• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آثارِ انبیاء کو سجدہ کرنا باعث لعنت ہے :

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
ایسے ہی امام مالک رحمہ اللہ کے ذکر کردہ وہ مقامات جو صلوات خمسہ کے لیے تعمیر نہیں ہوئے بلکہ انہیں مسجد (سجدہ گاہ) بنانا بھی منع ہے (اور باعث لعنت ہے) کیونکہ صحیحین میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے مرض الموت میں وفات سے پانچ روز پہلے فرمایا تھا:
{لَعَنَ اللہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَا ئِھِمْ مَّسَاجِدَ }
یہود و نصارٰی پر اللہ کی لعنت ہو۔ جنہوں نے آثارِ انبیاء کو مساجد (سجدہ گاہ) بنا لیا۔
اس فرمان سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت کو ان افعال سے ڈرانا مقصود تھا۔

از افادات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
قبر نبوی کو حجرہ میں بند رکھنے کی ایک وجہ: اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ’’اگر اس کے سجدہ گاہ بننے کا خوف نہ ہوتاتو رسول اللہ ﷺ کی قبر کو کھلا رکھا جاتا لیکن آپ نے ناپسند فرمایاکہ آپ ﷺ کی قبرکو سجدہ گاہ ٹھہرالیا جائے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
وصیت نبویﷺ: صحیح مسلم وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ سے حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا

{اِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ اَلاَ فَلاَتَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ فَاِنِّیْ اَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰالِکَ }

تم سے پہلے لوگ مزارت کو سجدہ گاہ بنا لیتے تھے ‘‘خبردار ! تم ایسا نہ کرنا میں تمہیں ایسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
صحابہ کرام کا طرزِ عمل: اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشاہد انبیاء علیہم السلام ‘ مشہدِا براہیم خلیل اللہ اور کسی قبر وغیرہ کی جانب سفر نہیں کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بعض من گھڑت حدیثیں: نبی اکرم ﷺ نے شب معراج بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ جیساکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر جگہ نہیں پڑھی۔ بعض لوگ حدیث معراج کے متعلق جو روایت کرتے ہیں کہ آپ نے مدینہ منورہ میں ، اور قبر موسیٰ و قبر خلیل کے پاس نماز پڑھی۔ یہ تمام احادیث سراسر جھوٹ اورمن گھڑت ہیں۔[موضوعات کبیر]
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بے دلیل رخصت: بعض متاخرین نے کسی امام کی نقل اور حجت شرعی پیش کیے بغیر قبروں کے لیے سفر کی (یونہی ) رخصت دے دی ہے (جو مردود ہے)۔

از افادات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
مسجد الحرام کی خصوصیات:

مسجد اقصیٰ کی عبادات مشروعہ انہی عبادات کی جنس سے ہیں‘ جو مسجدنبوی ﷺ ا ور دیگر تمام مساجد میں مشروع ہیں۔مگر مسجد الحرام اس عموم سے مستثنیٰ ہے۔کیونکہ طواف میں ہر دو رکن یمانی کو چھونا،حجراسود کا بوسہ، صرف کعبہ سے مخصوص ہے، مسجدنبوی ﷺ ،مسجد اقصیٰ اور دیگر تمام مسجدوں میں طواف کرنے،ہاتھ لگانے اور بوسہ لینے کے لیے کوئی چیز نہیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
حجرہ نبوی ﷺ اورقبورِ انبیاء علیہم السلام و صلحا ء کا طواف ناجائز ہے :

لہٰذا کسی فرد کے لیے حجرہ نبوی ، و دیگر قبور انبیاء و صلحاء ‘صخرہ بیت المقدس اور علاوہ ازیں دیگر قبے،مثلاً جبل عرفات وغیرہ(سب) کا طواف ناجائز ہے،بلکہ روئے زمین پر کوئی مکان نہیں،جس کاکعبۃ اللہ کی طرح طواف کیاجائے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
طوافِ کعبہ کے علاوہ طواف کی قباحت:

اس کے علاوہ کسی طواف کی مشروعیت کا معتقد اس شخص سے بھی زیادہ شر انگیز ہے جو غیر کعبہ کی طرف نمازجائز ہونے کا معتقد ہو کیونکہ نبی ﷺ نے ہجرت مکہ کے وقت مسلمانوں کو اٹھارہ مہینے بیت المقدس کی طرف (منہ کرکے) نماز پڑھائی ۔تو اتناعرصہ وہی قبلہ رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کو قبلہ بنا دیا اور تحویل قبلہ کے متعلق قرآن میں آیات نازل فرمائیں۔ چنانچہ (تمام قصہ) سورہ بقرہ میں مذکور ہے اور رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں نے کعبہ کی جانب نمازیں پڑھیں اور وہی قبلہ ہو گیا۔وہی ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیا ء علیہم السلام کا قبلہ چلا آتا ہے۔
 
Top