• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہلال اور وحدت ِاُمت

شمولیت
جولائی 03، 2012
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
94
پوائنٹ
63
asslamualikum wr wb...
is topic par maine 1 takreer suni hai bahut behtreen hai ...wallahualam
Ruyat E Hilal 1 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi
Ruyat E Hilal 1 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 2 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 3 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 4 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 5 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 6 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 7 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
Ruyat E Hilal 8 of 8 by sheikh jalaluddin qasmi - YouTube
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
میرے حبیب!

اگر وہی چاند پوری دنیا کیلئے رؤیت قرار دے دیا جائے تو گویا فرمانِ نبویﷺ « صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته » ... صحيح بخارى ومسلم کے تحت سان فرانسسکو، لاس اینجلز اور نیو یارک والوں کو فوری روزہ توڑنا ہوگا۔ اب ان کے روزے تو 28 ہوئے ہیں، باقی مکہ، جاپان اور آسٹریلیا میں 29 ہو چکے ہیں۔ اب کیا امریکہ والے روزہ توڑ کر فوری عید کریں (اگر عید کریں تو اتحاد نہ ہوا کیونکہ مکہ، چاپان اور آسٹریلیا میں تو اگلے دن ہوگی) یا ویسے ہی روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کریں اس صورت میں امریکہ والوں کے 28 روزے ہوں گے اور مکہ، جاپان اور آسٹریلیا والوں کے 29 (عید میں تو نام کا اتّحاد ہوگیا، روزوں میں ٹوٹ گیا) حالانکہ ہر ایک کو کم از کم 29 روزے پورا کرنا ضروری ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے: [LINK=http://www.dorar.net/enc/hadith?skeys=%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%87%D8%B1+%D8%AA%D8%B3%D8%B9+%D9%88%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D9%88%D9%86+%D9%81%D8%A5%D9%86+%D8%BA%D9%85&xclude=&degree_cat0=1]« الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه، فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين »[/LINK] ... صحیح البخاری: 1907 کہ ’’مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے، جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، پس اگر چاند تم پر مخفی رہ جائے (بادلوں وغیرہ کی وجہ سے) تو تیس کی گنتی مکمل کرو۔‘‘

نام کا اتحاد اس لئے کہا کہ کیونکہ کچھ دنیا عید منا رہی ہوگی اور کچھ سو رہی ہوگی ...

کیا آپ ایسا ہی ’’اتحاد‘‘ (جو کتنی ہی شرعی نصوص کے مخالف ہے) چاہتے ہیں؟؟!!
محترم شیخ! آپ کی بحث یقینا قابل غور ہے لیکن مجحے مکمل تصلی نہیں ہوئی۔ آپ کی بحث پر کچھ اعتراضات ہیں مگر اس سے پہلے آپ سے گزارش ہے کہ امام البانی رحمہ اللہ کی اس عبارت کا مفہوم واضح کر دیں اور اگر آپ کو ان کے موقف پر کوئی اعتراض ہے تو وہ بھی پیش کردیجئیے۔ یہ عبارت امام البانی رحمہ اللہ کی کتاب "التعليقات الرضية على الروضة الندية" سے لی گئی ہے:





جواب درکار ہے۔۔۔
 
شمولیت
جولائی 06، 2011
پیغامات
126
ری ایکشن اسکور
462
پوائنٹ
81
میرے حبیب!

