بیچتے نہیں داتا دربار لے جاتے ہیں - ہم نے ہر بزرگ کی قبر پر مسجد بنا دی اور دلیل یہ دی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی قبر بھی مسجد میں ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر حجرۂ عائشہ میں ہے اور وہ مسجد میں نہیں - صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے مسجد النبی کی توسیع کی لیکن حجرہ کو مسجد سے علیحدہ رکھا

ہم نے قبر نبی
صلی اللہ علیہ وسلم
کو بھی نہیں چھوڑا اس پر بھی گنبد بنا دیا اور آٹھ سو سال سے یہ موجود ہے اس کو سبز رنگ کرتے رہے - کیا یہ یہود کا طرز عمل نہیں - ایک چیز اگر غلط ہے تو غلط ہے

لیکن ایمان پیرہن بن گیا - نمازیں پڑھو ، لمبی دعائیں مانگو اور جنت کا سوچ کر سرور محسوس کرو شاید اب
یہی دین ہے یہی ایمان ہے -


لہذا ایمان اجنبی شے بن گیا اور مختلف مسلک کا عقیدے کا اختلاف امت کے لئے رحمت قرار پایا - بعض مسائل میں صحابہ کا بھی فقہی اختلاف تھا لیکن عقیدے میں نہ تھا - آج مسئلہ عقیدے میں اختلاف کا ہے - دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث سب اپنے آپ کو اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں لیکن بریلویوں نے زلزلہ نام سے کتاب لکھی ، دیوبندیوں نے دھماکہ اور زلزلہ در زلزلہ نام سے کتاب لکھی اور ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیا -

جب آپ ان تمام اہل سنت و الجماعت کے فرقوں سے پوچھتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے جب تمام فرقوں کو جہنمی قرار دیا تو آپ کی کیا رائے ہے؟ تو جواب میں جہنم کی آگ کچھ اس طرح بجھائی جاتی ہے

امام ابن تیمیہ رحم الله فرماتے ہیں:’’ومن قال اِن الثنتین و سبعین فرقۃ کل واحد منھم یکفر کفراً ینقل عن الملۃ فقد خالف الکتاب و السنۃ و اجماع الأئمۃ الاربعۃ،فلیس فیھم من کفَّر کل واحد من الثنتین و سبعین فرقۃ‘‘ -

(مجموع الفتاوی)

ترجمہ: جس شخص نے یہ کہا کہ بہتر گروہوں میں سے ہر ایک کافر ہے اور ملتِ اسلامیہ خارج ہے تو اس نے کتاب وسنت اور اجماع آئمہ کی مخالفت کی ، ان میں سے کوئی بھی بہتر گروہوں میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا

لیکن ابھی تک کوئی عالم نہیں گزرا جو اس واضح تضاد کو رد کرے -
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,893
پوائنٹ
436
یہ روایات پیش کرتے رہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

إن أمتي لا تجتمع على ضلالة


میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی

اس روایت میں ایک راوی "سلیمان المدنی" ہے ، جو کہ منکر الحدیث ہے -

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ : أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى ضَلالَةٍ , وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ , وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ " سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : سُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ هَذَا مُنْكَرُ الْحَدِيثِ -

(الكتب ، العلل الكبير للترمذي ، أَبْوَابُ الْفِتَنِ ، حدیث رقم ٣٧١)

امت کا اختلاف رحمت ہے


الملا الهروی القاری (المتوفى: ١٠١٤ھ) کتاب "الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ" میں کہتے ہیں

اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ زَعَمَ كَثِيرٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ أَنَّهُ لَا أَصْلَ لَهُ لَكِنْ ذَكَرَهُ الْخَطَّابِيُّ فِي غَرِيبِ الْحَدِيثِ مُسْتَطْرِدًا وَأَشْعُرُ بِأَنَّ لَهُ أَصَلًا - (رقم الحدیث ١٧)

بہت سے آئمہ کا دعوی ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں لیکن الخطابی نے غریب الحدیث میں اشارہ دیا ہے کہ اس کا اصل ہے
لیکن باوجود تلاش کے الخطابی کی کتاب غریب الحدیث میں اس کا حوالہ نہیں ملا

البانی کتاب صفتہ صلاة النبی صلى الله عليہ وسلم میں لکھتے ہیں کہ:

أن هذا الحديث لا يصح؛ لا سنداً ولا متناً

یہ حدیث نہ سندًا صحیح ہے اور نہ ہی متناً - (جلد ١ ، صفحہ ٣٩ ، مکتبتہ المعارف للنشر والتوزیع - الریاض)

اگر امت کا عقیدے میں اختلاف رحمت ہے تو پھر اسلام کبھی اجنبی بھی نہیں ہو گا اور امت کے ٧٢ فرقے بھی جنتی ہیں - پیشہ ور مولویوں نے بد عقیدگی کے مسئلہ سے جان چھڑانے کے لئے کئی انچھر تیار کر رکھے ہیں جس میں وہ اپنے ہم نواؤں کو مسحور رکھتے ہیں-

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بعض باتوں میں سحر ہوتا ہے آج امت کا حال دیکھ کر نبی صلی الله علیہ وسلم کے ان الفاظ کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے

نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:

إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ


میں اپنی امت کے حوالے سے گمراہ آئمہ سے ڈرتا ہوں


آج ہم مسلمان سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں کو ، یہودیوں کو اور عیسائیوں کو برا کہنا ہی اصل دین ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکے کا وقت نہیں

حالی لکھ گئے ہیں کہ

کرے گر غیر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑہائیں
شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ گر حق زمیں و زماں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں​
 
Top