• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہاں! ہمارے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔!!!

شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
راشد بھائی نے لکھا::

یقیناً دفاع پاکستان کونسل کی بات آپ کے لیے حجت ہو گی...۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی شاید آپ کو یاد نہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے ، سوشل میڈیا کے ایک اور پلٹ فارم "فیس بک" پر میری آپ سے کئی بار بات چیت ہوئی ہے، اورمیں آپ کے نظریات سے واقف ہوں. میرے خیال میں یہ مناسب فورم نہیں جہاں اس موضوع پر بات کی جائے.
بھائی آپ بد گمانی چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں؟؟؟
الحمد اللہ میں قرآن و سنت کے سوا کسی کو بھی حجت نہیں مانتا ،،،،، مگر لگتا ہے آپ مجھ سے میرے نظریات جاننے کی بجائے ’’بد گمانی ‘‘ سے ہی کام چلائیں گے۔
میری آپ کو دعوت ہے ، جو میرے نظریات بارے پوچھنا چاہتے ہیں پوچھ لیں تاکہ کوئی ابہام نہ رہے اور دلوں میں سے غبار نکل جائے۔ جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
راشد بھائی نے لکھا::

طالبان پاکستان کے لیے خطرہ نہیں ہیں. اور نہ ہی امریکہ اور طالبان برابر ہیں.
میرا بھی یہی ماننا ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طالبان پاکستان کے لئے خطرہ نہیں کیونکہ وہ خود پاکستان کے ہمنوا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یہاں تحریک ظالمان پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔۔۔معذرت کے ساتھ!!!

نہیں یقین تو یہ پتا کروا لیں کہ جلال الدین حقانی صاحب کی رہائش کہاں ہے آجکل؟؟؟
ڈاکٹر نصیر الدین حقانی (جلال الدین حقانی صاحب کا بیٹا) کہاں سے جہاد افغانستان کے معاملات چلا رہا ہے؟؟؟ ھھھھ

میں یہاں نہیں بتا سکتا ،،،،،،،جواسیس بھی موجود ہیں۔۔۔ امید ہے آپ سمجتے ہوں گے
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,090
پوائنٹ
1,155
ہم تو ڈرون حملوں اور امریکی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ پاکستان میں ہو، یا افغانستان اور عراق وغیرہ میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ ملالہ والے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں؟
الحمدللہ،ہم سب اسلام کے ماننے والے ہیں،کسی بھی انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کو ناحق قتل کرنا اسلام کی روشن تعلیمات کے خلاف ہے،جب تک آپ اپنے بھائیوں کے لیے حسن ظن نہیں رکھیں گے تب تک اس بحث کو سمیٹنا مشکل ہے۔
ایک طرف راجا بھائی کہہ رہے ہیں کہ ہم ڈرون حملے کے خلاف ہیں لیکن ملالہ پر حملے کی بھی مذمت کرتے ہیں،ملالہ پر حملے کی مذمت سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ ہم ڈرون حملے کی حمایت کرتے ہیں،غور کیا جائے تو دوسرے موقف والے بھائی (راشد،خضر حیات،ٹائپسٹ وغیرہ) جب یہ کہتے ہیں کہ ملالہ کے نظریات غلط تھے تو آپ وہاں یہ بدگمانی کیوں قائم کر لیتے ہیں کہ وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ ایسی نظریات رکھنے والے شخص (مرد یا عورت) کا قتل جائز ہے،یہاں بھی حسن ظن سے کام لیا جائے تو معاملہ صاف ہے کہ وہ بھائی جو ملالہ کے نظریات پر تنقید کر رہے ہیں اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ وہ کسی بھی مسلم پر حملے کو جائز قرار دیتے ہیں۔اُمید ہے آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
 

متلاشی

رکن
شمولیت
جون 22، 2012
پیغامات
336
ری ایکشن اسکور
412
پوائنٹ
92
بھائیوں پورے پاکستان میں کسی بھی فرقے کا معتبر عالم دین نہیں ہے جس نے اس واقعہ کی حمایت کی ہو۔ بلکہ سب نے مذمت ہی کی ہے۔ اور جو لوگ خاموش ہیں وہ ساون کے اندھے ہیں میرا مطلب ہے جس طرح ساون کے اندھے کو ہر چیز ہری بہری لگتی ہے تو اُن کو بھی اس میں امریکی سازش نظر آتی ہے۔۔۔۔۔ پھر ایک یہ بات بھی سوچیں کہ اگر کہ امریکہ کی سازش ہے تو اس سازش کا حصہ کون ہے۔ ظاہر سی بات ہے ٹی ٹی پی نے جب ذمہ داری قبول کی تو وہی اس امریکی سازش میں شریک اور امریکہ کے لئے معاون ہے۔۔۔۔۔​
 

ٹائپسٹ

رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
186
ری ایکشن اسکور
987
پوائنٹ
86
بھائی پورے ڈرامے کو دیکھو جب سے اس نے ڈائری لکھی پھر بی بی سی پر آئی اور اب اور اس کے نتائج، بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کس نے کیا ہے اور کیسے کیا ہے؟ یہ ٹی ٹی پی تو ایک مہرا ہے جو کام ہونے سے پہلے ہی ذمہ داری بھی قبول کر لیتی ہے ۔
 
شمولیت
اگست 30، 2012
پیغامات
348
ری ایکشن اسکور
970
پوائنٹ
91
ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288
’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔
انہوں نے خوارج سے کہا :
میں عورت ہوں، کیا تم (میرے معاملے میں) اﷲ سے نہیں ڈرتے؟
اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘
اس واقعے کے بعد:
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے حارث بن مُرہ العبدی کو خوارج کے پاس دریافتِ احوال کے لیے بھیجا کہ معلوم کریں کیا ماجرا ہے؟
جب وہ خوارج کے پاس پہنچے اور حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا سبب پوچھا تو خوارج نے انہیں بھی شہید کر دیا۔

(ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)​
 
Top