1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احساسِ ندامت

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏جون 22، 2019۔

  1. ‏جون 22، 2019 #1
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    167
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    احساسِ ندامت
    ندامت اور شرمندگی کا احساس انسان کو اشرف المخلوقات بناتا ہے اور جنت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
    غرور و تکبراور سرکشی و ہٹ دھرمی انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتا ہے اور اسے جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔
    ندامت اور شرمندگی کے ساتھ توبہ کرنے اور اپنے رب کے حضور معافی مانگنے کے سارے طریقے اس امت کو معلوم ہیں جنہیں اپنا کر یہ امت اپنی ہر غلطی کی تلافی کرکے اپنے رب کے حضور سرخرو ہو سکتی ہے لیکن افسوس کہ آج بیشتر لوگ اپنی کسی غلطی پر شرمندہ اور نادم نہیں ہوتے بلکہ تکبر اور ہٹ دھرمی و ڈھٹائی کے ساتھ اپنے غلط کاریوں پر اڑے رہتے ہیں۔ اب لوگ غلط کام کو غلط ہی نہیں سمجھتے، نہ ہی کرپشن کو کرپشن خیال کرتے ہیں اور نہ ہی رشوت خوری کو حرام گردانتے ہیں بلکہ ان طریقوں سے مال بنانے کو اپنا کمال سمجھتے ہیں۔
    ایسے لوگوں میں شرمندگی اور ندامت کا احساس مر گیا ہے۔ غلط کام پر شرمندگی اور ندامت کا جذبہ ہو تو انسان انسان رہتا ہے ورنہ جانور سے بدترین جہنم کا ایدھن بن جاتا ہے۔
    کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ ندامت (شرمندگی) توبہ ہے“۔ [سنن ابن ماجہ، بَابُ : ذِكْرِ التَّوْبَةِ، حدیث : 4252]
    ابلیس سے غلطی ہوئی لیکن اسے شرمندگی نہیں ہوئی بلکہ وہ غرور میں آ گیا، ڈھتائی اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور اپنے رب کریم سے جھگڑنے لگا۔ لہذا راندہ درگاہ ہوا اور ہمیشہ کیلئے ملعون ٹھہرا۔
    حضرت آدم علیہ السلام سے بھی خطا سرزد ہوئی لیکن نادم اور شرمندہ ہوئے۔ جنت سے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک ندامت کی وجہ سے سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور روتے ہی رہے۔ پھر جب رب نے دعا سِکھائی تو پکار اٹھے:
    رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (٢٣) سورة الأعراف
    ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے‘‘۔
    اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔
    لہذا توبہ قبول ہوتی ہے ندامت اور شرمندگی کے احساس اور دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کے پختہ ارادے اور خواہش سے۔ جب کسی شخص میں ندامت و شرمندگی کا احساس ہی نہ ہو اور وہ ابلیس لعین کے نقش قدم پر چلتا ہوا مزید سرکشی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے تو اس کی بخشش کیونکر ہوگی؟ پھر جب بخشش نہیں ہوگی تو ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں ہو سکتا ہے؟
    تحریر: محمد اجمل خان
    ہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں