• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’ بٹ کوائن ’’ حلال ہے یا حرام ؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,111
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
25323346_335129700228889_278410351_n.jpg

’’ بٹ کوائن ’’ حلال ہے یا حرام ؟


جدہ (ویب ڈیسک ) سعودی عالم دین نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کی مشہور ترین کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے چند ہی ماہ میں اپنی قدر میں ریکارڈ اضافے کے باعث دنیا بھر کے ماہرین

کو ورطہ حیرت میں مبتلا کیا ہے۔ بٹ کوائن کی قدر اس وقت 18 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔جہاں بٹ کوائن نے لوگوں کی بڑی تعداد کو بے حد متاثر کیا ہے وہیں کئی لوگ اور ماہرین اس کے شدید مخالف بھی ہیں۔ ناقدین کی رائے میں بٹ کوائن محض ایک فراڈ ہے جس کے باعث لوگوں کے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو حرام قرار دے دیا ہے۔عاصم الحکیم کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جسے قانون کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس کرنسی کو غیر قانونی کاموں میں باآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔ اس حوالے سے اب ایک سعودی عالم دین کا فتوی بھی سامنے آیا ہے۔ جدہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جبکہ حالیہ کچھ روز کے دوران اس کی قدر میں حیران کن اضافہ بھی قابل تشویش ہے۔ لہذا یہ کرنسی غیر قانونی ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنا حرام ہے۔(ع،ع۔ح)

https://tareekhiwaqiat.com/international_17462.html
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,111
ری ایکشن اسکور
6,780
پوائنٹ
1,069
بٹ کوائن حرام ہے۔ مفتئ اعظم مصر‎

07 جنوری ، 2018

سب سے مہنگی کریپٹو کرنسی بٹ کوائن کو مصر کے مفتئ اعظم نے حرام قرار دے دیا ہے۔بٹ کوائن کو حرام قرار دیے جانے سے متعلق یہ تیسرا یا چوتھا فتویٰ ہے جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ مفتی اعظم مصر شوقی ابراھیم علام کا اپنے فتوے میں کہنا ہے کہ بٹ کوائن کا کاروبار جوئے کی مانند ہے کیونکہ اس میں ایک فریق یا گروہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور جوا کھیلنا اسلام میں حرام ہے۔ مصر کے مقامی اخبار احرام کے مطابق یہ فتویٰ بہت سے ماہرین اقتصادیات سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل نومبر میں ترکی کے مذہبی حکام کی جانب سے بھی بٹ کوائن کے کاروبار کو اسلامی قرار دیا گیا تھا۔

لنک
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
حیران کن امر یہ ہے کہ دین دار طبقہ تو معاملات کی بنیادی کیفیات کا علم رکھنے کے باوجود بٹ کوائن کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں جب کہ ایسا ہونا نہیں چاہیے ایک چیز صریح تمام شرعی کیفیات اور شرائط کی مخالفت کر رہی ہے پھر بھی مشکوک ؟؟؟؟؟؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
ڈیجیٹل کرنسی (بٹ کوائن وغیرہ)
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

جب تک سونے چاندی کے سکوں (کرنسی) کا رواج تھا، تب تک حکومت کی طرف سے جاری کردہ کرنسی کے بارے میں کوئی تنازعہ نہ تھا کہ سونے، چاندی یا دیگر دھاتوں سے بنی ہوئی کرنسی کی اپنی ویلیو بھی اتنی ہی ہوتی تھی، جتنی مالیت کا سکہ ہوتا تھا۔ مسئلہ تب پیدا ہوا، جب حکومتوں نے سونے کے ذخائر کو اپنے قبضہ میں کرکے اس کے عوض پیپر کرنسی جاری کی۔ طے تو یہ ہوا تھا کہ کہ کسی حکومت کے پاس جتنا سونا ہوگا، حکومت اسی کے مالیت کے مساوی پیپر کرنسی چھاپ کر بطور رسید (سونے کی رسید) عوام میں تقسیم کرے گی۔ لیکن جب حکومتوں نے مالی بدعنوانی کا راستہ اپنا یا تو اپنے پاس موجود سونے کے ذخائر کی مالیت سے کہیں زائد پیپر کرنسی چھاپ کر افراط زر اور مہنگائی کو جنم دیا۔ اس حکومتی فراڈ کے باوجود پیپر کرنسی کی پشت پر بہر حال حکومت وقت کی گارنٹی ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ یوں اس پیپر کرنسی کی مالی، قانونی اور شرعی حیثیت کو تسلیم کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پیپر کرنسی کے ذخائر کو دولت (سونا) سمجھ کر اس پر شرعا زکوۃ واجب قرار پایا۔

اس کے برعکس بٹ کوائن یا ڈیجیٹل کرنسی تو پیپر کرنسی سے بھی نیچے کی شئے یعنی گولڈ کوائن کا ایسا عکس (ڈیجیٹل تصویر) ہے، جس کے پیچھے، کسی حکومت یا مالیاتی ادارے کی کوئی گارنٹی بھی نہیں ہے۔ یہ نامعلوم لوگوں کی کمپیوٹرائزڈ تخلیق ہے، جسے کرنسی کا نام دیا گیا ہے۔ اسے بیچنے والے نامعلوم لوگ ہیں۔ گویا ہم نامعلوم لوگوں کو اصلی کرنسی دے کر ان سے ایک فرضی ڈیجیٹل کرنسی مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ یہ سارا عمل ایک سافٹ ویئر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر جیسے ہی کرپٹ ہوا یا کیا گیا، سب کی اپنے اپنے ان باکس میں خریدی ہوئی ڈیجیٹل کرنسی ہوا ہوجائے گی۔ ٹوٹل فراڈ سسٹم ہونے کے سبب ہی اسے اور اس کے کاروبار کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ جوا کا عنصر ایک ثانوی بات ہے۔

اللہ ہم سب کو اس جدید ترین فراڈ سے بچے رہنے کی توفیق دے آمین
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
السلام علیکم

"بٹ کوائن" حلال ہے یا حرام ؟ یہ ایسا مسئلہ جو عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہے اس لئے اس پر جاننا شائد ضروری نہیں کیونکہ ایک بٹ کوائن کی اس وقت کی قیمت 7 لاکھ 63 ہزار 266 روپے 29 پیسے ہے۔ جو مجھ جیسے ایک عام آدمی کی پہنچ سے بھی بہت دور ہے جو پلاٹ کی خریداری کو ہی اول ترجیح دے گا، اور پاکستان میں ٹائکون ٹائپ کے لوگ جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال اور کیا حرام یہ جاننے کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی۔ یہ میری رائے ہے بحث سے ہٹ کر ہر کوئی اختلاف رائے کا حق رکھتا ہے۔

bitcoin.png
والسلام
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
747
پوائنٹ
290
اس موضوع پر بندے کی ایک فقہی تحقیق ہے جو کتابی شکل میں بھی تیار ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایف حاضر خدمت ہے۔ اہل علم حضرات سے پڑھنے اور اس پر رائے دینے و اصلاح کرنے کی درخواست ہے۔
ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت
اگر اس میں موجود نکات پر باقاعدہ بحث کی جائے تو ان شاء اللہ بہت نافع ہوگا۔
میں اس کے لیے الگ سے تھریڈ بھی بنانا چاہ رہا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ تھریڈ کس زمرے میں بنایا جائے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
اس موضوع پر بندے کی ایک فقہی تحقیق ہے جو کتابی شکل میں بھی تیار ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایف حاضر خدمت ہے۔ اہل علم حضرات سے پڑھنے اور اس پر رائے دینے و اصلاح کرنے کی درخواست ہے۔
ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت
اگر اس میں موجود نکات پر باقاعدہ بحث کی جائے تو ان شاء اللہ بہت نافع ہوگا۔
میں اس کے لیے الگ سے تھریڈ بھی بنانا چاہ رہا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ تھریڈ کس زمرے میں بنایا جائے۔
ساتواں باب بہت زبردست ہے ابھی سرسری نظر سے ہی پڑھا ہے کہ زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا بہرحال کوشش کرتا ہوں اسے پی ڈی ایف میں ڈاون لوڈ کر کے موبائل میں پڑھ سکوں
 
شمولیت
مئی 30، 2017
پیغامات
93
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
52
اس موضوع پر بندے کی ایک فقہی تحقیق ہے جو کتابی شکل میں بھی تیار ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایف حاضر خدمت ہے۔ اہل علم حضرات سے پڑھنے اور اس پر رائے دینے و اصلاح کرنے کی درخواست ہے۔
ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت
اگر اس میں موجود نکات پر باقاعدہ بحث کی جائے تو ان شاء اللہ بہت نافع ہوگا۔
میں اس کے لیے الگ سے تھریڈ بھی بنانا چاہ رہا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ تھریڈ کس زمرے میں بنایا جائے۔

السلام علیکم بھائی آپ کو اس کتاب کو مختصر پڑھا 7 باب قابل دلیل تو محسوس هو رہا ہے اور جو اعتراز ہیں انکا جواب بھی تسلی بخش ہے

مگر پھر علما اسکو غلط کیوں کہتے ہیں
 

قیصر عباس

مبتدی
شمولیت
دسمبر 13، 2020
پیغامات
15
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
12
اس موضوع پر بندے کی ایک فقہی تحقیق ہے جو کتابی شکل میں بھی تیار ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایف حاضر خدمت ہے۔ اہل علم حضرات سے پڑھنے اور اس پر رائے دینے و اصلاح کرنے کی درخواست ہے۔
ورچوئل کرنسیوں کی شرعی حیثیت
اگر اس میں موجود نکات پر باقاعدہ بحث کی جائے تو ان شاء اللہ بہت نافع ہوگا۔
میں اس کے لیے الگ سے تھریڈ بھی بنانا چاہ رہا تھا لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ تھریڈ کس زمرے میں بنایا جائے۔
 
Top