• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ‘‘۔۔ ایک عظیم تحفہ

شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
350
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
85
ا
۔
’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ‘‘۔۔ ایک عظیم تحفہ

ہم اللہ کے عاجز بندوں کیلئے اکثر اپنے محسن کے احسان کا بدلہ اتارنا ممکن نہیں ہوتا لیکن ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں وہ طریقہ بتا دیا ہے جس پر عمل کرکے ہم اپنے محسن کا بدلہ ادا کر سکتے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اور وہ احسان کرنے والے کے حق میں یہ دعا کرے’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اس کا بہتربدلہ دے) تو اس نے اپنے محسن کی کامل تعریف کی ۔(مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ عطایا کا بیان ۔ حدیث 239)

کامل تعریف کرنے کا مطلب ہے کہ بندہ اپنے محسن کا بدلہ اتارنے اور اس کی تعریف کرنے میں اپنے آپ کو عاجز اور مجبور قرار دیتے ہوئے ’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ‘‘ کہہ کر اپنے تئیں اس کے شکر کا حق ادا کر دیا کیونکہ اسنے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ پر سونپ دیا کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں بہترین اجر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اجر کون دے سکتا ہے کیونکہ للہ تعالٰی جب اجر دے گا تو اپنی شان کے مطابق دے گا ۔

ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک موقعے پر انصار کی تعریف کی اور ’’ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيرًا‘‘ (پس اللہ تم لوگوں کو جزائے خیر دے) کے الفاظ سے انہیں دعا دی۔ رواه ابن حبان (7277) والحاكم (4/79)

ایک حدیث میں ہے کہ جب آیتِ تیمم نازل ہوئی، اسید بن حضیرؓ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: ’’ جَزَاکِ اللَّهُ خَيْرًا‘‘، اللہ کی قسم! آپ پر کوئی ایسی پریشانی نہیں آئی جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ پر سے ٹال نہ دیا ہو اور اس میں مسلمانوں کے لئے برکتو سہولت نہ رکھ دیا ہو۔ (بخاری و مسلم)

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب میرا باپ یعنی حضرت عمرؓ کو زخمی کیا گیا تو میں اس وقت موجود تھا لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہنے لگے ’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ‘‘ تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں اللہ سے رحمت کی امید کرنے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں۔ (صحیح مسلم ۔ جلد سوم ۔ امارت اور خلافت کا بیان ۔ حدیث ۔216)

حضرت عمر بن الخطابؓ نے فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کو ’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ‘‘ کہنے کا اجر کیا ہے تو تم سب ایک دوسرے کو یہی دعا دو۔ (مصنف ابن أبي شيبة 5/322)

ایک موقعے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تمہارے ساتھ (قولی یا فعلی) احسان کرے تو تم بھی اس کا بدلہ دو (یعنی تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی احسان کرو) اور اگر تم مال و زر نہ پاؤ کہ اس کا بدلہ چکا سکو تو اپنے محسن کے کے لئے دعا کرو جب تک کہ تم یہ جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔ (احمد، ابوداؤد، نسائی)

حضرت عائشہؓ کا معمول تھا کہ جب کوئی سائل ان کیلئے دعا کرتا تو وہ بھی پہلے اسی طرح اس کیلئے دعا کرتیں پھر اسے صدقہ دیتیں، لوگوں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اس کیلئے دعا نہ کروں تو اس کا حق اور میرا حق برابر ہو جائے گا کیونکہ جب اس نے میرے لئے دعا کی اور میں نے اسے صرف صدقہ دے دیا (تو اس طرح دونوں کے حسنات برابر ہو گئے) ۔ لہٰذا میں بھی اس کے لئے دعا کردیتی ہوں تاکہ میری دعا تو اس کی دعا کا بدلہ ہو جائے اور جو صدقہ میں نے دیا ہے وہ خالص رہے (اس طرح دونوں کا حق برابر نہیں رہتا بلکہ میری نیکیاں بڑھ جاتی ہیں)۔ تشریح: مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ بہترین صدقہ کا بیان ۔ حدیث 442

آج بھی عرب اسی طرح دعاؤں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ جب بھی کسی سے ملتے ہیں سلام کے ساتھ ایک دوسرے کو دعاؤں کا تحفہ دینے میں کوتاہی نہیں کرتے لیکن ہم عجمی لوگ اور خاص کر برصغیر کے مسلمان دین اسلام کی اس خوبصورت تحفے سے ناوقف ہیں اور اگر واقف بھی ہیں تو اکثر کوتاہی کرتے ہیں۔

جس نے’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا‘‘کہا اسنے اپنے محسن کو ایک عظیم تحفہ دیا اور اپنے لئے اور اپنے محسن کیلئے دنیا و آخرت کی عظیم خیر و برکت حاصل کرلیا کیونکہ اس دعا کا بدلہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ جب بدلہ دے گا تو اپنی شان کے مطابق دے گا اور محسن اور احسان مند دونوں کو دے گا۔ ان شاء اللہ

اس دعا کو ہم اپنی زبان میں بھی ’’ اللہ آپ کو جزائے خیر دے یا اللہ آپ کو بہترین اجر دے‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے دے سکتے ہیں۔

اور عربی میں اس دعا کے الفاظ ہیں:

ایک مرد کیلئے : جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا ۔۔۔۔۔( ک پر زبر لگا کر پڑھیں)
ایک عورت کیلئے : جَزَاکِ اللَّهُ خَيْرًا ۔۔۔۔۔( ک پر زیر لگا کر پڑھیں)
جمع کا صیغہ : جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيرًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ک اور میم پر پیش لگا کر پڑھیں)

یہ دعا مسلم اور غیر مسلم کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔
ہمیں اس دعا کے ساتھ ساتھ دیگر دعا دینے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔
ہمیں اپنے گھروں میں کام کرنے والے ملازم ‘ ڈرائیور‘ مالی‘ دودھ پہنچانے والے‘ کچڑا اٹھانے والے وغیرہ کو بھی ’’ جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا‘‘ کہنا چاہئے اس سے ہمارے دلوں سے تکبر نکلے گا۔ ہمیں اپنی بیوی بچوں کو ہر چھوٹے بڑے کام پر یہ دعا دینے کا اہتمام کرنا چاہئے اور انہیں بھی یہ دعا دینا سکھانا چاہئے۔

اور اب آپ سب مجھے یعنی محمد اجمل خان کو اس دعا سے نوازیں اور اپنی دیگر دعاؤں میں بھی مجھے اور میرے اہل و عیال کو اور تمام مسلمانوں کو یاد رکھیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سبھوں کو عمل کی توفیق دے آمین۔

تحریر: محمد اجمل خان
۔
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
315
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
.

" جزاک اللہ خیرا " فضائل اور تحقیق

~~~~~~~~~~~~~~~ ؛

کیا ’’جزاک اللہ خیرًا‘‘ کہنا ثابت ہے؟

’’جزاک اللہ خیرًا‘‘ کے مسنون ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور ان کلمات کو موقع بر محل ادا کیا جا سکتا ہے۔

تحریر: الشیخ ابو محمد نصیر احمد کاشف حفظہ اللہ

اسلام ایک مکمل دین اور ضابطۂ حیات ہے، جس میں ہراصولی و جزئی معاملے کے بارے میں رہنمائی موجود ہے۔ مسلمان تو اس کا دعویٰ کرتے ہی ہیں اور اپنے اس دعویٰ میں سچے بھی ہیں، تاہم اس بات کا اعتراف غیر مسلموں کو بھی ہے۔

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے مشرکین نے کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ تمھارے نبی (ﷺ) تمھیں ہر بات کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ قضائے حاجت (کے آداب) کی بھی، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! بیشک انھوں نے ہمیں دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے اور قضائے حاجت کے وقت قبلہ رخ ہونے سے منع کیا ہے اور گوبر اور ہڈی کے استعمال سے منع کیا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب الاستطابۃ، رقم الحدیث:۲۶۲ [۶۰۷])

یعنی اسلام کے ابتدائی ادوار ہی سے سب میں یہ بات معروف و مشہور ہے کہ اسلامی تعلیمات ہر مسئلے کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ والحمد للہ

آمد برسرِ مطلب:
کچھ عرصے سے یہ بات زیر بحث ہے کہ کسی بھائی کے تعاون پر جب اُسے دعائیہ کلمات: جزاک اللہ خیرًا کہے جائیں تو بعض احباب اسے چند وجوہ کی بنا پر غیر صحیح قرار دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں دلائل کے اعتبار سے راجح موقف کیا ہے؟ اس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتاً ہار لیا جو گم ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا جسے وہ مل گیا۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، انھوں نے (بغیر وضو) نماز پڑھ لی۔ آپ ﷺسے شکایت کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری۔ (اس موقع پر) سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ’’جَزَاکِ اللہِ خَیْرًا ‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے۔

واللہ! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ ہوا جو آپ کے لیے تکلیف کا باعث ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر پیدا فرما دی۔

(صحیح البخاري، کتاب التیمم۔ باب إذا لم یجد ماءً ولا ترابًا، رقم الحدیث:۳۳۶، صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب التیمم رقم الحدیث:۳۶۷/۱۰۹)

اس حدیث سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ ان کلمات کے ساتھ دعا دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں عہدِ نبوت میں بھی معروف تھا۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد (خنجر سے) زخمی ہوئے، میں ان کے پاس گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف بیان کرنے لگے اور کہا:

’’جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’رَاغِبٌ و رَاھِبٌ……‘‘ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید بھی ہے اور میں خوف زدہ بھی ہوں۔

(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب الاستخلاف و ترکہ رقم الحدیث:۱۸۲۳/۱۱)

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک طویل حدیث بیان کرتی ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی سے کھجوروں کے بدلے میں اونٹ خریدے۔ گھر میں کھجوریں دستیاب نہ ہوئیں، اعرابی کو بتایا تو وہ دھوکے کا واویلا کرنے لگا۔

اس پر آپ ﷺ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہاسے کھجوروں کا پوچھ کر اعرابی کو ان کے پاس بھیجا۔

بعد میں جب اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو کہنے لگا:

’’جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا فَقَدْ أَوْفَیْتَ وَ أَطْیَبْتَ۔‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے، آپ نے پورا پورا اور خوب عمدہ ادا کر دیا۔

(مسند أحمد ۶/ ۲۶۸۔ ۲۶۹ و في نسخۃ ۴۳/ ۳۳۷۔ ۳۳۹، رقم الحدیث:۲۶۳۱۲، وسندہ حسن، محمد بن إسحاق صرح بالسماع عندہ)

تعامل صحابہ اور تقریری حدیث سے مذکورہ مسئلہ صراحتاً ثابت ہوجاتا ہے۔

اسی سلسلے میں بڑی واضح اور صریح دلیل درج ذیل ہے:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((جَزَاکُمُ اللہُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَیْرًا، وَ لاَ سِیَّمَا آلَ عَمْرِوبْنِ حَرَامٍ وَ سَعُدُ بْنُ عُبَادَۃَ ۔)) ’’اے انصار! اللہ تعالیٰ تمھیں جزائے خیر دے۔ خاص طور پر آل عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔ (السنن الکبریٰ للنسائی ۳۶۱/۷ رقم الحدیث:۸۲۲۳ و في نسخۃ:۸۲۸۱ وسندہ صحیح)

علاوہ ازیں ان احادیث سے بھی ہمارا مطلوبہ مفہوم واضح ہوتا ہے:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((لاَ یَشْکُرُ اللہَ مَنْ لاَ یَشْکُرُ النَّاسَ۔)) ’’جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔‘‘ (سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب فی شکر المعروف، رقم الحدیث:۴۸۱۱، سنن الترمذي کتاب البر و الصلۃ۔ باب ماجاء فی الشکر لمن أحسن إلیک، رقم الحدیث:۱۹۵۷، و إسنادہ صحیح و صححہ ابن حبان:۳۴۰۷)

جہاں تک ان کلمات کی ترغیب والی روایات کا ذکر ہے، ان کی مختصر تحقیق درج ذیل ہے:

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: ((مَنْ صُنِعَ إِلَیْہِ مَعْرُوْفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِہٖ: جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِی الثَّنَاءِ۔)) جس کے ساتھ بھلائی کی جائے اور وہ جواباً جزاک اللہ خیراً کہے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔ (سنن الترمذي،کتاب البر و الصلۃ، رقم الحدیث:۲۰۳۵، السنن الکبریٰ للنسائي:۹۹۳۷ وغیرہما وسندہ ضعیف، سلیمان التیمی مدلس ہیں اور سماع کی صراحت نہیں ہے)
دوسری روایت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دیکھئے مسند الحمیدی (۱۱۹۴) مصنف عبد الرزاق (۳۱۱۸) مصنف ابن ابی شیبہ (۷۰/۹ رقم الحدیث: ۲۶۵۰۹) وغیرہم وسندہ ضعیف، موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے۔
اثرِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُکُمْ مَا لَہٗ فِيْ قَوْلِہٖ لِأَخِیْہِ: جَزَاکَ اللہُ خَیْرًا لَأَکْثَرَ مِنْھَا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ۔‘‘ اگر کسی کو علم ہو جائے کہ اپنے بھائی کو جزاک اللہ خیراً کہنے کا کتنا اجر و ثواب ہے تو تم کثرت سے ایک دوسرے کو یہ کلمات کہو۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ ۷۰/۹۔۷۱ ح ۲۶۵۱۰)

اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے راوی طلحہ بن عبید اللہ بن کریز کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (المتوفی:۵۰ھ) سے اس کی روایت کو منقطع قرار دیا ہے، جبکہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی وفات ۲۳ھ ہے۔ (المطالب العالیۃ ح ۳۵۷)

حافظ سیوطی نے بھی طلحہ بن عبید اللہ بن کریز عن عمر (رضی اللہ عنہ) کی ایک سند کو منقطع قرار دیا ہے۔ دیکھئے جمع الجوامع (۲۴/۱۲ ح۲۲۵۰)

الجامع لعبد اللہ بن وھب (۱۷۴) میں اس کی ایک دوسری سند ہے، لیکن اس کے راوی حسن بن خلیل کے حالات نہیں ملے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

ان روایات کے ضعف کی وجہ سے صرف ان کلمات کی بیان کردہ فضیلت ثابت نہیں ہوتی، تاہم ان کلمات کے مسنون ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور انھیں موقع بر محل ادا کیا جا سکتا ہے۔ والحمد للہ

تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث 121 ص 33

https://ishaatulhadith.com/ishaatul-hadith/pdf/121/#33-4

.
 
Top