• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہماری نظر میں روحانیت کیا ہے؟

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

روح اور جسم کا مابین توازن اور باطن کی اصلاح "روحانیت" کی بنیادی وضاحت کی جاتی ہے۔
اگر یہ اصلاح نفس ہے تو اس کا حکم اسلام میں بھی ہے پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص روحانیت کی طرف ہے یا روحانی انسان ہے؟ کیا روحانیت دین کا حصہ ہے یا الگ ہے؟
نیز اہل حدیث روحانیت کو کیسا جانتے ہیں؟

علمی آراء کے ساتھ حصہ ڈالیں۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
توجہ فرمائیں!
 

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

روح اور جسم کا مابین توازن اور باطن کی اصلاح "روحانیت" کی بنیادی وضاحت کی جاتی ہے۔
اگر یہ اصلاح نفس ہے تو اس کا حکم اسلام میں بھی ہے پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص روحانیت کی طرف ہے یا روحانی انسان ہے؟ کیا روحانیت دین کا حصہ ہے یا الگ ہے؟

علمی آراء کے ساتھ حصہ ڈالیں۔


روحانیت کیا ہے؟

انسان مادے اور روح دونوں کا مجموعہ ہے۔ مادی ضروریات کو ہر انسان جانتا اور پہچانتا ہے۔ لیکن روح کی ضرورت کیا ہے، روحانیت کیسے پروان چڑھتی ہے اور روحانی تسکین کیسے ملتی ہے، اس معاملے میں لوگ اکثر بے اعتدالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگ روحانیت کو ترکِ دنیا کی صورت میں تلاش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیوی لذتوں اور گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرنے سے روحانی تسکین ملتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض لوگ چِلّے کاٹتے ہیں، بستر اٹھاتے ہیں اور گھر سے نکل پڑتے ہیں۔ کچھ لوگ مراقبے میں روحانیت کو تلاش کرتے ہیں اور بہت سے لوگ یوگا کی ورزشوں میں تسکین پانے کی کوشش کرتے ہیں۔
درحقیقت روحانی تسکین پانے کے لیے درج ذیل چیزوں میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ روحانیت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اللہ پر پختہ یقین واعتماد اور اللہ کو حاضر وناظر جان کر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا۔ جب ایک انسان اللہ پر پختہ یقین رکھتا ہے تو وہ خود بخود حقوق اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ تاہم پروردگار نے انسان کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ اس ضمن میں اُس سے کوتاہی ہوہی جاتی ہے۔ اللہ کی صفتِ رحمت پر اعتماد اور اُس سے بے پروائی کا خوف انسان کو مسلسل سیدھے راستے پر رکھتا ہے۔ اس کا نام اللہ پر یقین واعتماد ہے۔
روحانیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں مصروف رہے اور اللہ کو حاضرو ناظر جان کر ہر کسی کے حقوق کا خیال رکھے۔ ایک انسان پر سب سے بڑا حق اُس کی اپنی ذات کا ہے۔ اُسے اپنی تعلیم، اپنی صحت، اپنے رزقِ حلال اور اپنی تفریح کا خیال رکھنا ہے۔ اس کے بعد ہر انسان پر دوسرا بڑا حق اُس کی بیوی یا شوہر، اُس کے والدین اور اُس کے بچوں اور اُس کے بہن بھائیوں کا ہے۔ ان سب کے معاملے میں جب کوئی انسان اُن کے حقوق سے بھی بڑھ کر اُن کا خیال رکھے تو اسے دین نے ’’احسان‘‘کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد ہر انسان پر اپنے باقی رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حق ہے۔ اگر کوئی انسان مالدار ہے تو اُس پر اپنے گردوپیش کے غریبوں کا حق ہے۔ جب کوئی انسان ان سب حقوق کے معاملے میں چوکنا اور بیدار رہتا ہے اور وہ ان کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے تو یہ چیز اُس کے لیے روحانی تسکین بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے روزمرہ معاملات میں اللہ کو حاضروناظر مان کر دیانت داری اور اچھے رویے سے کام لیتا ہے تو اُسے روحانی اطمینان ملتا ہے۔ مثلاً جب ایک تاجر اپنی تجارت میں دیانت داری اور انصاف سے کام لیتا ہے، جب ایک ملازم اپنی ملازمت میں خوفِ خدا کے باعث دیانت دار رہتا ہے، جب ایک افسر اپنے ماتحتوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا رویہ رکھتا ہے، جب ایک سیاسی لیڈر اپنی سیاست میں نفع اور نقصان سے قطعِ نظر انصاف کی بات کرتا ہے، جب ایک صاحبِ علم اور سائنس دان اپنی قوم اور انسانیت کے لیے علم وتحقیق کاکام کرتا ہے، جب ایک طالبِ علم اپنی ذات اور قوم وانسانیت کے لیے اپنی پڑھائی میں محنت کرتا ہے، جب ایک اُستاد اپنے طالب علموں کے ساتھ محنت کرتا ہے، جب ایک کاشت کار اپنے خاندان اور اپنی قوم کے لیے اپنی زمینوں میں محنت کرتا ہے، جب ایک حاکم اپنے معاملات میں دیانت دار رہتا ہے اور اپنی رعایا کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچاتا ہے، غرض یہ کہ ہر وہ انسان جو کسی طریقے سے مخلوقِ خدا کو آرام اور آسانیاں بہم پہنچاتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور یہی خدمت انسان کو روحانی تسکین پہنچاتی ہے۔
غرض یہ کہ روحانی تسکین کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، اللہ کے بڑے بڑے احکام کو بجا لائے، کبیرہ گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے، اپنی صحت کا خیال رکھے، روزانہ خدمتِ خلق کا براہ راست کوئی کام کرے، اپنے سب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے، غریبوں کی مدد کرے، قانون کی پابندی کرے، خوش اخلاقی کا رویہ اپنائے اور اپنی معاش میں دیانت دار رہے۔ یہی روحانیت ہے اور ایسی زندگی گزارنے سے روحانی تسکین ملتی ہے۔
ظاہر ہے کہ ہر انسان میں درج بالا سب چیزیں ہر وقت اپنے معیارِ مطلوب پر نہیں رہتیں۔ ان کو معیارِ مطلوب پر رکھنے کے لیے ہمارے دین نے ہمیں تین چیزیں سکھائی ہیں۔ ایک قرآن مجید پر مسلسل غوروفکر، دوسرا اچھے لوگوں سے مسلسل رابطہ اور تیسرا اعتکاف۔ یہی دین کا طریقہ ہے۔ قرآن وسنت نے روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے یہی طریقہ ہمیں سکھایا ہے۔

حوالہ
 
  • پسند
Reactions: Dua

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمتہ اللہ

روح اور جسم کا مابین توازن اور باطن کی اصلاح "روحانیت" کی بنیادی وضاحت کی جاتی ہے۔
اگر یہ اصلاح نفس ہے تو اس کا حکم اسلام میں بھی ہے پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص روحانیت کی طرف ہے یا روحانی انسان ہے؟ کیا روحانیت دین کا حصہ ہے یا الگ ہے؟
نیز اہل حدیث روحانیت کو کیسا جانتے ہیں؟
علمی آراء کے ساتھ حصہ ڈالیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نبوت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (164سورہ آل عمران)
ترجمہ :
واقعی اللہ نے اہل ایمان پر یہ بڑا احسان فرمایا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث کیا جو انہیں اس کی آیتیں سناتا ہے ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، ورنہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔"
اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں ١۔ تلاوت آیات ٢۔ تزکیہ نفس ٣۔ تعلیم کتاب و حکمت تزکیہ سے مراد عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہے۔ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بد اخلاق اور بد اطوار قوم کو اخلاق اور کردار کی رفعتوں سے ہمکنار کردیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ "
تو بات واضح ہے کہ :

نبوت کی تعلیمات ۔۔ ظاہر و باطن کی اصلاح کا عظیم اور جامع نظام ہے ۔۔

عبادات ہوں یا انسانی حقوق دونوں کی ادائیگی میں ظاہر وباطن کا " صالح " ہونا ضروری اور مطلوب ہے

مثلاً : کسی عبادت کی ظاہری درستگی کے ساتھ قلب کی درستگی بھی لازمی ہے ، ریاء اور دیگر دنیوی اغراض سے مبرا ہونا از حد ضروری ہے ، تعلیم نبوی ہے کہ :
«اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا اَشْرَکَ فِيْهِ مَعِیَ غَيْرِی تَرَکْتُهُ وَشِرْکَهُ»
صحیح مسلم، الزهد والرقائق، باب تحریم الریاء
’میں تمام شرکاء کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی غیر کو بھی شریک کر لیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑکر دست بردارہوجاتا ہوں۔‘‘

اور نبی اکرم ﷺ نے اخلاق و حقوق کا تذکرہ فرماتے ہوئے ساتھ ہی باطن کی اصلاح بھی ارشاد فرمائی :

الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا» وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»(صحیح مسلم البر و الصلۃ )
ترجمہ :
’مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ،
اور تقویٰ یہاں ہے اوراپنے سینے کی طرف طرف اشارہ فرمایا۔
اور بندے کے برا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ،
ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔ "


یعنی عبادات کی طرح باہمی اخلاق و کردار میں بھی تقوی اصل محرک ہے ،

یہی تزکیہ نفس ہے ، جو نبوت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے ،
تصوف و روحانیت کے بجائے ۔۔ تقوی اور تزکیہ ۔۔ حقیقی اسلامی اصطلاحیں اور عنوان ہیں
قرآن و حدیث اور سیرت نبوی کے مطالعہ سے ان دونوں کی اہمیت عیاں ہے ،
اور اہل الحدیث کے دعوت و منہج میں توحید باری ، اتباع النبی ﷺ اور تزکیہ نفس بنیادی ارکان ہیں
اس کی مثال صحیح البخاری اور امام بخاری کی الادب المفرد ہے ،
ہمارے دور میں اس پر اہل حدیث علماء نے بہت کچھ لکھا ہے ، کویت کے مشہور سلفی داعی شیخ عبد الرحمن عبدالخالق
کی " الاصول العلمیہ للدعوۃ السلفیہ " اس موضوع پر ملاحظہ فرمائیں ۔
 
Last edited:

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نبوت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (164سورہ آل عمران)
ترجمہ :
واقعی اللہ نے اہل ایمان پر یہ بڑا احسان فرمایا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول برپا کیا جو انہیں اس کی آیتیں سناتا ہے ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، ورنہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔"
اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں ١۔ تلاوت آیات ٢۔ تزکیہ نفس ٣۔ تعلیم کتاب و حکمت تزکیہ سے مراد عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہے۔ جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بد اخلاق اور بد اطوار قوم کو اخلاق اور کردار کی رفعتوں سے ہمکنار کردیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ "
تو بات واضح ہے کہ :

نبوت کی تعلیمات ۔۔ ظاہر و باطن کی اصلاح کا عظیم اور جامع نظام ہے ۔۔

عبادات ہوں یا انسانی حقوق دونوں کی ادائیگی میں ظاہر وباطن کا " صالح " ہونا ضروری اور مطلوب ہے

مثلاً : کسی عبادت کی ظاہری درستگی کے ساتھ قلب کی درستگی بھی لازمی ہے ، ریاء اور دیگر دنیوی اغراض سے مبرا ہونا از حد ضروری ہے ، تعلیم نبوی ہے کہ :
«اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا اَشْرَکَ فِيْهِ مَعِیَ غَيْرِی تَرَکْتُهُ وَشِرْکَهُ»
صحیح مسلم، الزهد والرقائق، باب تحریم الریاء
’میں تمام شرکاء کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی غیر کو بھی شریک کر لیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑکر دست بردارہوجاتا ہوں۔‘‘

اور نبی اکرم ﷺ نے اخلاق و حقوق کا تذکرہ فرماتے ہوئے ساتھ ہی باطن کی اصلاح بھی ارشاد فرمائی :

الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا» وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»(صحیح مسلم البر و الصلۃ )
ترجمہ :
’مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ،
اور تقویٰ یہاں ہے اوراپنے سینے کی طرف طرف اشارہ فرمایا۔
اور بندے کے برا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ،
ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔ "


یعنی عبادات کی طرح باہمی اخلاق و کردار میں بھی تقوی اصل محرک ہے ،

یہی تزکیہ نفس ہے ، جو نبوت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے ،
تصوف و روحانیت کے بجائے ۔۔ تقوی اور تزکیہ ۔۔ حقیقی اسلامی اصطلاحیں اور عنوان ہیں
قرآن و حدیث اور سیرت نبوی کے ان دونوں کی اہمیت عیاں ہے ،
اور اہل الحدیث کے دعوت و منہج میں توحید باری ، اتباع النبی ﷺ اور تزکیہ نفس بنیادی ارکان ہیں
اس کی مثآل صحیح البخاری اور امام بخاری کی الادب المفرد ہے ،
ہمارے دور میں اس پر اہل حدیث علماء نے بہت کچھ لکھا ہے ، کویت کے مشہور سلفی داعی شیخ عبد الرحمن عبدالخالق
کی " الاصول العلمیہ للدعوۃ السلفیہ " اس موضوع پر ملاحظہ فرمائیں ۔
محترم بھائی تزکیہ کا لفظی مفہوم پاک صاف کرنا ہے اور نشونما پانا۔نفس پاکیزہ ہو جاءے تو نشونما اس کا دوسرا عمل ہے جس پر وہ چلنا شروع ہو جاتا ہے۔آپ نے انسان کے دینی پہلو جس میں اولین عبادت ہیں ، اس پر کو محمول کیا ہے ، جبکہ کسی بھی عمل سے قبل خواہ وہ دینی ہی ہو اس کے لیے بھی جس اندرونی کیفیت سے گزرا جاتا ہے ، وہ تزکیہ ہے۔مثال کے طور پر نیت کرنا ، برے خیالات ذہن میں نہ لانا ، دکھاوا نہ کرنا ، یہاں تک کہ تقوی پیدا کرنے کے جو اسباب ہیں وہ بھی باطن سے جڑے ہیں۔

حاصل کلام یہ کہ جتنا ہم "ظاہر" ہیں ، اس سے زیادہ گہرا ہمارا باطن ہے، کیونکہ یہ اسی کا عکاس ہے۔
اس حوالے سے کچھ کتب کا تذکرہ کر دیں۔
 
Top