1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آڑہت کے کاروبار کی شرعی حیثیت

'آڑہت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏جون 17، 2014۔

  1. ‏جون 18، 2014 #11
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی مجھے اس پر زیادہ معلومات تو نہیں البتہ اتنا پڑھا ہے کہ اس ذخیرہ اندوزی پر اس وقت سخت وعیدیں ہیں جب اس سے لوگوں کو تنگی ہو اور مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھانے کے لئے ایسا کیا گیا ہو اور اگر چیز بازار میں موجود ہو البتہ اسکی کٹائی کا موسم ہونے کی وجہ سے زیادہ طلب نہ ہو تو اسکو ذخیرہ کرنا تو ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ کٹائی کے دنوں میں قیمت غیر موسم میں قیمت سے کہیں کم ہوتی ہے تو یہ عمومی ذخیرہ مذموم ذخیرہ اندوزی میں نہیں آتا واللہ اعلم
     
  2. ‏جون 18، 2014 #12
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی جب کمیشن متعین ہو جاتی ہے تو لڑائی کا شبہ کیسے باقی رہ سکتا ہے البتہ دنوں کے ساتھ اسکو relate نہیں کیا جاتا لیکن اس سے لڑائی کا ڈر نہیں ہوتا
    جہاں تک دھوکہ والی بات ہے تو اس کی مجھے سمجھ نہیں آ سکی کہ کون سا دھوکہ ہو سکتا ہے واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں