1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احکام شریعت کی اقسام (اصول الفقہ)

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 18، 2011۔

  1. ‏نومبر 18، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    احکام شریعت:


    آپ جان چکے ہیں کہ شریعت کے احکام کا علم ’فقہ‘ کہلاتا ہے۔درج ذیل میں ان احکام کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔

    حکم کی تعریف:


    لغوی طور پر حکم کا مطلب ہے: روکنا

    اور اصطلاحی طور پرمکلفین کے افعال سے متعلق اللہ تعالیٰ کے خطاب کے تقاضے کو حکم کہتے ہیں۔

    احکام شریعت کی اقسام:


    احکام شریعت کی دو قسمیں ہیں:

    ۱۔ حکم تکلیفی ۲۔ حکم وضعی

    1 حکم تکلیفی: مطالبے اور اختیار کے اعتبارسے مکلف بندوں کے افعال سے متعلق اللہ تعالیٰ کے خطاب کے تقاضے کو حکم تکلیفی کہتے ہیں۔

    2 حکم وضعی: وہ اسباب، شرائط اور موانع (رکاوٹیں) جن کو شارع نے وضع کیا ہے، جن کی موجودگی میں احکام شریعت نفی یا اثبات کے اعتبار سے پہچانے جاتے ہیں۔

    حکم تکلیفی اور حکم وضعی میں فرق:


    حکم تکلیفی اور حکم وضعی میں فرق یہ ہے کہ :

    حکم تکلیفی اپنے مخاطب کو اپنے تقاضے کے مطابق کام کے کرنے یا چھوڑنے کا مکلف ٹھہراتا ہے جبکہ حکم وضعی کام کے کرنے یا چھوڑنےکےلیےکچھ علامتیں یا اوصاف مقرر کرتا ہے۔

    حکم تکلیفی کی اقسام:​


    حکم تکلیفی کی پانچ قسمیں ہیں:

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو حکم میں کسی کام کے کرنا کا مطالبہ ہوتاہے یا چھوڑنے کا۔اور یہ دونوں (کام کے کرنے یا چھوڑنے کا مطالبہ) یا تو حتمی طور پر ہوتاہے یا حتمی (ضروری )طور پر نہیں ہوتا۔یاپھر اس کام کے کرنے اور نہ کرنے کے درمیان اختیار ہوتا ہے۔

    ان سب کی تفصیل درج ذیل ہے:

    1۔ جس خطاب میں فعل کو حتمی طور پر طلب کیا جاتا ہے (اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے)‘ اسے ایجاب اور اس کے متعلق کو واجب کہتے ہیں۔

    2۔ جس خطاب میں فعل کو حتمی اور لازمی طور پر طلب نہ کیا گیا ہو، اس کو ندب اور اس کے متعلق کو مندوب کہتے ہیں۔

    3۔ جس خطاب میں کام کے چھوڑنے کا حتمی طور پر مطالبہ کیاگیاہو،اسےتحریم اور اس کے متعلق کو محرم کہتے ہیں۔

    4۔ جس خطاب میں کام کے چھوڑنے کا حتمی طورپر مطالبہ نہ کیا گیا ہو ،اسے کراہت اور اس کے متعلق کو مکروہ کہتے ہیں۔

    5۔ جس خطاب میں کام کے کرنے اور نہ کرنے کے درمیان اختیار دے دیا جائے ، اسے اباحت اور اس کے متعلق کو مباح کہتے ہیں۔

    نوٹ: اہل اصول فقہ اب مباح کو حکم تکلیفی میں شمار کرنے لگے ہیں اور یہ کوتاہی ہے کیونکہ اس کے دونوں اطراف (کام کےکرنےیاچھوڑنےکے) برابرہونے کی وجہ سے اس میں تکلیف (پابندی)نہیں ہوتی۔


    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں