1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آرائش حسن کے متعلق ہمارے رویے،

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از نسرین فاطمہ, ‏جون 17، 2014۔

  1. ‏جون 20، 2014 #11
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    ایک سینئر بہن کے مشاہدات

    بہن پہلے پہل ایسے ہی ہوتا تھا۔موجودہ نسل (مرد،خواتین)کی اکثریت اس قدر بھاری زیورات و لباس نا پسند کرتی ہے۔(جبکہ نانی اماں اکثر کہتی ہیں یہ کیا سب "مائی منڈا" بنی رہتی ہیں؟لگتا ہے کہ ان کی شادیاں ہوئی ہیں؟)مجھے اچھی طرح یاد ہے بڑی آپی کی شادی کے کچھ عرصے بعد ایک دور کی عزیزہ ان کے سسرال آئیں۔آپی نے ہلکا پھلکا لباس پہن رکھا تھا۔دیکھتے ہی تائی جان(آپی کی ساس) کو کہنے لگیں "یہ کیا؟؟یہ کہاں کی دلہن لگتی ہے؟"،آپی خاصی حیران ہوئیں کہ کئی ماہ کی دلہن):۔۔تو اپنے ساتھ آئی عزیزہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیں"اس کے تو کئی بچے ہیں۔پھر بھی دلہن لگ رہی ہے۔۔تمہارا کیا اصول ہے؟"۔وہ عزیزہ پاکستان کے شدید گرم علاقے میں چم چم ریشمی لباس و زیورات پہنے ہوئیں تھیں۔ہماری فیملی میں شادی شدہ بچیوں کو بار بار اس بات کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ گھر والے تو ایسے خوش ہیں۔۔"باہر" والوں کے سامنے زیور پہن کر رکھیں،مگر بچیاں مانتی ہی نہیں ہیں:)
    دوسری بات یہ کہ نانی دادی وغیرہ خصوصاپوتی بہو،نواسی بہو اور پوتی،نواسی کو تیار دیکھنا چاہتی ہیں،ان کے انکار پر وہ سمجھتی ہیں کہ شاید یہ خوش نہیں۔۔جبھی روکھی سوکھی (ان کے نزدیک)رہتی ہیں۔۔ان کے لیے تیار ہونا ،ان کی خوشی کا خیال رکھنا مقدم جانیں۔۔تھوڑی دیر کے لیے مگر ضرور تیار ہوں۔۔ان کی خوشی دیکھنے کے قابل ہو گی!!
     
  2. ‏جون 20، 2014 #12
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    ایک سینئر بہن کے مشاہدات


    عرب ممالک شام،فلسطین،خصوصا سعودیہ عرب میں ایک سے دو دہائیاں قبل "پینٹ،جینز" خالصتا عورتوں کا لباس سمجھا جاتا تھا۔یہاں تک کہ یہ بات بھی مشہور ہوئی کہ پینٹ،شرٹ میں ملبوس ایشیائی لوگوں کو وہاں کے رہائشی"عورتوں سے مشابہت،عورتوں کا لباس" کہا کرتے تھے۔چلتے چلاتے ایک قصہ یاد آ گیا کہ ہماری عزیزات 2000 کے اوائیل میں سعودیہ گئیں ،پاکستان میں اس وقت پینٹ،ٹی شرٹ وغیرہ کو خواتین میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ایک طعام خانے میں دعوت تھی،وہاں بدوی خواتین کو اسی حلیے میں پایا دیکھ کر حیرت اور سکتہ"سعودیہ میں یہ حلیے!!"۔۔دعوت کے جذبے سے سرشار عزیزہ ٹوٹی پھوٹی عربی میں جا کر کچھ یہی کہہ سکیں کہ"کافر کافر۔۔ملبوسات"۔۔پھر ان کی جو درگت بنی کہ اللہ پناہ۔۔جب تک یہ اقرار نہ کر آئیں کہ میں کافر،میرا خاندان کافر،تب تک جان بخشی نہیں ہوئی):
    چند سوالات ذہن میں ہیں:
    اب چند سالوں سے سعودیہ میں مرد بھی پینٹس کا استعمال کرتے ہیں۔۔اس معاشرے میں "جینز" خواتین کا لباس ہے!!اب وہاں جینز کو "عورتوں سے مشابہت" قرار دیا جانا چاہیے؟وہاں کے علماء کا اس متعلق رائےتا حال نظروں سے نہیں گزری۔
    جبکہ ہمارے ہاں شروع سے ہی مرد حضرات نے اسے زیب تن کیا،مردانہ لباس تھا،اب زنانہ رنگوں،سلمہ ستارے سے زنانہ جنیز تشکیل پائی ہیں۔۔انہیں کیا کہیں گے؟؟

    ا
     
    Last edited: ‏جون 20، 2014
  3. ‏جون 20، 2014 #13
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    بہن یہ بات آپ نے بالکل درست کہی کہ ہر قسم کی آرائش و زیبائش میں ہمیں عرف کا دھیان رکھنا لازم ہے۔۔۔اسولِ فقہ کی کتابوں میں آٹھویں مقام پر عرف کو بھی شریعت کا بآخذ بیان کیا گیا ہے۔۔(دیکھیے اصولِ فقہ از عاصم الحداد)
    میں بھی یہ بات اپنے مراسلے میں تحریر کرنا چاہ رہی تھی لیکن ذہن سے نکل گئی۔۔اچھا ہوا آپ نے ذکر کر دیا
    اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کنواری لڑکیوں کا بہت زیادہ میک اپ کرنا ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا لہذا اس سے پرہیز لازم ہے۔۔۔دوسری طرف ہماری نانیوں دادیوں کی عمر کی بوڑھی خواتین(خصوصا گاؤں کی) کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ شادی شدہ خواتین کا بہت سا میک اپ لادنا اور بھاری جیولری پہننا اس بات کی علامت ہے کہ وہ شوہر کی من چاہی بیوی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو لڑائی جھگڑے پر محمول کیا جاتا ہے۔۔۔اگر کسی خاتون کے آس پاس ایسے خیالات کی حامل نانی یا دادی پائی جاتی ہیں تو اسے اپنے عرف کا خیال رکھتے ہوئے خود کو اپنے شوہر کی من چاہی بیوی لازما ثابت کرنا چاہیے
     
  4. ‏دسمبر 17، 2015 #14
    akramshigri90

    akramshigri90 مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2015
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    ماشاءالله تبارك الله
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں