• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید بن معاویہ کے متعلق ابو عمر بھائی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
امام ابن جوزى لکھتا ہے: «ليس العجب من قتال ابن زياد للحسين و انما العجب من خذلان يزيد و ضربه بالقضيب ثنايا الحسين و حمله آل رسول الله سبايا على اقتاب الجمال و لو لم يكن فى قلبه احقاد جاهلية اضغان بدرية لاحترم الرأس لما وصل اليه و كفنه و دفنه وأحسن الى آل رسول الله(صلى الله عليه وآله)(صواعق المحرقه، ص 218. ابن حجر مکی)
ترجمہ:جنگ ابن زیاد حسین ابن علی کے ساتھ باعث تعجب نہیں۔بلکہ مجھے تعجب یزید سے ھے،کہ اس نے لاٹھی سے امام حسین کے دانت مارے پیغمبرص کے خاندان کو اسیر کیا،انہیں اونٹوں پر سوار کرایا تاکہ عموم اسے دیکھ لیں،اگر یزید کے دل میں کینہ زمانہ جہالت اور کینہ جنگ بدر نہیں تھا تو امام حسین بن علی کا احترام کرتا کفن دیتا اور دفن کرتا، اور آل رسول کے ساتھ نیک برتاو کرتا۔۔۔۔
یہ یزید کے پیغمبر ص اور اسلام اور قرآن کے بارے میں کہے گئے اشعار ہیں۔
------------------
ليت اشياخى ببدر شهدوا *** جزع الخزرج من وقع الأسل
لأهلوا و استهلوا فرحاً *** ثم قالوا يا يزيد لا تشل...
لعبت هاشم بالملك فلا *** خبر جاء ولا وحى نزل
کاش میرے بڑے ھوتے جو بدر میں مارے گئے،اور خوش ھوجاتے اور کہتے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ھوں،بنی ھاشم حکومت کے ساتھ کھیلے ،نہ کوئی پیغمبرص تھا اور نہ کوئی وحی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے پڑھ کر یزید والے اپنی قیامت خراب نہ کریں پلیز حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ،لھذا پیغمبر ص کی دشمنی نہیں مولیں کیونکہ قبر میں یزید کی وکالت کام نہیں آئے گی بلکہ نیک اعمال کام آئیں گے۔والسلام من التبع الھدی
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
امام ابن جوزى لکھتا ہے: «ليس العجب من قتال ابن زياد للحسين و انما العجب من خذلان يزيد و ضربه بالقضيب ثنايا الحسين و حمله آل رسول الله سبايا على اقتاب الجمال و لو لم يكن فى قلبه احقاد جاهلية اضغان بدرية لاحترم الرأس لما وصل اليه و كفنه و دفنه وأحسن الى آل رسول الله(صلى الله عليه وآله)(صواعق المحرقه، ص 218. ابن حجر مکی)
ترجمہ:جنگ ابن زیاد حسین ابن علی کے ساتھ باعث تعجب نہیں۔بلکہ مجھے تعجب یزید سے ھے،کہ اس نے لاٹھی سے امام حسین کے دانت مارے پیغمبرص کے خاندان کو اسیر کیا،انہیں اونٹوں پر سوار کرایا تاکہ عموم اسے دیکھ لیں،اگر یزید کے دل میں کینہ زمانہ جہالت اور کینہ جنگ بدر نہیں تھا تو امام حسین بن علی کا احترام کرتا کفن دیتا اور دفن کرتا، اور آل رسول کے ساتھ نیک برتاو کرتا۔۔۔۔
یہ یزید کے پیغمبر ص اور اسلام اور قرآن کے بارے میں کہے گئے اشعار ہیں۔
------------------
ليت اشياخى ببدر شهدوا *** جزع الخزرج من وقع الأسل
لأهلوا و استهلوا فرحاً *** ثم قالوا يا يزيد لا تشل...
لعبت هاشم بالملك فلا *** خبر جاء ولا وحى نزل
کاش میرے بڑے ھوتے جو بدر میں مارے گئے،اور خوش ھوجاتے اور کہتے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ھوں،بنی ھاشم حکومت کے ساتھ کھیلے ،نہ کوئی پیغمبرص تھا اور نہ کوئی وحی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے پڑھ کر یزید والے اپنی قیامت خراب نہ کریں پلیز حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ،لھذا پیغمبر ص کی دشمنی نہیں مولیں کیونکہ قبر میں یزید کی وکالت کام نہیں آئے گی بلکہ نیک اعمال کام آئیں گے۔والسلام من التبع الھدی
(کتاب الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم اليزيد) جو امام ابن جوزی نے لکھی ھے ھر ذی شعور کو پڑھنے کی دعوت ہے،جو بھی پڑھے گا ،یزید پر لعنت اپنا معمول بنائے گا
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436
(کتاب الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم اليزيد) جو امام ابن جوزی نے لکھی ھے ھر ذی شعور کو پڑھنے کی دعوت ہے،جو بھی پڑھے گا ،یزید پر لعنت اپنا معمول بنائے گا

یزید بن معاویہ کی بیعت

اب ہم اک مسئلے کی طرف آتے ہیں جو کافی بحث طلب ہے اور اس کا مکمّل احاطہ ممکن بھی نہیں لیکن چند معروضات پیش خدمت ہیں

١ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے لے کر متمکن خلافت ہونے تک کل دس سال ہیں یعنی سن ٥١ ھجری سے لے کر سن ٦٠ ھجری تک – اس دوران تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ کسی نے مخالفت نہ کی لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی وفات کے اک سال بعد یعنی ٦١ ھجری میں حسین رضی الله عنہ نے اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا – دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ نہ مل سکی جو یزید بن معاویہ کو حاصل تھی – ان دونوں نے راست قدم اٹھایا یا نہیں – اس پر رائے زنی کرنے کا ہمارا مقام نہیں کیونکہ حسین رضی الله عنہ اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ دونوں جلیل القدر ہیں

٢ معاویہ رضی الله عنہ کا اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کرنے کا عمل بھی قابل جرح نہیں کیونکہ اسلام میں خلیفہ مقرر کرنے کا حق خلیفہ کا ہی ہے جیسے ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ مقرر کیا – عمر رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اک کمیٹی مقرر کی – علی رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حسن رضی الله عنہ کو مقرر کیا – اسی طرح معاویہ رضی الله عنہ نے بھی علی رضی الله عنہ کی طرح اپنے بیٹے یزید کو مقرر کیا- اسلام میں موروثی خلافت کا نظریہ علی رضی الله عنہ نے ہی پیش کیا

٣ حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے اگلے سال ٤١ ھجری میں سات ماہ کے بعد خلافت سے دست برداری کا ١علان کر دیا – چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندان علی کے اک نمائندہ تھے – معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا – حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی

بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ

باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)} [الأحقاف: 17]

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِى.


مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ کی جانب سے حجاز پر (گورنر ) مقرر تھے انہوں نے معاویہ کے بعد يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت کے لئے خطبہ دیا – پس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ نے کچھ بولا – جس پر مروان بولے اس کو پکڑو اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ عائشہ رضی الله تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے – اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} – اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ھمارے لئے قرآن میں سواے برات کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا


عائشہ رضی الله تعالی عنہا ٰ کی وفات ٥٧ ھجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ

فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا


اور سن ٥١ ھجری میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ اور اسی سال مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی


بخاری مزید بیان کرتے ہیں کہ

- باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ


نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے


عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»


نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا


بخاری یزید بن معاویہ کو حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں روایت کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ المُحْرِمِ؟ قَالَ: شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ العِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ابن ابی نُعْمٍ کہتے ہیں میں نے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کو سنا جب ان سے محرم کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر محرم (احرام ) کی حالت میں مکھی قتل ہو جائے تو کیا کریں پس انہوں نے کہا أَهْلُ العِرَاقِ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور انہوں نے رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے نواسے کا قتل کیا


بخاری نے ابن عمر کی یہ روایت بیان کر کے قتل حسین کا بوجھ أَهْلُ العِرَاقِ پر بتایا اور أَهْلُ الشام کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیا



تاریخ کے مطابق حسین رضی الله تعالیٰ مدینہ سے کوفہ جا رہے تھے لیکن شہید کربلہ میں ہوۓ – اگر مدینہ سے سفر کیا جائے تو کربلہ کوفہ کے بعد آتا ہے جیسا کہ نقشہ سے واضح ہے – زمینی حقائق کو جھٹلانا مشکل ہے – کربلہ سے کوفہ کا فاصلہ ٤٠ میل ہے گویا حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کوفہ کو چھوڑ کر کربلہ میں ٤٠ میل دور شہید ہوئے بعض لا علم لوگ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے لہ حسین رضی الله عنہ اس رستے سے کوفہ گئے ہوں جو مدینہ سے کربلا ہوتا ہوا جاتا ہے لیکن یہ ان کی لا علمی ہے ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ اور شیعہ کتب میں یہ موجود ہے کہ حسین نے کون سا رستہ اختیار کیا اور بیچ رستے ہیں اپنا رخ کوفہ سے کربلا کی طرف تبدیل کیا

کوفہ پہنچنے سے پہلے وہاں کی معلومات کے لیے حسین نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو کوفہ بھیجا – مسلم نے کوفہ میں حسین کی اجازت سے پہلے خروج ظاہر کر دیا اور بیت المال لوٹا جس کی پاداش میں بصرہ کے گورنر عبید الله ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کا سر تن سے جدا کر دیا- اس کی خبر حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کو ہو گئی اور وہ زور اور قوت جس کا دعویٰ کوفیوں نے کیا تھا اس کی قلعی کھل گئی – حسین رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنا راستہ بدل لیا اور اسی سے ظاہر ہے کہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کا خروج کے حوالے سے موقف بدل چکا تھا اور وہ کوفہ سے دور جا رہے تھے – کوفہ کے بلوائیوں کو پتا تھا کہ اگر حسین کے پاس سے وہ خطوط حکومت تک پہنچ گئے تو ان کی شامت آ جاۓ گی لہذا خط تلف کرنے کی غرض سے حسینی قافلے کا پیچھا کیا گیا اور خیموں کو آگ لگا دی گئی – اس بلوے میں علی بن حسین اور کچھ خواتین بچ گئیں لیکن حسین رضی الله تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے – علی بن حسین اور خواتین کو حکومت نے دمشق پہنچا دیا گیا کیونکہ ان کی حفاظت ضروری تھی – اگر خلیفہ وقت کا ان کو قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو راستہ میں ہی سب کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا لیکن نہ صرف وہاں ان کو عزت و تکریم سے رکھا گیا بلکہ واپس مدینہ پہنچا دیا گیا -

بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں بیان کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ: «كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالوَسْمَةِ»


عبید الله ابن زیاد کے پاس صحابی رسول انس بن مالک بھی موجود تھے اور حسین کا سر اک طشت میں رکھا گیا تو عبید الله ابن زیاد نے سوچ میں غرق ( زمین ) کریدتے ہوئے حسین کے حسن کے بارے میں کچھ کہا جس پر انس رضی اللہ تعالیٰ بولے کہ یہ رسول صلی الله علیہ وسلم کے مشابہ ہیں اور حسین نے بالوں کو خضاب دیا ہوا تھا


صحابی رسول انس بن مالک کی عبید الله ابن زیاد کے پاس موجودگی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ عبید الله ابن زیاد کا حسین کو قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا ورنہ وہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی تعریف بالکل نہ کرتا

اس واقعہ کے ١٠٠ سال بعد ابو مخنف لوط بن یحییٰ نے جو اپنے زمانے میں آگ لگانے والا شیعہ مشہور تھا اور اک قصہ گو تھا اس نے گھڑ کر مختلف قصے اس واقعہ سے متعلق مشھور کیے جن کو ذاکرین اب شام غریباں میں بیان کرتے ہیں جو نہایت عجیب اور محیر العقول ہیں مثلا حسین کا اک اک کر کے اپنے رشتہ داروں کو شہید ہونے بھیجنا – ان کے قتل کے وقت آسمان سے خون کی بارش ہونا – آسمان سے ھاتف غیبی کا پکارنا – قبر نبی سے سسکیوں اور رونے کی آواز آنا – حسین کے کٹے ہوۓ سر کا نوک نیزہ پر تلاوت سوره کہف کرنا – وغیرہ

رہی بات یزید بن معاویہ کی حدیث کی روایت کی تو یہ بھی غیر ضروری ہے کیونکہ یزید بن معاویہ نے کچھ روایت نہیں کیا – اور اصحاب رسول کی سینکڑوں اولادیں ہیں جنہوں نے کوئی روایت بیان ہی نہیں کی – لہذا یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو گا تو اس کو بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے


انہی اختلافات پر امّت میں پہلے سیاسی گروہ اور پھر مذہبی فرقے بنے ورنہ اس سے پہلے نہ عقائد کا اختلاف تھا نہ عمل میں کوئی بحث – آج ١٤٠٠ سال گذرنے کے باوجود ہم انہی مسئلوں میں الجھے ہوۓ ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا فائدہ نہیں
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436
[QUOTE="فواداحمد, post: 230334, member: 4969"]
اسے پڑھ کر یزید والے اپنی قیامت خراب نہ کریں پلیز حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں -[/QUOTE]



ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ

عن الحارث عن علي قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي ما داما حيين


علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے جنتیوں کے كهول کے سردار ہوں گے، اور فرمایا اے علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا


دین کوئی ایسی بات نہیں جو نبی علیہ السلام نے چھپائی ہو یا اس کو ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہو لیکن اس کے باوجود

اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں

روایت میں «كہول» کا لفظ ہے جو جمع ہے «كہل» کی- «كہل» سے مراد وہ مرد ہوتے ہیں جن کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک- تاریخ کے مطابق حسن کی پیدائش ٣ ہجری اور وفات ٥٠ ہجری میں ہوئی اور حسین کی پیدائش ٤ ہجری اور شہادت ٦١ ہجری میں ہوئی -

حسین رضی الله عنہ کی شہادت کے وقت ٥٧ سال عمر تھی اور حسن رضی الله عنہ کی ٤٧ سال تھی لہذا دونوں اس کھول کی تعریف پر پورا اترتے ہیں- لہذا ابو بکر ہوں یا عمر یا حسن یا حسین سب کھول بن کر اس دنیا سے گئے –

حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ کی سند

ایک دوسری روایت ہے

أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس روایت کو ترمذی نے بھی عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل کیا ہے اور وہ کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ


یہ حدیث حسن غریب ہے اس طرق سے اس کو ہم نہیں جانتے سوائے اسرئیل کی سند سے

سند میں إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ بن أبى إسحاق السبيعى الهمدانى ہے

مسند احمد میں یہ إِسْرَائِيلُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل ہوئی ہے

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَرَوَى: عَبَّاسٌ، عَنْ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: كَانَ القَطَّانُ لاَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْرَائِيْلَ، وَلاَ عَنْ شَرِيْكٍ.


عبّاس کہتے ہیں کہ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ کہتے ہیں کہ یحیی القَطَّانُ اسرائیل اور شریک سے روایت نہیں کرتے تھے


احمد کہتے ہیں یہ مناکیر روایت کرتے ہیں

إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ صحیحین کے راوی ہیں لیکن ان کی ظاہر ہے بعض مناکیر نقل نہیں کی گئیں- سند میں المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو بھی ہے جو روایت کرتا تھا کہ معاویہ نے سنت کو بدلا اور علی صدیق اکبر ہیں لہذا ایسے مفرط شیعوں کی روایت کس طرح قابل قبول ہے؟

روایت کی ایک تاویل کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے وہ لوگ جو جوانی میں ہلاک ہوئے ان کے سردار حسنین ہوں گے

لیکن حدیث کے الفاظ اس مفروضے کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں ہے کہ اہل جنت کے جوانوں کے سردار حسنین ہوں گے

یہ مفروضہ اس لئے گھڑا گیا کیونکہ دیگر صحیح روایات کے مطابق جنت میں سب ہی جوان ہوں گے جن میں انبیاء و رسل

بھی شامل ہیں اس حساب سے زیر بحث روایت حسنین کو انبیاء و رسل کا سردار بھی بنا دیتی ہے جو اہل جنت میں سے ہیں

أَبِي سَعِيدٍ رضی الله عنہ کی سند
یہ روایت ایک اور سند سے بھی ترمذی اور مسند احمد میں آئی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس کی سند میں عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ہیں جن کے لئے میزان میں الذھبی لکھتے ہیں كوفي، تابعي مشهور ہیں

وقال أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين، قال: ابن أبي نعم ضعيف، كذا

نقل ابن القطان، وهذا لم يتابعه عليه أحد.


ابن معین، ابن القطان ان کو ضعیف کہتے ہیں

عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي صحیحین کے راوی ہیں لیکن یہ مخصوص روایت صحیح میں نہیں دوم ان سے سنے والے يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ہیں جو کوفہ کے کٹر شیعہ ہیں

أبي هُرَيْرَة رضی الله عنہ کی سند
نسائی نے یہ روایت کتاب خصائص علی میں أبي هُرَيْرَة کی سند سے نقل کی ہے

أخبرنَا مُحَمَّد بن مَنْصُور قَالَ حَدثنَا الزبيرِي مُحَمَّد بن عبد الله قَالَ حَدثنَا أَبُو جَعْفَر واسْمه مُحَمَّد بن مَرْوَان قَالَ حَدثنِي أَبُو حَازِم عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ أَبْطَأَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَنَّا يَوْم صدر النَّهَار فَلَمَّا كَانَ العشى قَالَ لَهُ قائلنا يَا رَسُول الله قد شقّ علينا لم نرك الْيَوْم قَالَ إِن ملكا من السَّمَاء لم يكن رَآنِي فَأَسْتَأْذِن الله فِي زيارتي فَأَخْبرنِي أَو بشرني أَن فَاطِمَة ابْنَتي سيدة نسَاء أمتِي وَإِن حسنا وَحسَيْنا سيدا شباب أهل الْجنَّة


محمد بن مروان الذهلى ، أبو جعفر الكوفى مجھول ہے جس کا کسی نے ذکر نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کی سند
ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا”


حسن و حسین اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کے باپ ان سے بہتر ہیں


ضعفاء العقيلي کے مطابق
قال أَبُو داود : سمعت يحيى بْن مَعِين: وسئل عن المعلى ابن عَبْد الرحمن – فقال: أحسن أحواله عندي أنه قيل لَهُ عند موته: ألا تستغفر اللَّهِ. فقال: ألا أرجو أن يغفر لي وقد وضعت فِي فضل علي بْن أَبي طالب سبعين حديثا

ابو داود کہتے ہیں میں نے يحيى بْن مَعِين سے سنا اور ان سے المعلى ابن عَبْد الرحمن کے حوالے سے سوال کیا انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حال احسن ہے ان کی موت کے وقت ان سے کہا گیا کہ آپ الله سے توبہ کریں پس کہا بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میری مغفرت ہو گی اور میں نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں ٧٠ حدیث گھڑیں


البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں اور امام حاکم مستدرک میں اس کو اسی سند سے نقل کرتے ہیں

چونکہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں لہذا یہ روایت امام ترمذی کے حساب سے حسن ہے – اس کو منقبت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کا متن جلیل القدر اصحاب رسول کو بھی حسن و حسین کی سرداری قبول کروا رہا ہے حالانکہ خود ان اصحاب رسول نے اپنی زندگی میں حسین کی بغاوت کو قبول نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کا موقف خروج حسین پرامام بخاری بیان کرتے ہیں کہ

باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے


عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»


نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا


جو اصحاب رسول زندگی میں حسین کو سردار نہیں مان رہے وہ ان کو اہل جنت کا سردار کہیں نہایت عجیب بات ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ روایت مشکوک ہے

واضح رہے کہ بحث اس پر ہے ہی نہیں کہ حسنین اہل بہشت میں سے ہیں یا نہیں- بحث اس مسئلہ پر ہے کہ کیا جنت میں بھی اس دنیا کی طرح کا کوئی نظام ہے جس میں سردار یا غیر سردار کی تقسیم ہو گی

قرآن جو نقشہ کھینچتا ہے اس میں تو سب جنتی سرداروں کی طرح مسندوں پر ہوں گے

گروہ بندی اور سرداری تو دنیا کی سیاست کے معاملات ہیں جن میں ایک گروہ کسی سردار پر متفق ہوتا ہے اور

اس کی سربراہی میں کام کرتا ہے جبکہ جنت تو کسی بھی سیاست سے پاک ہو گی اوراس طرح کی گروہ بندی یا سرداری کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا اب

چونکہ یہ کہنا ہی صحیح نہیں لہذا یہ ایک مہمل بات بنتی ہے جو حدیث رسول نہیں ہو سکتی

ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں

ارقبوا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم في أھل بیتہ


محمد صلی الله علیہ وسلم کے اہلِ بیت (سے محبت) میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی محبت تلاش کرو۔


صحیح البخاری

لیکن محبت میں غلو سب کے لئے منع ہے اور اس میں احتیاط ضروری ہے
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
یزید بن معاویہ کی بیعت

اب ہم اک مسئلے کی طرف آتے ہیں جو کافی بحث طلب ہے اور اس کا مکمّل احاطہ ممکن بھی نہیں لیکن چند معروضات پیش خدمت ہیں

١ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے لے کر متمکن خلافت ہونے تک کل دس سال ہیں یعنی سن ٥١ ھجری سے لے کر سن ٦٠ ھجری تک – اس دوران تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ کسی نے مخالفت نہ کی لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی وفات کے اک سال بعد یعنی ٦١ ھجری میں حسین رضی الله عنہ نے اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا – دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ نہ مل سکی جو یزید بن معاویہ کو حاصل تھی – ان دونوں نے راست قدم اٹھایا یا نہیں – اس پر رائے زنی کرنے کا ہمارا مقام نہیں کیونکہ حسین رضی الله عنہ اور عبدللہ بن زبیر رضی الله عنہ دونوں جلیل القدر ہیں

٢ معاویہ رضی الله عنہ کا اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کرنے کا عمل بھی قابل جرح نہیں کیونکہ اسلام میں خلیفہ مقرر کرنے کا حق خلیفہ کا ہی ہے جیسے ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ مقرر کیا – عمر رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اک کمیٹی مقرر کی – علی رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حسن رضی الله عنہ کو مقرر کیا – اسی طرح معاویہ رضی الله عنہ نے بھی علی رضی الله عنہ کی طرح اپنے بیٹے یزید کو مقرر کیا- اسلام میں موروثی خلافت کا نظریہ علی رضی الله عنہ نے ہی پیش کیا

٣ حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے اگلے سال ٤١ ھجری میں سات ماہ کے بعد خلافت سے دست برداری کا ١علان کر دیا – چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندان علی کے اک نمائندہ تھے – معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا – حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ھجری میں وفات ہوئی – سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ پر حملہ کر کے امّت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا – اس حملے میں جلیل القدر اصحاب رسول بھی ساتھ تھے – سن ٥١ ھجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی

بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ

باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)} [الأحقاف: 17]

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِى.


مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ کی جانب سے حجاز پر (گورنر ) مقرر تھے انہوں نے معاویہ کے بعد يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت کے لئے خطبہ دیا – پس عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ نے کچھ بولا – جس پر مروان بولے اس کو پکڑو اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ عائشہ رضی الله تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو گئے – اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} – اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ھمارے لئے قرآن میں سواے برات کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا


عائشہ رضی الله تعالی عنہا ٰ کی وفات ٥٧ ھجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے

أبو عمرو خليفة بن خياط (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ

فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا


اور سن ٥١ ھجری میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ اور اسی سال مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی


بخاری مزید بیان کرتے ہیں کہ

- باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ


نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے


عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»


نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا


بخاری یزید بن معاویہ کو حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں روایت کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ المُحْرِمِ؟ قَالَ: شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ العِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


ابن ابی نُعْمٍ کہتے ہیں میں نے عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کو سنا جب ان سے محرم کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر محرم (احرام ) کی حالت میں مکھی قتل ہو جائے تو کیا کریں پس انہوں نے کہا أَهْلُ العِرَاقِ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور انہوں نے رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے نواسے کا قتل کیا


بخاری نے ابن عمر کی یہ روایت بیان کر کے قتل حسین کا بوجھ أَهْلُ العِرَاقِ پر بتایا اور أَهْلُ الشام کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیا



تاریخ کے مطابق حسین رضی الله تعالیٰ مدینہ سے کوفہ جا رہے تھے لیکن شہید کربلہ میں ہوۓ – اگر مدینہ سے سفر کیا جائے تو کربلہ کوفہ کے بعد آتا ہے جیسا کہ نقشہ سے واضح ہے – زمینی حقائق کو جھٹلانا مشکل ہے – کربلہ سے کوفہ کا فاصلہ ٤٠ میل ہے گویا حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کوفہ کو چھوڑ کر کربلہ میں ٤٠ میل دور شہید ہوئے بعض لا علم لوگ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے لہ حسین رضی الله عنہ اس رستے سے کوفہ گئے ہوں جو مدینہ سے کربلا ہوتا ہوا جاتا ہے لیکن یہ ان کی لا علمی ہے ابن کثیر کی البدایہ و النہایہ اور شیعہ کتب میں یہ موجود ہے کہ حسین نے کون سا رستہ اختیار کیا اور بیچ رستے ہیں اپنا رخ کوفہ سے کربلا کی طرف تبدیل کیا

کوفہ پہنچنے سے پہلے وہاں کی معلومات کے لیے حسین نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو کوفہ بھیجا – مسلم نے کوفہ میں حسین کی اجازت سے پہلے خروج ظاہر کر دیا اور بیت المال لوٹا جس کی پاداش میں بصرہ کے گورنر عبید الله ابن زیاد نے مسلم بن عقیل کا سر تن سے جدا کر دیا- اس کی خبر حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کو ہو گئی اور وہ زور اور قوت جس کا دعویٰ کوفیوں نے کیا تھا اس کی قلعی کھل گئی – حسین رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنا راستہ بدل لیا اور اسی سے ظاہر ہے کہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کا خروج کے حوالے سے موقف بدل چکا تھا اور وہ کوفہ سے دور جا رہے تھے – کوفہ کے بلوائیوں کو پتا تھا کہ اگر حسین کے پاس سے وہ خطوط حکومت تک پہنچ گئے تو ان کی شامت آ جاۓ گی لہذا خط تلف کرنے کی غرض سے حسینی قافلے کا پیچھا کیا گیا اور خیموں کو آگ لگا دی گئی – اس بلوے میں علی بن حسین اور کچھ خواتین بچ گئیں لیکن حسین رضی الله تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے – علی بن حسین اور خواتین کو حکومت نے دمشق پہنچا دیا گیا کیونکہ ان کی حفاظت ضروری تھی – اگر خلیفہ وقت کا ان کو قتل کرنا ہی مقصود ہوتا تو راستہ میں ہی سب کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا لیکن نہ صرف وہاں ان کو عزت و تکریم سے رکھا گیا بلکہ واپس مدینہ پہنچا دیا گیا -

بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں بیان کرتے ہیں کہ

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ، وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا، فَقَالَ أَنَسٌ: «كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالوَسْمَةِ»


عبید الله ابن زیاد کے پاس صحابی رسول انس بن مالک بھی موجود تھے اور حسین کا سر اک طشت میں رکھا گیا تو عبید الله ابن زیاد نے سوچ میں غرق ( زمین ) کریدتے ہوئے حسین کے حسن کے بارے میں کچھ کہا جس پر انس رضی اللہ تعالیٰ بولے کہ یہ رسول صلی الله علیہ وسلم کے مشابہ ہیں اور حسین نے بالوں کو خضاب دیا ہوا تھا


صحابی رسول انس بن مالک کی عبید الله ابن زیاد کے پاس موجودگی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ عبید الله ابن زیاد کا حسین کو قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا ورنہ وہ حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی تعریف بالکل نہ کرتا

اس واقعہ کے ١٠٠ سال بعد ابو مخنف لوط بن یحییٰ نے جو اپنے زمانے میں آگ لگانے والا شیعہ مشہور تھا اور اک قصہ گو تھا اس نے گھڑ کر مختلف قصے اس واقعہ سے متعلق مشھور کیے جن کو ذاکرین اب شام غریباں میں بیان کرتے ہیں جو نہایت عجیب اور محیر العقول ہیں مثلا حسین کا اک اک کر کے اپنے رشتہ داروں کو شہید ہونے بھیجنا – ان کے قتل کے وقت آسمان سے خون کی بارش ہونا – آسمان سے ھاتف غیبی کا پکارنا – قبر نبی سے سسکیوں اور رونے کی آواز آنا – حسین کے کٹے ہوۓ سر کا نوک نیزہ پر تلاوت سوره کہف کرنا – وغیرہ

رہی بات یزید بن معاویہ کی حدیث کی روایت کی تو یہ بھی غیر ضروری ہے کیونکہ یزید بن معاویہ نے کچھ روایت نہیں کیا – اور اصحاب رسول کی سینکڑوں اولادیں ہیں جنہوں نے کوئی روایت بیان ہی نہیں کی – لہذا یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو گا تو اس کو بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے

انہی اختلافات پر امّت میں پہلے سیاسی گروہ اور پھر مذہبی فرقے بنے ورنہ اس سے پہلے نہ عقائد کا اختلاف تھا نہ عمل میں کوئی بحث – آج ١٤٠٠ سال گذرنے کے باوجود ہم انہی مسئلوں میں الجھے ہوۓ ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا فائدہ نہیں
مشکل اھل حدیث کی یہ ہے ،کہ یزید کے وہ اشعار جس پر حضرت مجدد الف ثانی نے اسے فاسق و فاجر قرار دیا ہے،گول کر جاتے ہیں۔دسیوں احادیث زبان رسالت سے حسن و حسین کے فضیلت میں ہڑپ کرجاتے ہیں،حسین منی و انا من الحسین ،سیدا شباب اہل الجنۃ،امامان قاما او قعدا،انی تارک فیکم الثقلین،یہ سب بھول گئے اور یزید کے فتح قسطنطنیہ کو تابلو بنا کر اسے خوامخواہ جنت میں بھیجنے کا ضد ؟اور یہ کہ موروثی خلافت کی بنیاد معاویہ نے ہی رکھی،خلافت بنی ہاشم کا حق تھا نہ بنو امیہ کا۔پیغمبرص کے حدیث کو بھول گئے کیا،جس میں آپ ص نے فرمایا:اذا رایتم معاویہ علی منبری فاقتلوہ،جب میرے منبر پر معاویہ کو دیکھو تو اسے قتل کردو۔یا قرآن میں شجرہ خبیثہ اور ملعونہ سے مراد بنو امیہ ہیں،اگر حضرت ابوبکر رض کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنا خلیفہ خود انتخاب کرے تو ہم اہل سنت نے یہ حق پیغمبرص سے کیوں چھینا ہوا ہے؟؟؟آیہ اللہ عبدالحسین امینی شیعہ عالم دین نے کتاب لکھی ہے الغدیر کے نام سے۔اسے پڑھ کر میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچھے کا نیچے ہی رہ گیا کیونکہ 11جلد کتاب میں اس نے حضرت علی رض کو خلیفہ رسول وہ بھی بلا فصل ثابت کیا ھے ،کئی ہزار حوالوں سے اور سب کے سب ہمارے اپنے سنی کتابوں سے،ایک بھی رافضی حوالہ نہیں ہے اور رجال پر تہذیب الکمال مزی سے لے کر نیچے تک سب پر اتنی عبور کہ عقل دنگ رہ جاتی!وہاں پر اس نے یہ سوال اٹھایا ہے۔کہ اگر آپ حضرات حضرت ابوبکر کی وصیت مانتےہیں ،پیغمبرص کی کیوں نہیں؟اگر ہم آپکے ساتھ بیعت پر اتفاق کریں ابوبکر کو تسلیم کریں یہ عمربن خطاب کس قانون کے تحت بنا ؟نہ بیعت نہ شوری؟اگر یہ بھی تسلیم کریں عمر بن خطاب نے کس قانون کے تحت شوری بنائی؟ایا ان 6 اصحاب کے علاوہ دوسرے فاسق )معاذاللہ)تھے ؟اور ایک اور سوال:حدیث میں ہے کہ اگر نبی ہوتا تو میرے بعد عمر ہوتا!کیا بت پرست اسلام لانے کے بعد کبھی نبی بنا ہے؟کیا اس روایت کی رو سے ابوبکر نے عمر کے حق کو نہیں مارا؟حالانکہ زمین پر خلیفہ بنانے والا اللہ ہے نہ انسان۔انی جاعل فی الارض خلیفہ۔رب الجعلنی وزیرا من اہلی ھارون اخی۔۔۔بڑا گڑ بڑ سسٹم لگ رہا ہے!!!!فواداحمد بریلوی
 