چلیں آپ کی دی ہوئی مثال ہی ڈسکس کر لیتے ہیں۔ اگر 29 رمضان المبارک کا روزہ رکھنے کے بعد مکہ مکرمہ میں کچھ تاخیر سے چاند دیکھ لیا جاتا ہے۔ اگر رات 10 بجے تک پوری دنیا میں اعلان کر دیا جائے تو اس وقت سان فرانسسکو اور لاس اینجلز وغیرہ میں 12 (دوپہر)، نیو یارک میں 3 (سہ پہر) بجے ہوں گے، جبکہ جاپان میں 4 (اگلی صبح) اور آسٹریلیا میں 5 (اگلی صبح) بجے ہوں گے۔ گویا جاپان، آسٹریلیا اور مکہ کے مسلمان 29 روزے پورے کر چکے ہوں گے، جبکہ سان فرانسسکو، لاس اینجلز اور نیو یارک والوں کے اٹھائیس روزے ہوئے ہوں گے اور انتیسواں روزہ جاری ہے۔
اب آپ ہی بتائیے کہ ’وحدتِ اُمت‘ کیلئے آپ کیا اجتہاد فرمائیں گے؟؟!!
اگر وہی چاند پوری دنیا کیلئے رؤیت قرار دے دیا جائے تو گویا فرمانِ نبویﷺ « صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته » ... صحيح بخارى ومسلم کے تحت سان فرانسسکو، لاس اینجلز اور نیو یارک والوں کو فوری روزہ توڑنا ہوگا۔ اب ان کے روزے تو 28 ہوئے ہیں، باقی مکہ، جاپان اور آسٹریلیا میں 29 ہو چکے ہیں۔ اب کیا امریکہ والے روزہ توڑ کر فوری عید کریں (اگر عید کریں تو اتحاد نہ ہوا کیونکہ مکہ، چاپان اور آسٹریلیا میں تو اگلے دن ہوگی) یا ویسے ہی روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کریں اس صورت میں امریکہ والوں کے 28 روزے ہوں گے اور مکہ، جاپان اور آسٹریلیا والوں کے 29 (عید میں تو نام کا اتّحاد ہوگیا، روزوں میں ٹوٹ گیا) حالانکہ ہر ایک کو کم از کم 29 روزے پورا کرنا ضروری ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے: [LINK=http://www.dorar.net/enc/hadith?skeys=%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%87%D8%B1+%D8%AA%D8%B3%D8%B9+%D9%88%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D9%88%D9%86+%D9%81%D8%A5%D9%86+%D8%BA%D9%85&xclude=&degree_cat0=1]« الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه، فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين »[/LINK] ... صحیح البخاری: 1907 کہ ’’مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے، جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، پس اگر چاند تم پر مخفی رہ جائے (بادلوں وغیرہ کی وجہ سے) تو تیس کی گنتی مکمل کرو۔‘‘

نام کا اتحاد اس لئے کہا کہ کیونکہ کچھ دنیا عید منا رہی ہوگی اور کچھ سو رہی ہوگی ...

کیا آپ ایسا ہی ’’اتحاد‘‘ (جو کتنی ہی شرعی نصوص کے مخالف ہے) چاہتے ہیں؟؟!!
محترم شیخ! آپ کی بحث پر چند اعتراضات ہیں:
سب سے پہلی بات تو یہ کہ کوئی انسان یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ پوری دنیا میں ایک ہی وقت میں روزہ یا عید ہو سکتی ہے۔اگر کوئی ایسا کہے بھی سے تو یہ ایک غیر فطری اور جہالت پر مبنی بات ہو گی کیونکہ پوری دنیا میں سورج یا چاند ایک ہی وقت میں نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ ہی غروب۔ ہمارا دعوی یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی دن یعنی ایک ہی شمسی تاریخ کو روزہ یا عید کی جاسکتی ہے۔
اب اوپر والی مثال ہی کو لے لیجئے؛ ویسے تو مکہ چاند اکثر مغرب کے بعد جلد ہی نظر آجاتا ہے اور اتنی تاخیر نہیں ہوتی جتنی آپ نے مثال میں ذکر کی مگر پھر بھی فرض کر لیتے ہیں کہ مکہ میں ۲۹ رمضان کو مغرب کے بعد کافی تاخیر سے یکم شوال کا چاند نظر آتا ہے اور رات ۱۰ بجے پوری دنیا میں اعلان ہو جاتا ہے۔ توجاپان اور آسٹریلیا والے ۲۹ روزے پورے کر چکے ہونگے اور امریکا میں والے ۲۸ روزے پورے کرچکے ہونگے اور ۲۹ روزہ جاری ہوگا۔ تو گزارش یہ ہے کہ اس میں مسئلہ کیا ہے جاپان اور آسٹریلیا والوں کا تو مسئلہ حل ہوگیا وہ لوگ مکہ والوں کی طرح ۲۹ روزے پورے کرچکے اور اب مکہ والوں کے ساتھ ہی ایک ہی شمسی تاریخ کو عید بھی کر لیں گے۔ دوسری طرف امریکا والے جو مکہ سے ۱۰ گھنٹے پیچھے ہیں جب ان کو مکہ کے رات ۱۰ بجے اور اپنے وقت میں دوپہر ۱۲ بجے یکم شوال کے چاند کا علم ہوگا جبکہ ان کے ہاں ابھی ۲۹ روزہ جاری ہوگا تو ظاھری سی بات ہے کہ وہ ۲۹ روزہ پورا کریں گے پھر عید کریں گے نہ کہ اعلان سنتے ہی فورا روزہ طور کر عید کریں گے۔ یہ اس لئیے کہ وہ مکہ سے ۱۰ گھنٹے پیچھے ہیں اور اگلی شمسی تاریخ کا سورج ان کے پاس ۱۰ گھنٹے بعد ہی طلوع ہوگا۔ جو فقھاء اور علماء اتحاد روئیت کے قائل ہیں ان میں سے کسی نے بھی یہ فتوی نہیں دیا کہ پوری دنیا کے ممالک بیک وقت روزہ یا عید کرلیں بلکہ ان کا موقف ہے یہ ہے کہ اختلاف مطلع کے باوجود اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور ایک ملک کی روئیت دوسرے تمام ملکوں کیلئے کافی ہے اوقات کا فرق کیا جائے گا تاریخ کا نہیں۔ اس لئے اگر مکہ سے بھی پہلے آسٹریلیا میں جو وقت میں مکہ سے ۷ گھنٹے آگے ہے وہاں کہ مسلمان اگر یکم شوال کا چاند دیکھ لیں اور معتبر شہادتیں وصول ہونے کے بعد وہاں کی شرعی کمیٹی عید کا اعلان کر دے تو آسٹریلیا کی روئیت مکہ والوں کیلئے بھی کافی ہو سکتی ہے۔البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ ایسا کبھی ہوا ہو ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضے اور حکومت کے بعد وہاں سے ظاھری طور پر نکل کر مسلمانوں کی سلطنت کو ڈھیروں مختلف ممالک میں بانٹ کر انہوں نے اپنا مکمل اثر و رسوخ قائم رکھا اور مسلمان آج مختلف ممالک اور قومیتوں میں تقسیم ہو کر مختلف عیدیں بھی کرتے ہیں۔ ویسے عرب دنیا کےمسلمان اور کچھ نہیں تو اس بات پر تو جمع ہو ہی گئے ہیں کہ ایک ہی شہر کی روئیت کو باقی تمام ممالک کیلئے کافی سمجھا جائے اور آج تقریبا تمام عرب ممالک مکہ کی روئیت کے مطابق روزہ رکھتے اور عید کرتے ہیں حتی کہ شام، مصر، یمن، لیبیا اور صومال جیسے ممالک جن کا مطلع مکہ سے فرق ہے بھی مکہ ہی کی روئیت کا اعتبار کرتے ہیں۔ بلکہ برطانیہ، امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک بھی مکہ کی روئیت کا اعتبار کرتے ہیں اس کے علاوہ ملیشیا اور انڈونیشیا جو وقت میں مکہ سے آگے ہیں وہ بھی مکہ کے ساتھ ایک ہی شمسی تاریخ کو روزہ اور عید کرتے ہیں۔
میں آپ سے گزارش کروں گا پہلے تو امام البانی رحمہ اللہ کی عبارت کا مفہوم اور اس کا جواب واضح کر دیں، پھر میری بحث پر اگر کوئی اعتراض ہے تو پیش کیجئے اور آخر میں یہ بتا دیجئے کہ اس دفعہ پیشاور وغیرہ میں یکم شوال کا چاند ۱۸ اگست کی شام کو نظر آیا اور ۱۹ اگست کی صبح وہاں پورے صوبے میں عید منائی گئی اس کے باوجود پاکستان کے دیگرشہروں نے ان کی روئیت اور شھادتوں کو قبول نہ کیا جبکہ میں جانتا ہوں کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ جن شہروں کا مطلع ایک ہو ان میں سے کسی میں بھی چاند نظر آجائے تو باقیوں کو اس کا اعتبار کرنا چاہئے۔ تو ہمارے ہاں پیشاور والوں کی روئیت کا اعتبار کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ اس دفعہ نام نہاد روئیت ہلال کمیٹی جس کا چیرمین ایک بریلوی شرکیہ عقائد کا حامل اور بدعتی شخص ہے اس کے تحت پیشاور کی زونل کمیٹی نے بھی یکم شوال کے چاند کی شہادتیں وصول کیں اور مرکزی کمیٹی کو بھیجوائیں اس کے باوجود مرکز نے ان کا اعتبار نہ کیا اور عید اگلے دن ۲۰ اگست کو ہی منائی۔ اس کے متعلق آپ کی رائے ہے؟
 
Top