• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یوگا کی شرعی حیثیت

Urdu

رکن
شمولیت
مئی 14، 2011
پیغامات
199
ری ایکشن اسکور
341
پوائنٹ
76
السلام علیکم محدثی قارئین،​
اس موضوع پر مجھے فورم پر کوئی کتاب یا مواد نہیں ملا۔لہذا افادہء عام کے لئے یہ کتاب شیئر کر رہا ہوں۔امید ہے کہ یہ شیئرنگ آپکو پسند آئیگی ان شا ء اللہ​
عنوان کتاب
یوگا کی شرعی حیثیت
مولف
نامعلوم
yoga.jpg
yoga2.jpg
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,344
پوائنٹ
437
سب سے پہلے تو یہ جانیں کے یوگا ہے کیا؟؟؟۔۔۔


یوگا سے مراد وہ عمل جس سے ہم اپنے آپ کے ساتھ یا خود کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کریں یا اپنے جسم پر حکمرانی کریں مثال کے طور پر اگر ہم تجزیہ کریں کے پورے دن میں جو ہم کہتے ہیں یعنی میں بولنا نہیں چاہ رہا تھا مگر میرے منہ سے نکل گیا جیسی باتیں کبھی کبھی سرزد ہوجایا کرتی ہیں یعنی میں بولنا نہیں چاہتا تھا مگر منہ سے نکل گیا it's Just Slip out from my mouth دوسری مثال کے میں مارنا نہیں چاہتا تھا مگر میرا ہاتھ اُٹھ گیا اس کا مطلب واضح ہے کہ ہمارے ہاتھ، ہماری زبان، ہماری آنکھیں، یہ اعضاء ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں اور اگر ہم تھوڑا اعضاء سے ہٹ کر بات کریں اور اپنے نفس کو موضوع بنائیں تو وہ قطعی طور پر بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے تو یہاں پر سب سے اہم سوال جو سامنے آرہا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے جو اعضاء اور ہمارا نفس جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے تو ایسی صورتحال میں ہماری زندگی کیونکر آسان ہوسکتی ہے؟ لہذا اس طرح کے برتاؤ سے نبرآزما ہونے کے لئے ہمیں خود پر حکمرانی کرنے کی ضرورت ہے Rolling our selfs فرض کیجئے ہم اپنے رویوں، مزاج، عادتوں پر اختیار حاصل کرلیں گے تو سوچیں زندگی کیسی ہوجائے گی؟ How would it started when you are rolling on your self یعنی How Will life Become تصور کیجئے کہ Never Saying a Wrong Word کبھی اس چیز کی طرف نہیں دیکھیں گے جو غلط ہوگی، Never looking at the thing which is not right ہم کبھی بھی اپنے ہاتھوں کو کسی غلط کام کے لئے استعمال نہیں کریں گے Never Useing our hands in the wrong way اور یقینا کبھی بھی آپ کے ذہن میں کوئی غلط خیال پیدا نہیں ہوگا Defenatly Not ever creating a wrong thought تو اب سوچیں زندگی کیسی بن جائے گی How would the life become بہت آسان کیونکہ نہ کوئی پشیمانی ہوگی نہ کوئی منفی رویوں پر کیا جانے والا ردعمل، نہ ہی کسی قسم کا افسوس جس سے کسی دوسری کو تکلیف پہنچی ہو۔ تو اس عمل سے ہم خود پر خود کے اختیار کو منظم کرپائیں گے جسے ہم کہیں گے Self RULE۔

اچھا اب میں وہ لفظ (Youga) اس کے لغوی معنوں پر تجزیہ پیش کردوں یوگا کہتے ہیں کنکشن، یعنی تعلق کو جوڑنا مگر آج کے دور میں ہم یوگا سے مراد لیتے ہیں جسمانی ورزش یا کسی قسم کی ایکسرسائز But actual meaning of YOUGA is Connection, Remmemberance, مثال کے طور پر فرض کیجئے کہ آپ اپنے کمرے میں بیٹھے ہیں اور وہیں بیٹھ کر آپ اپنے گھر کے کسی فرد کو یاد کرتے ہیں تو ہم کہیں گے ان کا ذہنی تعلق یا دھیان اپنے گھر کے کسی فرد کی طرف لگا ہوا ہے They are in the remembrance of there family member یعنی They are in YOUG in there family member اسی طرح سے خود پر اخیتار حاصل کرنا سے مراد Connection with the highest یعنی جب میں خود اپنے اوپر سے مراد سپریم پاور یعنی اپنے رب سے تعلق جوڑ لوں تو آسانی سے خود پر اختیار حاصل کر سکوں گا کیونکہ ہماری مثال ایک طرح کی بیٹری کی مانند ہے جو تھوڑی سی کمزور ہوگئی ہے یعنی بنیادی طور پر ہمارا ایمان جو بڑھتا اور گھٹتا ہے وہ کمی کا شکار ہے اور جیسے ایک کمزور بیٹری کو ضرورت ہوتی ہے کے اس کو چارج کیا جائے تو اس کو کس چیز سے جوڑا جاتا ہے؟ ظاہر ہے چارجر سے جو بیٹری کو چارج کرتا ہے یا یوں کہیں جو اس کی کمزوری کو دور کردیتا ہے۔

مگر آج کل بہت عام ہے آپ خود سے یہ سوال کیجئے گا ہم سب ہی اللہ رب العالمین کو یاد کرتے ہیں خاص کر مصیبت اور مشکل کے وقت یا اگر کسی آزمائش یا امتحان میں اگر مبتلا ہوجائیں تو کیفیات عام یا معمول کی طرح سے نہیں ہوتیں بلکہ رحجان کے لحاظ سے اس میں زیادتی ہوجاتی ہے کیونکہ جس صورتحال سے ہم اُس وقت نمبرد آزما ہوتے ہیں تو ہمارا ذہن اس بات کو تسلیم کررہا ہوتا ہے کہ وہ ہی اس وقت ہم سے سب سے زیادہ قریب ہے اور سننے والا ہے لیکن اگر عموی طور پر صورتحال آزمائشی نہ ہو تو خود سے یہ پوچھیں کے جب جب آپ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں تو اگر ہم فرض کریں کے بیس منٹ ہم اپنے تعلق کو رب سے جوڑتے ہیں تو اُن بیس منٹوں میں سے کتنی بار ہمارا ذہن ادھر اُدھر بھٹکتا ہے اور اس کا تجربہ دوران نماز باآسانی کیا جاسکتا ہے کہ جب ہم خود کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا پاتے ہیں عبادت میں فرائض کی نیت سے تو اس پورے دورانیئے میں ہمارا ذہن کہاں کہاں نہیں بھٹک چکا ہوتا؟۔ یہاں پر آپ خود سے پوچھیں کے درجہ بندی کے لحاظ سے آپ نے اپنے رب کو کتنا یاد کیا اور کتنا ادھر اُدھر کے خیالات نے آپ کو گھیرے رکھا اور بیس منٹ میں سے کتنے منٹ آپ کا دھیاں خالصتا اللہ رب العالمین سے جڑا رہا؟۔

اسی طرح سے فرض کرتے ہیں کہ ہم اللہ رب العالمین سے دُعا کررہے ہیں تو ہمارے ہونٹ جنبش کرتے ہیں یعنی The mouth is Reciting لیکن ہمارا ذہن؟۔ اُس وقت کیا کام کررہا ہوتا ہے؟۔ کبھی ہم نے اس کو محسوس کیا؟۔ فرض کیجئے ہم قرآن کی تلاوت روزانہ کی بنیادوں پر کرتے ہیں لیکن ہمارا ذہن جگہ جگہ بھٹک رہا ہوتا ہے کبھی آفس میں کبھی کسی کاروباری مصلحت میں تو کبھی رشتہ داروں کے رویوں میں تو کبھی آس پاس کے ماحول کی بےضابطگیوں میں، تو کبھی دروازے پر بجنے والی گھنٹی پر تو کبھی موبائل پر کہ وہ کہاں ہوگا یا بچے کیا کررہے ہونگے وغیرہ وغیرہ اور سب کچھ کرکے واپس بھی آجاتا ہے۔ تو سوچیں جب ہمارا ذہن منتشر رہے گا تو کیا ایمان کو تقویت ملے گی؟۔ اب اگر ہم قرآن پڑھنے کیوں بیٹھے تھے؟۔ تو کیا جواب پائیں گےا؟۔ کچھ بھی نہیں۔ لیکن جب ہم اپنے ذہن کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی سوچ یہ ہے کہ یہ تو تلاوت روز کرتے ہیں عبادت روز کرتے ہیں اور یہ ہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنا تعلق سپریم پاور یعنی اپنے رب سے جوڑ رہے ہوتے ہیں اور ذہن سوچ رہا ہوتا ہے کہ میں اس وقت مطمئن ہوں تو کیوں نا ادھر اُدھر گھوم پھر لوں کیونکہ اس وقت انسان قلبی طور پر پُرسکون ہوتا ہے۔

اور اگر ہم مشاہدہ کریں تو یہ چیزیں سالہا سال سے ہوتی چلی آرہی ہیں کہ ہم دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں لیکن چارجنگ نہیں ہوپارہی مطلب یہ کہ ایمان کو وہ قوت نہیں مل رہی جو ذہن اور دل کو قابو میں کرسکے جس سے مزاج اور کیفیات میں موجود ہجان اور بےضابطگی کو دور کیا جاسکے یعنی جس تبدیلی کے ہم خواہشمند ہیں وہ پیدا نہیں ہوپارہی ہے دن میں پانچ بار اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں لیکن اُس کے بعد کے اوقات میں ہمارا کیا طرز عمل ہوتا ہے؟۔ کبھی خود سے یہ جاننے کی کوشش کی؟۔ یعنی جب مسجد میں جاتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ ہم مسلمان نظر آئیں اپنے قول، اپنے فعل اور اپنے عمل سے لیکن کیا واپس آنے کے بعد کبھی ہم نے یہ سوچا یا خود سے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی کہ وہ مسلمان کہاں گیا؟۔ یا وہ کیفیات کہاں گئیں؟ جو مسجد یا عبادت گاہ میں تھیں۔

مثال کے طور پر It is like going to the doctor everyday sitting with the doctor for hours every day and yet coming back and not getting cured infect illness seems to be increasing day by day instead of reducing تو سوال یہ ہے کہ کہاں کیا غلطی ہورہی ہے؟۔ جو روزانہ ہم سے ہورہی ہوتی ہے فرض کیجئے ایک بچہ اگر روزانہ پڑھتا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ ساری معلومات جو وہ پڑھ رہا ہے وہ اُس کی عقل میں بیٹھ جائے گی اور وہ ہی پڑھائی یا تعلیم ہمیں اس کے معمولات زندگی میں باآسانی دکھائی بھی دے گی لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہماری تعلیمات ہمارے رویوں، مزاجوں، سوچنے کے ڈھنگ میں کہیں بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی کیوں؟۔ یعنی ہماری تعلیمات کچھ اور ہیں اور ہماری زندگی کے طور طریقے مختلف دھاروں میں بہہ رہے ہیں کیونکہ جب ہم پڑھتے ہیں تو ہمارا ذہن اس طرف نہیں ہوتا صرف ہماری زبان لفظوں کو ادا کررہی ہوتی ہے اور آواز اس کو پہچان دے رہی ہوتی ہے کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں یعنی کے inorder to connect to the suprem power, inorder to charge mind properly we need frist to know my self and know him کہ کس کا تعلق کس کے ساتھ جڑنا ہے؟۔ اور سب سے اہم مرحلہ یہ کہ ہم اس تعلق کو کیسے جوڑیں؟۔

اب یہاں پر تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔
1۔ سب سے پہلا کے میں کون ہوں؟۔
2۔دوسرا یہ کہ اللہ کون ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے۔
3۔ تیسرا کہ میرا تعلق میرے رب سے کس طرح جڑے گا۔

یعنی اللہ تعالٰی جو ہم سے چاہتا ہے ہم ویسے کیسے بنیں؟۔
دوستو! ایمان کا تعلق قول اور فعل ہر دو سے ہے اور وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ایمان میں اور زیادتی ہو ۔ " ( سورۃ الفتح : 4 ) اور فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھا دیا ( سورۃ الکہف : 13 ) اور فرمایا کہ جو لوگ سیدھی راہ پر ہیں ان کو اللہ اور ہدایت دیتا ہے ( سورۃ مریم : 76 ) اور فرمایا کہ جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ نے اور زیادہ ہدایت دی اور ان کو پرہیزگاری عطا فرمائی ( سورۃ محمد : 17 ) اور فرمایا کہ جو لوگ ایماندار ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہوا ( سورۃ المدثر : 31 ) اور فرمایا کہ اس سورۃ نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ؟ فی الواقع جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا ( سورۃ التوبہ : 124 ) اور فرمایا کہ منافقوں نے مومنوں سے کہا کہ تمہاری بربادی کے لیے لوگ بکثرت جمع ہو رہے ہیں ، ان کا خوف کرو ۔ پس یہ بات سن کر ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ گیا اور ان کے منہ سے یہی نکلا « حسبنا اللہ و نعم الوكيل » ( سورۃ آل عمران : 173 ) اور فرمایا کہ ان کا اور کچھ نہیں بڑھا ، ہاں ایمان اور اطاعت کا شیوہ ضرور بڑھ گیا ۔ ( سورۃ الاحزاب : 22 ) اور حدیث میں وارد ہوا کہ اللہ کی راہ میں محبت رکھنا اور اللہ ہی کے لیے کسی سے دشمنی کرنا ایمان میں داخل ہے ( رواہ ابوداؤد عن ابی امامہ ) اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن عدی کو لکھا تھا کہ ایمان کے اندر کتنے ہی فرائض اور عقائد ہیں ۔ اور حدود ہیں اور مستحب و مسنون باتیں ہیں جو سب ایمان میں داخل ہیں ۔ پس جو ان سب کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا کر لیا اور جو پورے طور پر ان کا لحاظ رکھے نہ ان کو پورا کرے اس نے اپنا ایمان پورا نہیں کیا ۔ پس اگر میں زندہ رہا تو ان سب کی تفصیلی معلومات تم کو بتلاؤں گا تاکہ تم ان پر عمل کرو اور اگر میں مر ہی گیا تو مجھ کو تمہاری صحبت میں زندہ رہنے کی خواہش بھی نہیں (صحیح بخاری)۔

بلکل اسی طرح آج ہمارے رشتوں میں وہ کون سا لفظ ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں؟۔ وہ ہے "" انا "" اب رشتوں کو استوار کرنے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جن لوگوں سے ہمارے معاملات رہتے ہیں اُن میں سے کون سا فرد ایسا ہے جس میں انا بہت زیادہ ہے۔ لیکن انا ہے کیا اور انا کہتے کسے ہیں؟۔ Ego is an attachment to a wrong image of my self اب ہمیں اس کا مطلب سمجھنا ہے جو نہایت ہی اہم ہے بے ضابطگیوں کو درست کرنے کے لئے، اب فرض کیجئے ہم کسی سے پوچھیں کے اپنا تعرف کروئیے تو فلاں شخص اپنا نام بتائے گا، اپنی تعلیمی قابلیت بتائے کا پھر وہ یہ بتائے گا کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر یا پھر کوئی بزنس مین ہے اور کچھ لوگ تو اپنے مذہب اور یہ بھی کے میں کس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں بتاتے ہیں اس کو ہم یوں سمجھتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کو ایک نام دیتے ہیں، پھر وہ بڑا ہوتا ہے پڑھتا ہے اسکول سے فارغ ہوتا ہے تو کالج میں جاتا ہے کالج سے فارغ ہوتا ہے تو یونیورسٹی میں جاتا ہے یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنی فیلڈ میں روزگار حاصل کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب وہ ایکس ہوجاتا ہے تو یہ سب کیا ہے؟۔ یہ وہ تبدیلی کے مراحل ہیں جو فرد واحد کی ذات میں وقت کے حساب سے رونما ہورہے ہوتے ہیں لیکن بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ریٹارئمنٹ کے بعد بھی اپنے عہدے کو اپنے نام کے ساتھ لگانا پسند کرتے ہیں جیسے ہم مثال لیں فوج کی فوج میں کسی کرنل کی ریٹارئمنٹ کے بعد وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے عہدہ ضرور استعمال کرے گا حالانکہ وہ ریٹائر ہوچکا ہے Then he will asks him self who am i and what is my identity?. تو یہاں پر I came on to holding position جو کہلاتا ہے Identity Crisis یعنی ہماری پہچان جو چلی گئی ہے ہم نے اُس کو بھی زبردستی پکڑ کے رکھا ہوا ہے۔ So this Journy of life we get so many things we got family name, degree, position and so on an on اب اس سفرے حیات میں جہاں ہم نے یہ سب حاصل کیا تو ایک وقت آئے کہ ہم یہ سب Loss کررہے ہیں یعنی بہت کچھ ملتا جاتا ہے لیکن کچھ کچھ چھینتا جاتا ہے تو جب ہم چیزوں کو کھونے لگتے ہیں تب اس وقت کیسا لگتا ہے؟۔ مطلب یہ جب پوزیشن گئی ہم ریٹائر ہوگئے تب کیسا لگتا ہے؟ فطری بات ہے بُرا لگتا ہے اور یہ خیال پریشان کرتا ہے کہ اب مجھے کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ جو لوگ مجھے پوچھتے تھے وہ اس پوزیشن کی وجہ سے پوچھتے تھے جس پر میں کبھی براجمان تھا۔

مثال کے طور پر ہم کسی کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔ اب ہم یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ ہم ساری زندگی اس کو کبھی نہیں چھوڑیں گے یہ ہم سے کبھی جدا نہیں ہوگا لیکن کیا مجھے اپنے اندر اس بات کا علم ہے کہ یہ کبھی نہ کبھی تو جدا ہوگا؟۔ معلوم ہے کہ جدا ہوگا مگر کوشش پوری ہوگی کے ہم اُس سے جدا نہ ہوں جو ہماری زندگی کا محور ہے۔ ہم اُس کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں اور اسی طرح سے سات سال کا عرصہ گذر جاتا ہے لیکن ایک دن حادثہ ہوتا ہے وہ ہم جس کے ساتھ ہم زندگی گذار رہے ہیں وہ بچھڑا جاتا ہے اس کے بچھڑنے پر افسوس ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ سات سال آپ کے اُس کے ساتھ کیسے گذرے؟۔ شاید اس سوچ کے ساتھ کہ کہیں وہ بچھڑ نہ جائے اب دیکھیں معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دن اس سے بچھڑنا ہے پھر بھی کوشش کیا کررہے تھے؟ کہ کسی بھی حال میں بچھڑنا نہیں چاہئے شناسائی ہے سات سالوں کی تو یہ سال کیسے ہونے چاہئے تھے؟۔ پوری طرح پُرلطف لیکن وہ سال پُرلطف کیوں نہیں گذر پائے؟۔ Because we created a thought کہ کہیں یہ ہم سے بچھڑ نہ جائے۔ A thought of fear، A thought of Anxiety so i want to hold it tight تو اس سے کیا چیز پیدا ہوئی Stress پھر جب مجھے یہ خیال آیا کہ کوئی اسے مجھ سے چھین لے جائے گا تو پیدا ہوا ِAnger تو When i create Stress, Fear, Anger i do not experience happiness، I do not enjoy my seven years of life that i had. کیوں؟۔ اس لئے کہ میں جسے پسند کرتا تھا میں اس کے ساتھ پوری زندگی نہیں گذار سکا سب کچھ مجھے ملا لیکن ایک پل میں مجھ سے چھن گیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک دن جدا ہونا ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی تو پوزیشن چلی گئی معلوم تھا کہ ایک دن جانا ہے تو جتنے سال میرا اس کا ساتھ رہا اُس سے لطف اندوز ہونے کی بجائے میں نے وہ سال اس سوچ میں گذار دیئے کہ ہائے کہیں کوئی اس کو مجھ سے چھین کر نہ لے جائے یہ جانتے ہوئے کہ ایک نہ ایک دن اس نے جانا ہی ہے۔ The minute I create a thought of fear.... Happiness is Gone!. میری فیملی کو کچھ نہ ہوجائے میرے بینک بیلنس میں کمی واقع نہ ہوجائے حالات ایسے پیدا ہو جائیں کے مجھے اس مکان اور گاڑی سے ہاتھ دھونا پڑ جائے اور سب سے زیادہ خوف اس بات کا کہ کہیں مجھے کچھ نہ ہوجائے۔
شاید اس سے کچھ معلومات مل سکیں۔۔۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
سب سے پہلے تو یہ جانیں کے یوگا ہے کیا؟؟؟۔۔۔



شاید اس سے کچھ معلومات مل سکیں۔۔۔
السلام علیکم ،
حرب بن شداد بھائی یہ تحریر آپ نے کہاں سے لی ہے ؟ پلیز لنک فراہم کیجیئے۔
اور اگر یہ آپ کی تحریر ہے تو ایسا اور بھی لکھیں۔۔۔یوگا جو کہ تحریر کا موضوع تھا ،اس کا ذکر آغاز کی سطور کے سوا کہیں نظر نہیں آیا!
تاہم مجموعی طور پر تحریر انفورمیٹیو ہے۔جزاک اللہ خیرا
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
السلام علیکم محدثی قارئین،​
اس موضوع پر مجھے فورم پر کوئی کتاب یا مواد نہیں ملا۔لہذا افادہء عام کے لئے یہ کتاب شیئر کر رہا ہوں۔امید ہے کہ یہ شیئرنگ آپکو پسند آئیگی ان شا ء اللہ​
عنوان کتاب
یوگا کی شرعی حیثیت
مولف
نامعلوم
اردو بھائی!
یہ لنک کام نہیں کر رہا۔۔۔پلیز لنک درست کیجیئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
اس کتاب کا پورا یونیکوڈ میرے پاس ہے ڈاونلوڈ کر لیجئے،
 

اٹیچمنٹس

  • پسند
Reactions: Dua

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,434
پوائنٹ
463
جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔
 
Top