• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہیپی برتھ ڈے (HAPPY BIRTH DAY)

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
میں نہ تو برتھ ڈے مناتا ہوں اور نہ ہی منانے کا ارادہ ہے۔ اس مکالمہ کے شروع کرنے کا ایک مقصد تھا اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد برتھ ڈے مناتی ہے۔ مجھے فیس بک پر برتھ ڈے وش کرنے والوں میں چونکہ اکثر حضرات ڈاڑھی والے تھے اور ان میں سے دو چار مدرسہ کے فارغ بھی تھے لہذا مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ جیسے تصویر کے مسئلے میں علماء صرف اس کی حرمت کا فتوی دیتے رہ گئے اور عملا ہر دوسرے مفتی صاحب کی جیب میں کیمرے والا موبائل ہے۔ اور آج کے دور میں سوشل میڈیا پر کیمرہ کی تصویر کی حرمت کی بات کرنا ایک مذاق بن جاتا ہے۔ تو مولانا حضرات کا فتوی ایک پہلو ہے اور تہذیب کا غلبہ دوسرا۔ ہمارے مولانا حضرات نے تو لاوڈ اسپیکر اور فون کو بھی شروع میں بدعت قرار دیا اور مجھے اس میں بحث نہیں کرنی کہ ان کا استدلال درست تھا یا نہیں۔

مجھے تو معاشرتی پہلو سے یہ نظر آ رہا ہے کہ مغرب سے در آمد شدہ اس تہذیب اور کلچر کے سامنے ہم محض فتووں سے بند باندھنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں جیسا کہ کیمرہ کی تصویر کی حرمت کا فتوی ہر مسلک کے اکابر اہل علم نے دیا ہے اور دیتے چلے آ رہے ہیں لیکن تہذیب کے غلبے نے اس فتوے کا جو حشر کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک ہے ہیپی برتھ ڈے کو فتووں کی زبان سے روکنا جو کہ میرے خیال میں ایک کامیاب حکمت عملی نہیں ہے اور آنے والے چند سالوں میں کیا مذہبی کیا غیر مذہبی ہر قسم کے لوگ اس رسم میں بہہ جائیں گے اور ان آئندہ سالوں میں بعض علماء کو اس کے جواز کی اسی طرح دلیلیں بھی سوجھ جائیں گی جیسا کہ کیمرہ کی تصویر کے جواز کی سوجھ گئیں۔

میری اس پوسٹ کا مقصد نہ تو اس رسم کو جواز بخشنا تھا اور نہ ہی اسے استدلال فراہم کرنا بلکہ مقصود یہ تھا جو کام یہ امت مستقبل میں کرنے چلی ہے کیوں نہ اس کی آج فکر کر لیں کہ ہم اس رسم کو کسی ایسے رخ پر ڈال دیں کہ اس میں مشابہت کفار کا عنصر نکل جائے۔ باقی جو نہیں مناتے، انہیں منانے کی رغبت دلانا مقصود نہیں ہے بلکہ جو منا رہے ہیں، انہیں کسی راہ پر ڈالنا مقصود ہے۔ تو بھائی جو ہیپی برتھ ڈے منا رہے ہیں، ایک تو یہ حکمت عملی ہے کہ آپ انہیں اس کے بدعت ہونے کے فتووے سنائیں۔ اگر اس سے لوگ رک سکتے ہیں تو ضرور یہ کام کریں۔ لیکن میں اس کا بہتر حل یہ سمجھتا ہوں کہ اس رسم کو مائل کر دیا جائے یعنی لوگوں کو اس بات پر کنونس کریں کہ آپ ہیپی برتھ ڈے نہ کہیں کیونکہ یہ انگریز سے مشابہت ہے۔ آپ جنم دن مبارک ہو یا یوم ولادت مبارک ہو کہہ لیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,111
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
زندگی کا ایک سال گذر کیا اور ھم موت سے ایک سال اور قریب ہو گئے یہ سال جو گزرا ہے کیا ھمارے دامن میں کوئی ایسی نیکی موجود ہے جو کہ ھم جنت دلا سکیں - جو ھمیں جہنم سے بچا سکیں - جو ھمیں عذاب قبر سے بچا سکیں - جو ھمیں میدان محشر کی سختیوں سے محفوظ کر سکیں - جو ھمیں پل صراط گزارنے میں ھماری مدد کر سکیں -

یہ سال جو گزرا ہے ھم نے کیا کھویا اور کیا پایا :

- یہ سال جو گزرا ہے اس میں میری ماں مجھ سے بچھڑ گئی-
- یہ سال جو گزرا ہے اس میں میرا باپ ھم بہن بھائیوں سے جدا ہو گیا


ھم ہر لمحے موت کے قریب جا رہے ہیں

1517631_249852338551154_8697626258012757581_n.jpg



جب تک سانس ہے ،، چانس ہے

10342756_390995207705413_786559595035215156_n.jpg
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
لیکن میں اس کا بہتر حل یہ سمجھتا ہوں کہ اس رسم کو مائل کر دیا جائے یعنی لوگوں کو اس بات پر کنونس کریں کہ آپ ہیپی برتھ ڈے نہ کہیں کیونکہ یہ انگریز سے مشابہت ہے۔ آپ جنم دن مبارک ہو یا یوم ولادت مبارک ہو کہہ لیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
آپ کی ساری باتیں مناسب ہیں (سوائے آخری 3 جملوں کے)
اور میرے خیال سے اس کے بعد بحث ہی ختم ہو جانی چاہئے۔
آخری 3 جملے چونکہ آپ کی انفرادی رائے ہے جس سے احباب اختلاف کر سکتے ہیں۔ اور میری سوچ تو بس وہی ہے جو نامور مصنف ابن صفی نے ایک انٹرویو میں یوں جواب دیا تھا :
صاحب ! کیا رکھا ہے ان باتوں میں!
آپ کا ظاہر کچھ بھی ہو، لیکن دل مسلمان ہونا چاہئے۔ کچھ نیکیاں سچے دل سے اپنا کر دیکھئے۔ آہستہ آہستہ آپ خود کسی جبر و کراہ لے بغیر اپنا ظاہر بھی اللہ کے احکامات کے مطابق بنا لیں گے۔ بس جیسے ہی آپ انفرادی طور پر اللہ کے احکامات کے آگے جھکے یہ سمجھ لیجئے کہ ایک ایسا یونٹ بن گیا ، جس پر اللہ کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے۔ انفرادی طور پر اپنی حالت سدھارتے چلے جائیے ، پھر دیکھئے کتنی جلدی ایک ایسا معاشرہ بن جاتا ہے جس پر اللہ کی حاکمیت ہو۔ قرآن کو پڑھئے ، اس پر عمل کیجئے ، اسے علم الکلام کا اکھاڑہ نہ بنائیے۔
 
شمولیت
اپریل 21، 2011
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
147
پوائنٹ
71
اسلام علیکم۔ شامل بحث ہونے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔ میں اس مکالمے کے شرعی پہلو پر بات کرنے کا اہل نہیں ہوں اس لئے اس پہلو سے ہٹ کر اس موضوع کے تاریخی اور ثقافتی پہلووں پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ایک غلط فہمی یہ ہے کہ شائد جنم دن کی مبارکباد دینےکی ر سم انگریزوں کی ایجاد ہے حالانکہ جنم دن کی مبارکباد دینے کا رواج قدیم مصری اور یونانی تہذیب سے آیا ہے۔ اسکا زکر ہمیں توریت میں ملتا ہے جہاں ایک مصری بادشاہ کی سالگرہ کا زکر ہے ان تہذیبوں میں دراصل سالگرہ مبارک یا جنم دن مبارک کہنے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ جسکو یہ مبارک باد دی جارہی ہے دیوتا اس سے خوش ہیں اور جس شخص کو یہ مبارکباد نہ دی جاتی یا کم ملتی تو اس سے مراد یہ سمجھی جاتی کہ دیوتا اس شخص سے ناراض ہیں۔ سالگرہ کے کیک کا تصور بھی قدیم یونانی تہذیب کی پیداوار ہے جہاں گول کیک سالگرہ کے دن دیوتاوں کی نذر کیے جاتے تاکہ وہ ان سے خوش رہیں۔ اس لحاظ سے یہ محض ایک معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ با قاعدہ اسکی مذہبی بنیاد موجود ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کے عیسایت اور یہودیت میں بھی سالگرہ منانے یا اس موقعہ پر مبارکباد دینے کاے تصور کی شدت سے مخالفت پائی جاتی تھی۔ یہاں تک کے شروع کے عیسائی علما نے تو سیدنا عیسیٰ تک کے جنم دن کو منانے کو حرام قرار دیا تھا لیکن بعد میں یہ رسم لوگوں میں سرایت کرتی چلی گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
آپ ہیپی برتھ ڈے نہ کہیں کیونکہ یہ انگریز سے مشابہت ہے۔ آپ جنم دن مبارک ہو یا یوم ولادت مبارک ہو کہہ لیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ صاحب!
جنم دن یا یوم ولادت ہر ذی روح کا ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔تو کیا گزرے ہوئے وقت یا دن کے لیے برکت کی دعا کی جاسکتی ہے؟ جزاک اللہ خیرا۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,560
پوائنٹ
641
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ صاحب!
جنم دن یا یوم ولادت ہر ذی روح کا ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔تو کیا گزرے ہوئے وقت یا دن کے لیے برکت کی دعا کی جاسکتی ہے؟ جزاک اللہ خیرا۔
حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی یہ دعا سورۃ مریم میں منقول ہے:
وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ (مريم: 33)
اور مجھ پر سلام اس دن میں کہ جس دن میں، میں پیدا ہوا۔
واللہ اعلم بالصواب
 
شمولیت
ستمبر 13، 2014
پیغامات
393
ری ایکشن اسکور
274
پوائنٹ
71
مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کہ ہی کہ ولادت کے وقت انہیں شیطان کی طرف سے ایذاء نہیں پہنچی تھی جیسا کہ حدیث میں ہے اور یہ خبر ہے دعا نہیں
اور یہ کہ کیمرے کے ساتھ یہ ہو گیا تو اب ہیپی برتھ ڈے کا پہلے ہی حل کریں تو بھائی
آج اس میں قصور مدارس کے اساتذہ کا بھی ہے اور طلبہ کا بھی جب انسان میں خشیت الہی نہ رہے تو پھر وہ شرعی حکم جاننے کے بعد بھی سنی ان سنی کر دیتا ہے مساجد کے خطباء کا مقصد ہی جب مخالفین کو پچھاڑنے کا اور انتظامیہ کو راضی کرنے کا رہ جائے گا تو نتیجہ یہی نکلے گا
جب اپنے دل میں ایمان کی چنگاریاں بجھ رہی ہوں تو لوگوں پر ان باتوں کا اثر نہیں ہوتا جب ھماری عملی زندگی ہماری باتوں کے خلاف ہو گی تو لوگ کیوں مانیں گے
بجائے اس کے کہ ھم اس کا کوئی نیا حل ڈھونڈیں ہمیں اس کا شرعی حل ڈھونڈنا چاھیئے
و لن یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
آج اس میں قصور مدارس کے اساتذہ کا بھی ہے اور طلبہ کا بھی جب انسان میں خشیت الہی نہ رہے تو پھر وہ شرعی حکم جاننے کے بعد بھی سنی ان سنی کر دیتا ہے مساجد کے خطباء کا مقصد ہی جب مخالفین کو پچھاڑنے کا اور انتظامیہ کو راضی کرنے کا رہ جائے گا تو نتیجہ یہی نکلے گا
جب اپنے دل میں ایمان کی چنگاریاں بجھ رہی ہوں تو لوگوں پر ان باتوں کا اثر نہیں ہوتا جب ھماری عملی زندگی ہماری باتوں کے خلاف ہو گی تو لوگ کیوں مانیں گے
ایگزیکٹلی !!
جب تک ہم اپنی عملی زندگی کو دین کے بنیادی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کو اپنا ترجیحی مقصد نہیں بنائیں گے تب تک عام مسلمان کے لئے اس قسم کے مباحث بیکار محض ہیں ۔۔۔ اب چاہے وہ برتھ ڈے کا مسئلہ ہو یا دیوالی کی مٹھائی کھانے کا یا ڈاڑھی نقاب کا!
ویسے بھی ۔۔۔۔ نان-ایشوز کو ایشوز بنانا آجکل سوشل میڈیا پر برصغیری مسلمانوں کا مرغوب مشغلہ ہے ;)
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذان روح ہلالی نہ رہی
 
Top