1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ازروئے حدیث متعہ کی حرمت

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از حرب بن شداد, ‏جولائی 20، 2013۔

  1. ‏جولائی 20، 2013 #1
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ازروئے حدیث متعہ کی حرمت۔
    حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں!۔
    خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے متعہ کی ممانعت کا اعلان فرما دیا تھا (اخرجہ البخاری ومسلم)۔۔۔
    حضرت ربیع بن ثبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر نکاح متعہ کی ممانعت فرمادی تھی (اخرجہ مسلم)۔۔۔

    حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے!۔
    غزوہ اوطاس کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے لئے ہمیں متعہ کی اجازت مرحمت فرمائی بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ممنوع قرار دے دیا (اخرجہ مسلم)۔۔۔

    حضرت ربیع بن ثبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے!۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگو! میں نے تم کو عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی تو کان کھول کر سُن لو! اللہ تعالٰی نے اب اسے قیامت کے دن تک حرام قرار دیدیا ہے (اخرجہ مسلم)۔۔۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا! نوجوانو! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے اسے شادی کرلینی چاہئے اور جوشادی کی استطاعت نہیں رکھتا اس کو چاہئے کہ وہ کثرت سے روزے رکھے کیونکہ روزے قوت شہوانی کو قابو میں رکھنے کا مجرب نسخہ ہے (اخرجہ البخاری ومسلم)۔۔۔

    جو نوجوان شادی کی استطاعت نہیں رکھتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ کا حکم نہیں دیا حالانکہ نکاح متعہ آسان ہے جس پر زیادہ خرچہ درکار نہیں۔۔۔

    حضرت جعفر صادق سے مروی ہے کہ اُن سے متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ متعہ بعینہ زنا ہے (اخرجہ البیھقی جلد ٧ صفحہ ٢٠٧)۔۔۔

    حُرمت متعہ ازروئے اجماع!۔۔۔
    نکاح متعہ کی حرمت پر بہت سے علماء کرام نے اجماع نقل کیا ہے چنانچہ۔۔۔​

    ١۔ امام نووی رحمہ اللہ۔۔۔​
    ٢۔ امام المازری رحمہ اللہ۔۔۔​
    ٣۔ امام قرطبی رحمہ اللہ۔۔۔​
    ٤۔ امام خطابی رحمہ اللہ۔۔۔​
    ٥۔ امام ابن منذر رحمہ اللہ۔۔۔​
    ٦۔ امام شوکانی رحمہ اللہ۔۔۔​

    وغیرہ اس کی حرمت کے قائلین میں صف اول کا مقام رکھتے ہیں۔۔۔
    مذکورہ تمام آئمہ نے متعہ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے۔۔۔

    لیکن دینائے اسلام میں ایک فرقہ نام نہاد فرقہ ایسا بھی ہے جو متعہ کے جواز کا قائل ہے اور اس کی حلت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ متعہ کا حکم ابھی تک بای ہے اور یہ منسوخ ہوا ہے نہ ہی اسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ شیعہ رافضی فرقہ اثناعشریہ ہے۔۔۔

    آئیے اب شیعہ دلائل کا جائزہ لیتے ہیں!۔۔۔
    شیعوں نے نکاح متعہ کے جواب میں چند ایک دلائل پیش کرنے کی گھناونی سازش کی ہے میں ان کے دلائل پیش کرکے ان کا مُسکت جواب بھی دوں گا۔۔۔
    شیعہ نے نکاح متعہ کے جواز میں سورہ نساء کی آس آیت سے استدلال کیا ہے۔۔۔
    فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً
    س لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو (نساء ٢٤)۔۔۔

    شیعہ رافضی نے آیت مذکورہ میں لفظ استمتاع اور کلمہ (َآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ) سے متعہ کی اباحت پر استدلال کیا ہے اور تائید میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت (فما استمتعتم بہ منھن الٰی اجل مسمیٰ) بھی پیش کی ہے کہ یہ کلمات متعہ کے جواز کی غمازی کرتے ہیں یہ شیعہ کی پہلی دلیل ہے جو اُن کے بقول متعہ کا جواز فراہم کرتی ہے۔۔۔

    ان کی دوسری دلیل اہل بیت رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب احادیث ہیں شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ اہلبیت رضی اللہ عنھم سے بعض ایسی روایات کا ثبوت موجود ہے جس سے متعہ کا جواز ثابت ہوتا ہے۔۔۔

    جناب علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ اگر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ متعہ میں ہم سے سبقت نہ کرتے تو ہم میں سے بےوقوف لوگ ہی زنا کا ارتکاب کرتے (اخرجہ صاحب الرسائل وسائل الشیعہ صفحہ ٢١\٥)۔۔۔

    ایک روایت میں ہے کہ بدبخت لوگ ہی زنا کا ارتکاب کرتے۔۔۔
    امام صادق رحمہ اللہ سے مروی ہے۔۔۔
    جو ہمارے اسلاف کی اتباع نہیں کرتا اور متعہ کو حلال نہیں سمجھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے (اخرجہ صاحب الوسائل جزء ٢١ صفحہ ٦)۔۔۔
    امام محمد بن مسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے۔۔۔

    مجھے ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ تم دنیا سے اس وقت تک نہ جانا تک کے سنت متعہ کو زندہ نہ کرلو (اخرجہ ایضا صاحب الوسائل ٢١\١٥)۔۔۔

    شیعہ کا کہنا ہے کہ متعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کو تو عمر رضی اللہ عنہ نے حرام قرار دیا ہے حالانکہ یہ محض ان کا خیال ہے۔۔۔

    اہلسنت والجماعت کا کہنا ہے کہ آیت متعہ منسوخ ہوچکی ہے اور سورہ المعارج اور سورہ المومنون کی آیات ناسخہ ہیں۔۔۔
    وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ۔۔۔
    اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ہاں اُن کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جن کے وہ مالک ہیں انہیں کوئی ملامت نہیں اب جو کوئی اس کے علاوہ (راہ) ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گذر جانے والے ہونگے (المومنون٥-٧)۔۔۔

    شیعہ رافضی کہتے ہیں کہ سورہ المعارج اور سورہ المومنون کی آیات مکیہ ہیں جب کے سورہ نساء کی آیت متعہ مدنیہ ہے لہذا مکی آیت مدنی آیت کو منسوخ نہیں کرسکتی یعنی وہ کہتے ہیں کہ آیت متعہ، آیت نہی سے نزول میں متاخر ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ناسخ منسوخ سے تقدیم ہو۔۔۔

    شیعہ رافضی کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ حرمت متعہ کے دلائل میں اضطراب پایا جاتا ہے کہ کسی حدیث میں نکاح متعہ یوم خیبر کو حرام قرار دے دیا گیا تھا اور کہیں وارد ہوا ہے کہ نکاح متعہ کو عام اوطاس میں ممنوع قرار دیا گیا اور کسی حدیث میں آتا ہے کہ متعہ کے عدم جواز کا حکم فتح مکہ میں ہوا اور کہیں یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ نکاح متعہ کی ممانعت حجہ الوداع میں وارد ہوئی اور کبھی صلح حدیبیہ کے موقع پر اس کے عدم جواز کے حکم کے نزول کی بات کی جاتی ہے کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی حرمت کا حکم دو مرتبہ نازل ہوا کبھی کہا جاتا ہے کہ اس کی حرمت کا حکم ایک مرتبہ نازل ہوا اور کبھی کہا جاتا ہے کہ اس کی حرمت کا حکم تین مرتبہ نازل ہوا۔۔۔۔

    شیعہ رافضی کا کہنا ہے کہ متعہ کے جواز یا عدم جواز میں اس طرح کا اضطراب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی مستند اور قوی حدیث کا ثبوت موجود نہیں۔۔۔

    علاوہ ازیں شیعہ رافضی کا موقف ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ صلی اللہ وسلم کے روبرو نکاح متعہ کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تردید نہیں فرمائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتداء میں متعہ پر عمل درآمد ہوتا رہا یہاں تک کے حضرت حضرت عمر رضی اللہ نے اپنے عہد خلافت میں نکاح متعہ کی ممانعت کا حکم صادر فرمایا۔۔۔

    شیعہ رافضیوں کے دلائل کا تنقیدی جائزہ بھی ملاحظہ کیجئے۔۔۔
    جہاں تک سورہ نساء کی آیت سے شیعہ رافضی حضرات کا متعہ کے جواز کا استدلال فراہم کا مسئلہ ہے تو ہمیں علماء تفسیر کی آراء اور اُن کے اقوال کے طرف رجوع کرنا چاہئے۔۔۔

    اس کے بعد ہمیں آیت کے محل وقوع کو دیکھنا چاہئے اور اس کے سیاق وسباق کا خیال رکھنا چاہئے۔۔۔
    اب اسی قاعدے کی رو سے ہم اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔۔۔
    فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً
    س لئے جن سے تم فائده اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو (نساء ٢٤)۔۔۔
    اگر اس آیت کے سیاق وسباق پر غور کیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ آیت کا نکاح متعہ سے دور دور کا تعلق نہیں ہے۔۔۔
    کیونکہ اللہ تعالٰی نے سورہ نساء کی اس سے گزشتہ آیت میں اُن عورتوں کی فہرست بیان کردی ہے جن سے ابدی طور پر نکاح حرام ہے

    چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا
    اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے (نساء ٢٢)۔۔۔

    حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ
    حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے ور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے، اس لئے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو، (نساء ٢٣-٢٤)۔۔۔

    اس آیت کے سیاق وسباق سے پتہ چل رہا ہے کہ مذکورہ آیت اپنے منطوق کے اعتبار سے نکاح شرعیہ پر دلالت کررہی ہے نہ کے نکاح متعہ کو حلال قرار دینے کے لئے اس کا ورود ہوا ہے اسی لئے اللہ مشکل کشاء وحدہ لاشریک نے سب سے پہلے اس آیت میں اُن عورتوں کا تذکرہ کیا ہے جن سے شرعی طور پر نکاح کرنا حرام ہے جیسے ماں، اپنی بیٹی، حقیقی بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں، رضائی بہن، ساس، مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند سے لڑکیاں اور وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہوں تمہاری مدخولہ بیوی کے ساتھ (اور اگر تم ان عورتوں سے جماع نہ کیا ہو تو کوئی حرج نہیں اور بہوویں جو کہ تمہاری اپنی اولاد کی عصمت میں ہوں اللہ تعالٰی نے دو بہنوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اس کے بعد شوہر والی عورتوں سے شادی کی حرمت بیان کی گئی ہے کہ ان سے تمہارے لئے شادی کرنا جائز نہیں اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر تمام عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں جن سے تم نکاح کرسکتے ہو۔۔۔

    لہذا مذکورہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ رافضی حضرات کا اس آیت کو متعہ کے جواز کے لئے بطور استدلال پیش کرنا کسی صورت میں درست اور جائز نہیں کیونہک یہ آیت نکاھ صحیح کے اثبات کے لئے وارد ہوئی ہے تاکہ ایک مسلمان کو معلوم ہوجائے کہ کن کن عورتوں سے نکاح جائز ہے اس آیت کے بارے میں متعہ کے جواز کی بات کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ اس سلسلے میں سوچنا بھی محال ہے کیونکہ اسی آیت کا ذرہ برابر بھی متعہ سے تعلق نہیں ہے۔۔۔

    اب ذرا اس آیت کے سیاق پر غور کیجئے ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
    اس لئے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو، اور مہر مقرر ہو جانے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کرلو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ علم واﻻ حکمت واﻻ ہے(النساء ٢٤)۔۔۔

    اس کے بعد اللہ تعالٰی کے اس فرمان کو پڑھیں۔۔۔
    وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ
    اور (حرام کی گئیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آجائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں، اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لئے (النساء ٢٤)۔۔۔

    آیت کریمہ کے کلمہ مُّحْصِنِينَ پر غور کریں کہ اس آیت کریمہ سے عموما اور اس کلمہ (مُّحْصِنِينَ) سے خصوصا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سے مراد نکاح شرعی ہے نہ کہ متعہ کیونکہ متعہ سے پاک دامی وآبرو اور نسل کی حفاظت کیوں کر ہوسکتی ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے (مُّحْصِنِينَ) کہہ کر پاک دامنی اور عفت کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ چیز نکاح سے ہی بروئے کار آسکتی ہے متعہ سے نہیں حتی کے شیعہ رافضی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ پاک دامنی صرف نکاح شرعی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔۔۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر آیت کریمہ سے متعہ مراد ہوتا تو (مُّحْصِنِينَ) کا جملہ استعمال نہ کیا جاتا متعہ اور چیز ہے اور احصان وپاک دامی یا عفت وعصمت اور چیز ہے لہذا اس آیت سے مقصود نکاح شرعی ہے نہ کہ نکاح متعہ۔۔۔

    شیعہ کے نزدیک شیخ اسحاق بن عمار سے یہ روایت مروی ہے کہ انہوں نے شیخ موسٰی کاظم سے دریافت فرمایا کہ کوئی شخص زنا کاری کا ارتکاب کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس باندھی موجود ہے جس سے وہ ازدواجی تعلقات رکھتا ہے تو کیا اس باندی سے ازدواجی تعلقات کی بناء پر اس کو شادہ شدہ کہا جائے گا انہوں نے جواب دیا کہ ہاں وہ شادی شدہ ہے اور اس پر محض والی حدجاری کی جائے گی پوچھا گیا اور اگر اس کے پاس عقد متعہ کے طور پر عورت ہے تو کیا اس کو شادی شدہ گردانا جائے گا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ باندی تو اس کی ملک یمین میں دائمی طور پر ہے جب کے نکاح متعہ والی عورت کی ملکیت دائمی نہیں ہوئی ( ملاحظہ ہو وسائل الشیعہ جلد ٢٧ صفحہ ٦٨)۔۔۔

    دوستو! مذکورہ دلائل سے پتہ چلا کہ آیت کریمہ سے متعہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد نکاح شرعی ہے کہ کیونکہ اس کے سیاق وسباق اسی طرف غمازی کررہا ہے آیت کریمہ میں اللہ تبارک وتعالٰی نے سب سے پہلے ان عورتوں کی فہرست جاری کی جن سے نکاح حرام ہے اس کے بعد اللہ تعالٰی نے ان عورتوں کے بارے میں بیان فرمایا جن سے نکاح حلال ہے۔۔۔

    جیسا کہ میں یہ بات بیان کرچکا ہوں کہ عقد متعہ سے پاک دامنی
    ÷حاصل نہیں ہوسکتی۔۔۔ دراصل جس چیز سے پاک دامنی کا حصول ہوتا ہے کہ اور عزت وآبرو کی حفاظت ہوتی ہے وہ نکاح شرعی ہے (اس بات کی شہادت کے لئے شیعہ رافضیوں کے اقوال ہی ہمارے لئے کافی وشافی ہیں) زیادہ چھان بین کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ رافضی دلائل دینے سے عاجز ہیں اور انہیں راہ فرار بھی نہیں مل پاتی ہے لہٰذا وہ اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ متعہ قابل احصان نہیں ہے لیکن وہ اپنی ڈھٹائی پر اڑ کر یہ بات کہنے سے گریز نہیں کرتے کہ آیت کریمہ نکاح متعہ کے بارے میں ہے یہ شیعہ رافضی کا عناد ہے اور ڈھٹائی کا کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی میرا کسی عقلمند سے مناظرہ ہوا تو میں کامیاب رہا اور جب بھی کسی جاہل سے مجھے بحث ومباحثہ کرنا پڑا تو میں مغلوب ہوکر ہی واپس آیا کیونکہ جاہل کو سمجھانا ایک عقل مند کے بس کی بات نہیں۔۔
    ۔

    اس کے بعد قرآن کی حکمت بیانی پر توجہ دیں کہ کیسا عجیب وغریب اور پیارا اسلوب بیان ہے کہ اللہ تعالٰی بڑے حکیمانہ انداز میں فرمارہا ہے۔
    وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم
    اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے شادی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو (اپنا نکاح کرلے) اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے والا ہے (النساء ٢٥)۔۔۔

    آیت مذکورہ میں اللہ تعالٰی مسلمانوں کو نکاح کا حکم دے رہا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر اس آیت سے نکاح کے علاوہ کوئی اور چیز مقصود ہوتی تو اس کی ترغیب دی جاتی جیسا کہ ایسا قطعا نہیں ہے آخر متعہ کا جواز کہاں سے نکل آیا؟؟؟۔۔۔

    اور جہاں تک (الی اجل مسمٰی) والی قراءت کا تعلق ہے تو ہمارا یہ کہنا ہے کہ وہ قراءت درست نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت قراءت شاذہ کی ہے اور قراءت متواترہ میں اس کا شمار نہیں ہے۔۔۔

    اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ شیعہ رافضی قراءت سبعہ کے قائل ہی نہیں ہیں ان کی قراءت سبعہ سے استدلال کا کیا حق پہنچتا ہے؟؟؟۔۔۔ (ذرا سوچئے)۔۔۔ لہذا ان کا یہ استدلال کسی صورت میں درست نہیں اور نہ ہی ان کو اس صورت میں مذکورہ طریقہ پر استدلال کا حق حاصل ہے۔۔۔

    حضرت فصیل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوعبداللہ سے دریافت کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تو انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم! لوگ جھوٹ کہتے ہیں قرآن تو صرف ایک حرف پر واحد الاحد کے پاس سے نازل ہوا ہے (الکافی جلد ٢ صفحہ ٦٩)۔۔۔

    بے شمار علمائے تفسیر جن میں امام طبری، امام قرطبی، امام ابن العربی، امام ابن جوزی، امام ابن عطیہ، امام نسفی، امام نیسابوری، امام زجاج، امام آلوسی، امام شنقیطی، امام شوکانی، رحمہم اللہ اجمعین وغیرہ سرفہرست ہیں کا یہ کہنا ہے کہ آیت مذکورہ نکاح شرعی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کا عقد متعہ سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    امام جوزی فرماتے ہیں مفسرین کرام نے کھینچ تان کر کے اس آیت سے عقد متعہ مراد لیا ہے اور بعد میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت کی وجہ سے اس حکم کو منسوخ قرار دیا ہے جس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔۔۔

    حالانکہ یہ خامخواہ کا تکلف ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سیدھی سی بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے متعہ کی اجازت دی تھی اس کے بعد اس کی ممانعت کا حکم صادر فرمادیا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے منسوخ ہے اس میں آیت کریمہ کا کوئی دخل نہیں اور نہ ہی آیت کریمہ سے متعہ کے جواز کی دلیل فراہم ہوتی ہے اگر کوئی ایسی تاویل کرتا ہے تو اس کو اس کا ہرگز ہرگز حق نہیں پہنچتا کیونکہ اللہ تعالٰی نے آیت کریمہ میں فرما دیا ہے کہ ( أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ) اپنے مال کے ذریعہ مہر ادا کرکے تم ان سے نکاح کرسکتے ہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کے لئے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد نکاح صحیح شرعی ہے (ذاد المسیر جلد ١ صفحہ ٥٣)۔۔۔

    امام شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ آیت نکاح شرعی کے بارے میں وارد ہوئی ہے مگر بعض جاہل قسم کے لوگوں نے اس کے نزول کو متعہ کے ثبوت کی دلیل قرار دیا ہے یہ ان کی جہالت کی دلیل ہے ( اضواء البیان للعلامہ الشنقیطی)۔۔۔

    امام زجاج لغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بہت سے لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اس آیت میں شیعہ رافضی ایسی صریح غلطی پر مصر ہیں جو ناقابل تلافی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ادب لغت کی ہوا تک نہیں لگی ہے اس لئے تو ان لوگوں نے فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ سے مراد عقد متعہ سمجھا ہے یہ ان کی کج فہمی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔

    کیونکہ وہ اپنے قول میں اہل علم کے اجماع کی مخالفت کرکے شذوذ کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ اہل علم کا اجماع ہے کہ اس آیت سے متعہ کی حرمت مراد ہے لہذا فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ سے یہ چیز سمجھ آتی ہے کہ تم ان عورتوں سے اس شرط کے لحاظ رکھتے ہوئے جب نکاح کروگے جس کا تذکرہ مذکورہ آیت میں آیا ہے تو وہ نکاح شرعی یا عقد صحیح کہلائے گا جس کو (احصان) کہا جاتا ہے اس کے بعد اس آیت کے سیاق پر تدبرنہ نگاہ ڈالیں تو پتہ چل جائے گا کہ اس عقد صحیح میں کیا مصلحت پنہاں ہے چنانچہ ارشاد باریٰ تعالی ہے أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ یعنی تم مہر ادا کرکے برے کاموں سے بچنے کے لئے عقد نکاح صحیح منعقد کرنا چاہتے ہو لہذا فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ان کا مہر ادا کرکے ان سے شادی کرلو (لسان العرب جلد ٨ صفحہ ٣٢٩)۔۔۔

    اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر لفظ (تمتع) کا ذکر فرمایا ہے کہ مگر ہرجگہ اس سے نکاح مراد نہیں ہے بلکہ مختلف جگہوں پر اس کے مختلف معنی مراد ہیں۔۔۔

    ١۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا
    اس دن کافروں سے کہا جائے گا تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، (الاحقاف ٢٤)۔۔۔

    یہاں (استمتاع) سے مراد یہ ہے کہ تم نے دنیاوی زندگی میں دنیاوی مال ومتاع سے خوف فائدہ اٹھالیا ہے معلوم ہوا کہ اس جگہ (استمتاع) سے مراد دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہے اس سے نکاح شرعی مراد نہیں ہے۔۔۔

    ٢۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    فَاسْتَمْتَعْتُم بِخَلَاقِكُمْ (التوبہ ٦٩)۔۔۔
    یہاں خلاق کا ترجمہ دنیوی حصہ بھی کیا گیا ہے یعنی تمہاری تقدیر میں دنیا کا جتنا حصہ لکھ دیا ہے وہ استعمال کر لو جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے اپنا حصہ استعمال کیا اور پھر موت یا عذاب سے ہم کنار ہوئے یہاں استمتاع سے مراد نکاح نہیں بلکہ نفع اندوزی یا فائدہ مندی ہے۔۔۔

    ٣۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ
    اور جو لوگ کافر ہیں وہ دنیا کا ہی فائدہ اٹھارہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں (محمد ١٢)۔۔۔
    یہاں بھی تمتع سے مراد مجرد فائدہ دنیاوہ ہے۔۔۔

    اس سے معلوم ہوا کہ مجرد لفظ متع کے اشتقاق اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے مراد نکاح متعہ ہی ہو جیسا کے شیعہ رافضیوں کا خیال ہے بلکہ لفظ متعہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔۔۔

    بہرحال اس بارے میں بہت سی آیات قرآنیہ موجود ہیں یہاں ایک ایک آیات گنوانا مقصود نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہم کو یہ بات واضع طور پر معلوم ہوجائے کہ لفظ (متع) سے قرآن کریم میں ہمیشہ نکاح متعہ ہی مراد نہیں لیا گیا ہے بلکہ اس تعبیر کو قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر مختلف پیرایہ بیان میں مختلف معانی کے لئے استعمال کیا ہے۔۔۔

    اسی طرح قرآن کریم میں لفظ اجر کا تذکرہ آیا ہے شیعہ رافضیوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد نکاح متعہ ہے کہ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کیونکہ قرآن کریم مختلف جگہوں پر لفظ اجر سے مراد مہر ہے۔۔۔

    ١۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً
    اس لئے تم جن عورتوں سے نکاح شرعی کے ذریعہ فائدہ اٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کردہ مہر ضرور دے دو۔۔۔

    ٢۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ
    اور پاک دامن مسلمان عورتوں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جب کہ تم اُن کا مہر ادا کردو (المائدہ ٥)۔۔۔

    اس آیت سے بھی لفظ اجر وارد ہوا ہے اور اس سے مراد مہر ہے۔۔۔
    ٣۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    انكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ
    تو ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاھ کرلو اور قاعدہ کے مطابق ان کو ان کے مہر دے دو (النساء ٢٥)۔۔۔

    اس آیت سے بھی لفظ (ارجوھن) وارد ہوا ہے اور اس سے مراد مہر شرعی ہے جس سے قطعی طور پر متعہ کی نفی ہوتی ہے کیونکہ اس میں مالکوں کی اجازت کی شرط لگائی گئی ہے جب کہ متعہ میں والدین یامالکوں کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔

    ٤۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ
    اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کے لئے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں آپ مہر ادا کرچکے ہیں۔۔۔
    ایت مذکورہ میں بھی (اجورھن) سے مراد حق مہر ہے۔۔۔

    ٥۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔۔
    وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۚ
    ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر اُن سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں (الممتحنہ ١٠)۔۔۔

    اس آیت میں بھی (اجورھن) سے مراد مہر شرعی ہے لہذا معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں جہاں بھی لفظ اجر اور اس کے مشتقات کا ذکر آئے تو اس سے مراد مہر ہوتا ہے کہ اور مہر نکاح شرعی کے انعقاد کا ثبوت ہوا کرتا ہے۔۔۔ رافضی عقیدہ متعہ نہیں۔۔۔

    واللہ اعلم۔۔۔
    والسلام علیکم۔۔۔
     
    • زبردست زبردست x 7
    • پسند پسند x 4
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 21، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    شیعہ رافضیوں کی دوسری دلیل!۔
    شیعہ رافضی کہتے ہیں کہ متعہ کے جواز میں اہلبیت رضی اللہ عنھم سے بھی روایات منقول ہیں جو ان کے لئے حجت اور دلیل ہیں۔۔۔​
    ہم کہتے ہیں اس کے جواب کے کئی طریقے ہیں خصوصا اس مذکورہ قضیہ کی بنیاد پر اس کا جواب تفصیل طلب ہے لہذا اگر بحث طویل ہوجائے تو میرے خیال میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے چنانچہ ہم جواب کا آغاز کرتے ہوئے یہ کہنا مناسب سمجھیں گے کہ بہت سے اثنا عشری آئمہ کرام سے ایسی روایتوں کا بھی ثبوت ہے جن سے متعہ کی حرمت ثابت ہوتی ہے کہ وہ آئمہ کرام جن کی روایات وارد ہوئی ہیں یا ان کی طرف منسوب کردی گئی ہیں بالترتیب یوں ہیں۔۔۔
    ١۔ جناب علی رضی اللہ عنہ۔
    ٢۔ جناب حسن رضی اللہ عنہ۔
    ٣۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ۔
    ٤۔ جناب محمد بن علی رحمہ اللہ۔
    ٥۔ جناب جعفر بن محمد رحمہ اللہ۔
    ٦ جناب موسٰی بن جعفر رحمہ اللہ۔
    ٧۔ جناب محمد بن علی رحمہ اللہ۔
    ٨ جناب حسن بن علی ١١ جناب المنتظر رحمہ اللہ۔
    ایک روایت میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کا گوشت اور نکاح متعہ کی حرمت کا حکم صادر فرمادیا تھا۔۔۔

    حضرت علی بن یقطین سے روایت ہے میں نے موسٰی کاظم سے (متعہ) کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے جواب دیا تم کو متعہ سے کیا سروکار اللہ تعالٰی نے تو تم کو اس سے بےنیاز فرمایا ہے (خلاصہ الایجاز فی المتعہ للمفید صفحہ ٥٧، الوسائل ١٤\٤٤٩، نوادر احمد صفحہ ٨٧ ح ١٩٩، الکافی جلد ٥ صفحہ ٤٥٢)۔۔۔

    حضرت عبداللہ بن سنان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوعبداللہ سے متعہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اپنی عزت وآبرو کو اس گندگی سے آلودہ مت کرو (مستدرک الوسائل جلد ١٤ صفحہ ٤٥٥)۔۔۔

    حرمت معتہ پر بےشمار روایات منقول ہیں طوالت کے خوف سے ہم ان کا ذکر نہیں کررہے۔۔۔
    اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ہمارا کیا موقف ہونا چاہئے کیا ہم متعہ کی ممانعت والی روایات کی تصدیق کریں یا اس کی حلت میں وارد احادیث کو تسلیم کریں؟؟؟۔۔۔

    اگر ہم یہ صراحت کردیں تو بجا ہوگا کہ متعہ کی حلت میں بہت سی خود ساختہ روایات وارد ہوئی ہیں جن کو آئمہ کرام کی جانب منسوب کیا گیا ہے کیونکہ یہ بات یقینی ہے جس کو شیعہ رافضی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سی باتیں گھڑ کر آئمہ کی طرف منسوب کی گئیں ہیں اس لئے ہم انہیں یہ بات کہنے کے مجاز ہیں کہ جو روایات متعہ کی اباحت میں موجود ہیں وہ دارصل گھڑ کر آئمہ کی طرف منسوب کردی گئی ہیں کیونکہ آئمہ کا شمار دراصل علماء اہلسنت والجماعت میں ہوتا ہے یہ ہی وجہ ہے وہ اہلسنت کے اقوال کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور یہ مسئلہ تو متفق علیہ ہے کہ متعہ کے حرام ہونے کے بارے میں علماء کا اجماع ہے جس میں دو رائے نہیں ہیں تو آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنھم کیونکر اس برحق موقف کی مخالفت کرسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    امام جعفر صادق سے مروی ہے اللہ تعالٰی اس شخص پر رحم وکرم فرمائے جس نے ہمیں لوگوں کے لئے محبوب بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی اور اس نے اس بات کی جدوجہد کی کہ وہ ہماری عزت وناموس کو لوگوں کی نگاہوں میں برقرار رکھے تاکہ لوگ ہم آل بیت کو مبغوض نہ سمجھیں بخدا اگر وہ ہمارے کلام کی خوبیاں تلاش کریں تو ان کے لئے ہماری خوبیاں شمار کرنا مشکل ہوجائے اور کسی کو ان پر تنقید کرنے کی جرآت نہ ہو لیکن ہوتا یہ ہے کہ ان میں سے کوئی شخص ایک جملہ سُن لیتا ہے اور اس میں دسیوں جملے ملا کر بیان کرنا شروع کردیتا ہے (الکافی جلد ٨ صفحہ ١٩٢)۔۔۔

    امام جعفر صادق رحمہ اللہ کا فرمان ہے جو لوگ یہ مذہب اختیار کرتے ہیں ان کے اغراض ومقاصد میں سے اہم ترین مقصد دروغ گوئی اور بہتان طرازی ہوتی ہے حتٰی کے شیطان بھی ان سے دروغ گوئی اور بہتان تراشی مستعمار لینے کے لئے مجبور ہوتا ہے (الکافی جلد ٨ صفحہ ١٢١)۔۔۔۔

    امام جعفر رحمہ اللہ نے فرمایا!
    ہمارے امام مہدی آئیں گے اور شیعوں رافضیوں میں سے کذاب اور مفتری قسم کے شیعہ رافضیوں کو تہہ تیغ کردیں گے (رجال الکشی صفحہ ٢٥٣)۔۔۔

    امام جعفر صادق نے فرمایا! لوگ ہمارے اوپر جھوٹ تھوپنے کے عادی ہوگئے ہیں ہم ان کے سامنے اگر کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو وہ سن کر جب مجلس سے جاتا ہے تو اپنی طرف سے اس میں نمک مرچ لگا کر پیش کرنا شروع کردیتا ہے اور اس کی ایسی تاویل بیان کرنے لگتا ہے جو اس کے معنی مراد سے کوسوں دور ہوتی ہے کیونکہ وہ ہماری بات سے ہماری محبت اور اجروثواب کے خواہاں نہیں ہوتے بلکہ وہ تو ہماری باتوں کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں (بحار الانوار جلد ٢ صفحہ ٢٤٦)۔۔۔

    محمد باقر الہوری ایک جید شیعہ عالم ہیں جن کا کہنا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ شیعہ رافضیوں کے مراجع میں ضعیف اور موضوع قسم کی روایات بکثرت موجود ہیں۔۔۔

    شیعہ رافضی کی اپنی سیرت کے بارے میں یہ گواہی خود ان کی اپنی زبانی تھی۔۔۔
    شیعہ رافضی کے بارے میں علماء اہلسنت نے طویل ترین ابحاث کی ہیں جو زبان زد عوام وخواص ہیں لہذا ان کے ذکر کی چنداں ضروریات نہیں بلکہ ہمیں شیخ الاسلام ہی کا ایک جامع بیان کافی ہے فرماتے ہیں!۔

    تمام تعریفیں اس ذات باری کے لئے خاص ہیں اور وہ ذات بڑی مقدس ہے جس نے کذب بیانی اور دروغ گوئی کو وجود بخشا اور اس کا نوے فیصد حصہ شیعوں کو عطیہ کردیا ہے یہی وجہ ہے انہوں نے متعہ کی اباحت میں جو روایات بیان کی ہیں وہ سراسر جھوٹ اور بہتان تراشی پر مبنی ہیں اللہ تعالٰی ان پر رحم وکرم فرمائے۔۔۔

    شیعہ رافضیوں کے اس موقف کو ہم مثال دے کر واضح کرنے کی کوشش کریں گے مثلا۔۔۔
    جابر بن یزید جعفی کا نام کافی اہمیت رکھتا ہے یہ شخص شیعہ رافضیوں کے مشہور ترین رواہ میں سے ایک ہے اس کے بارے میں عاملی نے لکھا ہے کہ اس شخص نے امام باقر علیہ السلام سے سترہزار حدیثیں روایت کی ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امام باقر رحمہ اللہ کے صاحبزادے ابوعبداللہ سے جب دریافت کیا گیا کہ جابر جعفی کی احادیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟۔۔۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اس شخص کو ایک مرتبہ کے علاوہ کبھی بھی اپنے والد کے پاس نہیں دیکھا اور نہ ہی یہ شخص کبھی میرے پاس آیا۔۔۔

    یاد رہے کہ جابر جعفی نے سترہزار احادیث امام باقر سے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار احادیث باقی حضرات سے روایت کی ہیں لہذا یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر کثیر تعداد میں جابر جعفی نے روایات کہاں سے جمع کی ہیں؟؟؟۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت والجماعت کے نزدیک بلا تردد جابر جعفی کا شمار کذاب رواہ میں سرفہرست ہوتا ہے۔۔۔

    علاوہ ازیں بہت سے علماء شیعہ کی روایتوں کا آپس میں شدید ٹکراؤ ہے اور کسی صورت میں بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگی ممکن نہیں ہے جس کا خود شیعہ رافضی کو بھی اعتراف ہے۔۔۔

    رافضی شیعہ عالم فیض الکاشانی کا خود اپنے مذہب کی روایات کے بارے میں کہنا ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ حضرات کے نزدیک ایک ہی مسئلہ میں ٢٠ سے لے کر ٣٠ تک یا اس سے بھی زیادہ مختلف فیہ اقوال پائے جاتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بےجانہ ہوگا کہ شیعہ رافضی کے نزدیک کوئی فروعی مسئلہ ایسا نہ ہوگا جس میں شدید اختلاف نہ ہو اس کی بعض جزئیات میں اختلافات نہ ہو (مقدمہ الوافی صفحہ ٩)۔۔۔

    امام طوسی کو اکابرین علماء شیعہ میں شمار کیا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کوئی ایسی روایت نہ ہوگی جس کا مخالف کوئی دوسرا قول نہ ہو اور کوئی ایسی حدیث نہ ہوگی جس کی نفی دوسری حدیث میں موجود نہ ہو شیعوں کی روایات اور احادیث کا یہ حال ہے جس کو خود ان کے عالم دین امام طوسی نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے (امام طوسی نے یہ بات تھذیب الاحکام) کے مقدمے میں لکھی ہے۔۔۔

    ہندوستان کے عظیم ترین شیعی عالم دلدار حسین نے اس بارے میں یہ کہا ہے!۔
    آئمہ سے ماثور احادیث کریمہ میں بڑا شدید اختلاف ہے ذخیرہ احادیث میں کوئی ایسی حدیث موجود نہ ہوگی جس کی نفی میں دوسری حدیث کا وجود نہ ہو اور کوئی ایسی متفق علیہ خبر نہ ہوگی جس کے مدمقابل دوسری خبر نہ ہو (اساس الاصول صفحہ ٥١)۔۔۔

    شیعہ روایات مین اس قدر شدید اختلاف کہ یہ صورتحال اس بات کی تصویر کشی کرتی ہے
    لوکان من عندغیراللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا
    اگر یہ قرآن اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت کچھ اختلاف ہوتا (النساء ٨٢)۔۔۔

    یہ روایات چونکہ لوگوں کی بیان کردہ ہیں لہذا ان میں باہمی تعارض اور تضاد ہے جو ان کے غیر مشروع ہونے کی بین ثبوت ہے۔۔۔
    احادیث صحیحہ پر شیعہ اعتراضات!۔
    شیعہ حضرات کے سامنے جب وہ صحیح ترین احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں متعہ کی حرمت بیان ہوئی ہے تو وہ دو اعتبار سے ان کا انکار کرتے ہیں۔۔۔
    ١۔ یہ احادیث موضوع ہیں اور من گھڑت ہونے کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں۔۔۔
    ٢۔ یہ احادیث تقیہ کے قبیل سے ہیں اور تقیہ خلاف حقیقت ہوتا ہے۔۔۔

    لیکن آپ شیعہ مذہب کی کتابیں اٹھا کردیکھیں کہ کیا تاریخ کے کسی دور میں بھی انہیں علم رجال یا علم اسانید یا علم مطلع سے شغف رہا ہے آپ فرض کریں اگر ان کا کوئی شخص آئے اور کہنے لگے اس حدیث میں فلاں فلاں ہے جو ضعیف ہے یا یہ جو فلاں شخص ہے کو فلاں نے ضعیف قرار دیا ہے تو کیا اس کی بات کو تسلیم کیا جائے گا؟؟؟۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں کیونکہ زبانی باتوں کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔۔۔

    شیعہ عالم حرا العاملی کا کہنا ہے!۔
    حدیث صحیح وہ ہے جس کو آئمہ میں سے عادل ضابط نے روایت کیا ہو اور ہر طبقہ میں یہ عدل وضبط مسلسل موجود ہو۔۔۔
    اگر اس کی تعریف پر تمام احادیث کو تولا جائے تو تمام کی تمام احادیث ضعیف قرار پائیں گی کیونکہ علماء نے شاذ ونادر ہی کسی راوی میں عادل وضابط ہونے کی صراحت کی ہے اگر رواہ کے بارے میں علماء نے اظہار خیال کیا بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ ان کی توثیق کی ہے اور توثیق سے عدالت ثابت نہیں ہوتی ہے۔۔۔

    توثیق کی بات تو دور ہے بلکہ علمائے شیعہ ن رواہ کے بارے میں اس برعکس انکشافات کئے ہیں کہ حتی کہ شیعہ حضرات اس راوی کی بھی توثیق کرتے ہیں جس کا فسق وفجور کفروعناد، اور فسادمذہب خود ان کے نزدیک واضح ہو اور علماء شیعہ بذات خود اسے تسلیم کرتے ہوں پھر بھی وہ ان کی توثیق کرتے ہیں یعنی ان کے یہاں جرح وتعدیل کا کوئی مسئلہ معیار نہیں ہے۔۔۔

    چنانچہ حرالعاملی فرماتے ہیں!۔
    مذکورہ تصریح کی بنیاد پر ہماری تمام احادیث اور روایات کا ضعیف ہونا لازم آتا ہے تو تضعیف لازم آتی ہے کیونہ ہمیں ان تمام احادیث کے رواہ میں کسی ایک کی عدالت اور ضبط کے بارے میں علم نہیں ہے (الرسائل ج ٣ صفحہ ٢٦)۔۔۔

    ہماری ثقہ اور کبار علماء شیعہ جن کو اصحاب اجماع کہا جاتا ہے وہ بھی ضعفاء اور کذابین نیز ایسے مجہول الحال لوگوں میں سے ہیں جو احادیث روایت کرتے ہیں جن کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ تک نہیں ہے یہی نہیں اس پر طرہ یہ ہے کہ اس کے باوجود ان سے روایت کردہ احادیث کی صحت پر مہر تصدیق بھی ثبت کردی جاتی ہے (الرسائل جلد ٣٠ صفحہ ٢٠٦)۔۔۔

    مزید کہتے ہیں جن کتابوں پر آئمہ نے عمل کرنے کا حکم دیا ہے ہم جانتے ہیں کہ ان میں بہت سے راوی ضعیف اور مجہول ہیں (الوسائل ٣٠\٢٤٤)۔۔۔

    جب شیعہ رافض ان چوٹی کے راویوں کا یہ حال ہے جس کی ایک مختصر سی جھلک آپ کے سامنے بیان کی گئی ہے تو ان کی مذہبی کتابوں کے مؤلفین کا کیا حال ہوگا؟؟؟۔۔۔ اور ان لوگوں کی ذاتی زندگی کیسی ہوگی جنہوں نے ان کتابوں کو جمع وترتیب میں حصہ لیا ہے۔۔۔

    امام طوسی کی یہ وضاحت سند کا درجہ رکھتی ہے کہ بہت سے شیعہ مصنفین اور اصولیین مذاہب فاسدہ گھڑنے کا کام انجام دیا کرتے تھے اگرچہ ان کی کتابوں کو شیعہ کے نزدیک مذہبی حیثیت حاصل ہے مگر ان کی ذاتی زندگی دروغ گوئی سے لبریز ہیں ( الفھرست صفحہ ٢٨)۔۔۔

    مثال کے طور پر ابراہیم بن اسحاق کو پیش کیا جاسکتا ہے۔۔۔
    جن کے بارے میں امام طوسی نے صراحت کے ساتھ یہ بات لکھی ہے کہ روایان حدیث میں ان کا شمار ضعفاء کی صف میں ہوتا ہے اور دینی اعتبار سے بھی یہ متہم ہیں مگر انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن کی حیثیت سکہ رائج الوقت کی ہے (الفھرست صفحہ ٣٣)۔۔۔

    باقی ماشاء اللہ قارئیں خود فیصلہ کرلیں۔۔۔
    والسلام علیکم۔۔۔
     
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 21، 2013 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 21، 2013 #4
    ام کشف

    ام کشف رکن
    جگہ:
    islamabad
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2013
    پیغامات:
    124
    موصول شکریہ جات:
    382
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    ویسے آپ نے ماشاء اللہ تمام اعتراضات کا جواب دیدیا جو اس پروگرام میں اٹھائے گئے تھے یا کچھ مزید باقی ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 21، 2013 #5
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 25، 2013 #6
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 25، 2013 #7
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    ( قد أفلح المؤمنون ( 1 ) الذين هم في صلاتهم خاشعون ( 2 ) والذين هم عن اللغو معرضون ( 3 ) والذين هم للزكاة فاعلون ( 4 ) والذين هم لفروجهم حافظون ( 5 ) إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين ( 6 ) فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون ( 7 ) والذين هم لأماناتهم وعهدهم راعون ( 8 ) والذين هم على صلواتهم يحافظون ( 9 ) أولئك هم الوارثون ( 10 ) الذين يرثون الفردوس هم فيها خالدون ( 11 ) ) .

    وقوله : ( والذين هم لفروجهم حافظون . إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون ) أي : والذين قد حفظوا فروجهم من الحرام ، فلا يقعون فيما نهاهم الله عنه من زنا أو لواط ، ولا يقربون سوى أزواجهم التي أحلها الله لهم ، وما ملكت أيمانهم من السراري ، ومن تعاطى ما أحله الله له فلا لوم عليه ولا حرج ; ولهذا قال : ( فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك ) أي : غير الأزواج والإماء ، ( فأولئك هم العادون ) أي : المعتدون .
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 25، 2013 #8
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم بھائی حرب بن شداد ماشاء اللہ آپ نے کتاب "متعہ کی حقیقت" کی بہت اچھی تلخیص کر دی ہے۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 25، 2013 #9
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    میں اس پوری کتاب کو یونیکوڈ میں منتقل کررہا ہوں جو ان شاء اللہ بہت جلد یہاں پر موجود ہوگی آپ قارئین کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کا طالب۔۔۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 26، 2013 #10
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    اللہ تعالٰی آپ کی مدد اور نصرت فرمائے۔ آمین
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں