• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یزید رحمہ اللہ کی فضیلت پر کتاب

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے (شاہ یمن ابرہہ کے) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی

مکہ مکرمہ کی بات ہورہی ہے کہ مکہ مکرمہ پر فوج کشی حرام ہے
اور مکہ پر فوج کشی یزید کے لشکر نے کی اس پر بھی اجماع ہے
اورمنجنیق کا استعمال عبداللہ بن زیبررضی اللہ عنہ ہی کی خاطرہوا تھا نہ کی خانہ کعبہ کی خاطر،
منهاج السنة النبوية 4/ 577]
منجنیق یعنی اس وقت کا سب سے خوفناک ہتھیاراس کا استعمال ایک صحابی رسول کو گرفتار کرنے کے لئے کیا گیا اب میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ منجنیق سے کسی کو کس طرح گرفتار کیا جاسکتا ہے یہ ہتھیار تو بڑے بڑے قلعوں کو مسمار کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا
خیر یہ تواس زمانے کا بڑا ہی خطرناک ہتھیار تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معمولی ہتھیار سے اشارہ نہ کرنے کا حکم دیا ہوا ہے کہ شاید شیطان تمہارے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرولگتا ہے یہاں بھی یہی ہوا کہ منجنیق کا نشانہ تو صحابی رسول تھے لیکن شیطان نے ہاتھوں کوڈگمگا دیا جس کی وجہ سے بقول آپ کے خانہ کعبہ کے کچھ حصے کو آگ لگ گئی نتیجہ یہ نکلا کہ خانہ خدا کو آگ لگانے کا سارا
گناہ شیطان کے سر جاتا ہے کیونکہ اس نے یزیدی لشکر کے سپاہی کا ہاتھ ڈگمگا دیا جب اس نے منجنیق سےایک صحابی رسول کو نشانہ بنانہ چاہا
تو کیا منجنیق کے ذریعہ صحابی رسول کو شہید کرنا جائز ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

لا يشير أحدكم على أخيه بالسلاح ، فإنه لا يدري ، لعل الشيطان ينزغ في يده ، فيقع في حفرة من النار
الراوي: أبو هريرة المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7072
خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

لا يُشيرُ أحدُكم إلى أخيه بالسِّلاحِ . فإنَّه لا يدري أحدُكم لعلَّ الشَّيطانَ ينزِعُ في يدِه . فيقعَ في حُفرةٍ من النَّارِ
الراوي: أبو هريرة المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2617
خلاصة حكم المحدث: صحيح


حضرت ابو ہریرہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘

من أشار إلى أخيه بحديدةٍ ، فإنَّ الملائكةَ تلعَنُه . حتَّى وإن كان أخاه لأبيه وأمِّه
الراوي: أبو هريرة المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2616
خلاصة حكم المحدث: صحيح

حضرت ابو ہریرہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔‘‘

اس بات کو اجماع آپ ثابت کرچکے کہ منجنیق کا نشانہ ایک صحابی رسول تھے نہ کہ خانہ کعبہ
لیکن!!!!
احادیث میں بیان ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی جان کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے
اس سے اجماع باطل ہوا یا کچھ اور ؟؟؟؟؟؟؟
 

یاسر ناصر

مبتدی
شمولیت
فروری 10، 2013
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
21
موضوع کی مناسبت سے میں نے ضروری سمجھا کہ شیعہ کتاب سے بھی ایک حوالہ دے دیا جائے کہ شیعہ کتب میں بھی یہ بات موجود نہیں کہ یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا یا شہید کرنے کا حکم دیا۔

طبرسی لکھتا ہے: “یزید نے ان (زین العابدین) سے کہا: سوائے آپ کے کوئی بھی اس امر پر مامور نہیں ہو گا، خدا ابن مرجانہ پر لعنت کرے، خدا کی قسم میں نے اس کو آپ کے بابا کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، اگر میں خود اس کے ساتھ ہوتا تو میں ان کو قتل نہ کرتا۔ پھر اس نے بہت سے ہدایا و تحائف کے ساتھ ان کو اور اہل حرم کو مدینہ بھیج دیا۔” (احتجاج طبرسی اردو۔ حصہ سوئم/چہارم۔ صفحہ 81)
 
شمولیت
جنوری 24، 2012
پیغامات
181
ری ایکشن اسکور
121
پوائنٹ
53
موضوع کی مناسبت سے میں نے ضروری سمجھا کہ شیعہ کتاب سے بھی ایک حوالہ دے دیا جائے کہ شیعہ کتب میں بھی یہ بات موجود نہیں کہ یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا یا شہید کرنے کا حکم دیا۔

طبرسی لکھتا ہے: “یزید نے ان (زین العابدین) سے کہا: سوائے آپ کے کوئی بھی اس امر پر مامور نہیں ہو گا، خدا ابن مرجانہ پر لعنت کرے، خدا کی قسم میں نے اس کو آپ کے بابا کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا، اگر میں خود اس کے ساتھ ہوتا تو میں ان کو قتل نہ کرتا۔ پھر اس نے بہت سے ہدایا و تحائف کے ساتھ ان کو اور اہل حرم کو مدینہ بھیج دیا۔” (احتجاج طبرسی اردو۔ حصہ سوئم/چہارم۔ صفحہ 81)
آپ شیعہ کتب میں موجود باقی باتوں سے بھی اتنا ہی اتفاق کرتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
201
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
علی بہرام صاحب:
جناب نے لکھا کہ"
یزید نے اپنے لشکر کے ذریعے سے اہل مدینہ کے دل میں خوف ڈالا نہ صرف خوف ڈالا بلکہ اہل مدینہ کی جان اور آبرو بھی یزیدی لشکر نے پامال کی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے

یہ تمام باتیں سند صحیح کے ساتھ ثابت کریں ۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
علی بہرام صاحب:
جناب نے لکھا کہ"
یزید نے اپنے لشکر کے ذریعے سے اہل مدینہ کے دل میں خوف ڈالا نہ صرف خوف ڈالا بلکہ اہل مدینہ کی جان اور آبرو بھی یزیدی لشکر نے پامال کی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے

یہ تمام باتیں سند صحیح کے ساتھ ثابت کریں ۔
السلام علیکم و رحمت الله-

محترم - یہ لنک بھی پڑھ لیں - اس میں دی گئی معلومات مفید رہے گی -

http://forum.mohaddis.com/threads/کیا-یزید-پر-لعنت-کرنا-جائز-ہے۔.6920/page-14#post-180636

شکریہ -
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
675
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
93
صرف اتنا عرض ہے اللہ تمام اہل حدیث حضرات کا حشر یزید کے ساتھ ہو آمین۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,957
ری ایکشن اسکور
9,818
پوائنٹ
722
صرف اتنا عرض ہے اللہ تمام اہل حدیث حضرات کا حشر یزید کے ساتھ ہو آمین۔
ہماری دعاء ہے کہ تمام اہل حدیث حضرات کا حشر ااہل حدیث کے امام اعظم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو۔
اللهم احشرنا مع نبينا وحبيبنا محمد صلى الله عليه وسلم


اور اگر آپ حنفی ہیں تودعاکریں کہ آپ کا حشر اہل الرائے کے اما م اعظم ابوحنیفہ کے ساتھ ہو۔
بریلوی ہیں تو دعاء کریں کہ آپ کا حشر اہل بدعت کے امام اعظم احمدرضا خان صاحب کے ساتھ ہو۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جنت مانگنا ہو توجنت الفردوس مانگو یہ جنت میں سب سے اونچا مقام ہے۔
معلوم ہواکہ اللہ سے مانگنا ہوتوبڑی سے بڑی چیز مانگنا چاہئے کیونکہ اللہ ہر چیز پرقادرہے ۔
اس لئے ہم جب حشر میں معیت مانگیں تو اپنے امام اعظم اور ساری انسانیت میں سب سے افضل ومکرم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی معیت مانگیں گے۔

آپ کو اس سے کم چاہئے تو یہ آپ کا معاملہ ہے دوسروں کا ٹھیکہ کیوں لے رہے ہیں۔
 
Top