• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہ حادثات ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
73
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
56
بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ حادثات ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟​



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:



محترم قارئین!

ابھی آپ نے پچھلے ہفتے یہ خبرضرورسنی اوردیکھی ہوگی کہ سعودیہ عرب کے اندر شہر مدینہ کے قریب ایک بس میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے 40 سے زیادہ لوگوں کی موتیں ہوگئیں اور سب سے زیادہ افسوس ناک بات تو یہ تھی کہ ایک ہی خاندان کے کئی لوگ ایک ہی ساتھ اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے، یہ بظاہر ہماری نظر میں ایک حادثہ ہے مگرشریعت کی نظر میں یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک خوش نصیبی والی موت ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ خوش نصیبی والی موت کیسے ہوئی؟ تو دیکھئےایک تو یہ موتیں آگ میں جلنے کی وجہ سے ہوئی ہیں اورآگ میں جلنے کی وجہ سے مرنے والوں کو آپﷺ نے شہید کا لقب دیا ہے،دوسری بات یہ کہ جب ان سب کی موتیں ہوئیں تو وہ سب عمرہ کرنے کی وجہ سے گناہوں سے پاک وصاف ہوچکے تھے،تیسری بات یہ کہ ان سب کو ایک مقدس جگہ نبی کےشہر میں دفن کیا گیا ہے،اب آپ خود ہی یہ فیصلہ کرلیجئے کہ یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہے مگرافسوس صد افسوس مسلمانوں نے اس حادثے کو اپنے لئے گناہ کمانے کا ذریعہ بنالیا ہے،جیسے ہی یہ حادثہ ہوا اب لوگوں نے سوشل میڈیا کے اوپر سعودی عرب کے خلاف ایک طوفان کھڑارکھا ہے کہ اوروہاں کی حکومت اوروہاں کے حکمرانوں کو گالیاں بک رہے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھک رہے ہیں کہ وہاں کی حکومت اچھی نہیں ہے،ان کی وجہ سے ہی ایساہوا ،ایک بھائی نے کہا کہ بازار میں اس حادثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کوئی مسلمان یہ کہہ رہاتھا کہ ۔۔نعوذ باللہ۔اللہ بڑا ظالم ہے جو اتنی دردناک موت دیتاہے۔نعوذباللہ۔دیکھئے کیسی جاہلانہ اوراحمقانہ باتیں ہیں،آج جب سعودی عرب میں یہ حادثہ ہواہے تو مسلمان وہاں کے مسلم حکمرانوں کو برابھلا کہہ رہے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ بھیانک حادثہ تو خودہمارے ملک میں ہوچکا ہے اور وقتاً فوقتاً اس طرح کے کئی بڑے بڑے حادثات ہوتےہی رہتے ہیں ،ابھی کچھ ہی دن پہلے ہمارے ضلع شہر کرنول کے پاس ایک بس میں آگ لگ گئی اور آناً فاناً میں سارے لوگ جل کر خاک ہوگئے ،اسی طرح سے ابھی کچھ مہینے پہلے اڑیسہ میں ٹرین حادثہ ہواتھا جس کے اندر بھی ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوئیں تھیں،اور ابھی تو کچھ ہی مہینے پہلے ہوائی جہاز کا بھی ایک بہت بڑا حادثہ ہمارے ملک کے ایک شہر احمدآبادمیں توہواتھا جس میں کم وبیش 300 افراد ہلاک ہوئے تھے مگریہی لوگ اس وقت حکومت کو کوسنے کے بجائے یہ کہہ رہے تھےکہ کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایسا ہوگیا ہوگا،اس وقت انہیں نہ تو حکومت یادآتی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی حکمراں نظرآتاہے،یہ ایمان کی کمزوری اور دوغلاپنی نہیں تو کیاہے؟اورتواور ہے کچھ ناعاقبت اندیش لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ لوگ کیاگناہ کرکے گئے تھے کہ واپس نہیں لوٹے،تو اسی مناسبت سے آج کے خطبۂ جمعہ کے لئےجس موضوع کا ہم نے انتخاب کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حادثات ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ یعنی کہ اس طرح کے ہونے والےحادثات وواقعات میں ہمارے لئے کیاکیاعبرتیں ونصیحتیں ہوتی ہیں۔

(1)موت کے لئے ایک وقت اور ایک جگہ متعین ہے:

میرے دوستو!سب سے پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ ہرانسان کی موت کے لئے ایک جگہ اور ایک وقت متعین ہے،جس کو سوائے رب ذوالجلال والاکرام کے کوئی نہیں جانتا،اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ‘‘ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔(لقمان:34)اور اللہ نے جس کی موت جہاں اورجس کیفیت سے لکھ رکھی ہے اس سے کوئی انسان نہ تو ایک سیکنڈ پیچھے ہٹ سکتاہے اورنہ ہی ایک سیکنڈ آگے بڑھ سکتاہے،جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ‘‘۔اورہرگروہ کے لئے میعاد معین ہے،سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی،اس وقت ایک لمحہ نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔(الاعراف:34) اورایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ‘‘اورجب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے پھر اسے اللہ ہرگز مہلت نہیں دیتا۔(المنافقون:11)دیکھا اورسنا آپ نے کہ ہرجان کے موت کا وقت متعین ومقرر ہے،بس ہم اورآپ یہ کہتے اورسوچتے رہ جاتے ہیں کہ کاش!وہ لوگ اگر نہیں جاتے تو نہیں مرتے،اس طرح کی باتیں تو بس کہنے اورسننے کی باتیں ہیں دراصل حقیقت تو یہ ہےکہ انسان کا کسی جگہ پر جانے کا بہانہ ہونا اورپھر وہاں پر اس کا انتقال ہونایہ اس کے موت کی جگہ کا متعین ہونا ہے ،اسی بارے میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً ‘‘ جب اللہ تعالی کسی بندے کی موت کے لئے کسی زمین کا فیصلہ کردیتاہے تووہاں اس کی کوئی حاجت وضرورت پیداکردیتاہے۔(ترمذی:2146،اسنادہ صحیح)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے آپﷺ نے فرمایا کہ’’ إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ ‘‘ جب کسی آدمی کی موت کسی خاص جگہ پر آنا مقدر ہوتی ہے تو اس کی کوئی دنیوی ضرورت اسے وہاں لے جاتی ہے،جب وہ آدمی اپنی زندگی کے آخری قدم تک پہنچ جاتاہے تو اللہ اسے فوت کردیتاہے،اور پھر ’’ فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ قیامت کے دن زمین کہے گی کہ ’’ رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي ‘‘اے میر ےرب! تونے میرے پاس جو امانت رکھی تھی،وہ یہ حاضر ہے۔(ابن ماجہ:4263،اسنادہ صحیح) دیکھا اورسنا آپ نے کہ ہرانسان کی موت کے لئے ایک وقت اور ایک جگہ متعین ہے ،اس لئے اس طرح کے حادثات و واقعات سے ہم یہ سبق سیکھیں اور یہ پختہ ایمان ویقین رکھیں کہ فلاں جگہ پر اُس کیفیت وطریقےسے فلاں فلاں لوگوں کا مرنا یہ اللہ نے ان کے حق میں لکھ رکھا تھا۔

(2) اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی موت نہیں آسکتی ہے:

میرے دوستو!ابھی جوواقعہ پیش آیا ہے اس میں آپ نے یہ ضرورسنااور دیکھاہوگا کہ بس میں سوارسارے افراد تو جل کر شہید ہوگئے مگر ایک نوجوان بچ گیا،اسی طرح سے جب احمدآباد میں ہوائی جہاز کا حادثہ ہوا تھا تو اس وقت بھی سوارے مسافر ہلاک ہوگئے تھے مگر ایک انسان زندہ بچ گیا تھا،اب آپ سوچئے کہ ایسا کیسے ہوجاتاہے کہ اس طرح کے حادثات وواقعات میں اکثرلوگ تو مارے جاتے ہیں مگر ایک دولوگ بچ جاتے ہیں تو دراصل بات یہ ہے کہ وہ اس لئے بچ جاتے ہیں کہ ان کی موت اس وقت اور اس جگہ میں لکھی ہوئی نہیں رہتی ہے،یہ اس انسان کا کمال نہیں ہوتاہے وہ کہ وہ چھلانگ لگاکر نکل جاتااور بچ جاتا ہے ،یہ تو رب کا فیصلہ لکھاہوتا ہے کہ اس کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہے،اور یہ بات بھی آپ اچھی طرح سے جان لیں کہ جب تک اللہ کی اجازت نہ ہوگی تب تک کوئی بھی انسان مرنہیں سکتاہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًا ‘‘کہ بغیر اللہ کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مرسکتا،مقررشدہ وقت لکھا ہوا ہے۔(آل عمران:145)اوریہی تو ہم اورآپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ انسان کے ساتھ بڑے بڑے حادثات ہوجاتے ہیں مگر اسے کچھ نہیں ہوتاہے ،اس طرح کے واقعات ہم اورآپ بارہاسنتے اوردیکھتےرہتے ہیں کہ انسان کو بس ٹھیس لگی اور مرگیا اور دوسری طرف یہ بھی ہم اکثر وبیشتر دیکھتے رہتے ہیں کہ انسان بہت اونچی جگہ سے گرجاتا،گاڑیوں سے اکسیڈینٹ بھی ہوجاتاہے مگر اسے ایک خراش تک نہیں آتی ہے،کیا ایسا ہی کچھ منظر ہم نے اورآپ نے ابھی ابھی بس اکسیڈینٹ میں نہیں دیکھا کہ کس طرح سے ایک نوجوان بچ گیا ،اورایسا ہی کچھ منظر ہم نے اورآپ نے اس وقت بھی دیکھا تھا جب احمدآبادمیں ہوائی جہاز کا حادثہ ہواتھا کہ اس وقت بھی ایک نوجوان اس بھیانک حادثے سے بچ گیا تھا تو ان دونوں کابچ جانا یہ ان کا کمال نہیں ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی ان کی موت کا وقت نہیں آیا تھا،اسی طرح سے آپ یہ بھی جان لیں کہ اوراچھی طرح سے یاد رکھ لیں کہ جب موت کا وقت آ جاتاہے تو اس وقت انسان کی ساری تدبیریں اور ساری چالاکیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہے،سیدنا ابن عباس ؓ نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ ’’ إِذَا جَاءَ الْقَدَرُ عَمِيَ الْبَصَرُ ‘‘ جب اللہ کا فیصلہ اور حکم آجاتا ہے تو آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں اورساری کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔(تفسیر قرطبی:13/178)اور یہی تو ہم اورآپ دیکھتے ہیں کہ انسان کو جب کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو کبھی وہ فوراً ہسپتال پہنچ جاتاہے اور وقت پر اس کا علاج ومعالجہ بھی ہوجاتاہے تو اس وقت ہم اورآپ کہ کہتے نہیں تھکتے کہ بڑے نصیب والا ہے مرنے سے بچ گیا،اوراسی کے برعکس جب کسی انسان کو ایسی بیماری لاحق ہوتی ہے جس میں اس کا مرنا طے ہوتاہے تو وقت پر نہ تو انسان ہاسپیٹل پہنچ پاتاہے اور نہ ہی وقت پر اسے سواریاں ملتی ہیں اور نہ ہی اسے اور اس کی اولاد کو کچھ نظر آتاہے جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے وہ انتقال کرجاتاہے ،اس وقت ہم اورآپ یہ کہتے ہیں کہ کاش! اگر ایسا ہوتا تو وہ نہ مرتا،اگر اس وقت سواری مل جاتی تو وہ انسان نہ مرتا ،تو یہ سب بس کہنے کی باتیں ہیں ، حقیقت تو یہ ہوتی ہے کہ اس کی موت کا وقت آ چکا ہوتاہے،تو اس طرح کے حادثات و واقعات ہمیں یہ پیغام دیتےہیں کہ اے انسانوں ایک بات یادرکھنا کہ جب تک تمہارے رب کا فیصلہ اور حکم نہ آجائے تب تک تمہارا نہ تو کوئی بال بیکا کرسکتاہے اور نہ ہی تمہیں کوئی موت دے سکتا ہےکیونکہ موت وحیات کا اختیار صرف اور صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

(3) ہر مصیبت کو اللہ نے پہلے سے لکھ رکھا ہے:

میرے دوستو!جیسے ہی یہ حادثہ ہوا توجہاں ایک طرف اکثر لوگوں نے مرنے والوں کے تئیں سوگ اورہمدردی جتائی وہیں دوسری طرف کچھ ایسے ناعاقبت اندیش لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ سب کچھ سعودی حکومت کی وجہ سے ہی ہوا ہے،اور نہ جانے لوگوں نے وہاں کے حکمرانوں کو کیسی کیسی گالیاں دی ہیں ،تو اس سلسلے میں آپ یہ اچھی طرح سے جان لیں کہ اس طرح کے حادثات وواقعات جو ہوتے ہیں اور اس میں جو جانیں ہلاک ہوتی ہیں وہ سب تو اللہ نےپہلے سے ہی لکھ رکھے ہیں،جیسا کہ فرمان باری تعالی ہےکہ ’’ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ‘‘نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ(خاص) تمہاری جانوں میں ،مگر اس سےپہلے کہ ہم اس کو پیداکریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے،یہ (کام) اللہ پر (بالکل) آسان ہے۔(الحدید:22)دیکھا اورسنا آپ نے کہ اس روئے زمین پر جوکچھ بھی ہوتاہے وہ تو اللہ نے پہلے سے ہی لکھ رکھا ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اللہ نے یہ سب چیزیں کب سے لکھ رکھی ہیں تو اس بارے میں ایک حدیث سن ہی لیجئے،سیدنا عبدالله بن عمرو بن عاص ؓبیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ كَتَبَ اللهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ‘‘ کہ اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں۔(مسلم:2653) اور ایک دوسری حدیث کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ ‘‘ کہ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اس قلم سے کہا کہ ’’ اكْتُبْ ‘‘ لکھو،تو اس قلم نے کہا کہ ’’ رَبِّ وَمَاذَا أَكْتُبُ ‘‘ اے میرے رب!میں کیا لکھوں؟ تو اللہ نے کہا کہ ’’ اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‘‘ قیامت تک جو کچھ بھی ہوگا وہ سب لکھ دو۔(ابوداؤد:4700،اسنادہ صحیح) تو اس قلم نے لکھ دیا ،تو اس طرح کے جب کبھی بھی کوئی حادثات وواقعات ہوجائے تو ہم اور آپ یہ سوچیں اور اپنی زبان سے یہ کہیں کہ بس اللہ نے لکھ رکھا تھا وہ ہوگیا اور صبروسہار رکھا کریں،تو اس طرح کے واقعات وحادثات ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس روئے زمین پر جوکچھ بھی ہوتا ہے سب اللہ کی مرضی اور اللہ کی اجازت سے ہوتاہے،سننے میں آرہاہے کہ لوگ اب عمرہ پرجانے سے بھی ڈرنے لگے ہیں،ارے بھائی!موت جہاں آنی ہے وہاں آکر رہے گی ،فرمان باری تعالی ہے کہ’’ أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ ‘‘تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو۔(النساء:78)

(4) ہرموت بری نہیں ہوتی ہے:

میرے دوستو!یہ جوحادثہ ہو ا اور اس حادثے میں جولوگ بھی جاں بحق ہوئےتو یہ کوئی معمولی موت نہیں ہے بلکہ یہ تو ان کی خوش نصیبی اور ان سب کی خوش بختی ہے کہ انہیں حسن خاتمہ نصیب ہواہے،اس پر بظاہر توہمیں ہلاک ہونے والے اہل خانہ کے لئے غم والم نظر آرہاہے مگر درحقیقت یہ ہلاک ہونے والے لوگوں کے لئے کئی طرح سے خوش نصیبی اورخوش بختی ہے کہ انہیں اس طرح سے موت ملی ہیں:

1۔نمبر ایک :اس حادثے میں سب کی موت آگ سے جل کرہوئی ہے اور اس طرح کی موت کو آپﷺ نے شہیدی موت قراردیا ہے جیسا کہ ابوداؤد کےاندر یہ صحیح حدیث موجود ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو آگ میں جل کر مر جائے وہ شہید کے حکم میں ہے۔(ابوداؤد:3111،اسنادہ صحیح)

2۔نمبر دو: ان سب کی موت عمرہ کے دوران ہوئی ہے،یعنی کہ ان کی موت اس وقت ہوئی ہے جب کہ سب کے سب گناہوں سے پاک وصاف ہوچکے تھے،سوچئے کہ کتنی عظیم خوش نصیبی اور خوش بختی ہے کہ ان کے نامۂ اعمال سے گناہوں کو مٹادیا گیا ہوگا ،سبحان اللہ۔یہ توایسی موت ہے کہ اس پر ہزارزندگیاں بھی قربان ہوجائے،جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالفِضَّةِ ‘‘ تم لوگ حج وعمرہ باربارکرتے رہاکرو کیونکہ یہ حج وعمرے غریبی وفقیری اورگناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی لوہے ،سونے چاندی کی میل وکچیل کو دورکردیتی ہے۔(ترمذی:810،اسنادہ صحیح)

3۔نمبر تین :ان سب کی جوموت ہوئی ہے وہ مدینے کے آس پاس ہوئی ہے اور سب کو بقیع قبرستان میں دفنایا گیا ہے،کیا یہ خوش نصیبی نہیں ہے کہ ایک انسان کی موت مدینے کے سرزمین پر ہواورمسجد نبوی میں اس کی نماز جنازہ اد ا کی جائے،یہ صرف خوش نصیبی ہی نہیں بلکہ یہ سب سے بڑی خوش نصیبی ہے کہ ایک انسان کی موت ایمان کی حالت میں مدینے میں ہوجائے کیونکہ مدینے میں مرنے والوں کے بارے میں خود جناب محمدعربیﷺ نے یہ اعلان کردیا ہے کہ ’’ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ‘‘جومدینہ میں مرنے کی طاقت رکھتاہو تو اسے چاہئے کہ وہ وہیں مرے کیونکہ جو بھی مسلمان مدینے میں مرے گا تو میں اس کے حق میں سفارش کروں گا۔(ترمذی:3917،اسنادہ صحیح)اب آپ ہی خود یہ فیصلہ کرلیجئے کہ وہ کتنے خوش نصیب نکلے کہ ان کی تجہیز وتکفین مدینہ جیسی مقدس سرزمین پر ہوئی ہے،تو اس طرح کے حادثات اور بالخصوص اس حادثے سے ہمیں یہ پیغام ملتاہے کہ ہرمسلمان کو اچھی موت کی دعا کرتے رہنی چاہئے اورہرمسلمان کو اچھی موت ملنے کی آرزو اورتمنا رکھنی چاہئے۔

(5)تو اچانک ہوگا موت کا شکار:

میرے دوستو!اس طرح کے اچانک اورآناً وفاناً میں ہونےوالے حادثات وواقعات سے ہمارے لئے ایک سب سے بڑا سبق یہ بھی ہےکہ ہم ہمیشہ اللہ سے اس طرح کی اچانک میں ہونے والی موت سے پناہ طلب کرتے رہاکریں اورخود آپﷺبھی اچانک کی موت سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے،جیسا کہ مسنداحمد کےاندر یہ حدیث موجود ہے کہ آپﷺ اچانک کی موت سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔(مسند احمد:6594،اسنادہ صحیح) کیونکہ اچانک موت سےایک انسان کو نہ توکلمہ پڑھنے کا موقع ملتاہے اورنہ ہی توبہ واستغفار کرنے کی توفیق ملتی ہے،ہم اورآپ یہ سمجھتے ہیں کہ اچانک موت یہ بری موت ہے ،بے شک یہ بری موت ہے مگر کس کے لئے؟اس کے لئے جو اپنی قبروآخرت کی تیاری نہ کرتاہواور غفلت ولاپرواہی کی زندگی گذارتاہو،لیکن جو نیکیاں کرتاہو اورجو نماز وغیرہ کا اہتمام کرتاہو تو اس کے لئے یہ اچانک والی موت اچھی موت ہے جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ ’’ مَوْتُ الْفُجَاءَةِ رَأْفَةٌ بِالْمُؤْمِنِ وَأَسَفٌ عَلَى الْفَاجِرِ ‘‘اچانک کی موت مومن کے لئے رحمت ہے اورفاسق وفاجر اوربے نمازیوں کے لئے حسرت وافسوس ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:12007) یعنی کہ اچانک کی موت یہ تو اللہ کا عذاب ہےجیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ ‘‘کہ اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے یعنی اللہ کے غیظ وغضب کی علامت ہے۔(ابوداؤد:3110،اسنادہ صحیح)تو اس طرح کے ہونے والے واقعات وحادثات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اورآپ اچانک کی موت سے بچنے کی ہمیشہ دعائیں کرتے رہاکریں۔

(6)اے ناداں!اپنی آخرت کی فکر کر:

میر ےدوستو!اس طرح کے حالات وواقعات اور ہرآئے دن آناً فاناً میں ہونے والے حادثات وواقعات ہمیں ایک اورسب سے بڑا پیغام دیتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اپنی موت کے بعد آنے والی زندگی کے لئے تیاری کرکے رکھیں کیونکہ موت یہ ہمارے سرپرکھڑی ہے،یہ دورایسا دور ہے کہ ہرچیز بہت تیزی کے ساتھ رواں اور دواں ہے،وقت بھی بہت تیزی کے ساتھ گذررہاہے اور لوگوں کی موتیں بھی بہت تیزی کے ساتھ آناًفاناً میں ہورہی ہیں،اور اس موت کا کیا بھروسہ کہ یہ موت کب اورکہاں،اورکس حالت میں ہمارے پاس آجائے،افسوس صد افسوس آج ہم موت سے بچنے کی بہت کوشش کرتے ہیں مگر جہنم سے بچنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کرتے ہیں ،جب کہ یہ ایک امرمسلم ہے کہ ایک انسان موت سے کبھی نہیں بچ سکتا! وہ دنیا میں آیا ہے تو اسے ایک نہ ایک دن مرنا ہی ہے ،مگر ایک انسان جہنم سے بچ سکتا ہے،موت سے بچنا ناممکن اور محال ہے مگراس کے برعکس جہنم سے بچنا بہت ہی آسان وسہل ہے ،لیکن ہم موت سے بچنے کے لئے احتیاط تو کرتے ہیں مگر جہنم سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ،میرے دوستو!اللہ نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ ہم موت سے بچنے کی تیاری کریں بلکہ اللہ نے تو یہ اعلان کردیا ہے کہ موت سے کسی کا بچنا محال اورناممکن ہے، فرمایا ’’ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ‘‘كه هرنفس اورهرجان كو موت كامزه چکھنا ہے۔(آل عمران:185)لیکن اللہ نے کہا کہ تم جہنم سے بچنے کی تیاری کرو،فرمایا’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ‘‘ اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھروالوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اورپتھر۔ (التحریم:06)تو میرے بھائیو اوربہنو!اس طرح کے حادثات وواقعات ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم ہروقت اپنی آخرت کی فکر کریں اورموت کے بعد آنے والی زندگی کے لئے ہرآن اورہرلمحہ تیاری کرتے رہاکریں،کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ اس طرح کے حادثات وواقعات میں آناًفاناً میں لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں اورکسی کو کچھ سوچنے اورسمجھنے یاپھر کسی کو کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں ملتاہے،افسوس صد افسوس اس طرح کےحادثات وواقعات تو ہم ہمیشہ ہرآئے دن سنتے اوردیکھتے ہیں مگر ہمارے دلوں میں نہ تو اللہ کا ڈر وخوف پیداہوتاہے اورنہ ہی ہم نیکیوں کے طرف راغب ہوپاتے ہیں ،ایسے موقعے سےعبرت ونصیحت لینے کے بجائے ہم اس کے اسباب وعوامل پر غورفکرکرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کیسے ہوا؟اورکیوں ہوا؟نہیں میرے بھائیو اوربہنو!اس طرح کے واقعات ووحادثات سے سبق سیکھو اوراپنی آخرت کی فکر کرو،اوریہ بات اچھی طرح سے یاد رکھ لو کہ اس طرح کے اچانک میں ہونے والی موتیں یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت بہت ہی نزدیک ہیں ،اورمیں ایسا اس لیے کہہ رہاہوں کہ یہ خود جناب محمدعربیﷺ نے فرمادیاہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بہت ہی زیادہ اچانک میں اموات ہوں گی۔(الصحیحۃ:2292)اللہ اکبر کبیرا۔سوچئے کہ قیامت کی یہ نشانی آج کتنی عام ہوچکی ہے،ہرآئے دن ہم یہ خبرسنتے اوردیکھتے ہیں فلاں جگہ پر اچانک اورآناًفاناً میں اتنے لوگ مرگئے، مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے،سچ فرمایا رب نے کہ ’’ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ‘‘ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وہ بے خبری میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔اب آگے اللہ کیا کہہ رہاہے ذرا س کو کان کھول کرسنئے ،فرمایا کہ ’’ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ‘‘ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جوبھی نئی نئی نصیحت آتی ہے، اسے وہ کھیل کود میں ہی سنتے ہیں،’’ لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ‘‘ان کےدل بالکل غافل ہیں۔(الانبیاء:1-3)اورآج یہی تو ہم اورآپ کرتے ہیں کہ حادثات وواقعات تو سنتے ہیں اوراپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں مگر نہ توہمارے دلوں کےاندر اللہ کا ڈر وخوف پیداہوتاہے اورنہ ہی ہمارے اندر آخرت کی فکر پیداہوتی ہے،تو اس طرح کے حادثات وواقعات ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اے مسلمانو !دنیا کی نہیں بلکہ اپنی آخرت اوراپنی قبرکے کٹھن مراحل کی تیاری میں ہمیشہ لگےرہوکیونکہ تمہیں بھی ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی طرح سے مرنا ہی ہے،کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ:

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے​

اب آخر میں اللہ سےدعاگوہوں کہ اے بار الہ توہم سب ہمیشہ ہربری موت سے محفوظ رکھ۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔



ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 

اٹیچمنٹس

Top