• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

25 لاکھ "کماؤ بیٹوں" کی حفاظت!

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,418
پوائنٹ
521
25 لاکھ "کماؤ بیٹوں" کی حفاظت!​

کالم: نازیہ مصطفیٰ
جمعرات 2 اپریل 2015م


اس میں کوئی شبہ نہیں پاکستان اپنے وسائل، بناوٹ اور محلِ و قوع کے اعتبار سے صرف اِس خطے کے مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کیلئے بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ پاکستان میں کیا نہیں ہے؟ پاکستان میں سب کچھ تو ہے۔ اس ملک پر رگوں میں لہو منجمد کرتے ٹھٹھرتے سرما، جلد کو جھلساتے اور پسینہ نکالتے گرما، زمین پر ہزار رنگوں کی قزح بنتے بہار اور سرسراتے رنگیں خشک پتوں سے دلفریب مناظر تخلیق کرتے خزاں سمیت خوشیوں اور اداسیوں کے تمام موسم اُترتے ہیں۔ یہ خطہ محض دنیا کے بہترین نہری نظام کا حامل ملک ہی نہیں بلکہ یہاں گندم کے سنہرے خوشوں والے کھیت لہلاتے ہیں، کپاس کا سونا اگلتے کھلیان ، گنے کی مٹھاس سے لبریز اور دھان کی مہک میں رچی زمین ایسی خوشبو چھوڑتی ہے کہ میلوں دور سے بھی آدمی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیدھا کھنچا چلا آئے۔

یہاں اونچے ٹیلوں والے پہاڑ بھی ہیں اور معدنیات سے لدے ذخائر بھی اور وسیع سمندری ساحل بھی۔ یہاں چاندی جیسے گلیشیر بھی ہیں اور العتش العتش پکارتے بے آب و گیا صحرا بھی ہیں۔ پاکستان میں کیا نہیں ہے؟ پاکستان میں سب کچھ تو ہے۔ اپنے محل ِوقوع کے اعتبار سے ہی یہ ملک دنیا کے اُن گنے چنے ممالک میں شمار ہو جاتا ہے جو دنیا کا نقشہ تبدیل کر سکتے ہیں اور کسی وقت بھی طاقت کا توازن بگاڑ اور سدھار سکتے ہیں۔

یہ ملک اپنے وجود میں کسی معجزے سے کم نہیں ہے؟ بھلا ایسے قانونی لڑائیوں سے ملک بنا کرتے ہیں جیسے قائداعظم نے انگریزوں کیساتھ قانونی اور آئینی لڑائی لڑ کر یہ ملک حاصل کرلیا؟ یہ میزائل اور جوہری بم تو بہت بعد کی بات ہے ، یہ قوم وطن کے دفاع کیلئے دشمن سے لڑنے پر آئی تو ہاتھوں میں ڈنڈے، لاٹھیاں اور ہاکیاں تک اٹھا کر واہگہ کی طرف چل نکلی تھی۔ ایک وطن سے محبت کا جذبہ ہی کیا اِس ملک اور اس ملک کے باسیوں کی ہر چیز ہی نرالی ہے اوراِس ملک کی افرادی قوت کی نظیر تو بہت ہی کم ملتی ہے۔حالیہ برسوں میں اگرچہ مہنگائی نے ناس کر دیا لیکن ابھی یہ کل کی بات ہے کہ ایک شخص کماتا تھا اور سارا گھر بیٹھ کر آرام اور مزے سے کھاتا تھا، پاکستان کی افرادی قوت جہاں ملک کے اندر خون پسینہ ایک کر رہی ہے وہیں سات سمندر پار بھی وطن عزیز کی افرادی قوت اپنا لوہا منوا چکی ہے۔

اپنے وطن سے دور، اپنے گھر بار سے دور اور اپنے چاہنے والوں سے دور پردیس میں رہ کر یہ پاکستانی حق حلال کی کمائی سے نا صرف اپنا اور اپنے خاندانوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔

سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے اعدادوشمار کیمطابق ہر پچیسواں پاکستانی کاروبار یا روزگار کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہے، یوں ایک اندازے کے مطابق ستر لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک رہائش پذیر ہیں۔

سمندر پار پاکستانیوں میں برطانیہ میں 14 لاکھ 60 ہزار،
متحدہ عرب امارات میں 12 لاکھ اور
امریکہ میں سات لاکھ پاکستانی آباد ہیں
کینیڈا میں پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ 55 ہزار ہے جبکہ
کویت میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی موجود ہیں
قطر میں نوے ہزار،
عمان میں 85 ہزار،
یونان میں 80 ہزارجبکہ
فرانس میں 60 ہزارپاکستانی موجود ہیں۔
ملائشیا میں 56 ہزار،
جرمنی میں 49 ہزار،
سپین میں 47 ہزار اور
بحرین میں 45 ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں۔
ناروے میں 39 ہزار،
آسٹریلیا میں 32 ہزار،
لیبیا میں 30 ہزار ، جبکہ
چین میں 41 ہزار پاکستانی کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں۔

اِن تمام ممالک میں سب سے زیادہ پاکستانی برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم اِن پاکستانیوں کی تعداد 25 لاکھ ہے۔ بیرون ملک مقیم یہ ستر لاکھ پاکستانی مجموعی طور پر سالانہ تیرہ سے چودہ ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھجواتے ہیں، جو برامدات کے بعد غیر ملکی ذرمبادلہ حاصل کرنے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔

اس لحاظ سے ترسیلات زر واپس وطن بھجوانے میں دنیا میں پاکستان کا دسواں نمبر ہے جو پاکستانی ہنرمندوں اور افرادی قوت کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ رواں مالی سال میں پاکستان کو سمندر پار پاکستانیوں سے 16 ارب ڈالر کی ترسیلات زر حاصل ہونے کی توقع ہے، جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں سمندر پار پاکستانیوں نے 7.9 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں بھجوائیں۔ اِن 16 ارب ڈالر کی اہمیت کا اندازہ اِس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی بنک یا آئی ایم ایف سے محض تین چار ارب ڈالر لینے کیلئے ہم اپنا سب کچھ گروی رکھنے پر تیار ہو گئے اور مہنگائی کے نہ ختم ہونیوالے طوفان کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہوگئے۔

بیرون ملک سے آنیوالی ترسیلات زرمیں سب سے بڑا اور زیادہ حصہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا ہے، سعودی عرب میں مقیم یہ 25 لاکھ پاکستانی وہ ہیں جو کئی کئی برسوں یا کئی کئی دہائیوں سے روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔ ان میں سے بہت سے لوگ تو نسل در نسل اپنے خاندانوں کے ہمراہ سعودی عرب میں مقیم ہیں، لیکن اِس کے باوجود یہ پاکستانی پیسے کما کر واپس وطن ہی بھجواتے ہیں۔ ایک اندازے کیمطابق سعودی عرب میں مقیم پاکستانی 5 سے 6 ارب ڈالر کے ترسیلات زر پاکستان بھجواتے ہیں۔ اس طرح سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے بھجوائے گئے ترسیلات زر پر ملکی معیشت کے علاوہ کم و بیش پانچ لاکھ خاندانوں کے چولہا جلنے کا بھی دارومدار ہے۔

اب آتے ہیں یمن کی صورتحال کی جانب جس کی وجہ سے سعودی عرب کی سیکورٹی کو خطرات ہو سکتے ہیں تو اس بات سے قطع نظر کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات موجود ہیں، جن کی حرمت، تقدس اور حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے، لیکن ان تمام مقدس حقائق کے علاوہ بھی سعودی عرب کی پاکستان کیلئے بڑی اہمیت ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کی سلامتی اور سعودی عرب کا تحفظ پاکستان کا تحفظ ہے اور جو لوگ سعودی عرب کی حفاظت کیلئے پاکستانی فوج بھیجنے کی مخالفت کر رہے ہیں کیا وہ ایک لمحے کو رک کر سوچیں گے کہ اگر خطے میں کسی بڑی گڑبڑ کی وجہ سے سعودی عرب میں مقیم اِن 25 لاکھ پاکستانیوں کو وطن واپس لوٹنا پڑتا ہے تو پاکستان میں صورتحال کیا ہوگی؟ کیا پاکستانی معیشت اِن 25 لاکھ پاکستانیوں کی واپسی کا بوجھ اٹھا سکے گی؟ کیا پاکستان اتنا بڑا دھچکا برداشت کر سکے گا؟

قارئین کرام! حقیقت تو یہ ہے کہ سعودی عرب کا استحکام پاکستان کا معاشی استحکام ہے اور سعودی عرب میں کسی قسم کا انتشار پاکستان کو معاشی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت سعودی عرب فوج بھیجنے کے فیصلے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ بھلا دیں کہ پاکستان اور سعودی برادر اسلامی ملک ہیں، آپ بھول جائیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کب کب کیا کیا دیا؟ اس بات کو بھی رہنے دیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کی کب کب اور کیسے کیسے مدد کی؟ آپ اس حقیقت کو بھی ایک طرف رکھ دیں کہ سعودی عرب نے کس کس مشکل میں پاکستان کو کتنا کتنا تیل مفت دیا؟ اِن تمام احسانات کے باوجود اگر کسی اور کیلئے نہیں تو بھی پاکستان کو اُن چھ ارب ڈالر کی "ترسیلات زر کو بچانے" کیلئے اپنی فوج کو سعودی عرب بھیجنا پڑیگا۔ پاکستان اگر کسی دوسرے ’’مقدس‘‘ مقصد کیلئے فوج نہیں بھی بھیجتا تو پاکستان کو اپنے ان پچیس لاکھ کماؤ بیٹوں کی حفاظت کیلئے ہی فوج سعودی عرب بھیجنا پڑیگی؟

ح
 
Top