1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آٹھ رکعات تراویح اور علمائے احناف کی شہادت

'نماز تراویح' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏فروری 12، 2018۔

  1. ‏فروری 12، 2018 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,766
    موصول شکریہ جات:
    9,764
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام محمد بن الحسن الشيباني(المتوفی189) نے باب قائم کیا:
    باب: قيام شهر رمضان وما فيه من الفضل(یعنی ماہ رمضان میں قیام کا بیان اور اس کے بارے فضائل۔
    اس پر تعلیق میں علامہ لکنوی رحمہ اللہ نے لکھا :
    ويسمى التراويح ، اور اسے یعنی قیام رمضان کو تراویح کے نام سے جانا جاتا ہے[التعليق المُمَجَّد للكنوي: 1/ 351]
    اس باب کے تحت امام محمدبن حسن نے، تراویح سے متعلق احادیث مثلا گیارہ رکعت سے متعلق حدیث عائشہ پیش کی ہے ، اور آخر میں لکھا:
    وبهذا كله نأخذ، لا بأس بالصلاة في شهر رمضان، أن يصلي الناس تطوعا بإمام، لأن المسلمين قد أجمعوا على ذلك ورأوه حسنا
    ہم ان تمام باتوں کو قبول کرتے ہیں ، ماہ رمضان کی نماز (تراویح) میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لوگ ایک امام کے ساتھ ادا کریں ، کیونکہ مسلمانوں نے اس پر اجماع کیا ہےاور اسے بہترجاناہے[موطأ محمد بن الحسن الشيباني: ص: 91]

    كمال الدين المعروف بابن الهمام الحنفی رحمہ اللہ (المتوفى861) نے کہا:
    فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرة بالوتر في جماعة فعله - عليه الصلاة والسلام
    ان باتوں سے معلوم ہوا کہ یہ گیارہ رکعات وترسمیت تراویح ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے [فتح القدیر شرح الھدایہ: 1/ 468]

    زين الدين المعروف بابن نجيم المصري (المتوفى 970 ) نے کہا:
    وقد ثبت أن ذلك كان إحدى عشرة ركعة بالوتر كما ثبت في الصحيحين من حديث عائشة
    اوربے شک ثات ہے کہ وہ (یعنی تراویح کی مسنون رکعات) وترسمیت گیارہ رکعات ہیں جیساکہ صحیحین میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے(البحر الرائق شرح كنز الدقائق 2/ 72)

    ملا علي القاري رحمہ اللہ(المتوفى1014) نے کہا:
    فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرة بالوتر في جماعة فعله - عليه الصلاة والسلام
    ان باتوں سے معلوم ہوا کہ یہ گیارہ رکعات وترسمیت تراویح ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے [مرقاة المفاتيح للملا القاري: 3/ 973]

    شیخ عبدالحق محدث دہلوی (المتوفی 1052) فرماتے ہیں:
    اب رہا رمضان المبارک میں قیام شب جسے تراویح کہتے ہیں ، تواس کا بیان ان شاء اللہ روزے کے باب میں آئے گا ،اور تحقیق یہ ہے کہ رمضان المبارک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز آپ کی عادت شریفہ ہی کے مطابق تھی ، اور وہ گیارہ رکعتیں تھیں ، جسے تہجد میں پڑھا کرتے تھے جیسا کہ معلوم ہوا (مدارج النبوت ،ترجمہ، غلام معین الدین ج1 ص480)

    حسن بن عمار بن علي الشرنبلالي المصري الحنفي رحمہ اللہ (المتوفى 1069) نے کہا:
    "وصلاتها بالجماعة سنة كفاية" لما ثبت أنه صلى الله عليه وسلم صلى بالجماعة إحدى عشر ركعة بالوتر
    اور اس (تراویح) نماز کو جماعت سے پڑھنا سنت کفایہ ہے ، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے باجماعت وتر سیمت گیارہ رکعات پڑھیں(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص: 157)

    محدث شاہ ولی اللہ دہلوی (المتوفی 1176) لکھتے ہیں:
    از فعل آنحضرت صلعم یازدہ رکعت ثابت شدہ و در قیام رمضان
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے قیام رمضان(یعنی تراویح ) میں گیارہ رکعات ثابت ہیں ۔(مصفیٰ ومسوی شرح مؤطا ص 175)

    علامہ طحطاوي رحمہ اللہ(المتوفی1231)فرماتے ہیں:
    وقت ثبت أن ذالك كان إحدي عشرة ركعة بالوتر
    اور یہ بات ثابت ہے کہ وہ (یعنی تراویح کی مسنون رکعات)وتر سمیت گیارہ ہے (حاشية الطحطاوي علي الدر المختار ج1ص295)

    محمدقطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ (المتوفی1289) لکھتے ہیں:
    آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چونکہ گیارہ رکعتیں پڑھنی ثابت ہوئی ہیں ، اس لئے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے مشابہت کے قصد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعض راتوں میں گیارہ رکعت پڑھنا حکم دیا (مظاہرحق ج1 ص821)
    نوٹ: بعض راتوں میں نہیں بلکہ تمام راتوں کے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا یہی حکم تھا اس کے برخلاف عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے کچھ ثابت نہیں ہے ۔

    مولانا عبد الحي اللكنوي (المتوفى1304) لکھتے ہیں:
    وأمّا العدد فروى ابن حبّان وغيره أنّه صلى بهم في تلك الليالي ثمانِ ركعات، وثلاث ركعات وتراً
    جہاں تک (مسنون رکعات تراویح کی) تعداد کی بات ہے تو ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان راتوں میں آٹھ رکعات ، اور تین رکعات وتر پڑھی تھیں[عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية 1/ 166]


    محمداحسن صدیقی نانوتوی رحمہ اللہ(المتوفی1312) لکھتے ہیں:
    لأن النبي صلي الله عليه وسلم لم يصلها عشرين بل ثماني
    کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (تراویح) بیس رکعات نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ رکعات پڑھیں:
    (حاشية كنز الدقائق ج1ص122مطبوعہ مکتبۃ البشری)

    مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ (المتوفی1323) لکھتے ہیں:
    ازاں جملہ ایک دفعہ گیارہ رکعات پڑھنا ہے ،چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شب میں گیارہ رکعت تراویح بجماعت پڑھی (تالیفات رشیدیہ ص315 ، الرای النجیح ص13)

    مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ (المتوفی 1346)صاحب لکھتے ہیں:
    اور سنت مؤکدۃ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت توبالاتفاق ہے (براہین قاطعہ 195)

    أنور شاه كشميري رحمه الله (المتوفى1353):
    ولا مناص من تسليم أن تراويحه كانت ثمانية ركعات
    یہ مانے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات ہی تھیں[العرف الشذي للكشميري: 2/ 208]

    عبدالشکور لکھنوی رحمہ اللہ (المتوفی1381) لکھتے ہیں:
    اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعت تراویح مسنون ہے (علم الفقہ 198)

    محمدیوسف حسینی بنوری (المتوفی 1397) نے انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا قول برضاء ورغبت نقل کرتے ہوئے لکھا:
    ولا بد من تسليم أنه صلي الله عليه وسلم صلي التراويح أيضا ثماني ركعات
    یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح بھی آٹھ رکعات ہی پڑھی ۔(معارف السنن ج5ص543)
    اس کے بعد آگے بنوری صاحب نے صحیح ابن حبان سے حدیث جابر کو نقل کرکے اس کی پرزور تائید کی ہے ۔(معارف السنن ج5ص544)
     
    Last edited: ‏مئی 28، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں