• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہودی ایک سازشی قوم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
رضی الدین سید
یہودی
ایک سازشی قوم
جس نے دنیا کا امن برباد کیا
YYYYY

نیشنل اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ
C/o صراط مستقیم فاؤنڈیشن، 26اسٹریٹ ، نزد مزار عبداللہ شاہ غازی، کلفٹن ، کراچی۔
فون: 021-4500039 موبائل: 0300-2397571
ویب سائٹ: http://www.islamic-academy.com
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

یـہــودی


دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں کی تعداد فی زمانہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے جن میں سے اڑتالیس لاکھ خود اسرائیل میں بستے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نہ تو یہ زمین ان کی تھی اور نہ یہ مکانات ان کے تھے۔ دنیا بھر میں راندئہ درگاہ بنے ہوئے ان یہودیوں کو عرب دنیا کے عین قلب میں آباد کرنے کی سازش جنگ عظیم اول کے اختتام پر شروع ہوئی جسے اعلان بالفور کا نام دیا گیا۔ یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب عیسائی اقوام نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی پر کاری ضرب لگائی تھی۔ انہوں نے وسیع و عریض خلافت عثمانیہ کو توڑ کر پاش پاش کیا اور دسیوں چھوٹی بڑی عرب ریاستیں وجود میں لے کر آئے۔ اس دن سے آج تک مسلمانوں کو نہ تو پھر ویسی اتحاد و یکجہتی میسر ائی اور نہ ’’اسرائیلی‘‘ ریاست سمٹ کر مختصر ہوسکی۔ آج عالم یہ ہے کہ یہ یہودی ریاست ۱۹۴۸؁ء کے بعد سے مسلسل توسیع پذیر ہے اوراس کی سرحدیں آئے دن پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔

بدقسمتی سے یہودی ایک ایسی قوم رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہزاروں سالہ زندگی اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانیوں میں گزاری ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دور سے بنی اسرائیل نام کی قوم کا آغاز ہوا اور دم تحریر تک یہ قوم مسلسل بغاوت، سازش اور فساد کی علمبردار ہے۔ اس قوم پر رب کائنات نے متعدد بار لعنت کی ہے۔ اسرائیلیوں کی مکرو فریب کی پوری تفصیل قرآن پاک میں محفوظ کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طویل چارج شیٹ ان کے نام سے مرتب کی ہے جس کے بعد اس نے اس قوم کو قیادت کے منصب سے معزول کر کے مسلمانوں کو اس مقام پر فائز کیا۔ دنیا بھر کی اقوام میں یہ وہ واحد قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ غضب و غصے اور پھٹکار و ملامت کا سزاوار ٹھہرایا ہے۔ قرآن پاک کے تفصیلی مطالعے سے یہودیوں کے جو طویل جرائم ہمارے سامنے آتے ہیں، انہیں پڑھ کر اس قوم کی نفسیاتی کیفیت ہمارے سامنے آتی ہے۔ ان میں سے چند جرائم مثالاً آپ کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔

l یہ قوم عہد و پیمان کی مسلسل نافرمانی کرتی تھی جس کے بعد کوہ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لٹکایا گیا۔ تاہم اس کے باوجود عہد شکنیوں کاان کا یہ سلسلہ جاری رہا۔

l یہ اللہ کی آیات کو فروخت کرتے تھے اور ان سے اپنے ڈھب کے مطلب برآمد کرتے تھے۔

l اللہ نے جب انہیںآسمان سے بلامحنت و مشقت رزق (من و سلویٰ) فراہم کیا تو ضد کر کے اسے بند کروایا اور مطالبہ کیا کہ ان کے لئے زمین سے اناج اور سبزیاں اگانے کا بندوبست کیا جائے۔

l اللہ نے انہیں ایک بستی میں داخل ہوتے وقت ’’حطّـہ‘‘ (معانی) کا لفظ ادا کرنے کے لئے کہامگر انہوں نے ضد میں اسے بدل کر کسی اور لفظ میں تبدیل کردیا۔

l آسمان سے بھیجے گئے اپنے پیغمبروں کو قتل کرنے اور انہیں پھانسی پر چڑھانے سے بھی انہیں کوئی عار نہ تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کروایا۔ ایک نبی کو کنوئیں میں الٹا لٹکا کر چھوڑ دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تختہ دار تک پہنچانے کی سازش میں پیش پیش رہے۔
l
اللہ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بہت سٹپٹائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانچ دفعہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رب سے اس کے بارے میں ٹھیک ٹھیک حکم لے کر آئیں تاکہ وہ کسی طرح گائے کے ذبح سے بچ جائیں وغیرہ وغیرہ۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

یہ ۱۱/۹ کا حادثہ تھا جس کے بعد دنیا کو پتہ لگا کہ کرہ ارض کا امن تباہ کرنے والے تو اصل میں یہودی ہیں۔ اس سے پہلے یہودی سازشوں کا اتنا گہرا ادراک شاذ و نادر ہی کسی کے پاس تھا۔ یہودی زیادہ سے زیادہ ایک گالی والا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ یہ اس کے بعد ہی ہے جب دانشوروں اور محققین نے دریافت کیا کہ دنیا کی دو عظیم جنگیں (اول اور دوئم) بھی دراصل انہی کی سازشوں کا نتیجہ تھیں۔ واضح رہے کہ ان جنگوں میں لاکھوں افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

عیسائیوں اور یہودیوں میں تقریباً دو ہزار سال سے ان بن رہی ہے۔ ان کی یہ دشمنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور سے شروع ہوئی تھی اور اب سے تقریباً سو سال پہلے تک شد و مد سے جاری تھی۔ عیسائیوں کے نزدیک یہودیوں کے دو بڑے جرائم تھے جن کی بنیاد پر یہ قابل گردن زدنی سمجھے جاتے تھے۔

(۱) عیسائیوں کے خیال کے مطابق یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قاتل ہیں۔

(۲) وہ دوبارہ آنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذباللہ دجال قرار دیتے ہیں۔

چنانچہ انہی دو بڑے جرائم کی بنیاد پر عیسائیوں کے نزدیک یہودی قوم انتہائی قابل نفرت رہی ہے۔ وہ انہیں روئے زمین پر سب سے شریر اور خبیث مخلوق قرار دیتے تھے۔ اور جہاں پاتے تھے ، قتل کردیتے تھے۔ حال یہ تھا کہ ابتدائی دور میں جب یورپ میں طاعون (یا کالی وبا) پھیلی جس کے باعث لاتعداد ہلاکتیں ہوئیں تو عیسائیوں نے اس کا سبب بھی یہودیوں کو ٹھہرایا۔ حالانکہ خود یہودی بھی اس مرض میں ہلاک ہو رہے تھے۔

عیسائیوں نے ان یہودیوں کو دنیا میں کہیں بھی پناہ نہ لینے دی۔ وہ ان کے خون کے پیاسے تھے۔ انہوں نے انہیںہزاروں کی تعداد میں اجتماعی قتل کیا۔ وہ ان کے مکانات اور کھیت کھلیان جلا دیتے تھے، اور ان کے بچوں کو اسی طرح تہہ تیغ کردیتے تھے جیسے آج فلسطینی بچوں کو یہودی قتل کرتے ہیں۔ عیسائی انہیں اپنے ساتھ شہروں میں بسانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس لئے وہ انہیں دور جنگلوں اور بیابانوں میں جگہ فراہم کرتے تھے۔ عیسائی پادریوں کا حکم تھا کہ یہودی جب شہر آئیں تو اپنے کپڑوں پر امتیازی پٹی لگائیں تاکہ وہ انہیں عیسائی سمجھ کر دھوکہ نہ کھائیں۔ (طالبان نے بھی اپنے دور میں غیر مسلموں کو امتیازی پٹی لگانے کی ہدایت کی تھی تاکہ ان پر مسلم قوانین کا اطلاق نہ کیا جا سکے)۔

اس وقت یورپ دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک عیسائی یورپ اور دوسرا مسلم یورپ۔ عیسائی یورپ بہت بڑا تھا جب کہ مسلم یورپ بہت مختصر تھا۔ عیسائیوں نے یہودیوں کو اپنے کسی بھی ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی اور اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے یہودی دو ہزار سال تک مسلسل جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ ہٹلر جو خود بھی عیسائی تھا اس نے ان یہودیوں پر ظلم کے کوہ ہمالیہ توڑے اور ان کے ہزاروں افراد کو اجتماعی طور پر گیس چیمبر میں ہلاک کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ہٹلر دس سال مزید زندہ رہ جاتا تو کرئہ ارض سے یہودیوں کا مکمل خاتمہ ہوجاتا۔ مگر اللہ کی مشیتیں کچھ اور ہی ہوتی ہیں۔

مدینے کے بعد مسلم دنیا سے ان کی کبھی کشمکش نہیں رہی۔ بلکہ ظلم کے مارے ہوئے یہ یہودی جب پناہ کے لئے البانیہ اور ہسپانیہ (Spain) میںآئے تھے تو مسلم حکمران جزیہ لے کر انہیں عزت و اکرام دیتے تھے۔ بلکہ اکثر حکومتوں میں تو یہ یہودی وزیر ، سفیر اور وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ اس لحاظ سے اصولاً انہیں مسلمانوں کا ممنونِ احسان ہونا چاہئے مگر چونکہ ان کی فطرت ہی میں کجی اور احسان فراموشی بسی ہوئی ہے اس لئے وہ آج مسلمانوں کے بھی بدترین دشمن ہیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ دنیا کی تمام قوموں کے مقابلے میں یہودی انتہا درجے کے ذہین اور دور اندیش ہیں۔ اس جانب قرآن پاک ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ فرشتے نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بڑے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی تو قرآن نے وہاں کچھ اور لفظ استعمال کیا ہے جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش پر قرآن نے کچھ اور الفاظ استعمال کیا ہے۔ لفظوں کا یہ مختلف استعمال ہی دراصل تمام کہانی بیان کرتا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے لئے قرآن پاک کے الفاظ ہیں۔

’’ہم نے اسے ایک ’’حلیم‘‘ لڑکے کی بشارت دی۔‘‘ (سورہ الصّافات۔۱۰۱)

’’حلیم‘‘ یعنی بردبار، فرمانبردار، اطاعت گزار، سنجیدہ اور عاجزی پسند۔ مسلمان چونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس لئے ان کے اندر یہ صفت بڑی حد تک آج بھی موجود ہے۔ واضح رہے کہ قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بھی ایک موقع پر ’’حلیم‘‘ ہی کا لفظ استعمال کیا ہے (سورہ ہود۔رکوع۷)

دوسری جانب فرشتے نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں، وہ یہ ہیں:

’’ہم تمہیں ایک ’’علیم‘‘ لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔‘‘ (سورہ الحجر۔۵۳)

’’علیم‘‘ یعنی علم والا، ہوشیار، دوراندیش، ذہین اور فطین، مولانا مودودی نے ان تمام خصوصیات کو ایک خوبصورت لفظ ’’سیانے‘‘ میں جمع کردیا ہے یعنی ’’ہم تمہیں ایک سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔‘‘

یہودی چونکہ حضرت اسحاق (اسرائیل) کی نسل سے ہیں اس لئے ان کے اندر یہ تمام صفات آج بھی پائی جاتی ہیں۔ ان کی دور اندیشی قابل رشک ہے کیونکہ ڈیڑھ دو سو سال بعد کی منصوبہ بندی وہ آج ہی کرلیتے ہیں۔

ان کی دور اندیشی کے لئے صرف ایک واقعہ پیش کرنا کافی ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے فرمایا تھا کہ آخری وقت میں یہودیوں کو قتل عام سے کہیںپناہ نہ مل سکے گی۔ البتہ ایک درخت ’’الغرقد‘‘ انہیں چند سانسوں کے لئے پناہ دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ درخت بیت المقدس میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ آج یہودی اسرائیل میں ایسے ہزاروں درخت پیشگی لگا رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے بعد بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے محض چند سانسوں کی پناہ گاہ کا کام دیں گے۔

چونکہ اس صورتحال میں یہودیوں کو زمین سے اپنے فنا ہوجانے اور مٹ جانے کے خطرات پیدا ہو گئے تھے لہٰذا انہوں نے عیسائیوں کو زیر کرنے کے لئے تدبیریں شروع کردیں۔ اقتدار تو چونکہ انہیں کہیں بھی حاصل نہ تھا لہٰذا انہوں نے فتنہ پروری اور سازشوں سے کام لینا شروع کیا۔ واضح رہے کہ یہودیوں کی کتاب ’’دی پروٹوکولز‘‘ بھی اسی دور کی اہم کتاب ہے جس میں انہوں نے دنیا کو اپنے حق میں مسخر کرنے کے ہر پہلو سے تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے ایک طویل عرصے تک خفیہ رکھا تاہم کسی نہ کسی طرح یہ کتاب فاش ہو گئی اور آج ہر جگہ دستیاب ہے۔ یہ کتاب انہوں نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ترتیب دی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر آج وہ دنیا کو حرفاً حرفاً اسی کتاب کے مطابق چلا رہے ہیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

عیسائیوں کو زیر کرنے کے لئے یہودیوں نے ظلم و تشدد اور خونی راستوں سے ہٹ کر (جس کی قوت ان کے پاس اس وقت دستیاب نہ تھی) دیگر غیر تشدد پسندانہ راستے اختیار کئے۔ سب سے پہلی ضرب انہوں نے عیسائی مذہب کی کلیت یا وحدانیت پر لگائی۔ عیسائیوں کا اصل مذہب کیتھولک ہے لیکن یہودیوں نے اپنی سازشوں سے اس کے اندر ایک نیا بدعتی فرقہ ’’پروٹسٹنٹ‘‘ ایجاد کیا جس کے بعد عیسائیت دو بڑے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ یعنی کیتھولک عیسائی اور پروٹسٹنٹ عیسائی۔ پھر کیتھولک عیسائی پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے بھی اسی طرح جانی دشمن بن گئے جیسے وہ یہودیوں کے جانی دشمن تھے۔ انتشار کے بعد عیسائیت مزید تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی اور اس کے بیپٹسٹ اور میتھوڈیسٹ وغیرہ فرقے پیدا ہوئے۔

چنانچہ پروٹسٹنٹ طبقے ہی کی وجہ سے عیسائی طلبہ کو بائبل کی اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ ایک ساتھ پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ واضح رہے کہ ’’عہد نامہ قدیم‘‘ توریت سے متعلق کتاب ہے جب کہ ’’عہد نامہ جدید‘‘ انجیل سے متعلق کتاب ہے۔ عیسائی طالب علم عہد نامہ قدیم سے اپنی تقسیم کا آغاز کر کے عہد نامہ جدید پر پہنچتے تھے۔ چنانچہ رفتہ رفتہ ان میں یہودی عقائد جگہ بنانے لگے۔

دوسرا حملہ یہودیوں نے ۱۹۰۸؁ء میں ’’اسکوفیلڈ‘‘ (Scoofield) نامی ایک نئی بائبل ایجاد کر کے کیا۔ انہوں نے عیسائیوں کے ایک ذہین فرد ’’اسکوفیلڈ‘‘ کو خرید کر گوسپل پر اس سے اپنی مطلب کے حاشیے اور تفسیر لکھوائی اور اس کی بڑے پیمانے پر اشاعت کروائی۔ اس بائبل کی خصوصیت یہ تھی کہ اس حاشیوں میں جگہ جگہ یہودی عقائد داخل کردیئے گئے تھے۔ حاشیوں کی زبان آسان جب کہ اصل متن قدیم انگلش کا تھا جسے سمجھنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ یوں مشکل متن کے بجائے آسان حاشیے کا چلن عام ہوا اور یہودی عقائد عیسائیوں کے دلوں میں گھر کرتے چلے گئے۔ انہی ساری کارروائیوں کی وجہ سے عیسائی بطریق اور پادری بھی یہودیوں کے ہمنوا بن گئے۔ حتیٰ کہ ساٹھ کی دہائی میں کیتھولک گرجاؤں سے یہودیوں کے سابقہ جرائم کی معافی کا باقاعدہ سرکاری اعلان جاری کیا گیا۔

ایک اور حربہ عیسائی دنیا کو اپنا ہم خیال بنانے کے لئے یہ اختیار کیا گیا کہ عالمی سطح پر علمی و فکری تحریکیں شروع کی گئیں۔ یعنی سوشلزم، نیشنلزم، کمیونزم، سیکیولرزم، نظریہ آبادی اور ڈارون تھیوری وغیرہ۔ ان سب کے بانی عموماً یہودی ہی تھے۔ چنانچہ عیسائی دنیا میں جہاں مذہب کی گرفت برائے نام ہے، یہ نظریئے بہت مقبول ہوئے اور انہوں نے مذہب کا اثر کمزو سے کمزور تر کیا۔ اس طرح انہوں نے اپنے بدترین دشمنوں کو اپنی مخالفت سے ہٹا کر نئی علمی اور فکری بحثوں میں الجھا دیا۔

اسی کے ساتھ انہوں نے فحاشی و عریانی کو بھی فروغ دیا۔ دنیا میں کوئی بھی مذہب معاشرے میں بے حیائی کی اجازت نہیں دیتا۔ عیسائیت بھی ایسا نہیں چاہتی تھی۔ لیکن یہودیوں نے اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کی خاطر ان میں جنس کے نظریئے کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ امریکہ میں دنیا کی مشہور عریاں فلمی صنعت ہالی وڈ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے عیسائیوں میں سیکس اور کھلی فحاشی کو فروغ دیا۔ انہیں نائٹ کلبوں اور اوپیراؤں پر لگایا۔ جس سے ان کی اخلاقیات کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔ یہی حال انہوں نے میڈیا کا بھی کیا۔ تمام بڑے رسائل و جرائد، ٹائمز، نیوز ویک، بی بی سی، رائٹر وغیرہ یہ سارے نشری و اشاعتی ادارے یہودی ہیںیا ان کی کلیدی آسامیوں پر یہودی فائز ہیں جہاں سے وہ عیسائیوں (اور باقی دنیا کو بھی) اپنی مرضی کی خبریں سناتے اور نشر کرواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں کو یہودیوں کی سازشوں کے بارے میں عام طور پر آگاہی نہیںہونے پاتی۔ اس حقیقت کو کئی اہل علم عیسائی مفکرین مثلاً ڈیوڈ ڈیوک اور رون ڈیوڈ بھی تسلیم کرتے ہیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

جنگ عظیم اول اور دوم میں جب یورپی حکومتیں آپس میں ٹکرا کر ختم ہو رہی تھیں، بعض مضبوط یہودی سرمایہ کاروں نے ان مملکتوں کو بڑے بڑے قرضے فراہم کر کے انہیں اپنی مٹھی میں جکڑنے کی کوشش کی۔ اس دور میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک طرز کے ادارے موجود نہ تھے۔ چنانچہ ان کی کسر یہودی ساہوکاروں نے انفرادی طور پر پوری کی۔ انہوں نے بڑے بڑے بین الاقوامی کاروبار مثلاً لیور برادرز، پیپسی، کوک اور مکڈونلڈ وغیرہ عالمی طور پر پھیلائے جس کی وجہ سے عیسائی افراد معاشی طور پر ان کے غلام بنتے چلے گئے۔ دوسری جانب انہوں نے عیسائی اسکولوں کے نصاب میں بھی تبدیلیاں کیں اور ان میں اپنے مقاصد شامل کر کے اپنے لئے نرم جذبات پیدا کئے۔ اسی لئے عیسائیوں کی موجودہ نسل یہودیوں کو عام طور پر اپنادشمن نہیں سمجھتی ہے۔

ایک اور راستہ اپنے دشمنوں پر حاوی ہونے کا انہوں نے یہ اختیار کیا کہ فری میسنری تحریک شروع کردی۔ بظاہر فلاح و بہبود کی خاطر کام کرنے والی اس تنظیم نے دنیا بھر میں ریاستوں سربراہوں، فوجی عہدیداروں اور صحافیوں و سرمایہ کاروں کو آسانی سے اپنی تنظیم سے وابستہ کرلیا اور یوں اپنے دشمن کو غیر مؤثر کردیا۔

یہ ہے وہ طویل داستان کہ کس طرح یہودی جیسی شاطر قوم نے اپنی خونی دشمن عیسائیوں کو اپنے دائرئہ اختیار میں قید کرلیا اور ان سے وہی کچھ کہلوانے لگے جو کچھ وہ کہلوانا چاہتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عیسائی عوام اپنے پادریوں سے محض واجبی سا رابطہ رکھتے ہیں۔ اس کے باعث مذہب سے ان کی گرفت ڈھیلی ہوتی چلی گئی۔ ’’فادرس‘‘ ان کے لئے کوئی قابل توجہ ہستیاں نہیں رہے جب کہ یہودی اپنے ربائیوں سے آج بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مذہبی جذبات اس اکیسویں صدی میں بھی شدت سے پائے جاتے ہیں۔ وہ آج بھی نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے اور حلال گوشت کھانے میں شدت پسندی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

عیسائیوں کو ہر لحاظ سے ڈھیر کرنے کے بعد پھر کہیں جا کر یہودی مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک دشمن پر قابو پانے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ بہرحال مسلمان بھی ان کے لئے دشمن ثابت ہوں گے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہودی صرف اپنے مذہب ہی کو اعلیٰ ترین مذہب جانتے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دجال اور اپنے بارے میں احادیث پڑھی ہوئی ہیں (ہوشیار دشمن ہر حال میںچوکنا رہتا ہے) نیز اپنے مسیحا (دجال) کی آمد کی شرائط میں سے ان کے نزدیک ایک یہ بھی ہے کہ دنیا سے غیر یہودی مذاہب سرے سے ختم ہوجائیں۔ لہٰذا اب انہوں نے مسلمانوں سے جنگ کا آغاز کردیا اور آج وہ بعینیہ تمام طریقے استعمال کررہے ہیں جو انہوں نے اپنے دشمن نمبر ایک کے لئے کبھی استعمال کئے تھے۔ یعنی فحاشی و عریانی کا فروغ، مملکتوں کو قرضوںکی فراہمی، نصاب میں تبدیلی، مذہب میں دراڑیں، میڈیا پر گرفت، علمی و فکری تحریکیں، حکمرانوں کی خریداری اور بین الاقوامی کاروبار پر گرفت وغیرہ۔ اس وقت عیسائیوں اور یہودیوں نے ایک دوسرے کے گناہ معاف کر کے صرف ایک بات پر اتفاق کیا ہے کہ مسلمانوں کو مارو جہاں پاؤ اور یہ کہ ان کی نسلیں تباہ کردو۔ آپس کے جھگڑوں سے ہم اس وقت نمٹیں گے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں گے۔

البتہ مسلم دنیا میں انہیں ایک بالکل ہی مختلف قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ عیسائی چونکہ برائے نام مذہبی ہوتے ہیں اس لئے یہودیوں کے آگے وہ بالکل ڈھیر ہوگئے۔ اسلام چونکہ متحرک، زندہ اور عملی مذہب ہے اور اس میں عوام کا اپنے علماء، مساجد اور قرآن پاک سے مستقل رابطہ رہتا ہے۔ اس لئے یہودیت کو مسلمانوں کے خلاف سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ انہیں اس کے برعکس مسلمانوں کے جہاد سے سابقہ پیش آگیا جو ان کے لئے انتہائی اچنبھے کی بات تھی۔ عوام پر ان کے اقدامات سے تھوڑے بہت تو اثرات قائم ہوئے لیکن مجموعی طور پر امت مسلمہ ان کے خلاف غم و غصہ سے بھر گئی اور انہوں نے یہودیوں کے ساتھ اپنے مذہب پر صلح کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

صدر واشنگٹن کے الفاظ میں ’’یہ لوگ خون آشام چمگادڑیں (Vampire) ہیں اور یہ عیسائیوں اور دوسری قوموں کا خون چوستے ہیں۔‘‘

امریکی آئین کے بانی بنجامین فرنکلین نے ان کے بارے میں آج سے تین سو سال قبل رائے دی تھی کہ ’’اگر امریکیوں نے یہودیوں کو اپنے وطن سے نکال باہر نہیں کیا تو ان کے بچے ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر انہیں کوس رہے ہوں گے۔‘‘ جب کہ عظیم امریکی صنعت کار ہنری فورڈ نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ ’’آپ پچاس مالدار ترین یہودیوں کو پکڑلیں، تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں یہ سب کچھ (جنگیں) وغیرہ بند ہوجائیں گی۔‘‘

قیامت کی نشانیون میں سے ایک نشانی حضرت امام مہدی کی بھی ہے۔ وہ طویل خونی جنگوں کے پس منظر میں سامنے آئیں گے اور مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ لوٹادیں گے۔وہ زمین پر خلافت راشدہ کا نظام دوبارہ قائم کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت امام مہدی مدینے سے مکے کی طرف تیزی سے جائیں گے جہاں لوگ انہیں شناخت کرلیں گے اور ان سے بیعت کریں گے۔ مدینے میں ان کی ہجرت شاید اسی وجہ سے ہو کہ مفادپرست انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جیسے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کو زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ شروع شروع میں تو امام مہدی بیعت سے انکار کریں گے کیونکہ اپنے بارے میں انہیں خصوصی ذمہ داریوں کا کچھ بھی پتہ نہ ہو گا۔ لیکن مسلمانوں کے پرزور اصرار پر وہ آمادہ ہوجائیں گے جس کے بعد مسلمان اپنے ان خوابوں کو تعبیر پاتا ہوا دیکھیں گے جنہیں وہ صدیوں سے پامال ہوتا ہوا دیکھتے چلے آرہے ہیں۔

منافقین ہمیشہ کی طرح اپنی چالبازیاں کرتے رہیں گے۔ سب سے پہلے شام کے حکمرانوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ امام مہدی اور ان کے ساتھیوں کو کچل دیں۔ حدیث میںآتا ہے کہ ’’خانہ کعبہ پر (شام کی) ایک فوج حملہ آور ہو گی لیکن جب وہ میدان میں پہنچے گی تو فوج کا درمیانہ حصہ دھنسا دیا جائے گا۔ فوج کا اگلا حصہ ابھی پچھلے حصے کو بلا نہیں سکے گا کہ وہ بھی زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور فوج کا دایاں حصہ بھی باقی نہیں بچے گا۔ سوائے چند فوجیوں کے جو واپس پلٹ کے اپنے عزیز و اقارب کو اطلاع دینے کے لئے باقی رہ جائیں گے۔ (مسلم، ابن ماجہ)

اللہ تعالیٰ کی یہ کیسی حکمت ہے کہ وہ المہدی کے خلاف لڑنے والی فوج کو مکمل طور پر زمین میں دھنسا دے گا۔ حضرت امام مہدی کی شناخت کے لئے یہ ایک واضح نشانی ہو گی جس کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں کو پتہ لگ جائے گا کہ ان کے نجات دہندہ حضرت مہدی تشریف لے آئیں ہیں اس کے بعد لوگ جوق درجوق ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگیں گے۔

برسراقتدار آنے کے بعد امام مہدی معاملات کو سنبھالیں گے۔ فوج اور حکومت کو درست کریں گے۔ دیانت دار افراد کو حکومت یں شامل کریں گے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے انہیں ایک مدت درکار ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے قبل ہی مخالف لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا۔

حضرت امام مہدی کے بارے میں ہمیںبعض غلط فہمیاں رفع کرلینی چاہئیں۔ امام مہدی ان کا اصل نام نہیں ہو گا ان کا اصل نام تو محمد بن عبداللہ ہو گا جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل اور حضرت امام حسن ؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ مہدی تو ان کا محض ایک لقب ہے یعنی ہدایت یافتہ خلیفہ۔ ان کی پیشانی چوڑی اور ناک نمایاں ہو گی۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معاملات، کردار، اخلاق اور قائدانہ صفات میں مماثلت رکھتے ہوں گے لیکن حلئے میں ان سے مختلف ہوں گے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604

حضرت امام مہدی کی عمر ۵۱ یا ۵۲ سال ہو گی اور وہ لوگوں پر سات سال یا آٹھ سال حکمرانی کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس وقت سخت ترین آزمائشوں میں ہوں گے جن کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ حضرت امام مہدی کو دنیا میں ظاہر کرے گا۔ وہ دجال کے مقابلے میں سرنگوں ہونے سے انکار کردیں گے اور اسے برابر کی حیثیت سے للکاریں گے۔

یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ ’’ اور یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے اعلان کردیا کہ وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو انہیںبدترین عذاب دیں گے۔‘‘ (الاعراف ۔ ۱۶۷)

اس لحاظ سے ہٹلر کی بربریت اور حماس کی موجودہ تحریک اس آیت کا منشاء ہے۔ اگر حماس نے بھی کسی وجہ سے ہتھیار ڈال دیئے تو آیت کے مطابق اللہ ان کے سروں پر کسی اور گروہ کو مسلط کردے گا۔ دشمن کے تسلط کے بغیر یہ قوم اپنی زندگی ہرگز جاری نہیں رکھ سکے گی۔

ایک اور مقام پر اللہ نے کہا ہے کہ ’’یہ جہاں بھی پائے گئے، ان پر ذلت کی مار پڑی۔ کہیں اللہ یا انسانوں کی حفاظت میں انہیں پناہ مل گئی تو اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر گئے ہیں اور محتاجی اور مغلوبی ان پر مسلط کردی گئی ہے۔‘‘ (آل عمران۔۱۱۲)

اس وقت یہودی محض امریکہ کے بل بوتے پر قائم ہیں ورنہ جس روز امریکہ میں یہودی مخالف تحریک شروع ہو گئی جس کے آثار ابھرنا شروع بھی ہو گئے ہیں، اس وقت یہودیوں کی بربادی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔

قرآن پاک کی اس آیت پر بھی ہماری نظر رہنی چاہئے جس میں اللہ نے کہا ہے کہ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ اب تم زمین میں امن و چین سے رہو۔ (یعنی مصر سے نکلنے کے بعد)۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تمہیں سمیٹ کر ایک جگہ اکٹھا کردیں گے۔ (اصل قرآنی لفظ ’’لفیفا‘‘ ہے جس کے معنی’’جمع کر کے لانا‘‘ ہے) (بنی اسرائیل ۔ ۱۰۴)

اس آیت سے ریاست اسرائیل کے قیام کی طرف اشارہ ملتا ہے جس کے بعداللہ انہیں اجتماعی طور پر ہلاک کردے گا۔

یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کی عظیم ترین امپائر خلافت عثمانیہ جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی یعنی ایشیا، افریقہ اور یورپ۔ اسے بھی یہودی سازشوں کے باعث شکست و ریخت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ خلافت عثمانیہ کا تار تار ہونا امت مسلمہ کے بدترین سانحوں میں سے ایک تھا۔ خلافت ِ عثمانیہ کو ختم کرنے والا فرد کمال اتاترک خود یہودی نسل ’’دونمے‘‘ سے تھا جو بظاہر مسلمان اور اندرونی طور پر یہودی ہوتے ہیں۔

مسلم دنیا آج تک اسے ایک انقلابی مسلم رہنما سمجھتی ہے لیکن آج جب تحقیقات ہو رہی ہیں تو پتہ لگ رہا ہے کہ کمال پاشا ایک ’’دونمے‘‘ فرد تھا جسے خود یہودیوں نے کسی بڑے کام کے لئے فوج میں بھرتی کرایا تھا۔ علامہ اقبال نے اسی فرد کے بارے میں آج سے سو سال پہلے کہا تھا۔

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
اس مختصر کتابچے میں ہم نے یہودیوں کی تاریخ مختصر انداز سے بیان کی ہے تاکہ ایک ہی نظر اور مختصر وقت میں قارئین کو ان کی حقیقت سے آگاہی ہو سکے۔ اس کتابچے سے دنیا کی آج کی صورت حال پر بھی قدرے روشنی پڑتی ہے۔ امت مسلمہ کو آنے والے خطروں کی آج ہی سے پیشگی صف بندی کرلینی چاہئے جس کی خاطر انہیں دینی جماعتوں کو کامیاب کرانا چاہیئے۔
 

Zyaur Rahman

مبتدی
شمولیت
جون 12، 2021
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
ایک عام آدمی ان سب باتوں کو کیوں مانے گا؟؟
حوالات موجود نہیں ہیں۔۔۔
 
Top