شمولیت
دسمبر 10، 2013
پیغامات
389
ری ایکشن اسکور
142
پوائنٹ
91
فواد احمد بریلوی صاحب ، مرچ مصالحہ والی روایت سے شاید آ پ کی زیادہ بنتی ہے لیکن کبھی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت عقل بھی استعمال کرلیا کریں کہ
علی بن حسین رضہ کربلا کے چشمدید گواہ تھے وہ تو یزید کو اچھے الفاظ مین یاد کرتے تھے اور اس کی خیر خواہی کرتے تھے۔۔
انہوں نے کبھی یزید کو قتل حسین کا زمہ دار نہیں ٹھرایا۔
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
فواد احمد بریلوی صاحب ، مرچ مصالحہ والی روایت سے شاید آ پ کی زیادہ بنتی ہے لیکن کبھی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت عقل بھی استعمال کرلیا کریں کہ
علی بن حسین رضہ کربلا کے چشمدید گواہ تھے وہ تو یزید کو اچھے الفاظ مین یاد کرتے تھے اور اس کی خیر خواہی کرتے تھے۔۔
انہوں نے کبھی یزید کو قتل حسین کا زمہ دار نہیں ٹھرایا۔
عقل کے مخالف تو تم لوگ ہو،اصلا آپکا پہلا نام اشاعرہ تھا ،پھر اہل حدیث بن گیا،اور معتزلہ کے مقابلے میں آپکا مذہب بن گیا،رہی بات علی ابن الحسین کی وہ آخری عمرتک ہر نماز کے بعد یزید اور بنو امیہ پر لعنت بھیجتا تھا،پتہ نہیں غیر مقلدین کے پاس وحی کا سلسلہ کب سے شروع ہوگیا،
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
فواد احمد بریلوی صاحب ، مرچ مصالحہ والی روایت سے شاید آ پ کی زیادہ بنتی ہے لیکن کبھی اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت عقل بھی استعمال کرلیا کریں کہ
علی بن حسین رضہ کربلا کے چشمدید گواہ تھے وہ تو یزید کو اچھے الفاظ مین یاد کرتے تھے اور اس کی خیر خواہی کرتے تھے۔۔
انہوں نے کبھی یزید کو قتل حسین کا زمہ دار نہیں ٹھرایا۔
یزید کو پلید لکھنا اور کہنا جائز ہے
سوال: یزید کی نسبت لفظ یزید پلید کا لکھنا یا کہنا ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ یزید کی نسبت لفظ رحمتہ اﷲ علیہ کہنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔
(فتاویٰ رضویہ جدید جلد 14ص 603‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
[QUOTE="فواداحمد, post: 230334, member: 4969"]
اسے پڑھ کر یزید والے اپنی قیامت خراب نہ کریں پلیز حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں -


ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ

عن الحارث عن علي قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي ما داما حيين


علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے جنتیوں کے كهول کے سردار ہوں گے، اور فرمایا اے علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا


دین کوئی ایسی بات نہیں جو نبی علیہ السلام نے چھپائی ہو یا اس کو ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہو لیکن اس کے باوجود

اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں

روایت میں «كہول» کا لفظ ہے جو جمع ہے «كہل» کی- «كہل» سے مراد وہ مرد ہوتے ہیں جن کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک- تاریخ کے مطابق حسن کی پیدائش ٣ ہجری اور وفات ٥٠ ہجری میں ہوئی اور حسین کی پیدائش ٤ ہجری اور شہادت ٦١ ہجری میں ہوئی -

حسین رضی الله عنہ کی شہادت کے وقت ٥٧ سال عمر تھی اور حسن رضی الله عنہ کی ٤٧ سال تھی لہذا دونوں اس کھول کی تعریف پر پورا اترتے ہیں- لہذا ابو بکر ہوں یا عمر یا حسن یا حسین سب کھول بن کر اس دنیا سے گئے –

حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ کی سند

ایک دوسری روایت ہے

أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس روایت کو ترمذی نے بھی عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل کیا ہے اور وہ کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ


یہ حدیث حسن غریب ہے اس طرق سے اس کو ہم نہیں جانتے سوائے اسرئیل کی سند سے

سند میں إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ بن أبى إسحاق السبيعى الهمدانى ہے

مسند احمد میں یہ إِسْرَائِيلُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل ہوئی ہے

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَرَوَى: عَبَّاسٌ، عَنْ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: كَانَ القَطَّانُ لاَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْرَائِيْلَ، وَلاَ عَنْ شَرِيْكٍ.


عبّاس کہتے ہیں کہ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ کہتے ہیں کہ یحیی القَطَّانُ اسرائیل اور شریک سے روایت نہیں کرتے تھے


احمد کہتے ہیں یہ مناکیر روایت کرتے ہیں

إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ صحیحین کے راوی ہیں لیکن ان کی ظاہر ہے بعض مناکیر نقل نہیں کی گئیں- سند میں المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو بھی ہے جو روایت کرتا تھا کہ معاویہ نے سنت کو بدلا اور علی صدیق اکبر ہیں لہذا ایسے مفرط شیعوں کی روایت کس طرح قابل قبول ہے؟

روایت کی ایک تاویل کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے وہ لوگ جو جوانی میں ہلاک ہوئے ان کے سردار حسنین ہوں گے

لیکن حدیث کے الفاظ اس مفروضے کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں ہے کہ اہل جنت کے جوانوں کے سردار حسنین ہوں گے

یہ مفروضہ اس لئے گھڑا گیا کیونکہ دیگر صحیح روایات کے مطابق جنت میں سب ہی جوان ہوں گے جن میں انبیاء و رسل

بھی شامل ہیں اس حساب سے زیر بحث روایت حسنین کو انبیاء و رسل کا سردار بھی بنا دیتی ہے جو اہل جنت میں سے ہیں

أَبِي سَعِيدٍ رضی الله عنہ کی سند

یہ روایت ایک اور سند سے بھی ترمذی اور مسند احمد میں آئی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس کی سند میں عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ہیں جن کے لئے میزان میں الذھبی لکھتے ہیں كوفي، تابعي مشهور ہیں

وقال أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين، قال: ابن أبي نعم ضعيف، كذا

نقل ابن القطان، وهذا لم يتابعه عليه أحد.


ابن معین، ابن القطان ان کو ضعیف کہتے ہیں

عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي صحیحین کے راوی ہیں لیکن یہ مخصوص روایت صحیح میں نہیں دوم ان سے سنے والے يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ہیں جو کوفہ کے کٹر شیعہ ہیں

أبي هُرَيْرَة رضی الله عنہ کی سند

نسائی نے یہ روایت کتاب خصائص علی میں أبي هُرَيْرَة کی سند سے نقل کی ہے

أخبرنَا مُحَمَّد بن مَنْصُور قَالَ حَدثنَا الزبيرِي مُحَمَّد بن عبد الله قَالَ حَدثنَا أَبُو جَعْفَر واسْمه مُحَمَّد بن مَرْوَان قَالَ حَدثنِي أَبُو حَازِم عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ أَبْطَأَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَنَّا يَوْم صدر النَّهَار فَلَمَّا كَانَ العشى قَالَ لَهُ قائلنا يَا رَسُول الله قد شقّ علينا لم نرك الْيَوْم قَالَ إِن ملكا من السَّمَاء لم يكن رَآنِي فَأَسْتَأْذِن الله فِي زيارتي فَأَخْبرنِي أَو بشرني أَن فَاطِمَة ابْنَتي سيدة نسَاء أمتِي وَإِن حسنا وَحسَيْنا سيدا شباب أهل الْجنَّة


محمد بن مروان الذهلى ، أبو جعفر الكوفى مجھول ہے جس کا کسی نے ذکر نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کی سند

ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا”


حسن و حسین اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کے باپ ان سے بہتر ہیں


ضعفاء العقيلي کے مطابق

قال أَبُو داود : سمعت يحيى بْن مَعِين: وسئل عن المعلى ابن عَبْد الرحمن – فقال: أحسن أحواله عندي أنه قيل لَهُ عند موته: ألا تستغفر اللَّهِ. فقال: ألا أرجو أن يغفر لي وقد وضعت فِي فضل علي بْن أَبي طالب سبعين حديثا

ابو داود کہتے ہیں میں نے يحيى بْن مَعِين سے سنا اور ان سے المعلى ابن عَبْد الرحمن کے حوالے سے سوال کیا انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حال احسن ہے ان کی موت کے وقت ان سے کہا گیا کہ آپ الله سے توبہ کریں پس کہا بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میری مغفرت ہو گی اور میں نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں ٧٠ حدیث گھڑیں


البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں اور امام حاکم مستدرک میں اس کو اسی سند سے نقل کرتے ہیں

چونکہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں لہذا یہ روایت امام ترمذی کے حساب سے حسن ہے – اس کو منقبت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کا متن جلیل القدر اصحاب رسول کو بھی حسن و حسین کی سرداری قبول کروا رہا ہے حالانکہ خود ان اصحاب رسول نے اپنی زندگی میں حسین کی بغاوت کو قبول نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کا موقف خروج حسین پرامام بخاری بیان کرتے ہیں کہ

باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے


عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»


نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا


جو اصحاب رسول زندگی میں حسین کو سردار نہیں مان رہے وہ ان کو اہل جنت کا سردار کہیں نہایت عجیب بات ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ روایت مشکوک ہے

واضح رہے کہ بحث اس پر ہے ہی نہیں کہ حسنین اہل بہشت میں سے ہیں یا نہیں- بحث اس مسئلہ پر ہے کہ کیا جنت میں بھی اس دنیا کی طرح کا کوئی نظام ہے جس میں سردار یا غیر سردار کی تقسیم ہو گی

قرآن جو نقشہ کھینچتا ہے اس میں تو سب جنتی سرداروں کی طرح مسندوں پر ہوں گے

گروہ بندی اور سرداری تو دنیا کی سیاست کے معاملات ہیں جن میں ایک گروہ کسی سردار پر متفق ہوتا ہے اور

اس کی سربراہی میں کام کرتا ہے جبکہ جنت تو کسی بھی سیاست سے پاک ہو گی اوراس طرح کی گروہ بندی یا سرداری کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا اب

چونکہ یہ کہنا ہی صحیح نہیں لہذا یہ ایک مہمل بات بنتی ہے جو حدیث رسول نہیں ہو سکتی

ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں

ارقبوا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم في أھل بیتہ


محمد صلی الله علیہ وسلم کے اہلِ بیت (سے محبت) میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی محبت تلاش کرو۔


صحیح البخاری

لیکن محبت میں غلو سب کے لئے منع ہے اور اس میں احتیاط ضروری ہے
[/QUOTE]
کتنا کمزور استدلال کرتے ہو وہ بھی روایت متواتر کے مقابلے میں جن سے بڑے بڑے محدثین نے انکار نہیں کیا۔اسکے علاوہ جنت میں بھی سرداری کا سسٹم ہوگا کیونکہ سیدا کھول اھل الجنۃ والی روایت کے بارے میں کیا کہیں گے؟تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض وغیرہ۔۔۔۔۔پلیز سنی بنو ناصبی نہیں ہم اس طرح نہیں ہیں۔
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
[QUOTE="فواداحمد, post: 230334, member: 4969"]
اسے پڑھ کر یزید والے اپنی قیامت خراب نہ کریں پلیز حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں -


ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ

عن الحارث عن علي قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي ما داما حيين


علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے جنتیوں کے كهول کے سردار ہوں گے، اور فرمایا اے علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا


دین کوئی ایسی بات نہیں جو نبی علیہ السلام نے چھپائی ہو یا اس کو ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہو لیکن اس کے باوجود

اس روایت کو البانی صحیح کہتے ہیں

روایت میں «كہول» کا لفظ ہے جو جمع ہے «كہل» کی- «كہل» سے مراد وہ مرد ہوتے ہیں جن کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک- تاریخ کے مطابق حسن کی پیدائش ٣ ہجری اور وفات ٥٠ ہجری میں ہوئی اور حسین کی پیدائش ٤ ہجری اور شہادت ٦١ ہجری میں ہوئی -

حسین رضی الله عنہ کی شہادت کے وقت ٥٧ سال عمر تھی اور حسن رضی الله عنہ کی ٤٧ سال تھی لہذا دونوں اس کھول کی تعریف پر پورا اترتے ہیں- لہذا ابو بکر ہوں یا عمر یا حسن یا حسین سب کھول بن کر اس دنیا سے گئے –

حُذَيْفَةَ رضی الله عنہ کی سند

ایک دوسری روایت ہے

أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس روایت کو ترمذی نے بھی عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل کیا ہے اور وہ کہتے ہیں

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ


یہ حدیث حسن غریب ہے اس طرق سے اس کو ہم نہیں جانتے سوائے اسرئیل کی سند سے

سند میں إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ بن أبى إسحاق السبيعى الهمدانى ہے

مسند احمد میں یہ إِسْرَائِيلُ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ کی سند سے نقل ہوئی ہے

الذھبی سیر الاعلام میں لکھتے ہیں

وَرَوَى: عَبَّاسٌ، عَنْ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: كَانَ القَطَّانُ لاَ يُحَدِّثُ عَنْ إِسْرَائِيْلَ، وَلاَ عَنْ شَرِيْكٍ.


عبّاس کہتے ہیں کہ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ کہتے ہیں کہ یحیی القَطَّانُ اسرائیل اور شریک سے روایت نہیں کرتے تھے


احمد کہتے ہیں یہ مناکیر روایت کرتے ہیں

إِسْرَائِيلَ بْنُ يُونُسَ صحیحین کے راوی ہیں لیکن ان کی ظاہر ہے بعض مناکیر نقل نہیں کی گئیں- سند میں المِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو بھی ہے جو روایت کرتا تھا کہ معاویہ نے سنت کو بدلا اور علی صدیق اکبر ہیں لہذا ایسے مفرط شیعوں کی روایت کس طرح قابل قبول ہے؟

روایت کی ایک تاویل کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے وہ لوگ جو جوانی میں ہلاک ہوئے ان کے سردار حسنین ہوں گے

لیکن حدیث کے الفاظ اس مفروضے کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں ہے کہ اہل جنت کے جوانوں کے سردار حسنین ہوں گے

یہ مفروضہ اس لئے گھڑا گیا کیونکہ دیگر صحیح روایات کے مطابق جنت میں سب ہی جوان ہوں گے جن میں انبیاء و رسل

بھی شامل ہیں اس حساب سے زیر بحث روایت حسنین کو انبیاء و رسل کا سردار بھی بنا دیتی ہے جو اہل جنت میں سے ہیں

أَبِي سَعِيدٍ رضی الله عنہ کی سند

یہ روایت ایک اور سند سے بھی ترمذی اور مسند احمد میں آئی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ


اس کی سند میں عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ہیں جن کے لئے میزان میں الذھبی لکھتے ہیں كوفي، تابعي مشهور ہیں

وقال أحمد بن أبي خيثمة، عن ابن معين، قال: ابن أبي نعم ضعيف، كذا

نقل ابن القطان، وهذا لم يتابعه عليه أحد.


ابن معین، ابن القطان ان کو ضعیف کہتے ہیں

عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي صحیحین کے راوی ہیں لیکن یہ مخصوص روایت صحیح میں نہیں دوم ان سے سنے والے يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ہیں جو کوفہ کے کٹر شیعہ ہیں

أبي هُرَيْرَة رضی الله عنہ کی سند

نسائی نے یہ روایت کتاب خصائص علی میں أبي هُرَيْرَة کی سند سے نقل کی ہے

أخبرنَا مُحَمَّد بن مَنْصُور قَالَ حَدثنَا الزبيرِي مُحَمَّد بن عبد الله قَالَ حَدثنَا أَبُو جَعْفَر واسْمه مُحَمَّد بن مَرْوَان قَالَ حَدثنِي أَبُو حَازِم عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ أَبْطَأَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَنَّا يَوْم صدر النَّهَار فَلَمَّا كَانَ العشى قَالَ لَهُ قائلنا يَا رَسُول الله قد شقّ علينا لم نرك الْيَوْم قَالَ إِن ملكا من السَّمَاء لم يكن رَآنِي فَأَسْتَأْذِن الله فِي زيارتي فَأَخْبرنِي أَو بشرني أَن فَاطِمَة ابْنَتي سيدة نسَاء أمتِي وَإِن حسنا وَحسَيْنا سيدا شباب أهل الْجنَّة


محمد بن مروان الذهلى ، أبو جعفر الكوفى مجھول ہے جس کا کسی نے ذکر نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کی سند

ابن ماجہ کی روایت ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا”


حسن و حسین اہل جنت کے سردار ہیں اور ان کے باپ ان سے بہتر ہیں


ضعفاء العقيلي کے مطابق

قال أَبُو داود : سمعت يحيى بْن مَعِين: وسئل عن المعلى ابن عَبْد الرحمن – فقال: أحسن أحواله عندي أنه قيل لَهُ عند موته: ألا تستغفر اللَّهِ. فقال: ألا أرجو أن يغفر لي وقد وضعت فِي فضل علي بْن أَبي طالب سبعين حديثا

ابو داود کہتے ہیں میں نے يحيى بْن مَعِين سے سنا اور ان سے المعلى ابن عَبْد الرحمن کے حوالے سے سوال کیا انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک اس کا حال احسن ہے ان کی موت کے وقت ان سے کہا گیا کہ آپ الله سے توبہ کریں پس کہا بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میری مغفرت ہو گی اور میں نے علی بن ابی طالب کی فضیلت میں ٧٠ حدیث گھڑیں


البانی اس روایت کو صحیح کہتے ہیں اور امام حاکم مستدرک میں اس کو اسی سند سے نقل کرتے ہیں

چونکہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں لہذا یہ روایت امام ترمذی کے حساب سے حسن ہے – اس کو منقبت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اس کا متن جلیل القدر اصحاب رسول کو بھی حسن و حسین کی سرداری قبول کروا رہا ہے حالانکہ خود ان اصحاب رسول نے اپنی زندگی میں حسین کی بغاوت کو قبول نہیں کیا

ابن عمر رضی الله عنہ کا موقف خروج حسین پرامام بخاری بیان کرتے ہیں کہ

باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ

نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن اک جھنڈا گا ڑھا جائے گا – اور بے شک میں نے اس آدمی کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتبا ع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے


عبد الله ابن عمر رضی الله عنہ کی رائے یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کے لئے کتنی سخت ہے مسلم بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر کی حدیث ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ، أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»


نافع کہتے ہیں عبد الله ابن عمر عبد الله بن نِ مُطِيعٍ کے پاس گئے جب حرہ میں ہوا جو ہوا یزید بن معاویہ کے دور میں اس نے کہا ابی عبد الرحمان اور ان کے سرداروں کے لئے ہٹاؤ عبد الله ابن عمر نے کہا میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا تم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو رسول الله سے سنی کہ جو اطاعت میں سے ایک ہاتھ نکلا اس کی الله سے ایسے ملاقات ہو گی کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو مرا کہ اس کی گردن پر اطاعت کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کو موت مرا


جو اصحاب رسول زندگی میں حسین کو سردار نہیں مان رہے وہ ان کو اہل جنت کا سردار کہیں نہایت عجیب بات ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ یہ روایت مشکوک ہے

واضح رہے کہ بحث اس پر ہے ہی نہیں کہ حسنین اہل بہشت میں سے ہیں یا نہیں- بحث اس مسئلہ پر ہے کہ کیا جنت میں بھی اس دنیا کی طرح کا کوئی نظام ہے جس میں سردار یا غیر سردار کی تقسیم ہو گی

قرآن جو نقشہ کھینچتا ہے اس میں تو سب جنتی سرداروں کی طرح مسندوں پر ہوں گے

گروہ بندی اور سرداری تو دنیا کی سیاست کے معاملات ہیں جن میں ایک گروہ کسی سردار پر متفق ہوتا ہے اور

اس کی سربراہی میں کام کرتا ہے جبکہ جنت تو کسی بھی سیاست سے پاک ہو گی اوراس طرح کی گروہ بندی یا سرداری کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا اب

چونکہ یہ کہنا ہی صحیح نہیں لہذا یہ ایک مہمل بات بنتی ہے جو حدیث رسول نہیں ہو سکتی

ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں

ارقبوا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم في أھل بیتہ


محمد صلی الله علیہ وسلم کے اہلِ بیت (سے محبت) میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی محبت تلاش کرو۔


صحیح البخاری

لیکن محبت میں غلو سب کے لئے منع ہے اور اس میں احتیاط ضروری ہے
[/QUOTE]
کیا جنت میں بوڑھے بھی جائیں گے؟
 
Top