• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

”دیارِ اسلام میں کفار ومشرکین کی عبادت گاہوں کا حکم“

غرباء

رکن
شمولیت
جولائی 11، 2019
پیغامات
85
ری ایکشن اسکور
-1
پوائنٹ
35
”دیارِ اسلام میں کفار ومشرکین کی عبادت گاہوں کا حکم“

بسم الله الرحمن الرحيم، الحمدلله رب العالمين، والصلاة والسلام على إمام الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، ومن سار على نهجه إلى يوم الدين. أما بعد!

اللہ تعالی کے ہاں مقبول دین اسلام ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء والمرسلین جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام انبیاء ورسل کا دین صرف اسلام تھا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
(إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ)
”بے شک دینِ بر حق اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔“
[سورة آل عمران : 19]
دینِ اسلام کے علاوہ باقی سب ادیان باطل ہیں اور اللہ تعالی کے ہاں مردود ہیں، ان کا ماننے والا کافر ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
(وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ)
”جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین چاہے گا، تو اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا۔“
[سورة آل عمران : 85]
اس کائنات کا مالک اللہ تعالی ہے اور مخلوق بھی اسی کی ہے، پس حکم بھی اسی کا چلے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے
(أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ)
”آگاہ رہو کہ سب اسی کی مخلوق ہیں اور اسی کا حکم ہر جگہ نافذ ہے۔“
[سورة الأعراف : 54]
اور فرمایا:
(إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ)
”حکم صرف اللہ تعالی کا ہی چلے گا۔ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔“
[سورة يوسف :40]
اللہ تعالی نے تمام جن وانس کو اپنی اکیلے کی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ فرمایا:
(وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)
”میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری اکیلے کی عبادت کریں۔“
[سورة الذاريات : 56]
پس جو شخص اللہ تعالی کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کرتے ہوئے اس کا حکم نہیں مانتا اور دینِ اسلام کو نہیں اپناتا وہ اللہ تعالی کا دشمن ہے۔ ایسے لوگوں کو سدھارنے کے لیے اللہ تعالی نے ان کو دعوت دینے کا حکم دیا ہے، تاکہ دنیا سے سب سے بڑے ظلم شرک کا خاتمہ ہو، اگر وہ دعوت نہ مانیں تو ان کو ذلیل ہوکر رہنا پڑے گا اور جزیہ دینا ہوگا۔ اور اگر وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کے تحت رہنا قبول نہ کریں تو ایسے لوگوں سے اللہ تعالی نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ کفر کا خاتمہ ہو اور اللہ تعالی کا دین سربلند ہو۔
ارشاد باری تعالی ہے
(وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ)
”اور ان کافروں سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔“
[سورة الأنفال : 39]
اور فرمایا:
(قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ)
”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اور نہ یوم آخرت پر، اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں، اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور وہ حقیر وذلیل بن کر رہیں۔“
[سورة التوبة : 29]
اسی لیے اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا کہ دنیا میں اللہ تعالی کا دین قائم اور سربلند ہوجائے اور کفر ذلیل وحقیر ہوجائے۔
ارشاد باری تعالی ہے
(هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا)
”اللہ تعالی ہی جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے، اور اللہ تعالی گواہی دینے والا کافی ہے۔“
[سورة الفتح : 28]
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
(أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ)
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ اس بات کا اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوۃ دیں، جس وقت وہ یہ کریں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
[صحيح البخاري : 25، صحيح مسلم : 22]
اور اللہ تعالی جن لوگوں کو زمین میں اقتدار عطا فرماتا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکامات نافذ کریں اور برائیوں کو مٹائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
(الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ)
”جنہیں ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔“
[سورة الحج : 41]
پس اہل اسلام کافروں کو اللہ تعالی کے سچے دین اسلام کی دعوت دیں گے، اگر وہ دعوت قبول کرلیں تو وہ ہمارے دینی بھائی بن جائیں گے، اور اگر وہ اللہ تعالی کا سچا دین اسلام قبول نہ کریں تو ان کو جزیہ دے کر مسلمانوں کے ماتحت رہنا ہوگا، اور مسلمانوں پر ان کے مال وجان کی حفاظت کا ذمہ ہوگا جیسا کہ کتاب وسنت میں اس کی مکمل تفصیلات مذکور ہیں، اور اگر وہ اسلام بھی قبول نہ کریں اور اور نہ جزیہ دینے کو تیار ہوں تو ان سے قتال کیا جائے گا۔ اور اللہ تعالی کی زمین پر اللہ تعالی کے حکم کو نافذ کیا جائے۔
اور یہ سب باتیں وہی شخص مانتا ہے جو ایمان رکھتا ہے کہ میں اللہ تعالی کا بندہ ہوں، میرا معبود صرف اللہ تعالی ہے، اسی کا حکم مجھے ماننا ہے اور محمد ﷺ اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں، ان کی ساری تعلیمات سچی ہیں اور مجھے انہیں کی ہی اطاعت کرنی ہے اور اللہ تعالی کا ہاں مقبول دین اسلام ہے، مجھے اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے۔
اور جو احکام الہی کو پس پشت ڈال کر امم متحدہ کے منشور اور حقوق انساں کے نام پر کفریہ قوانین کا پیروکار ہو اسے اللہ تعالی کے یہ احکامات نہیں بھاتے، اس کی نظر میں حق وباطل برابر ہیں، اور مومن وکافر میں کوئی فرق نہیں، اولیاء اللہ اور اعداء اللہ برابر ہیں۔
باری تعالی فرماتا ہے
(أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ)
”بھلا جو شخص مومن ہے کیا وہ فاسق کے برابر ہوگا؟ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔“
[سورة السجدة : 18]
اور فرمایا
(أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ)
”وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہوگا؟ وہ بہت برا فیصلہ کر رہے ہیں۔“
[سورة الجاثية : 21]
اور فرمایا
(أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ)
”کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کردیں گے؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے؟“
[سورة ص : 28]
پس مومن وکافر برابر نہیں ہوسکتے، اللہ تعالی کے فرمانبردار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے، موحدیں اور مشرکین برابر نہیں ہوسکتے۔ پس مسلمان حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے نافرمان اور دین اسلام کو قبول نہ کرنے والے لوگوں کو ذلیل وحقیر کرکے ان سے جزیہ وصول کرے۔ اور ان سے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق تعامل کرے۔
اس تمہید کے بعد یہاں ہم ان مسائل سے ایک مسئلے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ان ایام میں خصوصا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دیار سلام میں کفار ومشرکین کی عبادت گاہوں کا کیا حکم ہے؟
سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کفار ومشرکین کی عبادت گاہوں؛ کلیسا وکنیسہ، مندر وگردوارہ، آتش کدہ یا کفار کی دیگر عبادت گاہوں میں سے کچھ بھی بنائے کیونکہ اس سے کفر پر تعاون لازم آتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ)
”نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔“
[سورة المائدة : 2]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(وَأَكْرَهُ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَعْمَلَ بِنَاءً أَوْ نِجَارَةً أَوْ غَيْرَهُ فِي كَنَائِسِهِمْ الَّتِي لِصَلَوَاتِهِمْ)
”میں مسلمان کا کفار کی عبادت گاہوں میں معمار، بڑھئی یا دیگر کام کرنے کو حرام کہتا ہوں۔“
[الأم : 226/4]
پس مسلمان کا کفار کی عبادت گاہیں بنانے میں کسی قسم تعاون کرنا حرام ہے اور ان کے ساتھ کفر میں تعاون ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(مَن اعتقد أنَّ الكنائس بيوت الله، وأنَّ الله يُعبد فيها، أو أنَّ ما يفعله اليهود والنصارى عبَادةٌ لله وطاعةٌ لرسوله، أو أنَّه يحب ذلك أو يَرضاه، أو أعانهم على فتْحها وإقامة دِينهم، وأنَّ ذلك قُربةٌ أو طاعةٌ- فهو كافر)
”جو یہ سمجھتا ہے کہ کفار کی عبادت گاہیں اللہ کے گھر ہیں اور ان میں اللہ تعالی کی عبادت کی جاتی ہے اور یہود ونصاری جو کرتے ہیں وہ اللہ تعالی کی عبادت اور اس کے رسول کی اطاعت ہے اور وہ اسے پسند کرتا ہے اور اس پر راضی ہے اور وہ ان کی اس پر اعانت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ نیکی کا کام ہے پس ایسا شخص کافر ہے۔“
اور آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(من اعتقد أن زيارة أهل الذمة في كنائسهم قربة إلى الله فهو مرتد)
”جو یہ سمجھتا ہے کہ ذمیوں کا اپنے عبادت خانوں میں جانا تقرب الی اللہ ہے تو وہ شخص مرتد ہے۔“
[كشاف القناع : باب حكم المرتد]

دیار اسلام کی اقسام اور کفار ومشرکین کی عبادت گاہوں کا حکم:

دیار اسلام کی تین اقسام ہیں اور ان میں کفار کی عبادت گاہوں کے الگ الگ احکام ہیں۔
پہلی قسم:
وہ علاقے جو مسلمانوں نے آباد کیے، وہاں کفار کے لیے کسی قسم کے معابد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، اور نہ ناقوس وغیرہ بجانے کی اجازت ہے اگر وہ وہاں کوئی عبادت گاہ تعمیر کریں تو اسے گرا دیا جائے گا۔ اور نہ وہ ان علاقوں میں اپنی کسی مذہبی شعار کو ظاہر کرسکتے ہیں۔ اس حکم پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
علامہ ابوبکر محمد بن محمد طرطوشی رحمہ اللہ نے اس پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کا انہیں گرانے کا حکم ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
(وهذا مذهب علماء المسلمين أجمعين)
”یہ مسلمانوں کے تمام علماء کا اتفاقی مذہب ہے۔“
[سراج الملوك : 138]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(ليس لليهود والنصارى أن يحدثوا فِي مصر مصره المسلمون بيعة ولا كنيسة ولا يضربوا فِيهِ بناقوس إلا فيما كان لهم صلح. وليس أن يظهروا الخمر فِي أمصار المسلمين)
”جس علاقے کو مسلمانوں نے آباد کیا ہو اس میں یہود ونصاری کوئی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے اور نہ وہاں ناقوس بجا سکتے ہیں، سوائے ان علاقوں کے جو صلح کے ذریعے فتح ہوئے ہوں۔ اور نہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں سرعام شراب نوشی یا شراب کی خرید وفروخت کرسکتے ہیں۔“
[أحكام أهل الملل والردة للخلال: 967، ص: 346]
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(ما مصره المسلمون كالبصرة والكوفة وبغداد وواسط، فلا يجوز فيه إحداث كنيسة ولا بيعة ولا مجتمع لصلاتهم)
”وہ شہر جو مسلمانوں نے آباد کیے ہیں جیسے بصرہ، کوفہ، بغداد اور واسط ان میں کفار کوئی کلیسا، گرجا یا اجتماعی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے۔“
[المغني : 239/13]

علامہ ابو القاسم رافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(البلاد التي أحدثها المسلمون كبغداد والكوفة والبصرة فلا يمكن أهل الذمة من إحداث بيعة وكنيسة وصومعة راهب)
”جو علاقے مسلمانوں نے آباد کیے جیسے بغداد، کوفہ اور بصرہ ان میں ذمیوں کو کوئی گرجا، کلیسا اور راھب کا عبادت خانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“
اس پر علامہ سبکی نے کہا ہے:
(ذلك مجمع عليه، والله أعلم)
”اس بات پر اجماع ہے۔ واللہ اعلم!“
[فتاوى السبكي : 405/2]

علامہ قرافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(الكنائس لا يمكنون من بنائها في بلد بناها المسلمون)
”جن علاقوں کو مسلمانوں نے آباد کیا ان میں نصاری کو کلیسے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“
[الذخيرة : 458/3]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(وَقَدْ اتَّفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَنَّ مَا بَنَاهُ الْمُسْلِمُونَ مِنْ الْمَدَائِنِ لَمْ يَكُنْ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ أَنْ يُحَدِّثُوا فِيهَا كَنِيسَةً)
”اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ جو شہر مسلمانوں نے بنائے ہیں ان میں ذمیوں کے لیے کنیسہ بنانے کی اجازت نہیں۔“
[مجموع الفتاوى : 634/28]
اگر کوئی کافر ایسے علاقوں میں اپنی عبادت گاہ بنائے گا تو مسلمان حکمران اس کو سزا دے گا۔
عوف بن ابی جمیلہ اعرابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ مَعْمَرٍ أُتِيَ بِمَجُوسِيٍّ بَنَى بَيْتَ نَارٍ بِالْبَصْرَةِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ)
”میں عبداللہ بن عبید بن معمر رحمہ اللہ کے پاس تھا، ان کے پاس ایک مجوسی کو لایا گیا جس نے بصرہ میں آتش کدہ بنایا تھا تو انہوں نے اس کا سر قلم کردیا۔“
[مصنف ابن أبي شيبة :32989]
علامہ سبکی نے اس کی توجیہ بیان کی ہے کہ یہ علاقہ مسلمانوں نے آباد کیا تھا اور یہاں کفار کا عبادت گاہیں بنانا جائز نہیں تھا، بلکہ نقضِ عہد تھا، اس لیے اس کا سر قلم کردیا گیا۔
[فتاوى السبكي : 397/2]

دوسری قسم:

وہ علاقے جو مسلمانوں نے جہاد کرکے بزور بازو فتح کیے اور ان علاقوں کو دیار اسلام میں شامل کرلیا۔ اگر مسلمان حاکم ان لوگوں سے انہیں باقی رکھنے پر معاہدہ کرلے تو انہیں باقی رکھا جائے گا لیکن کسی صورت بھی نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے یا پہلے سے موجود عبادت گاہوں میں توسیع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور نہ ہی شعائر کفر میں سے کسی چیز کے اظہار یا اپنے مذہب کی ترویج کی اجازت ہوگی۔ بلکہ وہ اپنی عبادات چاردیواری کے اندر رہ کر کریں گے۔ اگر مسلمان حاکم ان شروط کھ خلاف کوئی معاہدہ کرلے تو وہ باطل اور کالعدم ہوگا۔
اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہو تو مسلمان حاکم استیلاء وقبضہ کے بعد چاہے تو انہیں گرا سکتا ہے اور چاہے تو مصلحت کی بنا پر کچھ دیر تاخیر بھی کرسکتا ہے۔
عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ: «يُمْنَعَ النَّصَارَى بِالشَّامِ أَنْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا» قَالَ: «وَيُنْهَوْا أَنْ يَفْرِقُوا رُءُوسَهُمْ، وَيَجُزُّوا نَوَاصِيَهُمْ، وَيَشُدُّوا مَنَاطِقَهُمْ، وَلَا يَرْكَبُوا عَلَى سُرْجٍ، وَلَا يَلْبَسُوا عُصَبًا، وَلَا يَرْفَعُوا صُلُبَهُمْ فَوْقَ كَنَائِسِهِمْ، فَإِنْ قَدَرُوا عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا بَعْدَ التَّقَدُّمِ إِلَيْهِ فَإِنَّ سَلَبَهُ لِمَنْ وَجَدَهُ» قَالَ: «وَكَتَبَ أَنْ يُمْنَعً نِسَاؤُهُمْ أَنْ يَرْكَبْنَ الرَّحَائِلَ». قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: وَاسْتَشَارَنِي عُمَرُ فِي هَدْمِ كَنَائِسِهِمْ، فَقُلْتُ: «لَا تُهْدَمُ، هَذَا مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ» فَتَرَكَهَا عُمَرُ)
”عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عمّال کو لکھا کہ نصاری کو شام کے علاقے میں ناقوس بجانے سے منع کردو، اور ان کو سر کی مانگ نکالنے سے منع کرو، وہ اپنی کی پیشانی کے بال کم کریں، اپنی پٹیاں مضبوطی سے باندھیں، زین پر سوار نہ ہوں، عمامہ نہ پہنیں، اور اپنے معابد پر صلیب نہ لگائیں۔ اگر ان میں سے کسی نے اس کے بعد ایسا کیا تو اس پر گرفت کرنے والا اس کے سامان کا حقدار ہوگا۔ اور فرمایا ان کی عورتوں کو کجاووں میں سوار ہونے سے منع کیا جائے۔ عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے ان کے کلیسوں کے متعلق مشورہ کیا، تو میں نے کہا ان کو ہدم نہ کیا جائے کیونکہ اس پر ان سے صلح ہوچکی ہے۔ پس آپ نے ان کو ترک کردیا۔“
[مصنف عبدالرزاق :10004، 19235]

امام شافعی رحمہ اللہ ذمیوں کے احکامات ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں
(أَنْ لَا يُحْدِثُوا فِي مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ كَنِيسَةً وَلَا مُجْتَمَعًا لِضَلَالَاتِهِمْ وَلَا صَوْتَ نَاقُوسٍ)
”کہ وہ مسلمانوں کے کسی علاقے میں نیا کلیسہ یا اپنی گمراہیوں کے لیے اجتماع گاہ نہیں بنائیں گے اور نہ ناقوس بجائیں گے۔“
[الأم : 218/4]
علامہ ماوردی فرماتے ہیں
(لا يجوز أن يحدثوا في دار الإسلام بيعة ولا كنيسة، فإن أحدثوها هدمت عليهم، ويجوز أن يبنوا ما استهدم من بيعهم وكنائسهم العتيقة)
”دار الاسلام میں ان کے لیے نیا کلیسا یا کنیسا بنانا جائز نہیں، اگر وہ بنائیں تو اسے منہدم کردیا جائے گا، اور پرانے کلیسے یا کنیسے کو کسی جگہ سے منہدم ہوجانے پر ٹھیک کرسکتے ہیں۔“ (البتہ اس کی توسیع وتزیین نہیں کرسکتے)
[الأحكام السلطانية للماوردي : 226]
قاضی ابو یعلی ابن فراء فرماتے ہیں:
(لا يجوز أن يحدثوا في دار الإسلام بيعة ولا كنيسة، فإن أحدثوها هدمت عليهم)
”دار الاسلام میں ان کے لیے نیا کلیسا یا کنیسا بنانا جائز نہیں، اگر وہ بنائیں تو اسے منہدم کردیا جائے گا۔“
[الأحكام السلطانية لأبي يعلى: 161]

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(ما فتحه المسلمون عنوة فلا يجوز إحداث شىء من ذلك فيه لأنها صارت ملكا للمسلمين)
”جس علاقے کو مسلمانوں نے بزور بازو فتح کیا ہے اس میں کسی قسم کے معابد تعمیر کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کی ملکیت بن چکا ہے۔“
[المغني : 240/13]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(فما فتحه المسلمون عنوةً فقد ملّكَهم الله إياه .... وليس لمعابد الكفار خاصَّةٌ تقتضي خروجَها عن ملك المسلمين)
”پس جو علاقے مسلمان بزور بازو فتح کریں اللہ تعالی نے انہیں اس کا مالک بنا دیا ہے .... اور کفار کی عبادت گاہوں کا مسلمانوں کی ملکیت سے مستثنی ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔“
[مسألة في الكنائس : 142]
جیسا کہ غزوہ بنی قریظہ کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا:
(وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ)
”تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا۔“
[سورة الأحزاب : 27]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(أَمَّا مَا أُحْدِثَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يَجِبُ إِزَالَتُهُ، وَلَا يُمَكَّنُونَ مِنْ إِحْدَاثِ الْبِيَعِ وَالْكَنَائِسِ كَمَا شَرَطَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الشُّرُوطِ الْمَشْهُورَةِ عَنْهُ)
”جو عبادت گاہیں مسلمانوں کے فتح کرنے کے بعد بنائی جائیں گی ان کو ختم کرنا واجب ہے۔ اور کفار کو کلیسے اور کنیسے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشہور شروط مقرر کیں۔“
[أحكام أهل الذمة :1193/3]
اور آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(وَشُهْرَةُ هَذِهِ الشُّرُوطِ تُغْنِي عَنْ إِسْنَادِهَا، فَإِنَّ الْأَئِمَّةَ تَلَقَّوْهَا بِالْقَبُولِ وَذَكَرُوهَا فِي كُتُبِهِمْ وَاحْتَجُّوا بِهَا، وَلَمْ يَزَلْ ذِكْرُ الشُّرُوطِ الْعُمَرِيَّةِ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ وَفِي كُتُبِهِمْ، وَقَدْ أَنْفَذَهَا بَعْدَهُ الْخُلَفَاءُ وَعَمِلُوا بِمُوجَبِهَا)
”یہ شروط اتنی مشہور ہیں کہ ان کی سند کی بھی ضرورت نہیں، کیونکہ امت نے ان کو تلقی بالقبول کیا ہے، ان کو اپنی کتب میں لکھا ہے اور ان سے حجت پکڑی ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد خلفاء نے انہیں پر عمل کیا ہے۔“
[أحكام أهل الذمة : 1164/3]

تیسری قسم:

وہ علاقے جنہیں مسلمان بغیر لڑے صلح کے ساتھ فتح کرلیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں؛ پہلی یہ کہ وہ علاقہ دیار اسلام میں شامل کرلیا جائے اور وہ مسلمانوں کی حکومت میں آجائے۔ اس میں کفار کی پرانی عبادت گاہیں معاہدے کے مطابق باقی رہیں گی اور نئی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ یہ علاقہ اب مسلمانوں کی ملکیت ہوچکا ہے اور کفار اس میں ذمیوں کی طرح شروط وضوابط سے رہیں گے۔
جیسا کہ اوپر قتال کرکے ان علاقوں کو دیار اسلام میں شامل کیے جانے کے بعد نئی عبادت گاہیں بنانے کی ممانعت پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا گیا ہے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ خراج کے مقابل صلح ہوجائے اور وہ علاقہ کفار کی نگرانی میں ہی رہے گا۔ تو اس میں ان کا نئی عبادت گاہیں بنانا جائز ہے جب تک کہ وہ علاقہ ان کی ملکیت میں رہے۔
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ یہ قسم ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں
(أَنْ يُصالِحَهم على أَنَّ الأرْضَ لهم، ولنا الخراجُ عنها، فلهم إحداثُ ما يخْتارون فيها؛ لأنَّ الدارَ لَهم)
”ان سے اس بات پر صلح ہو کہ زمین انہی کی ہے اور وہ ہمیں اس کا خراج دیں گے، تو ایسی صورت میں وہ اس میں جو چاہیں بنا سکتے ہیں کیونکہ زمین ان کی ہے۔“
[المغني : 240/13]

اگر حاکم صلح کے وقت کفار سے نئی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت پر معاہدہ کرلے تو اس کا یہ عقد باطل ہوگا۔

علامہ سبکی علامہ رویانی سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں:
(وَلَوْ صَالَحَهُمْ عَلَى التَّمْكِينِ مِنْ إحْدَاثِهَا فَالْعَقْدُ بَاطِلٌ)
”اگر وہ ان سے نئی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت پر صلح کرلے تو یہ عقد باطل ہوگا۔“
[فتاوى السبكي : 405/2]
کیونکہ (مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ)
”جو شرط کتاب اللہ میں میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔“
اور اس لیے بھی کہ کفار کے نئی عبادت گاہیں بنانے کی ممانعت پر اجماع منعقد ہوچکا ہے، اور اجماع کی مخالفت حرام ہے۔
پس جو ممالک عالمی کفریہ قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے معاہدے کرتے ہیں وہ سب باطل اور دین اسلام کے خلاف ہیں، ایسے معاہدوں کی عنداللہ کوئی حیثیت نہیں، ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے اور دنیاوی مفادات کی بجائے دینی مفاد کو مقدم رکھ کر اللہ تعالی کی شریعت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ ومن يتق الله يجعل له مخرجا!

ایک شبہہ اور اس کا رد:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس طرح کفار اپنے ملکوں میں ہمیں مساجد بنانے کی اجازت دیتے ہیں ہمیں بھی ان کو اجازت دینی چاہیے، اور بعض لوگ کہتے کہ اگر ہم ان کو دیار اسلام میں ان کی عبادت گاہیں بنانے سے منع کریں گے تو اپنے علاقوں میں ہمیں منع کردیں گے۔

کفار اگر مسلمانوں کو اپنے علاقوں میں مساجد بنانے کی اجازت دیتے ہیں تو یہ مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ ساری زمین اللہ تعالی کی ہے اور اللہ تعالی کے گھر کسی جگہ بھی تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ اور ہمارا بلاد اسلامیہ میں ان کو منع کرنا حق ہے کیونکہ جہاں مسلمانوں کو اللہ تعالی نے حکومت عطا کی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس برے کام کو روکیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
(الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ)
”جنہیں ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔“
[سورة الحج : 41]
اور دوسری بات کہ اگر ہم انہیں منع کریں گے تو وہ بھی ہمیں مساجد بنانے سے منع کریں گے۔ تو جواب یہ ہے کہ بلاد اسلام کو شرک سے پاک رکھنا اور مسلمانوں کو شرک کے مواقع سے دور کرنا سب سے پہلا کام ہے، دوسرے نمبر پر بلاد کفر میں دعوت کا کام ہے، اگر بلاد کفر میں مساجد بنانے کے لیے بلاد اسلامیہ میں کفر کے معابد تعمیر کرنے پڑیں تو اصل کو نفع پر مقدم کرکے بلاد اسلامیہ کو شرک سے پاک رکھا جائے گا اگرچہ اس کی وجہ سے کفار اپنے علاقوں میں مساجد بنانے سے منع کردیں۔
اگر مسلمان کو کسی علاقے میں اپنے ایمان کا خطرہ ہو اور دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ اور مشکل ہو تو اللہ تعالی نے اس کے لیے ہجرت مشروع فرمائی ہے۔ اور جس کو اپنا ایمان عزیز ہو، وہ گھر بار، مال ودولت اور رشتہ داروں کو چھوڑنے کی پراواہ نہیں کرتا بلکہ اپنے ایمان کو ان سب چیزوں پر ترجیح دیتا ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(فإن قال قائل: إذا كانوا لا يمنعوننا من إحداث المساجد في بلادهم، فهل لنا أن نمنعهم من إحداث الكنائس في بلادنا؟
الجواب: نعم، وليس هذا من باب المكافأة أو المماثلة؛ لأن الكنائس دور الكفر والشرك، والمساجد دور الإيمان والإخلاص، فنحن إذا بنينا المسجد في أرض الله فقد بنيناه بحق، فالأرض لله، والمساجد لله، والعبادة التي تقام فيها كلها إخلاص لله، واتباع لرسوله صلّى الله عليه وسلّم، بخلاف الكنائس والبيع.
ومن سفه بعض الناس أنه يقول: لماذا لا نمكنهم من بناء الكنائس في بلادنا كما يمكنوننا من بناء المساجد في بلادهم؟
الجواب: نقول: هذا من السفه، ليست المسألة من باب المكافأة، إذ ليست مسائل دنيوية، فهي مسائل دينية، فالكنائس بيوت الكفر والشرك، والمساجد بيوت الإيمان والإخلاص فبينهما فرق، والأرض لله، فنحن إذا بنينا مسجداً في أي مكان من الأرض فقد بنينا بيوت الله في أرض الله بخلافهم)
”اگر کوئی یہ کہے کہ وہ ہمیں اپنے ملکوں میں مساجد بنانے سے منع نہیں کرتے تو کیا ہمیں ان کو اپنے ملکوں میں کنیسے بنانے سے منع کرنا چاہیے؟
جواب ہے ہاں منع کرنا چاہیے، اور اس میں مکافات یا مماثلت نہیں کیونکہ گرجے کفر وشرک کی جگہیں ہیں اور مساجد ایمان واخلاص کہ جگہیں ہیں۔ پس اگر ہم اللہ تعالی کی زمین میں مسجد بنائیں تو ہم حق کے ساتھ بنائیں گے، زمین بھی اللہ تعالی کی ہے اور مساجد بھی اللہ تعالی کی، اور جو عبادت کہ جاتی ہے وہ بھی خالصتا اللہ تعالی کے لیے اور اس کے رسول ﷺ کی اتباع میں ہے۔ جبکہ گرجوں اور کلیسوں میں اس کے الٹ ہے۔
اور بعض احمق لوگ کہتے ہیں کیوں ہم ان کو اپنے ملکوں میں گرجے نہیں بنانے دیتے جیسے وہ ہمیں اپنے ملکوں میں مساجد بنانے دیتے ہیں؟
تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں یہ حماقت والی بات ہے، بات بدلے کی نہیں، یہ کوئی دنیوی مسئلہ نہیں بلکہ دینی مسئلہ ہے۔ گرجے کفر وشرک کے گھر ہیں اور مساجد ایمان واخلاص کے گھر ہیں، پس دونوں کے درمیان فرق ہے۔ اور زمین تو اللہ تعالی کی ہے، اگر ہم زمین میں کسی جگہ پر بھی مسجد بنائیں تو اللہ تعالی کی زمین پر اللہ تعالی کا ہی گھر بنائیں گے، بخلاف ان لوگوں گے۔“
[الشرح الممتع : 77/8]
والحمدلله رب العالمين وصلى الله وسلم بارك على نبينا محمد وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه إلى يوم الدين.
كتبه ابن أبي عبدالله
 
Top