1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احرام

'احرام وحرم' میں موضوعات آغاز کردہ از Naeem Mukhtar, ‏جنوری 02، 2017۔

  1. ‏جنوری 02، 2017 #1
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم ورحمت اللہ۔۔۔
    میرا اک دوست آفریقہ سے عمرہ کیلئے آنا چاہتا ہے۔۔ اور دریافت کر رہا ہے کہ
    1 احرام جدہ آ کے باندھ سکتا ہوں کہ نہیں۔۔۔ کیونکہ احرام یہاں سے ملنا مشکل ہے۔۔

    2 اگر میں مدینہ منورہ سیدھا آ جاوں اور زیارت کے بعد میقات سے احرام باندھ لوں تو کیا یہ صورت جائز ہے۔۔۔

    ان دونوں صورتوں میں کون سی بہتر رہے گی۔۔
     
  2. ‏جنوری 02، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791


    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    جس شخص کا عمرے کا ارادہ ہو اور وہ احرام کے بغیر میقات سے گزر جائے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    جس شخص کا حج عمرے کا ارادہ ہو تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ احرام کے بغیر میقات سے نہ گزرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

    «يُهِلُّ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ مِنْ ذِی الْحُلَيْفَةِ…» صحيح البخاری، الحج، باب ميقات اهل المدينة، ح: ۱۵۲۵۔

    ’’اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔‘‘
    لہٰذا حج و عمرہ کا ارادہ کرنے والے کے لیے واجب ہے کہ وہ میقات سے احرام باندھے اور احرام کے بغیر میقات سے نہ گزرے۔
    اگر کوئی شخص احرام کے بغیر میقات سے گزر گیا تو اسے واپس آکر میقات سے احرام باندھ لینا چاہیے۔ اس صورت میں اس پر فدیہ لازم نہیں ہوگا۔ اگر اس نے اپنی جگہ ہی سے احرام باندھا اور میقات کے پاس واپس نہ آیا تو اہل علم کے نزدیک اس پر فدیہ واجب ہے اور وہ یہ کہ ایک جانور ذبح کر کے مکہ کے فقراء میں تقسیم کر دے۔

    وباللہ التوفیق

    فتاویٰ ارکان اسلام

    حج کے مسائل

    محدث فتویٰ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 02، 2017
  3. ‏جنوری 02، 2017 #3
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    و علیکم السلام ورحمت اللہ۔۔۔ بھائی جواب کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔
    نمبر ایک کہ

    کیا جدہ میقات میں شامل ہے۔۔

    اور نمبر دو

    کہ میں نے سوال میں پوچھا ہے کہ کیا وہ مدینہ آئے اور زیارت کے بعد احرام باندھے اور مکہ جائے تو کیا یہ ہو سکتا ہے۔۔؟
     
  4. ‏جنوری 02، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی نہیں ۔۔
    جدہ کہیں سے بھی آنے والوں کیلئے میقات نہیں ،
    مواقیت کی تفصیل ذیل میں دیکھیں :
    افریقہ سے آنے والوں کیلئے ” جحفہ “ مکہ و مدینہ کے درمیان مکہ سے ۱۵۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک مقام ہے اور اس وقت اصلی راستے سے تھوڑا فاصلے پر واقع ہے اور وہاں پر ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی ہے اور وہ ان لوگوں کا میقات ہے جو مصر ، شمال افریقہ ، سوریہ اردن او رلبنان سے زمینی راستے سے حج کرنے آتے ہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا میقات ہے جو وہاں سے عبور کرتے ہیں :
    ميقات 2.jpg
     
    Last edited: ‏جنوری 03، 2017
  5. ‏جنوری 02، 2017 #5
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    [​IMG]

    افریقہ تو مکہ سے جنوب میں ظاہر ہو رہا ہے۔۔ اور آپ کے نقشے میں اسے شمال کے میقات پے ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔

    مصر ۔ اور شام کے میقات کے ساتھ ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    بات آپ کے نقشے کے مطابق کی جائے تو حاجی جدہ سے اور مدینہ سے بھی احرام باندھ سکتا ہے۔۔۔

    جدہ میں تنعیم سے پہلے۔۔۔

    مدینہ میں ذوالحلیفہ سے پہلے۔۔

    کیا میں درست سمجھا ہوں محترم؟
     
  6. ‏جنوری 03، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    دیکھئے حاجی اور عمرہ کرنے والے کیلئے میقات کا حکم درج ذیل ہے :
    حدثني زيد بن جبير، أنه أتى عبد الله بن عمر رضي الله عنهما في منزله، وله فسطاط وسرادق، فسألته من أين يجوز أن أعتمر؟ قال: «فرضها رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل نجد قرنا، ولأهل المدينة ذا الحليفة، ولأهل الشأم الجحفة»
    رواه البخاري 1522
    زید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نےسیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے ۔ عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد والوں کے لیے قرن ، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ
    اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے

    عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: (وقت النبي صلى الله عليه وسلم لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل نجد قرن المنازل ولأهل اليمن يلملم هن لهن ولمن أتى عليهن من غير أهلهن ممن أراد الحج والعمرة ومن كان دون ذلك فمهله من أهله حتى أهل مكة يهلون من مكة)[رواه البخاري1524]
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے احرام کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے قرن منزل، یمن والوں کے یلملم متعین کیا۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔
    عن عائشة، قالت: «وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل المدينة ذا الحليفة، ولأهل الشام ومصر الجحفة، ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل نجد قرنا، ولأهل اليمن يلملم» (سنن النسائی کتاب الحج )
    ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام و مصر والوں کے لیے حجفہ کو، اور عراق والوں کے لیے ذات عرق کو، اور نجد والوں کے لیے قرن (المنازل) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔
    (سنن النسائی کتاب الحج )
    تو ان احادیث سے واضح ہے کہ شام مصر افریقہ سے عمرہ کیلئے آنے والوں کیلئے (جحفہ ) ہی میقات ہے ،
    اور تنعیم جو قریب ترین حِل ( حدود حرم کا اختتام ) ہے ، وہاں سے صرف وہی عمرہ کرنے والے احرام باندھ سکتے ہیں ، جو نیت عمرہ سے قبل مکہ میں عارضی رہائش پذیر ہوں ،
    اور جو باہر سے عمرے ہی کی نیت سے آئیں ، وہ اپنے میقات سے احرام باندھے بغیر نہیں گزر سکتے ،
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 03، 2017 #7
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    شکریہ محترم۔۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  8. ‏جنوری 04، 2017 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    احرام کوئی خاص چیز نہیں ، دنیا کے کسی بھی ملک اور شہر میں سفید کپڑا تو دستیاب ہوگا ہی ہے ، سفید کپڑے کی صاف ستھری دو چادریں احرام کے لیے کافی ہیں ۔
    جی کرسکتے ہیں ، لیکن عمرہ کی نیت نہ کرکے آئیں ، عمرہ کی نیت مدینہ منورہ آنے کے بعد کریں ، اور اہل مدینہ کے میقات سے احرام باندھ لیں ۔
     
  9. ‏جنوری 04، 2017 #9
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    @خضرحیات بھائی بہت معقول رہنمائی فرمائی آپ نے۔۔ جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں