1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

امام بخاری رح ایک فقیہ تھے علماء کی گواہی

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏مئی 05، 2016۔

  1. ‏مئی 05، 2016 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    امام بخاری رح ایک فقیہ تھے علماء کی گواہی


    اس تحریر کو رومن انگلش میں پڑھنے اور اسکین پیجیس کے لئے یہاں کلک کریں

    https://ahlehadithhaq.wordpress.com/2016/05/05/imam-bukhari-rh-ek-faqeeh-the-ulama-ki-gawahi/

    بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ امام بخاری رح کی فقاہت سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ فقیہ نہیں تھے ـ آئیے اس بات کا ازالہ ہم جلیل القدر ائمہ ، فقہاء و محدثین اور دیگر علماء سے کرتے ہیں کہ امام بخاری رح ایک فقیہ تھے

    ۱- امام بخاری رح کے استاد ابو مصعب احمد بن ابوبکر الزھری (متوفی ۲۴۲ ھ) امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:
    قَالَ لي أبو مصعب أحمد بن أبي بكر المديني: محمد بن إسماعيل افقه عندنا وأبصر من ابن حنبل.
    فقال رجل من جلسائه: جاوزت الحد.
    فقال أبو مصعب: لو أدركت مالكا ونظرت إلى وجهه ووجه محمد بن إسماعيل لقلت: كلاهما واحدا في الفقه والحديث.

    کہ امام بخاری ہمارے خیال میں امام احمد بن حنبل سے فقاہت میں زیادہ کمال اور بصیرت رکھتے تھے.ایک شخص نے اعتراض کیا کہ ابو مصعب! آپ نے تو انہیں خود سے بھی بڑھا دیا.ابو مصعب بولے،اگر تم امام مالک سے ملے ہوتے اور امام بخاری اور امام مالک دونوں کے چہروں پر غور کیا ہوتا تو تم بول اٹھتے کہ دونوں فقاہت اور بصارت بالحدیث میں برابر ہیں. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۳۹،تاریخ دمشق ج ۱۵ ص ۵۰،تھذیب الکمال ج ۲۴ ص ۴۵۵،تاریخ اسلام ص ۲۵۶،سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۰،تحفة الاخبازي ص ۲۰۱،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۱،مقدمة الفتح ص ۴۸۲)

    ۲- امام بخاری رح کے شیوخ امام یعقوب بن ابراھیم دورقی (متوفی ۲۵۲ ھ) اور نعیم بن حماد خزاعی دونوں امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:

    محمد بن إسماعيل فقيه هذه الأمة
    کہ محمد بن اسماعیل اس امت کے فقیہ ہیں. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۴۴،۳۴۲،تھذیب الکمال ج ۲۴ ص ۴۵۹،۴۵۷،تاریخ الاسلام ص ۲۵۷،۲۵۵،سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۴،۴۱۹،تحفة اخباري ص ۲۰۰ (قول الدورقی)، تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۴،طبقات السبکی ج ۲ ص ۲۲۳،مقدمة الفتح ص ۴۸۳)

    ۳- امام خطیب بغدادی رح لکھتے ہیں:

    حاشد بن إسماعيل، يقول: كنت بالبصرة فسمعت قدوم محمد بن إسماعيل، فلما قدم، قَالَ: محمد بن بشار: دخل اليوم سيد الفقهاء
    کہ حامد بن اسماعیل کہتے ہیں،میں بصرہ میں موجود تھا کہ محمد بن اسماعیل کی آمد کی خبر پہنچی.محمد بن بشار (امام بخاری کے استاد نے) سن کر فرمایا آج سید الفقہاء آئے ہیں. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۳۶،تھذیب اسماء واللغات ج ۱،۱ ص ۶۸،ما تمس اليه الحاجة الفاري ص ۲۶،تھذیب الکمال ج ۲۴ ص ۴۴۹،تاریخ الاسلام ص ۲۵۶،سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۲،مقدمة الفتح ص ۴۸۳)

    ۴- خطیب بغدادی رح لکھتے ہیں:

    محمد بن أبي حاتم، قَالَ: سمعت علي بن حجر، يقول: أخرجت خراسان ثلاثة: أبا زرعة الرازي بالري، ومحمد بن إسماعيل البخاري ببخارى، وعبد الله بن عبد الرحمن بسمرقند، ومحمد بن إسماعيل عندي أبصرهم، وأعلمهم، وأفقههم.
    کہ امام محمد بن ابی حاتم رح نے کہا کہ میں نے علی بن حجر رح (امام بخاری رح کے استاد) (متوفی ۲۴۴ ھ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ خراسان نے تین شخصوں کو پیدا کیا.ابو زرعہ،محمد بن اسماعیل البخاری اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن.اول ان میں امام بخاری رح ہیں اور امام بخاری رح سب میں زیادہ فقیہ اور علم میں سب سے زیادہ ہیں،ان جیسا میرے علم میں کوئی نہیں. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۴۹،تھذیب اسماء واللغات ج ۱،۱ ص ۲۹،تاریخ الاسلام ص ۲۵۶،سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۱،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۸،مقدمة الفتح ص ۴۸۴)

    ۵- امام بخاری رح کے استاد احمد بن اسحاق سرماری فرماتے ہیں:

    وقال أحمد بن إسحاق السرماري من أراد أن ينظر إلى فقيه بحقه وصدقه فلينظر إلى محمد بن إسماعيل
    کہ جو شخص چاہے کہ سچے اور واقعی فقیہ کو دیکھے تو وہ محمد بن اسماعیل کو دیکھے. (مقدمة الفتح ص ۴۸۴،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۸،اور مزید دیکھئیے سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۱۷ اور اس میں کچھ اضافے بھی ہیں)

    لنک مقدمة الفتح ص 484>> http://islamport.com/d/1/srh/1/57/2509.html

    ۶- امام حاشد بن عبداللہ بن عبدالواحد رح امام بخاری رح کے دو شیوخ کے متعلق فرماتے ہیں:

    حاشد بن عبد الله بن عبد الواحد، يقول: رأيت عمرو بن زرارة، ومحمد بن رافع عند محمد بن إسماعيل وهما يسألان عن علل الحديث، فلما قاما قالا لمن حضر المجلس: لا تخدعوا عن أبي عبد الله فإنه افقه منا واعلم وأبصر.
    کہ میں ایک روز امام بخاری صاحب کی خدمت میں حاضر تھا.آپ کے پاس عمرو بن زرارة اور محمد بن رافع (امام بخاری رح کے شیوخ) موجود تھے اور امام المحدثین پر علل حدیث کے سوالات پیش کر رہے تھے.وقت رخصت ان دونوں نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا،امام بخاری رح کی شان میں گستاخی نہ کرنا.جس پایہ کے وہ فقیہ ہیں،ان کی قدر شناسی کرو،ان پر ہمارا رتبہ نہ بڑھاؤ.وہ ہم سے فقاہت اور بصیرت میں اور علم میں بڑھے ہوئے ہیں. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۴۸,سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۹،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۸،مقدمة الفتح ص ۴۸۴)

    ۷- امام بخاری رح کے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن جعفر رح فرماتے ہیں:

    قَالَ مُحَمَّدُ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بنَ سَعِيْدِ بنِ جَعْفَرٍ يَقُوْلُ: لَمَّا مَاتَ أَحْمَدُ بنُ حَرْبٍ النَّيْسَابُوْرِيُّ ركبَ مُحَمَّدٌ وَإِسْحَاقُ يُشَيِّعَانِ جِنَازَتَهُ.
    فكُنْتُ أَسْمَعُ أَهْلَ المَعْرِفَةِ بِنَيْسَابُوْرَ يَنْظُرُونَ، وَيَقُوْلُوْنَ: مُحَمَّدٌ أَفْقَهُ مِنْ إِسْحَاقَ.

    کہ جب احمد بن حرب نیشاپوری رح کا انتقال ہو گیا تو امام اسحٰق بن راہویہ اور امام بخاری جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے.میں نے اہل علم اور اہل بصیرت کو کہتے سنا کہ امام بخاری رح،اسحٰق بن راہویہ رح سے زیادہ فقیہ ہیں. (سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۱۸،تاریخ الاسلام ص ۲۵۵،طبقات السبکی ج ۲ ص ۲۲۳،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۹،مقدمة الفتح ص ۴۸۴)

    ۸- امام بخاری رح کے استاد امام حافظ رجاء بن المرجّا رح (متوفی ۲۴۹ ھ) فرمایا کرتے تھے:

    رجاء بن المرجى، يقول: فضل محمد بن إسماعيل على العلماء كفضل الرجال على النساء،
    کہ امام بخاری رح کی فضیلت سارے علماء (فقہاء محدثین) پر ایسی ہے جیسے مردوں کی عورتوں پر. (تاریخ بغداد ج ۲ ص ۳۴۶،سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۷،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۰۶،مقدمة الفتح ص ۴۸۴،۴۸۳)

    ۹- امام عبداللہ بن عبدالرحمٰن االدارمی امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:

    عَبْدَ اللهِ بنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْديًّ عَنْ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: مُحَمَّدُ بنُ إِسْمَاعِيْلَ
    أَعْلَمُنَا وَأَفْقَهُنَا وَأَغْوَصُنَا، وَأَكْثَرُنَا طلباً.

    کہ امام بخاری رح ہم سے کہیں بڑھ کر عالم فقیہ دقیق علم والے اور علم حدیث کے طالب تھے. (سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۲۷،۴۲۶،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۱۰،مقدمة فتح الباری ص ۴۸۵)

    ۱۰- امام سُلیم بن مجاھد رح کہتے ہیں:

    سليماً يَقُوْلُ: مَا رَأَيْتُ بعينِي مُنْذُ سِتِّيْنَ سَنَةً أَفْقَهَ، وَلاَ أَوْرَعَ، وَلاَ أَزْهَدَ فِي الدُّنْيَا، مِنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْمَاعِيْلَ
    کہ ساٹھ برس گزر گئے کہ میں نے کسی کو امام بخاری رح سے زیادہ فقیہ اور پرہیزگار نہیں دیکھا. (سیر اعلام النبلاء ج ۱۲ ص ۴۴۹،تاریخ الاسلام ص ۲۶۳،طبقات الشافعیہ للسبکی ج ۲ ص ۲۲۷،تغلیق التعلیق ج ۵ ص ۴۱۲،مقدمة الفتح ص ۴۸۵)

    ۱۱- امام بخاری رح کے بارے میں محدثین کا یہ مسلمہ جملہ ہے جس کو امام قسطلانی رح نے نقل کیا ہے:

    فقه البخاري في تزاجمة
    کہ بخاری رح کی فقہ ان کے تراجم میں ہے. (مقدمة ارشاد الساري ج ۱ ص ۲۴)

    ۱۲- امام ابن رُشید البستی الفھری رح امام بخاری رح کے تراجم ابواب کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:

    کہ جو امام بخاری رح کے کلام میں فقہ و استنباط اور عربیت و لغت کے غور کرے گا وہ دیکھے گا کہ ایک سمندر میں کئی سمندر سموئے ہوئے ہیں.ان کی نیت کو اچھا قرار دینا چاہئے، اس کتاب کے تراجم قائم کرنے میں ان کا خوبصورت کارنامہ ہے۔ . (ترجمان التراجم علی اابواب البخاری)

    ۱۳- اس میدان میں اسماعیلی رح نے اپنی کتاب المدخل میں صحیح بخاری کی تعریف کرنے کے بعد کہا ہے وہ بہت عمدہ ہے.انھوں نے ان لوگوں کا تذکرہ بھی کیا ہے جنھوں نے ان کی صحیح بخاری کی پیروی کی ہے فرماتے ہیں:

    ﺃﺣﺪﺍ ﻣِﻨْﻬُﻢ ﻟﻢ ﻳﺒﻠﻎ ﻣﻦ ﺍﻟﺘﺸﺪﺩ ﻣﺒﻠﻎ ﺃﺑﻲ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﻭَﻟَﺎ ﺗﺴﺒﺐ ﺇِﻟَﻰ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﺍﻟْﻤﻌَﺎﻧِﻲ ﻭﺍﺳﺘﺨﺮﺍﺝ ﻟﻄﺎﺋﻒ ﻓﻘﻪ ﺍﻟﺤَﺪِﻳﺚ ﻭﺗﺮﺍﺟﻢ ﺍﻟْﺄَﺑْﻮَﺍﺏ ﺍﻟﺪَّﺍﻟَّﺔ ﻋﻠﻰ ﻣَﺎ ﻟَﻪُ ﻭﺻﻠَﺔ ﺑِﺎﻟْﺤَﺪِﻳﺚِ ﺍﻟْﻤَﺮْﻭِﻱّ ﻓِﻴﻪِ ﺗﺴﺒﺒﻪ ﻭَﻟﻠَّﻪ ﺍﻟْﻔﻀﻞ ﻳﺨْﺘَﺺ ﺑِﻪِ ﻣﻦ ﻳَﺸَﺎﺀ
    کہ ان میں سے جو ابو عبداللہ (امام بخاری رح) کے مقام تک نہیں پہنچ پایا اور استنباط معانی،فقہ الحدیث کی باریکیوں کے استخراج اور مروی حدیث سے تعلق پر دلالت کرنے والے تراجم ابواب کو نہ سمجھ سکا اس نے اعتراض کیا ہے. اللہ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے. (ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ۱۳)

    امام ابن حجر رح امام اسماعیلی رح کا مزید قول نقل کرتے ہیں:

    وقال الإسماعيلي في المدخل له أما بعد فإني نظرت في كتاب الجامع الذي ألفه أبو عبد الله البخاري فرأيته جامعا كما سمي لكثير من السنن الصحيحة ودالا على جمل من المعاني الحسنة المستنبطة التي لا يكمل لمثلها الا من جمع إلى معرفة الحديث نقلته والعلم بالروايات وعللها علما بالفقه واللغة وتمكنا منها كلها وتبحرا فيها
    کہ علامہ اسماعیلی اپنی کتاب ''المدخل إلی المستخرج'' میں لکھتے ہیں:
    ''امام بخاری کی الجامع واقعی ''سنن صحیحہ'' کی جامع ہے اور مسائل مستنبط پر حاوی ہے اور ایسی کتاب وہی لکھ سکتا ہے جو علم حدیث کا ماہر اور رواة حدیث کے تراجم پر پورا عبور رکھتا ہوں اور جسے علل الحدیث، فقہ اور لغت پر رسوخ حاصل ہو. (ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ۱۳)

    ۱۴- امام ناصر الدین الدمشقی رح فرماتے ہیں:

    کہ امام بخاری کے اس کتاب کے تراجم ابواب کے مقاصد اور ان کو اس انداز میں ترتیب دینے میں عجیب و غریب اسرار ورموز اور امور پائے جاتے ہیں. ان میں سوچ و بچار کرنے والے دنگ رہ جاتے ہیں. (التنقیح فی حدیث التسبیح ص ۱۴۱)

    ۱۵- امام ابن حجر عسقلانی رح امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:

    امام الدنيا في فقه الحديث
    کہ امام بخاری رح حدیث کی فقہ میں دنیا کے امام تھے۔
    (تقریب التھذیب ص ۴۶۸ رقم ۵۷۲۷)

    مزید فرماتے ہیں:

    ثم رأى أن لا يخليه من الفوائد الفقهية والنكت الحكمية فاستخرج بفهمه من المتون معاني كثيرة فرقها في أبواب الكتاب بحسب تناسبها واعتنى فيه بآيات الأحكام فانتزع منها الدلالات البديعة وسلك في الإشارة إلى تفسيرها السبل الوسيعة
    کہ امام بخاری رح نے اپنی صحیح میں بہت زیادہ فقہی فوائد اور حکیمانہ نکات بیان کئے ہیں۔ اانھوں نے اپنے فہم سے احادیث و آثار کے متون سے کثیر تعداد میں معنی و مفاہیم کا استخراج کیا ہے جنھیں انھوں نے اپنی کتاب کی ابواب بندی میں مناسب مقامات پر بیان کیا ہے اسی طرح انھوں نے اپنی صحیح میں قرآنی آیات کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ان سے مترشخ ہونے والی بدیعی دلالت کا نہ صرف تذکرہ کیا ہے بلکہ ان کی تفسیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دلائل کا وسیع و عریض ذخیرہ بھی بیان کیا ہے. (ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ۱۰)

    ۱۶- امام ابن حجر عسقلانی رح امام محيي الدين النووی رح کا قول امام بخاری رح کے بارے میں نقل کرتے ہیں:

    قال الشيخ محيي الدين نفع الله به ليس مقصود البخاري الاقتصار على الأحاديث فقط بل مراده الاستنباط منها والاستدلال لأبواب ارادها ولهذا المعنى اخلى كثيرا من الأبواب عن إسناد الحديث واقتصر فيه على قوله فيه فلان عن النبي صلى الله عليه وسلم أو نحو ذلك وقد يذكر المتن بغير إسناد وقد يورده معلقا وإنما يفعل هذا لأنه أراد الاحتجاج للمسئلة التي ترجم لها وأشار إلى الحديث لكونه معلوما
    کہ امام بخاری رح نے فقط احادیث کو نقل کرنے کا اہتمام ہی نہیں کیا بلکہ ان احادیث سے استنباط اور ان پر قائم کردہ ابواب سے استدلال کا بھی مکمل اہتمام کیا ہے اسی وجہ سے اکثر ابواب سند حدیث سے خالی نظر آتے ہیں اور امام صاحب "فلان النبی صلی اللہ علیہ وسلم" یا اس طرح کے قول پر ہی انحصار کرتے ہیں بسااوقات امام صاحب متن کو معلق یعنی بغیر سند کے نقل کر دیتے ہیں ۔ امام بخاری رح اس طرح کا اسلوب اس لئے اپناتے ہیں تاکہ وہ اس مسئلہ پر دلیل حاصل کر سکیں جن کے لئے ترجمہ الباب قائم کیا جاتا ہے ، بعد ازاں اس مسئلے کے اثبات کے لئے حدیث کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں. (ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ۱۰)

    امام بخاری رح استنباط فقہ اس خوبی سے کیا ہے کہ ایک ہی حدیث سے مختلف مسائل کا استخراج کرتے چلے گئے اس طرح بعض احادیث متعدد ابواب کے تحت مکرر آگئی ہیں لیکن فقہ اسلامی میں توسیع کا دروازہ کھولا ہے اور یہ ایسا کارنامہ ہے کہ

    ۱۷- شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رح اس سے متاثر ہوکر برملا اعتراف کرتے ہیں:
    وأراد أیضا أن یفرغ جھدہ في الاستنباط من حدیث رسول اللہ و یستنبط من کل حدیث مسائل کثیرة
    کہ اس طرح آپ نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے مسائل کے استنباط میں اپنی پوری کوشش صرف کر دیں اور ہر حدیث سے بہت زیادہ مسائل استنباط کریں. (شرح تراجم ابواب البخاری ص ۱۹)

    شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رح امام بخاری رح کی اس کوشش کی داد دیتے ہوئے اگے فرماتے ہیں:

    وکثیرا ما یستخرج الآداب المفھومة بالعقل من الکتاب والسنة بنحومن الاستدلال والعادات الکالنة في زمانه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ومن ذلك لا یدرك حسنه إلا من مارس کتاب الآداب و إجمال عقله في میدان آداب قومه ثم طلب لھا من السنة أصلاً
    کہ اورعموماً ایسے تراجم ابواب ذکر کرتے ہیں جو کتاب و سنت میں انتہائی غور کے بعد حاصل ہوتے ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہونے والی عادات سے استدلال اور اس میں وہ بھی چیزیں ہہیں جن کے حسن کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جو صاحب فن ہے اور جس نے آداب کی کتاب پر مشق اور ہمیشگی کی اور اپنی عقل کو اپنی قوم کے آداب کے میدان میں سرگرداں رکھا۔پھر اس کے لیے سنت سے دلیل تلاش کی. (شرح تراجم ابواب البخاری ص ۲۲)
     
    Last edited: ‏مئی 05، 2016
  2. ‏مئی 05، 2016 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    ۱۸- مولانا انور شاہ کشمیری رح امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:
    إن المصنف سباق غایات و صاحب آیات في وضع المتراجم لم یسبق به أحد من المتقدمین ولم یستطیع أحد أن یحاکبه أحد من المتأخرین فھو الفاتح لذالك الباب و صار الخاتم، وضع في تراجمه آیات تناسبها مما یتعلق من ھذا الباب ونبه علی مسائل مظان الفقه في القرآن بل أقامھا منه ودل علی طرق التأسیس من القرآن و به یتضح ربط الفقه والحدیث بالقرآن بعضه مع بعض وھذا من رفعة اجتهادہ و ذقته في الاجتهادیات و بسطھا في المتراجم قيل: إن فقه البخاري في تراجمه۔ فکان في تراجم المصنف علوم متفرقة في الفقه و أصوله والکلام أومأ إلیها باختصار و إیجاز
    کہ بے شک مصنف مقاصد میں آگے بڑھنے والے ہیں اور متحیر العقول تراجم ذکر کرتے ہیں متقدمین میں سے اس کام پر کسی نے پہل نہیں کی اور نہ ہی متاخرین میں سے کسی نے آپ کے مقابلے کی اہمت کی ہے۔ پس آپ ہی اس دروازے کو کھولنے والے ہیں اور آپ اس فن میں آخری ثابت ہوئے۔ آپ نے اپنے تراجم میں باب سے متعلق مناسب آیات بھی ذکر کی ہیں اور قرآن میں مذکورہ فقہی مسائل کی نشاندہی کی ہے بلکہ قرآن سے ان کو ثابت کیا ہے اور قرآن سے احکام اخذ کرنے کے طریقے بتائے ہیں۔ اسی وجہ سے فقہ اور حدیث کا قرآن سے اور قرآن کے بعض حصے کا بعض سے ربط واضح ہوتا ہے اور یہ آپ کے اجتہاد کی رفعت اور اجتہادیات میں صاحب ذوق ہونے کی علامت ہے آپ نے ان چیزوں کو تراجم میں بسط کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ مصنف کے تراجم میں فقہ، اصول اور علم کلام کے متعلق مختلف علوم موجود ہیں۔ جس کی طرف بڑے اختصار و ایجاز کے ساتھ اشارہ کیا ہے. (فیض الباری ج ۱ ص ۳۵)

    ۱۹- احمد رضا بجنوری حنفی لکھتے ہیں:

    کہ جامع صحیح بخاری مجموعی حیثیت سے اپنے بعد کی تمام کتابوں پر فوقیت و امتیاز رکھتی ہے ، اسکے تراجم و ابواب کو بھی امام بخاری رحمہ اللہ کی فقہی ذکاوت و دقت نظر کے باعث خصوصی فضیلت و برتری حاصل ہے ، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ چونکہ خود درجہ اجتہاد رکھتے تھے ، اس لیے انہوں نے جمع احادیث کا کام اپنے نقطہ نظر سے قائم کئے ہوئے تراجم و ابواب کے مطابق کیا. (انوار الباری ج ۲ ص ۲۳۶)

    ملا علی قاری حنفی کے مثل بلکہ انہیں کی عبارت کا ترجمہ شیخ عبدالحق دہلوی حنفی رح اور ان کے صاحبزادہ شیخ نور الحق حنفی رح بیک الفاظ میں یوں کرتے ہیں

    ۲۰- عبدالحق دہلوی حنفی رح امام بخاری رح کے بارے میں لکھتے ہیں:

    وے درزمان خود در حفظ احادیث واتقان آں وفہم معانی کتاب و سنت و حدّت ذہن وجودت قریحت ووفور فقہ وکمال زہد و غایت ورع و کثرت اطلاع برطرق حدیث وعلل آں ووقت نظر و قوت اجتہاد و استنباط فروع از اصول نظیرے نداشت
    کہ وہ اپنے زمانہ میں حدیث کے حفظ و اتقان،معانی کتاب و سنت کے فہم،ذہن کی تیزی،حافظہ کی عمدگی،وفور فقہ،کمال زہد،غایت ورع،اسانید و عللِ حدیث پر کثرت اطلاع،وقت نظر،قوت اجتہاد اور اصول سے فروع استنباط کرنے میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے. (اشعت اللمعات ج ۱ ص ۵)

    ۲۱- نور الحق حنفی رح امام بخاری رح کے بارے میں فرماتے ہیں:

    وے درزمان خود در حفظ احادیث واتقان آں وفہم معانی کتاب و سنت و حدّت ذہن وجودت قریحت ووفور فقہ وکمال زہد و غایت ورع و کثرت اطلاع برطرق حدیث وعلل آں ووقت نظر و قوت اجتہاد و استنباط فروع از اصول نظیرے نداشت
    کہ وہ اپنے زمانہ میں حدیث کے حفظ و اتقان،معانی کتاب و سنت کے فہم،ذہن کی تیزی،حافظہ کی عمدگی،وفور فقہ،کمال زہد،غایت ورع،اسانید و عللِ حدیث پر کثرت اطلاع،وقت نظر،قوت اجتہاد اور اصول سے فروع استنباط کرنے میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے. (تیسیر القاری ج ۱ ص ۳)

    ۲۲- قاری محمد طیب حنفی لکھتے ہیں:

    کہ امام بخاری رح محدث بھی ہیں اور فقیہ بھی ہیں نیز اجتہاد کے رتبے کو پہنچے ہوئے ہیں۔ (خطبات حکیم الاسلام ج ۵ ص ۲۳۱)

    ۲۳- ملا علی قاری حنفی محدث سید جمال الدین رح کا قول نقل کرتے ہیں:

    وَمِنْ حَيْثِيَّةِ حِدَّةِ ذِهْنِهِ، وَرِقَّةِ نَظَرِهِ، وَوُفُورِ فِقْهِهِ، وَكَمَالِ زُهْدِهِ، وَغَايَةِ وَرَعِهِ، وَكَثْرَةِ اطِّلَاعِهِ عَلَى طُرُقِ الْحَدِيثِ، وَعِلَلِهِ، وَقُوَّةِ اجْتِهَادِهِ، وَاسْتِنْبَاطِهِ
    کہ اور بحیثیت بہت زبردست ذہن اور باریک نظر رکھنے والے تھے اور فقہ میں اور کمال ذھد میں اور پرہیزگاری میں بہت بہت بلند تھے اور حدیث کی طروق یعنی اسانید اور حدیث کی علتوں پر بہت معلومات رکھتے تھے اور زبردست مجتہد تھے اور مسئلہ کے اخذ کرنے میں بہت زبردست تھے ـ (مرقاة المفاتيح ج ۱ ص ۵۷)

    الحمد اللہ علماء کی گواہی سے یہ ثابت ہوا کہ امام بخاری رح زبردست فقیہ تھے ـ

    اللہ ہم سب کو حق سمجھنے کی توفیق دے آمین

    جزاک اللہ خیراً
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں