• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"عالمی یوم خواتین اور ست رنگی معاشرہ"

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,608
ری ایکشن اسکور
41
پوائنٹ
110
بڑا ست رنگی قسم کا ہمارا معاشرہ ہے کہ جس میں "لیڈیز فرسٹ" کا اصول بھی ہر جگہ دکھائی دیتا ہے اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی عام ہیں. لڑکی کی ایک چھینک پر ہزار دعائیہ کمنٹس بھی ملیں گے اور کسی عریاں خاتون کی ویڈیو کے شیئرز بھی ہزاروں میں ہونگے. خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ محبت بھرے پیغامات سے بھرے بھی ہونگے اور دوسری طرف لڑکوں کی موبائل گیلریز خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھری ہونگی.
اسی معاشرے میں مرد خاتون کے واری صدقے جاتا بھی نظر آئے گا اور ہنڈیا میں نمک مناسب نہ ہونے پر ٹانگیں توڑتا بھی نظر آئے گا. لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا کی عملی مثال بنے مرد خواتین کے لیے تارے توڑ لانے کی جستجو میں بھی نظر آئیں گے اور خواتین کو جائداد و وراثت سے عاق کرتے بھی نظر آئیں گے.
بیوی اور بیٹیوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی خاطر دن رات ایک کردینے والے محنتی و جفاکش مرد بھی نظر آئیں گے اور بیٹی پیدا کرنے پر اپنی بیویوں کو طلاقیں دینے والے بھی نظر آئیں گے. بیٹیوں کو کندھوں پر بٹھائے ان سے کھیلتے باپ بھی نظر آئیں گے اور اپنی ہی بیٹیوں پر نگاہ غلط تک نہ ڈالنے والے مرد بھی نظر آئیں گے.
خواتین تو خواتین مرد بھی خواتین کے حقوق کا دفاع کرتے نظر آئیں گے اور انہی خواتین کے حقوق سلب کرتے ہوئے مرد بھی نظر آئیں گے. سب سے مزے کی بات کہ خواتین کے حقوق کے لیے آوازیں اٹھانے والے گروہ، این جی اوز اور خواتین جو اس آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں ان کی مخالفت بھی اکثر آپ کو خواتین ہی کرتی نظر آئیں گی.
ویسے تو یہ موضوع اور اس کی وجوہات و دلائل بہت بحث کا متقاضی ہے لیکن میں تحریر کی طوالت کے پیش نظر اختصار سے کام لیتے ہوئے فقط یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نہ مسئلہ مذہب میں ہے اور نہ معاشرے میں. مسئلہ اگر ہے تو وہ جدیدیت، ماڈرن ازم کے نام پر عورت کو پراڈکٹ بنانے میں ہے. عورت کو باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے تحفظ سے نکال شمع محفل بنانے میں ہے. مسئلہ عورت کے جسم پر اس کی مرضی کا نہیں درحقیقت مسئلہ جنم تب لیتا ہے اس "عورة" کو برج بنا کر اس کے جسم کو دکھا کر کیش کرایا جاتا ہے تو پھر جسموں کے بھوکے بھیڑیوں کو ان کی مطلوبہ چیز میسر آجاتی ہے.
جب عورت کے جائز حق سے محروم رکھ کر عورت سے زور زبردستی بےجا پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو مسائل تب جنم لیتے ہیں.باپ کی جائداد پرائے گھر سے جانے سے ڈرنے والوں کی باپ کی لخت جگر اور غیرت بہو بن کر پرائے گھر میں جاتی نظر نہیں آتی تو مسائل تب جنم لیتے ہیں.
عورت کے مسائل کا حل نہ آزادی مارچوں میں ہے اور نہ ہی بےجا پابندیوں اور جکڑبندیوں میں. عورت کو آزادی چار دیواری میں دو، تعلیم و شعور سے آرائستہ کرو، جائز حق اور حصہ دو. اپنے جسم کی حفاظت کرنا سکھاؤ. مرد کو اپنی نظروں کی حفاظت کرنا سکھاؤ اور ان سب چیزوں کے لیے آپ کو اپنے مذہب کی طرف پلٹنا ہوگا کیونکہ واحد مذہب اسلام ہے جو عورتوں کو وہ حقوق اور آزادیاں بھی دیتا جو خود خواتین بھی تصور نہیں کرتیں.
محمد عبداللہ
 
Top