• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید بن معاویہ کے متعلق ابو عمر بھائی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
نبی اکرم:انبیاء و اولاد صالح انبیاء کا قاتل صرف حرامزاہ ہی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔،آگے یزید اور اسکے اباء و اجداد کی ھسٹری چیک کریں۔
اگر قاتل حسین ، یزید بن معاویہ رضی الله عنہ ہے تو امام زین العابدین نے بددعا اہل کوفہ کو کیوں دی تھی؟؟ "کہ تم ہی میرے والد اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو اور اسی طرح قیامت تک اپنے آپ کو پیٹتے رہو گے" - (بحوالہ- جلاالعیون از ملّا باقر مجلسی)

اب آپ بتائیں کہ: امام زین العابدین کی اس بد دعا کے مصادق آج اہل بدعت یعنی اہل کوفہ کے رافضی ہیں یا پھر بنو امیّہ کی آل اولاد یعنی امیر معاویہ اور یزید کی آل اولاد ہیں؟؟
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
تمہارے صالح لوگوں کی قتل کر کے بہت اچھا کیا ۔ اب اپنے لوگو ں کے مرنے کی تٍفصیل ملاخط کرو
حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ

کی تاریخ ساز اصلاحات وفتوحات

* · اسلامی بحری بيڑے کا قیام۔
* · بڑے بڑے اخلاقی مجرموں کے لئے خصوصی پولیس(سی ۔آئی۔ اے سٹاف) کی بنیاد۔
* · دس بڑ ی بڑی سلطنتوں کے 5400علاقوں پر اسلامی پرچم لہرایاگیا۔
* · عرب میں زراعت کو فروغ دے کر بڑی بڑی نہروں اور بندوں کا قیام۔
* · محکمہ رجسٹرار او نقول کا قیام۔
* · جہازسازی کے کارخانے۔
* · دنیا کا سب سے بڑا شہر ”قیساريہ“ جس کے 300 بازار تھے اور جس کی حفاظتی پولیس کی تعداد ايک لاکھ تھی، اس پر اسلامی حکومت قائم کی گئی ۔
* · خانہ کعبہ پر سب سے پہلے دیبا اور حریر کا غلاف چڑھایا گیا۔
* · احادیث جمع کرنے اور دینی شعائر کے تحفظ کےلئے باقدہ محکمہ کا اجرا
* · شکایات سیل کا قیام
* · سرمائی اور گرمائی افواج کی تشکیل
* · حفاظتی قلعوں کی تعمیر
* · بری اوربحری فوج کی بنیاد
* · پارلیمنٹ کا قیام

جرنیل اسلام حضرت سیدنا امیر معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے

تابناک جہادی کارنامے ايک نظر میں

·جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا
19ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے روم کا مشہور شہر قیساريہ فتح کیا۔
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ نے چار سال شام کے گورنر رہے اور روم کی سرحدوں پر جہاد کرتے ہوئے بہت سارے شہر فتح کےے۔
25ھ میں روم سے جاری جہاد میں عموريہ جا پہنچے اور راستے میں فوجی مراکز قائم کئے۔
25ھ میں قبرص پر لشکر کشی کی اور مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے بحری بیڑہ تیار کروایا اور پہلی بار بحری جنگ کا واقعہ پیش آیا۔
28ھ میں قبرص کا عظیم الشان جزیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں فتح ہو گیا اور وہاں کے کافروں پر آپ رضی اﷲ عنہ نے جزیہ عائد کیا۔
32ھ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ نے قسطنطنیہ کے قریبی علاقوں میں جہاد جاری رکھا۔
35ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں غزوہ ذی خشب پیش آیا۔
42ھ میں غزوہ بحستان پیش آیا اور آپ رضی اﷲ عنہ ہی کے دور خلافت میں سندھ کا کچھ حصہ بھی مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔
42ھ میں کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قدابیل کے مقام تک پہنچ گئے۔
43ھ میں ملک سوڈان فتح ہوا اور بحستان کا مزید علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔
45ھ میں افریقہ پر لشکر کشی کی گئی اور ايک بڑا حصہ مسلمانوں کے زیرنگیں آیا۔
46ھ میں صقلیہ(سسلی)پر پہلی بار حملہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔
47ھ میں افریقہ کے مزید علاقوں میں جہادجاری رکھا۔
49ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے قسطنطنیہ کی طرف زبردست اسلامی لشکر روانہ فرمایا، جو مسلمانوں کا قسطنطنیہ پر پہلا حملہ تھا۔
50ھ میں قبستان جنگ کے بعد قبضہ میں آیا۔
54ھ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں مسلمان دریائے جیجون کو عبور کرتے ہوئے بخارا تک جا پہنچے۔
56ھ میں غزوہ سمر قند پیش آیا۔

سیدنا معاويہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے خلاف سولہ جنگیں لڑی حتی کہ آخری وصیت بھی ےہی تھی کہ ”روم کا گلا گھونٹ دو
یہ کام بش اور اوباما نے بھی کئے پھر تو وہ بھی جنت میں جائیں گے،اگر زیادہ قبضہ جنت کا باعث ہے تو اسرائیلی تمام صدور بھی جنتی ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ اسرائیلی صدور کی مائیں زنا چھپ کرکرتی تھیں اور معاویہ کی ماں گھر پر جھنڈا گاڑ کر لوگوں کو بلاتی تھی،اور ہمارے پاس مصدقہ روایات ہیں جس میں معاویہ کے چار باپ کے ولد یعنی ولد الزنا ہونے کا واضح شارہ ہے۔تم لوگ دشمنی رسول و آل رسول ص میں اندھے ھو چکے اور علاج تمھارا صرف اور صرف جحیم ہے،
 

فواداحمد

مبتدی
شمولیت
جولائی 15، 2015
پیغامات
18
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
اگر قاتل حسین ، یزید بن معاویہ رضی الله عنہ ہے تو امام زین العابدین نے بددعا اہل کوفہ کو کیوں دی تھی؟؟ "کہ تم ہی میرے والد اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو اور اسی طرح قیامت تک اپنے آپ کو پیٹتے رہو گے" - (بحوالہ- جلاالعیون از ملّا باقر مجلسی)

اب آپ بتائیں کہ: امام زین العابدین کی اس بد دعا کے مصادق آج اہل بدعت یعنی اہل کوفہ کے رافضی ہیں یا پھر بنو امیّہ کی آل اولاد یعنی امیر معاویہ اور یزید کی آل اولاد ہیں؟؟
کوفیوں نے پہلے تین خلفاء کی بھی بیعت کی تھی ،پس کیا ہوئے؟؟؟رافضی یا عثمانی؟؟؟
 
شمولیت
دسمبر 10، 2013
پیغامات
389
ری ایکشن اسکور
142
پوائنٹ
91
یزید ولدالزنا تھا تھا اور اسکو امیرالمومنین کہنے والے بھی اپنی ڈی این اے کروائیں۔
افسوس کی بات ہے کہ متعہ کی اولاد اب شرفاء کو گالیاں دینا اپنا حق سمجھتی ہے۔۔۔۔۔۔ آپ پہلے گھر جا کر تسلی کرلو یقین جانو کہ تم متعہ کی ہی اولاد ہو کم سے 10 آدمیوں کے متعہ کا رزلٹ ہو یقین کرو۔۔۔۔۔۔ تم شریف کہیں سے لگتے ہیں نہیں۔۔

میرہ فورم ہوتا تو تمہیں کب کا بین کردیا ہوتا یہ فورم عزت دار لوگوں کے لئے ہے لیکن اس فورم کی انتظامیہ کا بڑہ پن پے کہ تم جیسے ابھی تک اس فورم پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@ابو حمزہ بھائی ! ان شاء اللہ اس کو جلد ی پٹا باندھ دیا جائے گا!
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
یزید ولدالزنا تھا تھا اور اسکو امیرالمومنین کہنے والے بھی اپنی ڈی این اے کروائیں۔
امام أحمد بن يحيى، البَلَاذُري (المتوفى 279)اپنے استاذ امام مدائنی سے نقل کرتے ہیں:
الْمَدَائِنِيّ عَنْ عبد الرحمن بْن مُعَاوِيَة قَالَ، قَالَ عامر بْن مسعود الجمحي: إنا لبمكة إذ مر بنا بريد ينعى مُعَاوِيَة، فنهضنا إلى ابن عباس وهو بمكة وعنده جماعة وقد وضعت المائدة ولم يؤت بالطعام فقلنا له: يا أبا العباس، جاء البريد بموت معاوية فوجم طويلًا ثم قَالَ: اللَّهم أوسع لِمُعَاوِيَةَ، أما واللَّه ما كان مثل من قبله ولا يأتي بعده مثله وإن ابنه يزيد لمن صالحي أهله فالزموا مجالسكم وأعطوا طاعتكم وبيعتكم، هات طعامك يا غلام، قَالَ: فبينا نحن كذلك إذ جاء رسول خالد بْن العاص وهو على مَكَّة يدعوه للبيعة فَقَالَ: قل له اقض حاجتك فيما بينك وبين من حضرك فإذا أمسينا جئتك، فرجع الرسول فَقَالَ: لا بدّ من حضورك فمضى فبايع.[أنساب الأشراف للبلاذري: 5/ 290 واسنادہ حسن لذاتہ]۔
عامربن مسعودرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ میں تھے کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبردیتے والا ہمارے پاس سے گذرا تو ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پہونچے وہ بھی مکہ ہی میں تھے ، وہ کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اوردسترخوان لگایا جاچکاتھا لیکن ابھی کھانا نہیں آیاتھا ، تو ہم نے ان سے کہا: اے ابوالعباس ! ایک قاصد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبرلایا ہے ، یہ سن کر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کچھ دیرتک خاموش رہے پھرفرمایا: اے اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ پراپنی رحمت وسیع فرما، یقینا آپ ان لوگوں کے مثل تو نہ تھے جو آپ سے پہلے گذرچکے لیکن آپ کے بعدبھی آپ جیساکوئی نہ دیکھنے کوملے گا اورآپ کے صاحبزادے یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ آپ کے خاندان کے نیک وصالح ترین شخص ہیں،اس لئے اے لوگو! اپنی اپنی جگہوں پر رہو اوران کی مکمل اطاعت کرکے ان کی بیعت کرلو ، (اس کے بعد غلام سے کہا) اے غلام کھانا لیکرآؤ ، عامربن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اسی حالت میں تھے کہ خالد بن العاص المخزومی رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا وہ اس وقت مکہ کے عامل تھے ، اس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بیعت کے لئے بلایا ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سے کہہ دو کہ پہلے دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنا کام ختم کرلے اورشام ہوگی توہم اس کے پاس آجائیں گے ، (یہ سن کرقاصد چلاگیا ) اور پھرواپس آیا اورکہا ، آپ کا حاضرہونا ضروی ہے ، پھر آپ گئے اور(یزیدکی) بیعت کرلی۔
امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے امام مدائنى کی روایت مع سند نقل کرتے ہوئے کہا:
وقد رواه أبو الحسن على بن محمد بن عبد الله بن أبى سيف المدائنى عن صخر بن جويرية عن نافع ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولما رجع أهل المدينة من عند يزيد مشى عبد الله بن مطيع وأصحابه إلى محمد بن الحنفية فأرادوه على خلع يزيد فأبى عليهم فقال ابن مطيع إن يزيد يشرب الخمر ويترك الصلاة ويتعدى حكم الكتاب فقال لهم ما رأيت منه ما تذكرون وقد حضرته وأقمت عنده فرأيته مواضبا على الصلاة متحريا للخير يسأل عن الفقه ملازما للسنة قالوا فان ذلك كان منه تصنعا لك فقال وما الذى خاف منى أو رجا حتى يظهر إلى الخشوع أفأطلعكم على ما تذكرون من شرب الخمر فلئن كان أطلعكم على ذلك إنكم لشركاؤه وإن لم يطلعكم فما يحل لكم أن تشهدوا بما لم تعلموا قالوا إنه عندنا لحق وإن لم يكن رأيناه فقال لهم أبى الله ذلك على أهل الشهادة فقال : ’’ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ‘‘ ولست من أمركم فى شىء قالوا فلعلك تكره أن يتولى الأمر غيرك فنحن نوليك أمرنا قال ما أستحل القتال على ما تريدوننى عليه تابعا ولا متبوعا قالوا فقد قاتلت مع أبيك قال جيئونى بمثل أبى أقاتل على مثل ما قاتل عليه فقالوا فمر ابنيك أبا القاسم والقاسم بالقتال معنا قال لو أمرتهما قاتلت قالوا فقم معنا مقاما تحض الناس فيه على القتال قال سبحان الله آمر الناس بما لا أفعله ولا أرضاه إذا ما نصحت لله فى عباده قالوا إذا نكرهك قال إذا آمر الناس بتقوى الله ولا يرضون المخلوق بسخط الخالق [البداية والنهاية: 8/ 233]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو مع سند نقل کرتے ہوئے کہا:
وَزَادَ فِيهِ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ: فَمَشَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ وَأَصْحَابُهُ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فَأَرَادُوهُ عَلَى خَلْعِ يَزِيدَ، فَأَبَى، وَقَالَ ابْنُ مُطِيعٍ: إِنَّ يَزِيدَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَيَتْرُكُ الصَّلاةَ، وَيَتَعَدَّى حُكْمَ الْكِتَابِ، قَالَ:
مَا رَأَيْتُ مِنْهُ مَا تَذْكُرُونَ، وَقَدْ أَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَرَأَيْتُهُ مُوَاظِبًا لِلصَّلاةِ، مُتَحَرِيًّا لِلْخَيْرِ، يَسْأَلُ عَنِ الْفِقْهِ۔۔۔۔۔[تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 5/ 274]۔


جب اہل مدینہ کے یزید کے پاس سے واپس آئے تو عبداللہ بن مطیع اوران کے ساتھی محمدبن حنفیہ کے پاس آئے اوریہ خواہش ظاہر کی کہ وہ یزید کی بیعت توڑدیں لیکن محمدبن حنفیہ نے ان کی اس بات سے انکار کردیا ، تو عبداللہ بن مطیع نے کہا: یزیدشراب پیتاہے ، نماز چھوڑتاہے کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ میں نے تو اس کے اندر ایسا کچھ نہیں دیکھا جیساتم کہہ رہے ہو ، جبکہ میں اس کے پاس جاچکاہوں اوراس کے ساتھ قیام کرچکاہوں ، اس دوران میں نے تو اسے نماز کا پابند، خیرکا متلاشی ، علم دین کاطالب ، اورسنت کا ہمیشہ پاسدار پایا ۔ تولوگوں نے کہاکہ یزید ایسا آپ کو دکھانے کے لئے کررہاتھا ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اسے مجھ سے کیا خوف تھا یا مجھ سے کیا چاہتاتھا کہ اسے میرے سامنے نیکی ظاہرکرنے کی ضرورت پیش آتی؟؟ کیا تم لوگ شراب پینے کی جوبات کرتے ہو اس بات سے خود یزید نے تمہیں آگاہ کیا ؟ اگرایسا ہے تو تم سب بھی اس کے گناہ میں شریک ہو ، اوراگر خود یزید نے تمہیں یہ سب نہیں بتایا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں کی ایسی بات کی گواہی دو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ۔ لوگوں نے کہا: یہ بات ہمارے نزدیک سچ ہے گرچہ ہم نے نہیں دیکھا ہے ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اللہ تعالی نے اس طرح گواہی دینے کوتسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ’’جو حق بات کی گواہی دیں اورانہیں اس کا علم بھی ہو‘‘ ، لہذا میں تمہاری ان سرگرمیوں میں کوئی شرکت نہیں کرسکتا ، تو انہوں نے کہا کہ شاید آپ یہ ناپسندکرتے ہیں کہ آپ کے علاوہ کوئی اورامیر بن جائے توہم آپ ہی کو اپنا امیربناتے ہیں ، تو محمدبن حنفہ نے کہا: تم جس چیز پرقتال کررہے ہو میں تو اس کوسرے سے جائز نہیں سمجھتا: مجھے کسی کے پیچھے لگنے یا لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے ، لوگوں نے کہا: آپ تو اپنے والد کے ساتھ لڑائی لڑچکے ہیں؟ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ پھر میرے والد جیسا شخص اورانہوں نے جن کے ساتھ جنگ کی ہے ایسے لوگ لیکر تو آؤ ! وہ کہنے لگے آپ اپنے صاحبزادوں قاسم اور اورابوالقاسم ہی کو ہمارے ساتھ لڑائی کی اجازت دے دیں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: میں اگران کا اس طرح کا حکم دوں تو خود نہ تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں ۔ لوگوں نے کہا : اچھا آپ صرف ہمارے ساتھ چل کرلوگوں کو لڑالی پر تیار کریں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: سبحان اللہ ! جس کو میں خود ناپسندکرتاہوں اوراس سے مجتنب ہوں ، لوگوں کو اس کا حکم کیسے دوں ؟ اگر میں ایسا کروں تو میں اللہ کے معاملوں میں اس کے بندوں کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہوں ۔ وہ کہنے لگے پھر ہم آپ کو مجبورکریں گے ، محمدبن حنفیہ نے کہا میں اس وقت بھی لوگوں سے یہی کہوں گا کہ اللہ سے ڈرو اورمخلوق کی رضا کے لئے خالق کوناراض نہ کرو۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
یہ کام بش اور اوباما نے بھی کئے پھر تو وہ بھی جنت میں جائیں گے،اگر زیادہ قبضہ جنت کا باعث ہے تو اسرائیلی تمام صدور بھی جنتی ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ اسرائیلی صدور کی مائیں زنا چھپ کرکرتی تھیں اور معاویہ کی ماں گھر پر جھنڈا گاڑ کر لوگوں کو بلاتی تھی،اور ہمارے پاس مصدقہ روایات ہیں جس میں معاویہ کے چار باپ کے ولد یعنی ولد الزنا ہونے کا واضح شارہ ہے۔تم لوگ دشمنی رسول و آل رسول ص میں اندھے ھو چکے اور علاج تمھارا صرف اور صرف جحیم ہے،
جہاد اورمجاہدین فی سبیل اللہ کے فضائل کے بیان میں

اس باب میں کئی فصلیں ہیں [ابتداء میں اس باب کی مناسبت سے کچھ قرآنی آیات ملاحظہ فرمائیے]
اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے۔
(۱) [ARABIC]لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا دَرَجَاتٍ مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ۔[/ARABIC] (النساء۔۹۵۔۹۶)

جو مسلمان (گھروں میں ) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اورجو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اورجان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ مال اورجان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہیں اور رحمت میں اور اللہ تعالیٰ بڑ ا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(۲) [ARABIC]وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ۔[/ARABIC] (النساء۔ ۷۴)
اورجو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرے پھر شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(۳) [ARABIC]الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ [/ARABIC]۔ (التوبہ ۔ ۲۰۔۲۱۔۲۲)
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں ان کا پروردگا ران کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاویدانی ہیں (اور وہ )ان میں ابد الآباد رہیں گے ۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا صلہ(تیار)ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔
(۴) [ARABIC] إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [/ARABIC]۔ (التوبہ۔ ۱۱۱)
بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اوران کے مالوں کو اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے خرید لیا ہے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اورقتل کئے جاتے ہیں(یہ )اللہتعالیٰ کے ذمہ سچا وعدہ ہے تورات اور انجیل اورقرآن میں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پھر تم خوشیاں مناؤ اس معاملے (خرید وفروخت) پر جو تم نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(۵) [ARABIC] يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ [/ARABIC]۔ (محمد۔۷)
اے اہل ایمان ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مددکرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(۶) [ARABIC]إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ [/ARABIC]۔ الحجرات۔۱۵)
ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور اسکے رسول پر ]ھر وہ شبہے میں نہیں پڑے اور وہ لڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال اوراپنی جان سے یہی لوگ سچے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(۷) [ARABIC]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ [/ARABIC]۔(الصّف۔۱۰۔۱۴)
اے ایمان والو! میں تم کو ایسی تجارت نہ بتادوں جو تم کوایک درد ناک عذاب سے بچالے ۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اورجان سے جہاد کرو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ (جب ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کردے گا اورتم کو جنت کے ایسے باغات میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اورعمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغو ں میں (بنے )ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اورایک اورچیز (تمہیں دے گا) جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور جلدی فتح یابی اورآپ ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔ اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے (دین کے ) مددگار بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام ) نے اپنے حواریوں سے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہومیرا (تم میں سے ) کون مدد گار ہے! وہ حواری بولے ہم اللہ تعالیٰ (کے دین )کے مددگار ہیں بنی اسرئیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگ منکر رہے پس ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت دی پس وہ غالب ہوگئے۔

اس بارے میں آیات بہت زیادہ ہیں اورجہاد کے فضائل بے شمار ہیں اب میں [مصنفؒ]مختلف فصلوں میں جس قدر آسان ہو اان فضائل کو بیان کرتاہوں۔

فصل
ایمان،فرض نماز اورماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کے بعد جہاد سب سے
افضل ہے:
٭ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون ساہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا [عمل افضل ہے ] ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ (بخاری۔مسلم)

٭ اسی طرح حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ کی روایت میں بھی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور آپ نے اس میں جہاد کا تذکرہ فرمایا اورفرض نماز کے علاوہ کسی عمل کو جہاد سے افضل قرار نہیں دیا۔ (ابوداؤد)

٭ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے فرض نماز کے بعد جہاد فی سبیل اللہ میں چہرہ تھکانے اورپاؤں خاک آلود کرنے جیسا کوئی عمل نہیں ہے جس سے جنت کے درجات کو حاصل کیا جاسکے۔ (کتاب الجہاد لابن مبارک)

٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ نماز کے بعد جہاد ہی کو سب سے افضل عمل سمجھتے تھے۔ (السنن الکبریٰ)

فصل
جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے بعد سب سے افضل ترین عمل ہے

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔ سوال کیا گیا کہ اسکے بعد کونسا عمل [سب سے افضل ہے] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا پھر پوچھا گیا کہ اسکے بعد کون سا عمل [سب سے افضل ہے] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حج مبرور۔ (بخاری ۔مسلم)
فائدہ: اس حدیث شریف میں جہاد کو دیگر تمام اعمال [مثلا ً فرض نماز اوروالدین کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ ] سے بھی افضل قراردیا گیا ہے۔ یہ دراصل اس وقت ہے جب جہاد فرض عین ہوجائے جبکہ جہاد کے فرض کفایہ ہونے کی صورت میں حدیث شریف کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اس شخص کے لئے جہاد سب سے افضل عمل ہے جس کے والدین نہ ہوں یا انہوں نے اسے جہاد میں جانے کی اجازت دے دی ہو۔

٭ حضرت ماعزرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ وحدہ پر ایمان لانا پھر جہاد کرنا پھر حج مبرور،مشرق ومغرب کے درمیان کے تمام اعمال سے افضل ہے۔ (مسند احمد)
یعنی ایمان اورجہاد کے علاوہ باقی تمام اعمال سے حج افضل ہے۔
٭ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اوراس کے راستے میں جہاد کرنا ۔ میں نے پھر پوچھا کون ساغلام آزاد کرنا افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے مالک کو پسند ہو اور اس کی قیمت زیادہ ہو۔ (بخاری ۔ مسلم)

٭ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک جہاد فی سبیل اللہ اوراللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اعمال میں سے سب سے افضل عمل ہے۔ [یہ سن کر ] ایک شخص کھڑے ہوئے اورانہوں نے عرض کی اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے [جہاد] میں مارا گیا تو کیا میرے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں [تمہارے گناہ بخش دئیے جائیں گے] ۔ (مسلم)

فصل
ایمان، جہاد اور حج تمام اعمال سے افضل ہیں

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں ک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو ایسا جہاد جس میں مال غنیمت کی چوری نہ ہواورحج مبرور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں سب سے افضل عمل ہیں۔ (موارد الظمآن)

٭ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعمال میں سے سب سے افضل عمل کون ساہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کے راستے میں جہاد کرنا اورحج مبرور، جب وہ شخص واپس لوٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان اعمال یہ ہیں کہ کھانا کھلانا، نرم گفتگو کرنا، نرم برتاؤ کرنا، اور اچھے اخلاق سے پیش آنا۔ پھر جب وہ شخص واپس لوٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے اس سے بھی زیادہ آسان بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جس چیز کا فیصلہ فرمادے تو تم اس پر اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہ کرو[بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہر تقدیر پر خوش رہو]۔ (مسند احمد)

فصل
جہاد اذان دینے سے افضل ہے
حضرت سعد سے روایت ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اذان دیتے تھے پھر آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی اذان دی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے بلال کیا وجہ ہے کہ آپ نے اب اذان چھوڑدی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک اذان دی پھر میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وصال تک اذان دی کیونکہ انہوں نے مجھے آزاد کرایا تھا اورمیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے اعمال میں جہاد سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ (ابو یعلی۔ ابن ابی شیبہ)
ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے ہی میں اذان ترک فرمادی اورجہاد کے لئے روانہ ہوگئے اورانہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو بطور دلیل کے پیش فرمایا۔
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان ترک فرما کر مدینہ منورہ سے ملک شام جہاد کے لئے تشریف لے گئے اوروہیں آپ کا ۲۶ ہجری میں انتقال ہوا دمشق میں باب کیسان نامی جگہ پر مدفون ہوئے یہ واقدی کی روایت ہے جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کی آخری آرام گاہ حلب میں ہے۔ واللہ اعلم۔



فصل
حجاج کو پانی پلانے اورمسجد حرام کو آباد رکھنے سے بھی جہاد افضل ہے
٭ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ ایک شخص کہنے لگے میں تو اسلام لانے کے بعد سب اعمال کی بنسبت حجاج کرام کو پانی پلانازیادہ بہتر سمجھتا ہوں ایک دوسرے صاحب کہنے لگے میں تو اسلام کے بعد دوسرے اعمال کی بنسبت مسجد حرام کو آباد رکھنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ ایک اور صاحب نے کہا تم دونوں کی بات درست نہیں ہے بلکہ جہاد فی سبیل اللہ ان سب اعمال سے زیادہ افضل ہے جن کا تذکرہ تم نے کیا ہے [یہ گفتگو جاری تھی کہ ] حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کو تنبیہہ فرمائی کہ آج جمعہ کادن ہے آپ لو گ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی آوازوں کو بلند نہ کریں البتہ جمعہ کی نماز کے بعد میں تمہارے اس مسئلے کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں گا اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔
(۱)[ARABIC]
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ[/ARABIC] ۔ (التوبہ۔ ۱۹)

کیا تم نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص (کے عمل) کے برابر قرار دے دیا جو اللہ تعالیٰ پراور آخرت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا ہو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ راستہ نہیں دیتے ظالموں کو۔

٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشادفرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم [عورتیں] جہاد کو تمام اعمال سے افضل سمجھتی ہیں تو کیا ہم جہاد میں نہ نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے افضل ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (بخاری)
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
افسوس کی بات ہے کہ متعہ کی اولاد اب شرفاء کو گالیاں دینا اپنا حق سمجھتی ہے۔۔۔۔۔۔ آپ پہلے گھر جا کر تسلی کرلو یقین جانو کہ تم متعہ کی ہی اولاد ہو کم سے 10 آدمیوں کے متعہ کا رزلٹ ہو یقین کرو۔۔۔۔۔۔ تم شریف کہیں سے لگتے ہیں نہیں۔۔

میرہ فورم ہوتا تو تمہیں کب کا بین کردیا ہوتا یہ فورم عزت دار لوگوں کے لئے ہے لیکن اس فورم کی انتظامیہ کا بڑہ پن پے کہ تم جیسے ابھی تک اس فورم پر پوسٹ کرسکتے ہیں۔
متفق
 
Top