1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمیشہ باوضوء رہنے کی فضیلت

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از GuJrAnWaLiAn, ‏جولائی 30، 2013۔

  1. ‏جولائی 30، 2013 #1
    GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 13، 2011
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    289
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    اسلام علیکم
    مجھے اس حدیث کی تحقیق درکار ہے

    جزاک اللہ خیر
    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 31، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,933
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    کنزالعمال کے الفاظ ہیں:
    "يا بني إن استطعت أن تكون أبدا على وضوء فافعل، فإن ملك الموت إذا قبض روح العبد وهو على وضوء كتب له شهادة"."هب عن أنس".[كنز العمال لمتقي الهندي: 9/ 293]

    کنزالعمال کے مؤلف نے اس حدیث کے لئے ’’ھب‘‘ یعنی بیہقی کی شعب الایمان کا حوالہ دیا ہے ۔ اب اصل کتاب سے یہ حدیث مع سند ومتن ملاحظہ ہو:

    امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
    أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، حدثنا أَبُو عَمْرُو بْنُ مَطَرٍ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، حدثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو هَاشِمٍ النَاجِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بُنَيَّ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ أَبَدًا عَلَى وُضُوءٍ فَافْعَلْ، فَإِنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ إِذَا قَبَضَ رُوحَ الْعَبْدِ وَهُوَ عَلَى وَضُوءٍ كَتَبَ لَهُ شَهَادَةً "[شعب الإيمان 4/ 285]۔

    یہ حدیث سخت ضعیف ہے اس کی سند میں ایک راوی ’’كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو هَاشِمٍ النَاجِيُّ‘‘ ہے اس پر محدثین نے شدید جرح کی ہے چنانچہ:


    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    كثير بن عبد الله أبو هاشم الأبلى منكر الحديث عن أنس نسبه إبراهيم الهروي [التاريخ الصغير للبخاري: 2/ 143]

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    منكر الحديث ضعيف الحديث جدا شبه المتروك[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 154]۔

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
    كثير أَبُو هَاشم يروي عَن أنس مَتْرُوك الحَدِيث[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 89]


    نوٹ: سوال یونی کوڈ میں ہی پیش کریں اگر امیج لگانی ہے تو اس کی تحریر بھی یونی کوڈ میں لکھیں کریں۔
     
    • مفید مفید x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں