1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏مارچ 20، 2012۔

  1. ‏اپریل 23، 2012 #181
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    مذہبی جلسوں میں مروجہ نعرہ بازی
    س: یہ جو آج کل اکثر مذہبی جلسوں میں نعرہ بازی ہوتی ہے ، کیسا عمل ہے، جیسا کہ جیوے جیوے فلاں جیوے، فلاں زندہ باد وغیرہ؟ (ایک سائل ، لاہور)

    ج: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وعظ و نصیحت فرماتے تو اس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو بیان کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم توجہ سے سماعت فرماتے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو توجہ سے سننے کا حکم دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ''جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔''(الاعراف)
    اس آیت کریمہ کی رو سے قرآن مجید کے بیان کے وقت خاموشی کا حکم ہے اور دوران وعظ نعرہ بازی کرنا ، یہ شورو غل ہے جو ادب قرآن کے منافی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ کے دوران صحاہ کرام رضی اللہ عنہم اس طرح نعرے بازی کرتے ہوں۔ لہٰذا ہمیں ان امور سے اجتناب کرنا چاہیے۔
     
  2. ‏اپریل 23، 2012 #182
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    ایک نماز کے بدلے اُنچاس کروڑ نماز کا ثواب
    س: بعض تبلیغی حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس راستے میں ایک نماز کا ثواب اُنچاس کروڑ کے برابر ہے۔ کیا ازروئے شریعت اُنچاس کروڑ کا ثواب ثابت ہے یا محض ایک بات ہے؟ وضاحت کریں ۔ (ایک سائل)

    ج: اُمور دینیہ کی تبلیغ و اشاعت یا تحصیل دین نماز و روزہ وغیرہ کے لئے ایسی کوئی صحیح و صریح حدیث نہیں ملتی جس میں یہ بات مذکور ہو کہ ایک نماز یا ایک تسبیح کا ثواب اُنچاس کروڑ کے برابر ہے۔ تبلیغی حضرات نے اس بات کی بنیاد ضعیف روایات پر رکھی ہے ۔ ایک حدیث میں آتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ''جس نے اللہ کی راہ میں خرچہ بھیج دیا اور خود گھر میں ٹھہرا رہا، اس کے لئے ہر درہم کے بدلے میں سات سو درہم ہیں اور جو بذات خود اللہ کی راہ میں نکل کر لڑا اورا پنے اوپر اس مال کو خرچ کیا، اس کے لئے ہر درہم کے معاوضے میں سات لاکھ درہم کا ثواب ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے ، بڑھا دیتا ہے۔'' (ابنِ ماجہ ۹۲۲، ترغیب و ترہیب۲۵۳/۲)
    ''یقینا نماز، روزہ اور ذکر اللہ کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے سے سات سو گنا ملتا ہے۔'' (الترغیب ۲۶۷/۲)
    سبز پگڑیوں والے دعوتِ اسلامی والے بھی ان ہی ضعیف روایتوں کی بنا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کے ساتھ نکلنے والے اور وقت لگانے والے کو ایک نماز کے بدلے انچاس کروڑ نماز کا ثواب ملے گا۔ یہ عقیدہ انہوں نے شاید تبلیغی جماعت سے ہی متاثر ہو کر اپنایا ہے۔
    اس طرح ساتھ لاکھ کو سات سو میں ضرب دینے سے انچاس کروڑ بن جاتے ہیں لیکن یہ دونوں روایات سند اً ضعیف اور نا قابل حجت ہیں۔پہلی روایت میں خلیل بن عبداللہ راوی مجہول ہے۔ لسان المیزان٤١٠٢ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ روایت منکر ہے۔ تہذیب التہذیب ١٦٧٣ امام منذری نے بھی ترغیب و ترہیب میں اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی عدالت و جرح کے بارے میں مجھے علم نہیں۔
    دوسری روایت میں دو ضعیف راوی ہیں۔
    ۱) زبان بن فائد امام ساجی اور امام احمد نے اس کی روایات کو منکر کہا ہے ۔ امام یحییٰ ابنِ معین نے اسے ضعیف اور ابنِ حبان نے منکر الحدیث اور ناقابل حجت قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب۳۰۸/۳)
    ۲) دوسرا راوی سہل بن معاذ ہے امام یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا۔ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی روایت کو ناقابل اعتبار اور ضعیف قرار دیا۔ (تہذیب۲۵۸/۴)
    لہٰذا جب یہ دونوں روایات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں تو ان سے استدلال کرنا بے کار ہے۔ ثانیاً اگر یہ روایات بالفرض صحیح بھی ہوں، تو تبلیغی جماعت کے لئے یہ ثواب نہیں ہے بلکہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہدین کے لئے ہو گا۔ اس روایت کے لفظ ''جو بذات خود اللہ کی راہ میں نکل کر لڑا) اس بات پر صریح دلالت کرتے ہیں ۔ تبلیغی جماعت اور اس نوع کی دوسری جماعتیں تو قتال فی سبیل اللّٰہ کو تسلیم ہی نہیں کرتیں لہٰذا وہ اس ثواب سے محروم ہیں۔
     
  3. ‏اپریل 23، 2012 #183
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    ختم
     
  4. ‏اپریل 23، 2012 #184
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیراً کثیرا۔

    عامر بھائی، اس کتاب کی تو غالباً پرانے ایڈیشن کے حساب سے تین جلدیں اور نئے کے حساب سے ایک جلد تھی۔ یہ شاید پرانے ایڈیشن کی ایک جلد کا اختتام ہوا ہے۔ ایسا ہی ہے؟
     
  5. ‏اپریل 23، 2012 #185
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    میرے پاس تو صرف ایک جلد موجود تھی جسے میں نے یہاں رکھ دیا، باقی جلدوں کا مجھے پتا نہیں. کیا آپ کے پاس موجود ہے شاکر بھائی.؟
     
  6. ‏اپریل 23، 2012 #186
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جی اسی کتاب کا جدید ایڈیشن جو کوئی ہزار بڑے سائز کے صفحات پر شائع ہوا تھا، وہ ہماری کتب لائبریری میں موجود ہے:

    احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں

    آپ نے جو جلد پیش کی ہے وہ اسی کا پرانا ایڈیشن ہے جو تین جلدوں میں شائع ہوا تھا۔
    گزشتہ سال معلوم تو ہوا تھا کہ کوئی صاحب یا ادارہ اس کتاب کو ٹائپ کروا رہے ہیں۔ غالباً دفاع حدیث ڈاٹ کام والے لوگ تھے۔ انہوں نے ہی شاید یہ جلد ٹائپ کروائی ہوگی۔ واللہ اعلم۔

    اس کا مطلب بقیہ حصے موجود نہیں ہیں۔
    کلیم حیدر بھائی، میرے خیال میں یہ کتاب بھی ہماری فتویٰ سائٹ کے لئے بہترین ہے۔ آئندہ میٹنگ میں ڈسکس کر کے فیصلہ کر لیں اگر ممکن ہو تو اس کو بھی ٹائپنگ کی فہرست میں ڈال دیجئے گا۔
     
  7. ‏اپریل 23، 2012 #187
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    شاکر بھائی میں نے یہ کتاب جاءالحق بھائی کی اس پوسٹ سے لیا تھا
    http://www.kitabosunnat.com/forum/ان-پیج-فارمیٹ-میں-120/مختصر-صحیح-بخاری-4920/
    جہاں انہوں نے بخاری کی جگہ یہ کتاب کا لنک دے دیا تھا، آپ ان سے بات کرے شاید ان کے پاس دوسری جلد بھی ہو.
     
  8. ‏اپریل 23، 2012 #188
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اب سمجھا۔ جی یہ جاءالحق بھائی اسی دفاع حدیث ڈاٹ کام ادارے سے منسلک رہے ہیں۔ اور انہوں نے ہی بتایا تھا کہ اس کی ایک جلد ٹائپ ہوئی ہے۔ میں پھر بھی ان سے رابطہ کر کے اپ ڈیٹ لے لیتا ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
     
  9. ‏اپریل 23، 2012 #189
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاکم اللہ خیرا ضرور شاکر بھائی
     
  10. ‏ستمبر 22، 2012 #190
    صنم ملک

    صنم ملک مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 04، 2012
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اللہ تعالیٰ کہاں پر مستوی ہے ؟
    سوال : کیا اللہ ہر جگہ موجود ہے یا عرش پر ؟ وضا حت کریں۔
    جواب : اللہ تعالیٰ کے بارے میں محد ژثین و سلف صالحین کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستویٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

    ﴿اَلرَّحمٰنُ عَلٰی الُعَرُش اسُتَٰوی﴾
    ’’ رحمٰن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘(طہٰ : ۵)


    تو پھر اس کا کیا مطلب ہوا، للہ المشرق ولمغرب، (عربی لیکنی نہیں آتی ) اللہ ہر جگہ ہے، عرش محلوق ہے اور اللہ حالق، یہ بتاو جب عرش نہیں تھا تو اللہ کہاں تھا؟ مکان مکین سے بڑا ہوتا ہے، اللہ بڑا ہے عرش چھوٹا ہے بھر کیسے اللہ عرش پہ ہے، اگر ہے تو پھر اللہ اکبر کا مطلب کیا ہوا؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں