• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اقیمو الصلوٰۃ و اٰتو الزکوٰۃ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پانچواں باب

بخل

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرً‌ا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ‌ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلِلَّـهِ مِيرَ‌اثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‌ ﴿١٨٠﴾ لَّقَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ‌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ‌ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ ﴿١٨١﴾ آل عمران
ترجمہ: جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لئے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے، آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاہ ہے یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے اور ان کا انبیاء کو بے درجہ قتل کرنا بھی، اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلنے والا عذاب چکھو!
توضیح: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بخیل کا بیان کیا ہے جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا حتیٰ کہ اس میں سے فرض زکوٰۃ بھی نہیں نکالتا حدیث میں ہے کہ قیامت والے دن اس کے مال کو ایک زہریلا اور نہایت خوفناک سانپ بنا کر طوق کی طرح اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا، وہ سانپ اس کی بانچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں (صحیح بخاری)
جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا: من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا(البقرۃ:۲۴۵)'' کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے'' تو یہود نے کہا اے محمد (ﷺ)! تیرا رب فقیر ہو گیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ‌ ذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْجَارِ‌ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورً‌ا ﴿٣٦﴾ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُ‌ونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿٣٧﴾النساء
ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو ے کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا جو لوگ خود بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیلی کرنے کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اسے چھپا لیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات میں حقوق العباد کو بیان فرمایا ہے اس کے بعد بخل کرنے والوں اور بخل پر ابھارنے والوں کی مذمت اور پھر فرمایا کہ ہمارے دیئے ہوئے کو چھپاتے ہیں یعنی کتھڑی اوڑھ کر گھی کھانے والے بخیلوں و کنجوسوں کو کافرین کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے فرمایا ہم نے کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے۔ العیاذ باللہ
وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللَّـهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٧٥﴾ فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِ‌ضُونَ ﴿٧٦﴾ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّـهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿٧٧﴾ التوبہ
ترجمہ: ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگروہ ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو وہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کر کے منہ موڑ لیا پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دنوں تک کیونکہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کا خلاف کیا اور کیوں کہ جھوٹ بولتے رہے۔
توضیح: مدینہ کے کچھ منافقین کچھ ایسی ہی تمنا لئے ہوئے تھے جب ان کی یہ تمنا پوری ہو گئی تو پھر اس سے مکر گئے اور بخل کا رویہ اختیار کر لیا اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ روش ناگوار گزری ان کی یہ حرکت کے مذمت میں یہ آیات نازل ہوئیں معلوم ہوا کہ بخل کنجوسی کتھڑی اوڑھ کر گھی کھانے والے منافق ہیں یہ امیر لوگ حاجی، نمازی، صوفی تو نظر آئیں گے مگر جب کس ضرورت مندوں کو ان کے پاس بھیجیں تو پھر دیکھو کیسے یہ اپنا بخیلی کا پینترا بدلتے ہیں ایسے لوگوں کو آیات مذکورہ سے نصیحت پکڑنا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بخل قارون

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ﴿٧٧﴾ قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُ‌ونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ‌ جَمْعًا ۚ وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِ‌مُونَ ﴿٧٨﴾ فَخَرَ‌جَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِ‌يدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُ‌ونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴿٧٩﴾ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ‌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُ‌ونَ ﴿٨٠﴾ فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِ‌هِ الْأَرْ‌ضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُ‌ونَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِ‌ينَ ﴿٨١﴾ وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّـهَ يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ‌ ۖ لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّـهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُ‌ونَ ﴿٨٢﴾ تِلْكَ الدَّارُ‌ الْآخِرَ‌ةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِ‌يدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿٨٣﴾ مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ‌ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٨٤﴾ القصص
ترجمہ: اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔ قارون نے کہا یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کی بنا پرہی دیا گیا ہے، کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت والے اور بہت بڑی جمع پونجی والے تھے اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی بازپرس ایسے وقت نہیں کی جاتیپس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا، تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وہ مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے۔ ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر و سہار والے ہوں (آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پرپہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی؟ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟ آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے جو شخص نیکی لائے گا اسے اس سے بہترملے گا، اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے بد اعمالی کرنے والوں کو ان کے انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جووہ کرتے تھے۔
توضیح: قارون کے بخل کے تعلق سے مذکورہ آیات میں بالتفصیل بات سمجھ آجاتی ہے اتنے خزانوں کا مالک ہونے کے باوجود وہ بے انتہا بخیل تھا آخرکار اس کا برا انجام ہوا وہ اور اس کا خزانہ زمین میں دھنسا دیا گیا یہ ایک عبرت ہے عقلمندوں کے لئے آج کے دولت مند امیر بخل و کنجوسی سے بچیں ورنہ قارون کے ساتھ ان کا انجام ہو گا۔
هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ ۖ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ۚ وَاللَّـهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَ‌اءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ‌كُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم ﴿٣٨﴾ محمد
ترجمہ: خبردار! تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلائے جاتے ہو، تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو اور اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے۔
توضیح: اس سورت میں منافقین کا ذکر ہے جنہوں نے کفراور اتداد کو ظاہر کیا اور پھر اس آخری آیت میں ان کی بخیلی کا خصوصی ذکر موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخل منافقین کی ایک بڑی خصلت تھی اس بری خصلت کو اللہ تعالیٰ مومنین کے لئے نصیحت کے طور سے واضح کیا تاکہ مومنین اس سے بچ جائیں اور اپنی عاقبت سنوار لیں ورنہ اللہ تعالیٰ ایسا بے نیاز ہے کہ تم دو یا نہ دو اس کی کبریائی میں ذرہ برابر فرق پڑنے والا نہیں ہے ہر نفس اپنے ہی لئے کرے گا۔
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَ‌حُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ‌ ﴿٢٣﴾ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُ‌ونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿٢٤﴾ الحدید
ترجمہ: تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور عطا کردہ چیز پر اترا جاؤ اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو (بھی) بخل کی تعلیم دیں سنو! جو بھی منہ پھیرے اللہ بے نیاز اور بڑی تعریف والا ہے۔
توضیح: مال اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک امانت ہے بسا اوقات اگر وہ ضائع ہو جائے تو واویلا نہ کرو بلکہ صبر کرو اور اللہ کے جانب رجوع ہو جاؤ توبہ کرو کیوں کہ اس سے پہلے اللہ نے تم کو بے حساب دیا تھا مگر تم نے غرور و تکبر کیا اور اس کی سرزمین میں اترانے لگے اور بخیلی و کنجوسی کا جامہ پہن لیا خود تو بخیل تھے مگر دوسروں کو بھی بخل پر اکساتے تھے آج تم نے اس کا انجام دیکھ لیا اللہ کی ذات بے نیازہے وہ لائق حمد و ثنا ہے لہٰذا اسی سے لو لگاؤ فیاضی اختیارکرو بخل سے بچ جاؤ۔
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ‌ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ‌ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِ‌هِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُ‌ونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٩﴾ الحشر
ترجمہ: اور (ان کے لیے) جنیوں نے اس گھرمیں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گرچہ خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو اور جو بھی اپنے نفس کو بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب ہے۔
توضیح: دوران جہاد جو بھی مال حاصل ہو اس میں بھی مہاجروں و مسکینوں، خانہ بدوشوں کو دینا ہے، ہر میدان میں خرچ کا حکم دیا گیا ہے ایک مثال ایثار عظیم کی جو اس آیت کا شان نزول بھی ہے ملاحظہ ہو
رحمۃ اللعلمین ﷺ کے گھر ایک مہمان وارد ہوئے لیکن آپ ﷺ کے گھر کچھ بھی نہ تھا اس مہمان رسول ﷺ کو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر لے کر گئے مگر ان کے گھر میں بھی سوائے بچوں کے حصہ کے اور کچھ نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ نے بیوی کو حکم دیا آج بچوں کو پھسلا کر بہلا کر سلا دو اور مہمان رسول ﷺ کو کھانا کھلاؤ تو ایسا ہی کیا گیا بچے اور خود میاں رضی اللہ عنہ، بیوی رضی اللہ عنہا بھی بھوکے رہے مگر مہمان کو کھانا کھلایا گیا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آیا اور آیت مذکورہ ''ویوثرون علیٰ انفسھم'' حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے عظیم ایثار پر خوش ہو کر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی رحمۃ اللعلمین ﷺ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ یہ آیت دونوں میاں بیوی کے حق میں نازل فرمائی سبحان اللہ یہ ہے فیاضی کا ثمرہ پھر آخر میں بخل سے روکا گیا ہے۔
إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّـهُ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿١٥﴾ فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرً‌ا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٦﴾ إِن تُقْرِ‌ضُوا اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ شَكُورٌ‌ حَلِيمٌ ﴿١٧﴾ التغابن
ترجمہ: تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے) تو وہ اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا اللہ بڑا قدردان بڑا بردبار ہے۔
توضیح: بخل کی مذمت میں کتنی زبردست آیات ہیں بے شک مال و دولت اللہ کا فضل و انعام ہیں جو بطور آزمائش اللہ ہمیں عطافرماتا ہے، بہت سے لوگ اس فضل و انعام کو بے دریغ معصیت و نافرمانی و گناہوں کے کام میں خرچ کرتے ہیں چونکہ شیطان ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ لوگ شیطان کی بات پرعمل کرتے ہیں انہیں کا انجام دنیا و آخرت میں بہت برا ہونے والا ہے اس کے برعکس اللہ کے وہ سعادت مند بندے جو اس کے فضل و انعام کو اللہ کی دی ہوئی امانت سمجھتے ہیں اور بخیلی نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے بشارت عظمیٰ کی خبر دی ہے جو دونوں جہاں میں سعادت مندی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
باغ والوں کے بخل کا انجام

اللہ رب العلمین کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے سرکشی و طغیانی اور فساد فی الارض اس کا وطیرہ بن چکا ہوتا ہے اس وقت اپنے آپ کو اور اپنی اصلیت کو وہ بھول چکا ہوتا ہے اور تکبر کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے طویل مہلت بھی دیتا ہے کہ میرا بندہ شاید توبہ کر لے مگر؟ رحمتہ اللعلمین رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ''ہرقوم کے لئے ایک آزمائش ہے اور میری امت کے لئے آزمائش (فتنہ) مال ہے'' (ترمذی) مگراکثریت اس آزمائش میں مبتلا ہو جاتی ہے ایسا ہی ایک باغ والوں کا قصہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِ‌مُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿١٧﴾ وَلَا يَسْتَثْنُونَ ﴿١٨﴾ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّ‌بِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ (سورۃ القلم -- پوراقصہ ہے)
''بے شک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے اور ان شاء اللہ نہیں کہا، پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا (باغ کے) چاروں طرف سے (عذاب الٰہی) گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے پس وہ باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی''
توضیح: ''بے شک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا'' سے مراد مکہ کے کفار ہیں جو کفر اور تکبر کرتے تھے اللہ نے انہیں مال و دولت سے نوازا تھا کہ وہ شکر کریں اور کفر و استکبار سے بچتے رہیں مگر کفار مکہ اپنے اس رویے سے باز نہیں آئے تو اللہ نے انہیں بھوک فقر و فاقہ اور قحط سالی میں مبتلا کر دیا تھا اسی مثال کو اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا، باغ والوں کا قصہ عربوں میں بہت مشہور تھا (جس طرح اصحاب الفیل ہاتھی والوں کا قصہ مشہور تھا) یہ باغ صنعاء یمن سے دو فرسخ کے فاصلے پرتھا اس ملک میں ایک بڑا امیر شخص تھاجس کا ایک عظیم باغ اپنی الگ پہچان رکھتا تھا اس کا مالک دیانت دار صالح نیک بخت و فیاض سخی جو غرباء و مساکین پر خلوص نیت سے خرچ کیا کرتا تھا اس کی سخاوت بڑی مشہور تھی غربا و نادار لوگ دعائیں کرتے رہتے تھے اور انتظار کرتے کہ فصل تیار ہو اور ہمیں اپنا حق ملے، اللہ نے اس کی خلوص نیت و سخاوت کی وجہ سے اس کے باغ میں بے انتہا برکت دے رکھی تھی، ان کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے وارث ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ تو بڑا ناسمجھ تھا جو خواہ مخواہ اپنی دولت کا بڑا حصہ یتیم و مساکین پر لٹاتا رہتا تھا ابھی تو ہمارے ہی اخراجات بمشکل پورے ہو رہے ہیں ہم اس آمدنی میں سے کس طرح یتیم و مساکین و سائلین کو دیں؟ آگے اٹھارویں آیات سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کرتوت کو تذکرہ اس طرح فرمایا:
''اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دیں (یعنی جب باغ کی فصل تیار ہو گئی) کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو وہ پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس ہرگز نہ آئے اور لپکے ہوئے صبح صبح ہی (باغ میں) پہنچ گئے سمجھ رہے تھے کہ ہم قابو پا گئے جب انہوں نے باغ کو دیکھا (جو عذاب الٰہی میں برباد ہو چکا تھا) تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ بھول گئے (تباہ شدہ باغ کو پہچان ہی نہ سکے) نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی'' (القلم: ۲۷۔۔الخ)
اپنی اس تدبیر پرانھیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو بھول ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی رات ہی رات میں ان کے باغ میں کھیتی میں پہنچنے سے پہلے ہی آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی اسی لئے رحمۃ اللعلمین نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگو! گناہوں سے بچو، گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کر دی گئی ہے پھر ان آیتوں کی تلاوت فرمائی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب کر دئیے گئے (تفسیر ابن کثیر فتح القدیر احسن البیان وغیرہم سورۃ القلم آیات مذکورہ)
یہ تھا بخل و کنجوسی کا انجام اگر اولاد باپ کی طرح فیاض و سخی ہوتے تو یقیناً انجام بہتر ہوتا (ماخوذ میری پہلی تصنیف ''ان شاء اللہ اور مشیت الٰہی''، ص:۸۰ سے ۸۲ تک)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ وَالنَّهَارِ‌ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ۔۔۔۔
(اللیل۔۔ آخر تک)
ترجمہ: شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جوبڑ امہربان نہایت رحم والا ہے۔ قسم ہے رات کی جب چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی توہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا بیشک راہ دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہو گا جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ نے اس پوری سورہ میں اللہ کے راستہ میں خرچ اور بخل سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے اور فرمایا کہ جو شخص فیاض و سخی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلیں آسان فرما دیتا ہے اور بخیل آدمی کو اللہ کے یہاں اس کا مال کام نہ دے گا بلکہ اس نے دنیا میں جو کچھ خرچ کیا ہو گا وہ اس کے کام آئے گا
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ‌ عَلَيْهِ رِ‌زْقَهُ فَيَقُولُ رَ‌بِّي أَهَانَنِ ﴿١٦﴾ كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِ‌مُونَ الْيَتِيمَ ﴿١٧﴾ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿١٨﴾ الفجر
ترجمہ: اور جب وہ اس کو آزماتا ہے تو اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (ذلیل کیا) ایسا ہرگز نہیں بلکہ تم ہی یتیموں کی عزت نہیں کرتے اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ برتاؤ کے تعلق سے بیان فرمایا کہ اگر تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو گے تو تمہیں رزق میں کشادگی دی جائے گی اور اگر تم ان کے ساتھ بے رخی برتو گے اور بخیلی کرو گے تو تمہیں تنگی رزق میں مبتلا کر دیا جائے گا لہٰذا انجام بد سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کر لو ورنہ آخرت میں سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہ ہو گا
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿١١﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿١٢﴾ فَكُّ رَ‌قَبَةٍ ﴿١٣﴾ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ﴿١٤﴾ يَتِيمًا ذَا مَقْرَ‌بَةٍ ﴿١٥﴾ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَ‌بَةٍ ﴿١٦﴾ البلد
ترجمہ: تو اس سے یہ نہ ہو گا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا اور کیا سمجھا کہ گھاٹی کیا ہے کسی گردن کو آزاد کرنا یا بھوک والے دن کھانا کھلا دینا کسی رشتہ دار یتیم کو یا خاکسار مسکین کو۔
توضیح: جس طرح کسی بڑی دشوار گھاٹی میں چڑھنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح یتیموں مسکینوں کی کفالت محتاجوں کی مدد یہ بھی بڑا مشکل کام ہے، مگر اس کو انجام دینا جہنم کی گھاٹی سے اپنے آپ کو بچا کر جنت الفردوس میں داخل ہونا ہے۔ سبحان اللہ۔
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‌ ﴿١﴾ حَتَّىٰ زُرْ‌تُمُ الْمَقَابِرَ‌ ﴿٢﴾ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٣﴾ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٤﴾ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ ﴿٥﴾ لَتَرَ‌وُنَّ الْجَحِيمَ ﴿٦﴾ ثُمَّ لَتَرَ‌وُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ﴿٧﴾ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ﴿٨﴾ التکاثر
ترجمہ: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے ہرگزنہیں تم عنقریب معلوم کر لو گے ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو تو بے شک تم جہنم دیکھ لو گے اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا۔
توضیح: انسان صرف دنیا سنوارنے میں لگا ہوا ہے اس کی خواہش تکمیل تک نہیں پہنچ رہی ہیں بس ہائے ہائے یہ بنا لوں وہ بنا لوں اتنا جمع کر لوں اس سے سبقت کر لوں اسی اس میں وہ اللہ کے ذکر نماز سے غافل رہتا ہے بالآخر موت اس کو دبوچ لیتی ہے سب کچھ چھوڑ کر دو گز زمین کے ٹکڑے میں سما جاتا ہے اگر اس نے حاجت مندوں، محتاجوں، سائلوں، غربا و مسکینوں و یتیموں کا خیال کیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ بخل اسے جہنم کا ایندھن بنائے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ﴿١﴾ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ ﴿٢﴾ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ ﴿٣﴾ كَلَّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ﴿٤﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْحُطَمَةُ ﴿٥﴾ نَارُ‌ اللَّـهِ الْمُوقَدَةُ ﴿٦﴾ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ ﴿٧﴾ إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ ﴿٨﴾ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ﴿٩﴾
الھمزہ
ترجمہ: شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
بڑی خرابی ہے ہرایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا، غیبت کرنے والا ہو جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا ہر گز نہیں یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہو گی؟ وہ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہو گی جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی اور ان پر بڑے بڑے ستونوں میں ہر طرف سے بند کی ہوئی ہو گی۔

توضیح: اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنا آگاہ فرمایا ہے کہ اس کے انجام بد سے خبردار کیا مگر ہائے رے انسان تو اپنی دولت میں کتنا مگن ہے اس کے غرور کے نشہ میں مست ہے تجھے معلوم نہیں کہ قارون جیسے کئی لوگ اب تک اس دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں آج لوگوں کے پاس لاکھوں کروڑوں روپیہ بینکوں کی زینت ہیں محل و مکانات میں جن و شیطان کا بسیرا ہے جو خالی پڑے ہوئے ہیں مگر کتنے محتاج آج بھی کھلے آسمان میں ننگے بدن اور کتنے ائمہ مساجد کے رہائشی انتظام نہ ہونے کے سبب برسوں اپنے گھروں سے دور ہیں۔

*****​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
چھٹا باب



جمعہ کی نمازیں
جمعہ کی دو رکعت فرض ہیں خطبۂ جمعہ سے پہلے جتنا ہو سکے سنتیں پڑھیں اگر خطبہ شروع ہو چکا ہو تو صرف دو رکعت سنت پڑھیں جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعت سنتیں دو دو کر کے پڑھیں۔

عیدین کی نمازیں
صرف دو رکعت مؤکدہ ہیں۔
نفل نمازیں
نماز تہجد یا نماز تراویح: گیارہ رکعت /آٹھ نفل تین وتر
چاشت کی نماز: کم از کم چار رکعت دو دو کر کے، زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت
تحیۃ المسجد: دو رکعت (سفروحضردونوں میں)
نقشہ ہٰذا کتب احادیث صحاح ستہ سے ترتیب دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آئینۂ زکوٰۃ


زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہونا چاہئے جس طرح نماز میں اجتماعیت ہے اگر یہ نظام قائم ہو جائے تو مسلمان کبھی بھی کسی کا محتاج نہیں رہے گا اس کے لئے بیت المال کا قیام ہو جس میں صدقات و زکوٰۃ جمع ہوں پھر اس سے ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوں اللہ تعالیٰ نے اہل مصارف کا اس طرح تعین فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
''بے شک صدقات (زکوٰۃ) صرف فقیروں کے لئے ہیں اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور دلوں کی تالیف کے لئے (غیرمسلموں کے لئے جن کے دل اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں یا وہ غریب نئے مسلم جو ابھی اسلام میں داخل ہوئے ہوں) اور گردن کے آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے اور یہ اہم فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے'' (التوبہ۹:۶۰)
اسلام میں بیت المال کا با ضابطہ نظام موجود ہے لہٰذا مذکورہ تعین کے تحت اس پر عمل ہونا چاہئے۔

اونٹوں کا نصاب
اگر کسی کے پاس ۵ سے لے کر ۹ تک اونٹ ہو تو ایک بکری زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۱۰ سے لے کر ۱۴ تک اونٹ ہو تو دو بکری زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۱۵ سے لے کر ۱۹ تک اونٹ ہو تو تین بکری زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۲۰ سے لے کر ۲۴ تک اونٹ ہو تو چار بکری زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۲۵ سے لے کر۳۵ تک اونٹ ہو تو ایک سال کی اونٹی جس کا دوسرا شروع ہو۔
اگر کسی کے پاس ۳۶ سے لے کر ۴۵ تک اونٹ ہو تو دوسال کی اونٹنی۔
اگر کسی کے پاس ۴۶ سے لے کر ۶۰ تک اونٹ ہو تو ایک اونٹنی جس کا چوتھا سال شروع ہو۔
اگر کسی کے پاس ۶۱ سے لے کر ۷۵ تک اونٹ ہو تو ایک اونٹنی جس کا پانچواں سال شروع ہو۔
اگر کسی کے پاس ۷۶ سے لے کر ۹۰ تک اونٹ ہو تو دو اونٹنیاں تیسرے سال والی زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس۹۱ سے لے کر ۱۲۰ تک اونٹ ہو تو دو اونٹنیاں چوتھے سال والی زکوٰۃ ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الزکوٰۃ)

گایوں کا نصاب
اگر کسی کے پاس ۳۰ سے لے کر ۳۹ گائے ہو تو ایک گائے کا بچہ جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۴۰ سے لے کر ۵۹ گائے ہو تو تیسرے سال والی ایک گائے زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۶۰ سے لے کر ۷۰ گائے ہو تو دوسراسال شروع کر چکے دو بچھڑے زکوٰۃ ہے۔
(سنن بیقہی، ابوداؤد، حاکم)

بکریوں کا نصاب
اگر کسی کے پاس ۴۰ سے لے کر ۱۲۰ بکریاں ہو تو ایک بکری زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۱۲۱ سے لے کر ۲۰۰ بکریاں ہو تو دو بکریاں زکوٰۃ ہے۔
اگر کسی کے پاس ۲۰۱ سے لے کر ۳۰۰ بکریاں ہو تو تین بکریاں زکوٰۃ ہے۔
اس کے بعد ہر سو پرایک بکری بڑھتی جائے گی۔
(صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ مع فتح الباری)

سونے کا نصاب
اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ہو اور پورا ایک سال گزر چکا ہو تو اس پر چالیسواں حصہ سوا دو ماشہ سونا (یا پھر اس کی قیمت) زکوٰۃ ہے اس سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے ہاں کوئی خوشی سے کچھ خیرات کر دے۔

چاندی کا نصاب
اگر کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ہو اور ایک سال گزر چکا ہو تو اس پر چالیسواں حصہ ایک تولہ چار ماشہ چاندی (یا پھر اس کی قیمت) زکوٰۃ ہے اس سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے ہاں کوئی خوشی سے کچھ خیرات کر دے۔

نقدی کرنسی روپئے کا نصاب
اگر کسی کے پاس چاندی کے نصاب کی قیمت کے برابر روپیہ ہو اور اس پر پورا ایک سال گزر چکا ہو تو ڈھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جائے گی اس سے کم پر زکوٰۃ نہیں ہے ہاں کوئی خوشی سے خیرات کر دے اس سے زیادہ جتنا بڑھتا جائے۔

اناج غلے کا نصاب
اگر کسی کے یہاں بیس من غلہ اناج آسمانی بارش سے تیار ہوا تو دسواں حصہ (عشر) زکوٰۃ ہے (یعنی بیس من میں دو من غلہ زکوٰۃ ہے) اور اگر غلہ اناج کنویں کے پاس سے یا پھر نہر یا تالاب کے پانی سے تیار ہوا ہو تو نصف عشر بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے (یعنی بیس من میں صرف ایک من غلہ زکوٰۃ ہے)
(کتب احادیث، کتاب الزکوٰۃ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آئینۂ نماز۔۲


وضو
نماز کے لئے وضو ضروری ہے وضو بسم اللہ سے شروع کریں پھر اپنے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین بار دھوئیں پھر تین بار کلی کریں اور تین بار ناک میں پانی ڈالیں بائیں ہاتھ سے ناک صاف کریں پھر تین بار منہ دھوئیں اور داڑھی کا خلال کریں پھر اپنا داہنا ہاتھ کہنی تک تین بار دھوئیں، اسی طرح بایاں ہاتھ بھی کہنی تک تین بار دھوئیں اور ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال کریں اگر انگوٹھی ہو تو اس کو ہلا لیں سر کا مسح کریں دونوں ہاتھ کو سر کے اگلے حصے سے شروع کر کے گدی تک لے جائیں، پھر وہاں سے اسی جگہ واپس لے جائیں جہاں سے شروع کئے تھے اور کانوں کا مسح کریں، شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر کانوں کی پیٹھ پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کریں پھر اپنا داہنا پیر پھر بایاں پیر ٹخنوں تک تین بار دھوئیں اور پیروں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں وضو پورا ہوا۔

تیمم
اگر کسی وجہ سے نماز کے وقت پانی نہ مل سکے یا بیماری میں پانی استعمال کرنے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو بسم اللہ کہہ کر دونوں ہاتھ پاک مٹی پر مارے، پھر پھونک کر منہ اور دونوں ہاتھ پر ملے اس کے بعد یہ دعا پڑھیں :
اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہٗ لاشریک لہ واشھدان محمداً عبدہٗ ورسولہ اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین

قیام
کسی بھی نماز کو شروع کرنے سے پہلے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز کی نیت دل میں کریں پھر دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھا کر اللہ اکبر کہتے ہوئے داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر اپنے سینے پر رکھ کر نیت باندھ لیں پھر دعا ثناء پڑھیں:
سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک ،پھر، اعوذباللہ من بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد کوئی اور سورۂ ملانا ہے کیونکہ بغیرسورۂ فاتحہ کے نماز ہی نہیں ہوتی۔

فضیلت سورۃ فاتحہ
(عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال انی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: قال اللہ تعالیٰ الحدیث (رواہ مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نماز نصف نصف تقسیم ہے نصف نماز میرے لئے اور نصف نماز میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو وہ مانگے گا جب بندہ ''الحمد للہ رب العلمین'' (تمام تعریفیں اللہ رب العلمین کے لئے ہے) کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی اور جب وہ کہتا ہے الرحمن الرحیم (جو رحمن اور رحیم ہے) اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی اور جب وہ کہتا ہے ''مالک یوم الدین'' (یوم جزا کا مالک ہے) تو (اللہ) فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی کا اظہار کیا اور جب وہ کہتا ہے ''ایاک نعبد وایاک نستعین'' (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں) تو وہ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کو وہ چیز ملے گی جس کی اس نے درخواست کی اور جب وہ کہتا ہے ''اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین'' (ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہو اور گمراہوں کا راستہ) تو فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو وہ چیز حاصل ہو گی جس کا اس نے سوال کیا۔ اب پوری نماز اطمینان سے پڑھیں تاکہ ہماری ساری دعائیں بارگاہ الٰہی میں قبول ہو جائیں والا ضالین کے بعد بلند آواز سے آمین کہنا ہے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر رفع الیدین کرتے ہوئے رکوع کریں رکوع میں تین بار سبحان ربی اعظمیم کہنا ہے۔

قومہ (رکوع کے بعد کھڑے ہونا)
پھر رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین (دونوں ہاتھ اٹھانا) کرتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو کر ''سمیع اللہ لمن حمدہ'' "ربنا لک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاًفیہ'' پڑھیں۔

سجدہ
پھر سجدہ میں جاتے وقت پہلے دونوں ہاتھ زمیں میں رکھ کر پھر گھٹنوں کو رکھیں سجدہ میں ناک پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں قدم کی انگلیاں زمین پر ٹکا دیں ہاتھ پہلو سے دور رکھیں سینہ پیٹ رانیں زمین سے اونچی رکھنا ہے سجدوں کی تسبیح ''سبحان ربی الاعلیٰ'' تین مرتبہ پڑھنا ہے۔

جلسہ (دونوں سجدے کے درمیان بیٹھنا)
پھر پہلے سجدہ سے سر اٹھا کر بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور داہنا ہاتھ داہنی ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں قبلہ رخ اور گھٹنے کے قریب ہوں اور یہ دعا پڑھیں :
اللھم اغفرلی وارحمنی وعافنی واھدنی وارزقنی
پھر دوسرا سجدہ بھی اسی طرح کرنا ہے دوسرے سجدہ سے اٹھ کرجب دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے کھڑا ہونا ہو تو جلسہ استراحت کرنا ہے (یعنی ہلکا سا بیٹھنا) جلسہ استراحت کے بعد دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے اور قعدۂ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھنے کے وقت پہلے دونوں گھٹنوں کو زمین سے اٹھائیں پھر دونوں ہاتھوں کو
تشہد(قعدہ اولیٰ)
پہلے قعدہ میں جلسۂ استراحت ہی کی طرح بیٹھ کر یہ دعا پڑھیں:
التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلیٰ عباداللہ الصالحین، اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہُ و رسولہٗ پھر درود شریف پڑھنا ہے۔
(قعدہ اولیٰ دو رکعت کے بیٹھنے کو کہتے ہیں )
قعدۂ اولیٰ اور آخری میں التحیات پڑھتے وقت دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو موڑ کر کلمہ کی انگلی کو کھلی رکھ کراس سے اشارہ کرنا چاہئے، تین اور چار رکعت والی نمازوں میں پہلے قعدہ سے اٹھنے کے بعد رفع الیدین کرنا چاہئے فرض کی تیسری اور چوتھی رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنی چاہئے۔
آخری قعدہ (آخری رکعت کے لئے بیٹھنے کو کہتے ہیں)
آخری قعدہ میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ داہنا پاؤں قبلہ رخ کر کے کھڑا رکھا جائے اور بائیں پاؤں کو دائیں طرف نکالا جائے اور بائیں جانب کی سرین کو زمین پر رکھ کر بیٹھا جائے پھر تشہد کے بعد درود شریف پڑھیں:
درود شریف:اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کماصلیت علیٰ ابراہیم و علیٰ ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کمابارکت علیٰ ابراھیم وعلیٰ ال ابراھیم انک حمید مجید
درود شریف کے بعد کی دعائیں

اللھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیراولا یغفرالذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم
اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر واعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذبک من فتنۃ المحیاوفتنۃ الممات اللھم انی اعوذبک من الماثم ومن المغرم

پھر داہنی طرف رخ کرتے ہوئے کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ پھر بائیں طرف کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ
سلام کے بعد کی دعائیں
سلام پھیرنے کے بعد امام اور مقتدی کو بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا ہے اور تین مرتبہ استغفراللہ کہیں پھر یہ دعا پڑھیں:اللھم انت السلام سمنک السلام تبارکت یاذا الجلال والا کرام
ان دعاؤن کے علاوہ ۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمد اللہ اور ۳۳ بار اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شی قدیر پڑھیں۔
آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد اٰیۃ الکرسی پڑھے گا وہ سیدھے جنتی ہو گا
نوٹ: فرض نماز کے فوراً بعد امام کے ساتھ اجتماعی دعا کرنا بدعت ہے
وتر کی نماز
وتر کی نماز ایک رکعت یا تین رکعت پڑھنی چاہئے، وتر رات کی آخری نماز ہے۔
دعاء قنوت وتر
وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت کی یہ دعا پڑھنی چاہئے :
اللھم اھدنی فیمن ھدیت وعافنی فیمن عافیت وتولنی فیمن تولیت وبارک لی فیما اعطیت وقنی شرما قضیت فانک تقضی ولا یقضی علیک انہ لایذل من والیت ولا یعزمن عادیت تبارکت ربنا وتعالیت نستغفرک ونتوب الیک وصلی اللہ علی النبی
حوالے :صحاح ستہ سے
بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ اور مسند احمد وصحیح ابن حزیمہ وغیرہم کتاب الصلوۃ

*****​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ساتواں باب


سجدۂ تلاوت
قرآن کریم میں پندرہ سجدے ہیں ذیل میں تفصیل بیان کی جا رہی ہے سجدے کے لغوی معنی سر جھکانا سجدہ کرنا ''تعظیماً یا عبادۃً'' سجود جمع ہے اللہ تعالیٰ کے لئے پیشانی و ماتھا زمین پر رکھنا، اسی لیے مسجد کو سجدہ کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں
طریقۂ سجدہ اور اس کے اقسام
سجدہ سات ہڈیوں سے کیا جاتا ہے: (۱) پیشانی مع ناک، (۲) دونوں ہاتھوں، (۳) دونوں گھٹنوں اور (۴) دونوں پاتھوں کی انگلیوں کی پوروں سے
اقسام: نمازوں میں سجدے نماز میں بھول چوک ہونے پر سجدۂ سہو، سجدۂ تلاوت، دوران نماز یا دوران تلاوت قرآن کریم میں سجدہ والی آیت آنے پر سجدۂ شکر کوئی اچھی خبر سننے پر یا کوئی خوشی کے لمحات آنے پر یا دعاؤں کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت ساری زمین میں کہیں بھی کر سکتے ہیں سوائے قبرستان میں یا کوئی قبر کے سامنے یا بت خانوں میں یا جہاں تصویریں ہوں، کو ڑا کرکٹ کی جگہیں، بیچ راستوں میں جہاں عام لوگوں کا گزرنا لگاتار رہتا ہے حمام خانہ میں اونٹوں کے کاندھے کی جگہ میں کعبۃ اللہ کی چھت پر ان مقامات کو چھوڑ کر کہیں بھی سجدے کئے جا سکتے ہیں چونکہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے لئے ساری زمین کو مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے یعنی جہاں نماز کے اوقات آ جائیں وہاں نماز پڑھ لیں اور پانی نہ ملنے پر یا بیماری میں وضو کی جگہ تیمم کر لیں (سبحان اللہ کیا احسان ہے اس امت پر)
(بخاری ومسلم ابوداؤد ترمذی مسند احمد سنن نسائی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سجدۂ تلاوت

سجدے کی چند مثالیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھتے تھے تو جب کسی سجدہ والی آیت سے گزرتے تو اللہ اکبر کہتے اور آپ ﷺ سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے (ابو داؤد)
سجدۂ تلاوت کی دعا
سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن (ترمذی نسائی)
جسے یہ دعا یاد نہ ہو تو سبحان ربی الاعلیٰ تین بار پڑھے اب با بالترتیب سجداتِ تلاوت ملاحظہ فرمائیں
وَاذْكُر‌ رَّ‌بَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّ‌عًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ‌ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ ﴿٢٠٥﴾ إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَ‌بِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ ۩ ﴿٢٠٦﴾ الاعراف
ترجمہ: اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
توضیح: یہ آیت سجدہ قرآن کریم کی پہلی آیت اور پہلا سجدہ ہے جب سجدہ والی آیت آتی تو رحمۃ اللعلمین رسول اکرم ﷺ فوراً سجدہ میں چلے جاتے اور آپ کے ساتھ جو بھی ہوتا وہ بھی سجدہ میں گر جاتا اور آپ ﷺ نے آیات سجدات میں سجدہ کرنے کا حکم دیا چونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اگر نماز میں بھی یہ آیت آ جائے تو قرأت چھوڑ کر پہلے سجدہ کرنا ہے پھر اس کے بعد قرأت شروع کرنا ہے سجدہ میں گر جانا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے اور جو سجدہ نہ کرے وہ تکبر و غرور پسند ہے یقینی بات ہے کہ جو لوگ نمازوں کے پابند ہوں گے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں گے انہیں ہی سجدوں کی سعادت نصیب ہو گی وہی خوش نصیب ہیں اب وہ مسلمان جواس سے محروم ہوں وہ اس کی زمین میں بوجھ ہیں وہ ہمیشہ ذلیل اور رسوا ہوں گے جن کو جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔ العیاذ باللہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ طَوْعًا وَكَرْ‌هًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩ ﴿١٥﴾ الرعد
ترجمہ: اللہ ہی کے لیے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور نا خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح و شام۔
توضیح: اس سے پہلے کی آیات میں ہے کہ ہر چیز اس کی تسبیح حمد و ثنا بیان کر رہی ہے آسمان میں گرج و کڑک و بجلی اور اس کے فرشتے وغیرہم
مگر یہ انسان کتنا بڑا نافرمان وسرکش ہے کہ کتنا اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان و کرم کیا وہ غیروں کے سامنے سربسجود ہیں اور ایک ایمان والا ہے وہ بھی سجدوں سے محروم لہٰذا انسان اگر اللہ کے لئے سجدے نہ کرے تو اللہ بے نیاز ہے کیوں کہ اس کے سامنے زمین و آسمان کی ساری چیزیں سجدہ کر رہی ہیں۔
وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ﴿٤٩﴾ يَخَافُونَ رَ‌بَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ‌ونَ ۩ ﴿٥٠﴾ النحل
ترجمہ: کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے اور اپنے رب سے جوان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں
توضیح: اللہ تعالیٰ ان آیات میں بھی انسان کو جتا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں لگے رہو جس سے تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ اس کی عبادت میں ساری چیزیں اور اس کے سائے جھکے ہوئے ہیں جیسا کہ مذکورہ آیات میں بیان ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّ‌ونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا ﴿١٠٧﴾ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَ‌بِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَ‌بِّنَا لَمَفْعُولًا ﴿١٠٨﴾ وَيَخِرُّ‌ونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩ ﴿١٠٩﴾ بنی اسرائیل
ترجمہ: کہہ دیجئے! تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ بلا شک و شبہ پورا ہو کر رہنے والا ہی ہے وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ کافرین و مشرکین سے مخاطب ہے کہ اگر تم پیغام الٰہی کو جھٹلاتے ہو تو جھٹلاؤ مگر کچھ اہل کتاب جس سے تم بھی واقفیت رکھتے ہو وہ تو پہلے ہی صفات نبوی ﷺ کو پہچان کر (جو انہوں نے اپنی کتابوں میں پڑھا تھا) آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے اور جب انہوں نے کلام ربانی سنا تو فوراً سجدے میں گر پڑے عاجزی و انکساری کا ثبوت دیتے ہوئے لہٰذا نماز کے پابند اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والے عاجزی و انکساری کو اپنانے والے ہیں۔
وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّ‌حْمَـٰنِ خَرُّ‌وا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩ ﴿٥٨﴾ مریم
ترجمہ: ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے اور روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ نے ان آیات سے پہلے پیغمبروں اور صالحین نیک لوگوں کا ذکر فرما کر ان کی صفات بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے عبادت گزار سجدہ ریز ہونے والے تھے اور جب ان کے سامنے کلام الٰہی پڑھا جاتا تو اسے سن کر رونے لگتے تھے ان کے سامنے یوم الحساب کا منظر ہوتا جہنم کی ہولناکیوں سے خوف کھانے لگتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے حدسے زیادہ ڈرتے تھے مگر آج نام کے مسلمان مکر و فریب کے مجسمے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں رکھتے نمازوں سے اور تلاوت قرآن کریم سے دوری رکھے ہوئے ہیں۔
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ‌ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ‌ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ‌ مِّنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ‌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِ‌مٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ۩ ﴿١٨﴾ الحج
ترجمہ: کیا آپ ﷺ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں، سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
توضیح: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی ہوئی ہیں مگر انسان ہے کہ اِن مخلوق کے ہی سامنے سجدہ کر رہا کوئی زمین دھرتی ماتا، کوئی سورج کو سورج دیوتا، کوئی چاند کو چندر ماں، کوئی پہاڑ کو درختوں (بڑ پیپل کا پیڑ، تلسی کا پیڑ وغیرہ) کوئی جانوروں، کوئی انسانوں کو معبود بنائے رکھے ہیں کوئی قبروں میں دفن انسانوں کو وغیرہ یہ سارے مشرکین ذلیل ورسوا ہیں اور جہنم کا ایندھن ہیں صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے مواحد مومن ہیں انہیں کے لئے جنت کا وعدہ ہے۔
 
Top