1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلاف کی سیاست اور جمہوریت

'سیاست شرعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا اویس سلفی, ‏اپریل 16، 2012۔

  1. ‏اپریل 16، 2012 #1
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اسلامي نظام سياست اور جمہوريت کے مابين فرق کو سمجھنے کے ليے اس کتاب کا مطالعہ ضروري ہے ۔ يہ کتاب عبد القدوس سلفي صاحب کي تصنيف ہے اور اسکا مقدمہ پروفيسر محمد شفيع ناطق کے قلم سے ہے اور کتاب کے آخر ميں مولانا عبد الرحمن کيلاني صاحب کا مضمون "جمہوريت کيا ہے" بطور ضميمہ شامل کيا گيا ہے ۔ اس کتابچہ کو طلباء مرکز الدعوۃ والارشاد نے شائع کيا تھا

    ڈاؤنلوڈ


    http://ia601207.us.archive.org/12/items/aslaf-ki-siyast/aslaf-ki-siyast.pdf

    [​IMG]

    السلام میں نظام امارات اور امیر کی اہمیت

    نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم!۔

    محترم قارئین!۔
    اسلام میں جماعتی نظم کے اندر زندگی بسر کرنا لازمی اور ضروری امور میں سے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء ہی سے جب کے ابھی چند شخص ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کی جماعت بندی کردی تھی اور اُن کو امیر اور مامور کا نظر سمجھادیا تھا۔۔۔ پھر جب مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کو ہجرت کے بعد مسلمانوں کو ایک آزاد فضاء میسر آئی تو فورا ایک منظم جماعتی نظام حکومت کی بنیاد رکھ دی اور جماعت بندی کو اس حد تک وسیع کیا کے اگر دو آدمی اکٹھے ہی سفر کریں تو ہدایت فرمائی کے ان میں سے ایک کو امیر بنا لیا جائے اور دوسرا اس کے ساتھ تابع فرمان ہو کر سفر کرے تو ظاہر ہے کے جب اس طرح کے وقتی اور عارضی اُمور میں امیر اور مامور کا قیام ضروری تھا تو زندگی کے باقی کسی بھی معاملے کو امارت کے نظام کی سرپرستی میں لئے بغیر کیسے چھوڑا جاسکتا ہے لہذا زندگی کے ہر شعبہ نظام امارت میں ایسا منظم اور مرتب کردیا گیا کے دنیا کا کوئی نظام آج تک اس کی نظیر اور مثال پیش نہیں کرسکا۔۔

    کفر کے مقابلے میں اسلام قبول کرنے کا مقصد ہی ہے کے ہم اس جہاں فانی میں اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں تاکہ آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ کر آرام کی جگہ یعنی جنت میں پہنچ جائیں احکام الٰہی میں ایمان کے بعد جس طرح نماز، روزہ زکات، حج ضروری امور ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق ان امور کو دانستہ اور بلاعذر بجا نہ لانے والا شرعی اعتبار سے مجرم اور گناہ گار ہے۔۔۔ اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے اور قیامت کو وہ گرفتار عذاب ہوگا بالکل اسی طرح ایک سچے مسلمان کے لئے جماعت میں شامل ہو کر ایک امیر کی سرگردگی میں زندگی بسر کرنا فرض ہے اور بلاعذر شرعی جماعت سے دور رہنا کٹنا یا معروف میں امیر کی نافرمانی کرنا بہت بڑا گناہ ہے یہ مسئلہ بڑا ہم اور بنیادی ہے مگر غیر اسلامی ماحول نے ہمیں اسلامی قدروں سے باغی بنادیا ہے اور ہمیں اس کا صحیح شعور بھی باقی نہیں رہا۔۔۔

    اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا۔۔۔
    كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
    تم وہ بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لئے دنیا میں بھیجے گئے ہو (ربط)

    اسی طرح سورہ البقرہ میں ابراھیم علیہ السلام کی وہ دُعا درج ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر تعمیر کعبہ کی تکمیل کے وقت کی اس میں جہاں اللہ سے یہ درخواست کی کے میری اولاد میں سے ایک معزز رسول بھیج وہاں یہ بھی درخواست کی۔۔۔

    ارشاد ہوا!۔
    رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ
    اے ہمارے رب!۔ ہمیں بھی اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان جماعت پیدا فرما (ربط)

    ان آیات میں مسلمانوں کو جماعت کہا گیا ہے یعنی مسلمان ہمیشہ ایک جماعتی زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔

    جماعت سے کٹ کر رہنا مسلمان کا کام نہیں۔۔۔

    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے!۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُّ رَقَبَةٍ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ
    جہنم کی گھاٹی وہی سر کرتا ہے جو غلام آزاد کرے یا انتہائی بھوک اور بدحالی کے ماحول میں اپنی تنگی اور فاقہ کشی کے باوجود کسی رشتے دار یتیم کو یا کسی غریب بےکس کو کھانا کھلائے (ربط)

    ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ
    پھر وہ اُن میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں یہ ہی لوگ جنتی ہیں (ربط)

    احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جمعت کے ساتھ رہنے کی تاکید اور اس سے علیحیدگی اختیار کرنے پر سخت وعید وارد ہوئی ہیں۔۔۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔۔۔
    حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا عاصم وهو ابن محمد بن زيد عن زيد بن محمد عن نافع قال جا عبد الله بن عمر إلی عبد الله بن مطيع حين کان من أمر الحرة ما کان زمن يزيد بن معاوية فقال اطرحوا لأبي عبد الرحمن وسادة فقال إني لم آتک لأجلس أتيتک لأحدثک حديثا سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقوله سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة لا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية

    عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابن محمد بن زید، زید بن محمد، نافع، عبداللہ بن عمر، حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ سے سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسکے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اسکی گردن میں کسی کی بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر ٢٩٦)۔

    بعض لوگ امیر یا اپنے رفقاء سے بعض شکایات کو عذر بنا کر جماعت سے علیحیدگی اختیار کر لیتے ہیں مگر اسلامی تعلیمات کی رو سے اس کی قطعاََ گنجائش نہیں ہے ہر حال میں جماع کے ساتھ رہنا اور اپنا فرض ادا کرنا ضروری ہے۔۔۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے!۔
    حدثنا مسدد حدثنا عبد الوارث عن الجعد عن أبي رجائ عن ابن عباس عن النبي صلی الله عليه وسلم قال من کره من أميره شيئا فليصبر فإنه من خرج من السلطان شبرا مات ميتة جاهلية
    مسدد، عبدالوارث، جعد، ابوالرجاء، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے امیر سے کوئی ناگوار چیز دیکھے تو اس کو صبر کرنا چاہیے اس لئے کہ جو شخص بادشاہ کی اطاعت سے ایک بالشت بھی باہر ہوا تو وہ جاہلیت کی موت (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر (١٩٥٠)۔۔۔

    حدثنا أبو النعمان حدثنا حماد بن زيد عن الجعد أبي عثمان حدثني أبو رجائ العطاردي قال سمعت ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلی الله عليه وسلم قال من رأی من أميره شيئا يکرهه فليصبر عليه فإنه من فارق الجماعة شبرا فمات إلا مات ميتة جاهلية
    ابوالنعمان، حماد بن زید، جعد، ابوعثمان، ابورجاء، عطاردی، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے امیر سے کوئی ایک بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو اس کو چاہیے کہ صبر کرے، اس لئے کہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت جدا ہوگیا اور مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر (١٩٥١)

    ایک موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے میرے بعد تم دیکھو گے کے امراء غلط لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں اور کچھ ایسے معاملات بھی دیکھو گے جن کو تم اوپر اور ناجائز سمجھتے ہو گے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس بارے میں ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    المخرج من فتنة الأمراء و الأئمة
    فعن عبدالله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم انه قال: إنكم سترون بعدي أثرة وأمورا تنكرونها
    قالوا : فما تأمرنا يا رسول الله ؟
    قال: أدوا إليهم حقهم، وسلوا الله حقكم
    خلاصة الدرجة: صحيح
    المحدث: البخاري
    المصدر: الجامع الصحيح

    ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کے اگر امراء اپنے حقوق کا ہم سے مطالبہ کریں لیکن ہمارے حقوق دبالیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    (( أسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم))
    وفي رواية لمسلم – أيضاً : فجذبه الأشعث بن قيس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
    (( أسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم ))
    والمعني : أن الله – تعالي- حمل الولاة وأوجب عليهم العدل بين الناس فإذا لم يقيموه أثموا، وحمل الرعية السمع والطاعة لهم، فإن قاموا بذلك أثيبوا عليه، وإلا أثموا.

    مندرجہ بالا ارشادات سے واضح ہے کہ امراء سے خدانخواستہ اگر کچھ ایسا بھی سرزد ہو جائے جو بظاہر معیوب ہو تو اس کو بہانہ بنا کر جماعت سے علیحدگی پھر بھی کسی صورت جائز نہیں بلکہ صبر، حوصلہ اور برداشت سے کام لینا اور جماعت کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔۔۔

    بخاری شریف میں حضرت عبادہ ابن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی اور اپنے ساتھ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی بیعت کا ذکر فرماتے ہیں جو صورتحال کو بہت زیادہ واضح کرتا ہے فرمایا!۔

    حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن إدريس عن يحيی بن سعيد وعبيد الله بن عمر عن عبادة بن الوليد بن عبادة عن أبيه عن جده قال بايعنا رسول الله صلی الله عليه وسلم علی السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمکره وعلی أثرة علينا وعلی أن لا ننازع الأمر أهله وعلی أن نقول بالحق أينما کنا لا نخاف في الله لومة لام

    ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، یحیی بن سعید، عبیداللہ بن عمر، عبادہ بن ولید، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔ (صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر ٢٧١)۔۔۔

    حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب بن مسلم حدثنا عمي عبد الله بن وهب حدثنا عمرو بن الحارث حدثني بکير عن بسر بن سعيد عن جنادة بن أبي أمية قال دخلنا علی عبادة بن الصامت وهو مريض فقلنا حدثنا أصلحک الله بحديث ينفع الله به سمعته من رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال دعانا رسول الله صلی الله عليه وسلم فبايعناه فکان فيما أخذ علينا أن بايعنا علی السمع والطاعة في منشطنا ومکرهنا وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله قال إلا أن تروا کفرا بواحا عندکم من الله فيه برهان

    احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب بن مسلم، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابوامیہ، حضرت جنادہ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس حاضر ہوئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ آپ کو تندرست کرے ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اللہ اس کے ذریعہ نفع عطا فرمائے تو انہوں نے کہا ہمیں رسول اللہ نے بلایا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور جن امور کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے بیعت کی وہ یہ تھے ہم نے بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی کہ اپنی خوشی اور ناخوشی میں تنگی اور آسانی میں اور ہم پر ترجیح دیے جانے پر اور اس بات پر کہ ہم حکام سے جھگڑا نہ کریں گے سوائے اس کے کہ ہم واضح دیکھیں اور تمہارے پاس اس کے کفر ہونے پر اللہ کی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر ٢٧٤)۔

    اس حدیث مبارکہ میں بیعت اگرچہ رسول رب العالمین کے ساتھ مذکور ہے مگر ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔۔۔

    لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
    یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے (ربط)

    اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کی روشنی میں امیر کی اطاعت ضروری ہے معروف میں اس کا حکم ماننا فرض ہے اس کا نافرمان اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے کیونکہ ارشاد ہوا۔۔۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ
    اے ایمان والو تم اللہ کی بات مانو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو اور جو تم کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ پر چلائے۔(ربط)

    اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مطلق اور اپنی ذات میں مستقل ہے مگر اولی الامر یا امیر کی اطاعت مقید اور مشروط ہے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ!۔

    اس فرق کے ساتھ امیر کی اطاعت یقینا لازمی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔ کے تمہارے لئے بہتریں آئمہ (امراء اور حاکم) وہ ہیں جن کو تم پسند کرو اور وہ تم کو پسند کریں تم ان کے لئے دُعا خیر کرو اور وہ تمہارے لئے دعائے خیر کرتے ہوں اور تمہارے بدترین (امراء وحاکم) وہ ہیں جن پر تم لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔۔۔ (صحابہ کرام کا بیان ہے ) ہم نے عرض کیا کے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں ہم ان سے اپنی بیعت کا عہد توڑ نہ ڈالیں؟؟؟۔۔۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں جب تک وہ تم میں نماز کا نظام قائم رکھیں۔۔۔ خبردار !۔ سُنو من ولی علیہ وال فراہ یاتی شیئا من معصیۃ اللہ فلیکرہ من معصیۃ اللہ ولا ینزعن یدا من طاعۃ کے جس شخص پر کوئی ولی(امیر، حاکم، یاسربراہ) بنایا جائے تو اس میں جو کچھ اللہ کی نافرمانی کا عمل دیکھے اس سے بےزاری کا اظہار کرے لیکن اطاعت سے سرتابی بالکل نہ کرے ( رواہ مسلم)

    سورہ نور اطاعت امیر کے آداب سکھائے گئے ہیں ارشاد ربانی ہے کے!۔
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٦٢﴾لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّـهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾
    باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وہ جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔(ربط)

    علی امر جامع کی تشریح میں امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں!۔
    ای علی امر طاعة یجتمعون علیھا نحوالجمعة والنحر والفطر والجهاد واشاہ ذلک۔
    یعنی اس سے مراد ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کا اطاعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمع ہونا جیسے جمعہ عیدین جہاد اور اُن سے مشابہہ دوسرے مواقع پر نیز لکھتے ہیں کہ۔۔۔

    اعلم ان المؤمنین انا کانوا مع نبه فیما یحتاج فیه الی الجماعة لم یذهبوا حتی یستاننوه وکذالک ینبغی ان یکونوا مع الامام لا یخالفونه ولا یرجعون عنه فی جمع من جموعهم الاباذنه وللامام ان یاذن له وان لایاذن علی مایری لقوله تعالٰی فاذن لمن شئت۔
    یعنی آپ کو معلوم ہونا چاہئے کے مسلمان جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الله کے ساتھ کسی ایسے معاملے میں اکھٹے ہوتے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اجتماع کی ضرورت ہوتی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر وہاں سے ہرگز نہ جاتے اور اسی طرح ان کو یہی زیبا اور لائق ہے کے اپنے امراء کا ساتھ دیں ان کی مخالفت نہ کریں اور اپنے کسی اجتماع میں علیحدہ نہ ہوں اور اس کی اجازت کے بغیر نہ جائیں اور امام (امیر) کو اختیار ہے کے حالات کے مطابق کسی کو اجازت دے یا نہ دے جیسا کے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے تو جس کو چاہئے اجازت دے نیز۔

    قال العلماء کل امر اجتمع علیه المسلمون مع الامام لایخالفونه ولا یرجعون عنه الا باذن (فتح الباری جلد ٤ سورہ نور)۔۔۔
    یعنی علماء کا یہ فیصلہ ہے کے ہر وہ معاملہ جس میں مسلمان اپنے امام (امیر) کے ساتھ (جب) اکھٹے ہوں تو اس کی مخالفت نہ کریں اور نہ اس کو بلا اجازت چھوڑ کرجائیں۔۔۔

    قارئیں کرام!۔ یہ قرآن اور علماء کی ہدایات ہیں اور اب مزید ایک ارشاد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
    من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصی الله ومن يطع الأمير فقد أطاعني ومن يعص الأمير فقد عصاني۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو شخص حاکم شریعت کی اطاعت کرے گا اس نے میری اطاعت کی اور جو حاکم کی خلاف ورزی کر یگا اس نے میری نافرمانی کی۔ صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر(٢١٦)

    اور آخر میں امیر کی اطاعت کی تحدید کا ذکر کرنا بھی ضرور ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔
    السمع والطاعة علی المرء المسلم فیما احب وکره مالم یؤمر لمعصیة فاذا امر لمعصیة فلا سمع ولا طاعة (متفق علیه)۔۔۔
    یعنی ایک مسلمان شخص پر اپنے امیر کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے چاہے اس کو وہ پسند ہو یا ناپسند بشرطیکہ امیر کا یہ حکم اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا سبب نہ بنتا ہو اگر یہ حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے زمرے میں آئے تو پھر یہ وہ بات سنی جائے گی اور نہ مانی جائے گی (رواہ بخاری)۔۔۔

    اسی طرح ارشاد ہوا!
    لاطاعة فی معصیة انما اطاعة فی المعروفز
    یعنی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی کی نہ مانی جائے اطاعت امیر صرف جائز اُمور میں ہوگی ( رواہ بخاری ومسلم)۔۔۔

    اور شرح السنہ کی حدیث میں ایک کلئے قائدے کے طور پر بتا دیا گیا لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق کے کسی بھی ایسی صورت میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت نہ کی جائے گی جس سے خالق برحق کی نافرمانی ہوتی ہو۔۔۔

    یہ ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اطاعت امیر کی حدبندی کرتے ہیں اور اطاعت خالق کے استقلال اور اطاعت اولی الامر کے مشروط مقید ہونے کا مختصر تعارف اور خاکہ ہے طالب حق کو ان شاء اللہ بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔۔۔

    پروفیسر شفیع ناطق رحمہ اللہ علیہ۔۔۔

    دعوت جہاد کی تحریک پر اُٹھنے والے سوالات


    السلام علیکم۔
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

    سنائیے کیا حال ہیں؟۔
    میں آپ کا ہی انتظار کررہا تھا۔ اچھا ہوا آپ تشریف لے آئے۔

    میں تو حاضر ہوں
    یہ جو آپ لوگوں نے مرکز الدعوۃ والارشاد بنا رکھا ہے اس کے بارے میں مجھے ذرا بتائیں۔

    مرکز الدعوۃ والارشاد ایک دعوتی وجہادی ادارہ ہے اس کے قیام کا مقصد کتاب وسنت کے مسلک کی بنیاد پر دعوت وجہاد کے منہج پر لوگوں کو جمع کرنا ہے ہم نہ کوئی فرقہ وارانہ ذہن رکھتے ہیں نہ جماعتی سیاسی دھڑے بندی سے ہمارا کوئی تعلق ہے (کہ جن کا مسلک کتاب وسنت ہے فرقہ وارنہ مذہب نہیں) سلفیت کو زندہ کرنا، دھڑے سازی یا گروہ سازی کی بجائے ایسے افراد تیار کررہے ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو زندہ کرسکیں۔

    افراد کی تیاری کا کیا مطلب ہے؟۔
    ہم مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کے ان کا اصل کام لوگوں کو قرآن وسنت کی دعوت دینا ہے اور اس راستے میں آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے جہاد کرنا ہے ہم اس کام کو چھوڑ چکے ہیں دعوت وجہاد سے عبارت ہے مکہ میں دعوت وجہاد کی شکل اور ہے مدینہ میں شکل اور ہے لیکن دعوت جہاد دونوں ساتھ ساتھ رہے ہیں یہی وہ راستہ تھا جس کے نتیجے میں خلافت اسلامیہ قائم ہوئی آج اسی طریقہ پر خلافت کا قیام ممکن ہے۔

    آپ کا ملطب یہ ہے کے اب ہم تبلیغی جماعت والا کام شروع کردیں۔
    اللہ کے بندے آپ سمجھے ہی نہیں دعوت جہاد کا تبلیغی جماعت سے کیا تعلق تبلیغی جماعت کا مسلک فرقہ وارانہ ہے اس لئے وہ اپنے مسلک کی دعوت نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس مسلک کے لئے جہاد کیا جاسکتا ہے اس لئے ان کی تبلیغ محض فضائل اعمال کی ہوتی ہے جو کہ ان کی مجبوری ہے عقائد ومسائل ان کی تبلیغ سے خارج ہیں کیونکہ یہ چیزیں حق وباطل میں تمیز کی بنیاد ہیں اس لئے وہ اس طرف نہیں آتے تبلیغی جماعت کا کام تو محض فضائل کی تبلیغ ہے جس سے لوگوں کی کچھ نہ کچھ اخلاقی حالت تو بہتر ہوسکتی ہے حق وباطل میں تمیز کرنے کے لئے کوئی بصیرت پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس تقلیدی ذہنیت پختہ ہوتی ہے جب کے ہمارا کام تو لوگوں میں بصیرت پیدا کرنا ہے اور دین کے احیاء کے لئے جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کرنا ہے ہماری دعوت میں اتنی جان ہے کے باطل کبھی اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ نتیجتاََ وہ اس مقابلے کے لئے میدان میں آئے گا اور اس کے مقابلے کے لئے میدان جہاد ہے۔۔۔۔ نہ کے جمہوریت۔۔۔۔۔ جو جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتوں نے بھی غلطی سے اپنا رکھی ہے اور مسلسل ناکامی ہورہی ہے جمہوریت تو حق وہباطل میں صلح کرواتی ہے جب کے جہاد سے حق غالب آتا ہے اگرچہ عددی کثرت حاصل نہ بھی ہو بلکہ اہل حق کہ اقلیت کو باطل کی اکثریت پر غلبہ نصیب ہوجاتا ہے اور اسی راستے سے خلافت کا قیام بھی ممکن ہے۔۔۔

    آپ کا خیال ہے کہ موجودہ سیاست سے ہم بالکل لاتعلق ہوجائیں۔
    نہیں ہمارا تو موجودہ سیاست سے بڑا گہرا تعلق ہے ہم ہی نے اس کفر کی سیاست کو مسلمان کرنا ہے لیکن جہاں تک اس سیاست سے سمجھوتہ کرنے والی بات ہے ایسا ستم ہم نہیں کرسکتے ہماری سیاست دعوت وجہاد کے ذریعے خلافت وامارت کے قیام کی جدوجہد ہے۔۔۔

    ہم نے آخر اس ملک میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اگر آپ جمہوریت کو ترک کردیتے ہیں تو آپ اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے۔
    کیوں نہیں!۔ جمہوریت ہمارے حقوق کی قطعا محافظ نہیں آپ سمجھتے ہیں کے ہم الیکشن میں حصہ لے کر اپنے حقوق کی حفاظت کر لیتے ہیں یہ محض دھوکہ ہے ہم اہل حدیث اگر اپنے حقوق لینا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک امیر کے تحت منظم ہونا ہوگا حکومت کوئی بھی ہو وہ منظم گروہ کی بات سنتی ہے مثلا قادیانیوں یا اسماعیلیوں کو دیکھ لیجئے کے ان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں مگر وہ اپنے حقوق منواتے ہیں اور پھر ہمارا سب سے بڑا حق یہ ہونا چاہئے کے ہمیں تو صرف اسلام چاہئے حکومت کسی کی بھی کیوں نہ ہو ہم اس کو دعوت دیں کے وہ اسلامی نظام حکومت اپنائے اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ہمیں کلمہ حق کہنا چاہئے خواہ ہمیں اس کے لئے قید وبند کی صعوبتیں ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔۔۔

    ہم حکمرانوں کو بتائیں کے خلافت کا نظام ہی اسلام کا نظام ہے جس کے بغیر حکومت کفر کی حکومت ہوتی ہے حکومت اور مملکت کا دستور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا جائے اس کے علاوہ کوئی چیز دستور نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کو دستور تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم خود اپنی جماعت میں ایسا مثالی نظام (نظام امارت) قائم کردکھائیں ہمارا امیر ایک ہو اور اس کی سمع وطاعت میں زندگی گزاریں ہر مسجد کی سطح پر بھی ایک امیر ہو جو اپنے علاقہ کے لوگوں کے لئے قاضی کا کام بھی کرے ہمارے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ وہ امیر کتاب وسنت کے مطابق کرے۔ ہم کفر اور انگریز کے قانون کی عدالتوں کا عملا بائیکاٹ کریں لوگ ہمیں دیکھیں اور پکار اٹھیں کے یہ اسلام کا نظام ہے ہم یہی تربیت جماعت کے افراد کی کررہے ہیں اور قائدین کو بھی ہی سمجھا رہے ہیں۔۔۔

    مشن تو آپ کا زبردست ہے مگر یہ کام بڑا مشکل ہے۔
    دیکھئے مشکل کو آسان کرنے والا اللہ وحدہ لاشریک ہے ہم اگرچہ منزل پر دیر سے ہی کیوں نہ پہنچیں لیکن ہمیں صحیح راستہ میں قدم اٹھانا چاہئے۔

    موجودہ جماعتی صلح کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟؟؟۔۔۔
    جب تک ہم جمہوری سیاست سے وابستہ رہے اور اپنی جماعت کو خالص شرعی نظام جو کہ امارت کا نظام ہے سے وابستہ نہ کیا ہر اتحاد اور صلح ناپائیدار ہوگی برصغیر میں اہلحدیث کی تاریخ دعوت جہاد سے معمور ہے جمہوریت نے ہمیں جہاد کی راہ سے ہٹادیا ہے ہم جلسے، جلوسوں اور نعروں ہی کو جہاد سمجھ بیٹھے ہیں حتٰی کے “نوبت بایں جارست“ کہ اب ایک دوسرے کے خلاف کوششیں ہی جہاد سمجھی جاتی ہیں ہم جمہوریت کو چھوڑ کر دعوت جہاد کے منہج کو اختیار کریں تب ہمارا اتحاد ہوگا اور اس راتے پر خلافت اور امارت کا نظام قائم ہوگا۔

    موجودہ حالات میں ہم جہاد کیسے کرسکتے ہیں؟؟؟ِ۔۔۔
    جہاد کے لئے محض اسلحہ نہیں اٹھانا ہوتا کلمہ حق کو بلند کرنا بھی جہاد ہے بلکہ جابر سلطان کے سامنے تو یہ افضل جہاد ہے اپنے ملک میں ہم جہاد کی یہی شکل اختیار کریں اور بوسنیا اور کشمیر وغیرہ کے علاقوں میں جاری مسلح جہاد میں شریک ہوکر یہ فریضہ سرانجام دیں۔۔۔

    مگر ہمارے بزرگ تو کلمہ حق کہنے کی بجائے نظام کفر سے صلح کر بیٹھے ہیں۔
    صلح تو نہیں کی ہمارے اکابرین کلمہ حق تو کہتے ہی رہتے ہیں

    جمہوریت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بعد کلمہ حق کہنے کا کوئی وزن نہیں رہتا اور نہ ہی یہ درست طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کو قبول کرکے کلمہ حق بلند کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے آپ دیکھتے نہیں جمہوریت نے ایک عورت کو سربراہ مملکت بنا دیا کتنے علماء ہیں جنہوں نے کلمہ حق کہا لیکن ان سب کا جواب وہ یہ دیتی رہی کہ میں ٧٣ء کے آئیں کے مطابق جمہوریت کے ذریعے برسراقتدار آئی ہوں۔

    ٧٣ء کا دستور قرآن وسنت سے بالاتر تو نہیں ہوسکتاہے۔

    رونا تو اسی بات کا ہے کے ہم نے قرآن وسنت کو چھوڑ کر ٧٣ء کا خود ساختہ دستور قبول کرلیا ہے اگر ہمارے ملک کا دستور کتاب وسنت ہوتا تو عورت کبھی سربراہ نہ بن سکتی۔

    علماء نے کلمہ حق تو کہا ہے کے یہ غیر شرعی حکمرانی ہے۔

    لیکن وہی علماء انہی اسمبلیوں میں موجود ہیں اسی آئین کا حلف دے چکے ہیں جس نے عورت کو حکمران بنایا ہے اب بتائیے اس کلمہ حق کو کلمہ حق کہا جاسکتا ہے جس میں جمہوریت سے محبت بدستور موجود ہو نہ شیطان ناراض ہو اور راضی رہے رحمان بھی؟؟؟۔۔۔ یہ کھلی منافقت ہے اور یہ جمہوریت کا تحفہ ہے جو دینی سیاسی جماعتوں کو نصیب ہوا۔

    ہماری جمہوریت تو اسلامی ہے مغربی نہیں کے اس میں قرآن سے ہٹ کر بھی فیصلہ کیا جاسکتے۔

    آپ کتنے بھولے ہیں کفر کو اسلامی بنارہے ہیں!۔ کفر بھی کبھی اسلامی ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ جمہوریت کفر ہے خواہ وہ امریکہ وفرانس میں ہو یا پاکستان میں جس طرح سے سوشلزم اور کمیونزم کافروں کے نظام ہیں یہ اسلامی نہیں ہوسکتے اسطرح جمہوریت کافروں کا نظام ہے یہ کبھی اسلامی نہیں ہوسکتا جس طرح اسلام کا کمیونیزم وسوشلزم سے تصادم ہے۔۔۔
    بعینہ جمہوریت سے بھی تصادم ہے۔

    آپ اسلامی جمہوریت کو بھی کافرانہ سیاسی نظام سمجھتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    آپ اسلامی سوشلزم کو کافرانہ معاشی نظام سمجھتے ہیں؟؟؟۔۔۔
    سوشلزم تو اسلامی ہوہی نہیں سکتا۔

    پھر جمہوریت کس طرح اسلامی ہوسکتی ہے؟؟؟۔۔۔
    جمہوریت تو محض حکومت کی تبدیلی کا ایک ذریعہ ہے یہ کوئی خاص نظام نہیں جس کو ہم اسلام سے متصادم سمجھیں۔۔۔

    جمہوریت ایک نظام ہے محض حکومت عوام کی حاکمیت ہے آپ کہتے ہیں جمہوریت اسلام کے منافی نہیں۔۔۔ حالانکہ۔۔۔ جمہوریت تو اسلامی بنیادی عقیدے ان الحکم الا اللہ (قانون اللہ کا ہے) سے متصادم ہے کیونکہ جمہوریت میں قانون انسان کا چلتا ہے انسان کے لئے انسان ہی قانون بناتے ہیں جبکہ اسلام میں قانون بنا بنایا آسمان سے نازل ہوا ہے قانون سازی کا اختیار تو اللہ نے اپنے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں دیا اور یہاں انسان اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا اختیار رکھتے ہیں۔۔۔
    تعجب ہے! یہ کون بیوقوف کہتا ہے کے جمہوریت میں اللہ کے مقابلے میں قانون سازی ہوتی ہے ہمارے دستور ١٩٧٣ء میں یہ بات طے کی گئی ہے کے اسمبلی کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بناسکتی۔۔۔

    آپ کسی بات کرتے ہیں ہمارے دستور میں قرآن وسنت کو بعنیہ اس طرح تسلیم کیا گیا ہے جس طرح بریلوی ہمارے ہاں اس مکتب فکر کے لوگ غلطی سے اپنے آپ کو اہلسنت والجماعت کہتے ہیں حالانکہ اصلی اہلسنت والجماعت وہ لوگ ہیں جو صرف قرآن وحدیث کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں اور صحابہ کرام کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے فرقہ وارنہ تقلیدی سیاسی گروہ بندیوں سے الگ تھلگ دعوت جہاد کو نبوی منہج پر گامزن ہیں جبکہ بریلوی حضرات احمد رضا خان بریلوی کے عقائد اختیار کرتے ہی جو قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے طریق کے منافی ہیں لہذا یہ اہلسنت نہیں۔ توحید کو تسلیم کرتے ہیں کوئی بریلوی ایسا نہیں آپ کو نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کے فلاں بزرگ ہمارا معبود ہے یا ہم فلاں بزرگ کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ جو کچھ بزرگوں سے کرتے ہیں ہوتی اُن کی عبادت ہی ہے مثلا یہ حضرات یاعلی مدد اور یارسول اللہ مدد کے نعرے لگاتے ہیں جو کہ غائبانہ پکار ہے اور غائبانہ پکار عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اس لئے یہ شرک ہے لفظ بدل دینے سے حقیقت تو نہیں بدل سکتی اسی طرح ٧٣ء کے دستور میں اللہ کی حاکمیت اور قرآن وسنت کو تسلیم کیا گیا ہے اور عملا پارلمنٹ جو کچھ کرتی ہے وہ اللہ کی حاکمیت میں شرک پوتا ہے کے صرف اللہ کو حاصل قانون سازی کا خدائی اختیار خود پارلمینٹ استعمال کرتی ہے۔

    میرے بھائی! ہماری جمہوریت سیاست کا اصل بگاڑ یہی دستور سازی ہے کتاب وسنت جو اللہ کی وحی ہے کے علاوہ کسی بھی چیز کو دستور قرار دینا خواہ وہ قرآن وسنت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو شرک ہے کیونکہ اللہ نے حاکم کو ماانزل اللہ (جو کچھ اللہ نے نازل کیا) کا پابند کیا ہے اب جو چیز ماانزل اللہ نہیں وہ دستور نہیں ہوسکتی۔۔۔
    کیا مطلب!۔ کتاب وسنت کے مطابق اگر دستور بنایا جائے تو وہ کیسے شرک ہے؟؟؟۔۔۔

    کتاب وسنت کے مطابق بہت کچھ بنایا جاسکتا ہے مجتہد کی فقہ اور قاضی کا فیصلہ یہ سب چیزیں کتاب وسنت کے مطابق ہوسکتی ہیں اور وہتی بھی ہیں لیکن کتاب وسنت کا فہم جو کسی مجتہد یا قاضی کو حاصل ہوتا ہے اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے اس لئے وہ شریعت نہیں کہلا سکتا۔۔۔ کتاب وسنت سے اخذ کردہ کوئی بھی چیز کیوں نہ ہو اُسے آپ فقہ کہہ لیں یا مختلف فقہاء کی آراء پر مشتمل ایک دستاویز یہ سب غیروحی ہیں تو کسی غیر وحی کو وحی کا درجہ دراصل اللہ کے اختیار میں غیر اللہ کو شریک کرنے کی جسارت ہے اور یہ صریح شرک ہے وحی اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ دستور ہے جس کی پابندی ہر حکومت پر لازم ہے اب کوئی شخص اپنی فہم یا کسی بھی انسانی فہم کو دستور مملکت قرار دیتا ہے تویا وہ اس کو شریعت کے مقابلے میں لارہا ہے اور اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا دعویدار ہے اس لئے یہ شرک ہے۔

    یہ بات سمجھ نہیں آرہی کے آخر ملک کو چلانے کے لئے حالات حاضرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ قواعد وضوابط تو وضع کرنا ہی پڑیں گے مثلا مختلف محکموں کی تشکیل ان کے اختیارات کی تقسیم وغیرہ یہ سب چیزیں من وعن کتاب وسنت میں تو نہیں پائی جاتیں ان میں تو صرف یہ دیکھنا ہوگا کے کوئی ایسا ضابطہ نہ بنایا جائے جو کتاب وسنت کے منافی ہو۔

    بات دستور کی ہورہی ہے قواعد وضوابط کی نہیں۔
    کیا مطلب میں سمجھا نہیں

    میرے بھائی!۔ دستور وہ ہوتا ہے جس کی پابندی پوری حکومت پر لازم ہوتی ہے عدالتوں کو اس دستور کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں قواعد وضوابط دستور کا حصہ نہیں ہوتے انگریزی میں دستور کو Constitution اور قواعد وضوابط کو Rules and Regulations کہا جاتا ہے Constitution (دستور) اقتدار اعلٰٰی کا مظہر ہوتا ہے جمہوریت میں مقتدر اعلٰی چونکہ عوام ہوتے ہیں اس لئے عوام ہی کے منتخب نمائندوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کے وہ ملک کا دستور بنائیں جبکہ اسلام میں مقتدر اعلٰی صرف اللہ تعالٰی کی پاک ذات ہے اس لئے دستور سازی کا حق بھی صرف اسی کا ہے مملکت براہ راست اللہ کے وضع کردہ، نازل کردہ، دستور کتاب وسنت کی پابند ہے قاضی (جج) جب بھی فیصلہ کرے گا وہ کتاب وسنت کا ہی پابند ہوگا۔ اگر قاضیوں کو کسی غیر منزل من اللہ انسانی وضع کردہ دستور کا پابند کیا جائے تو حکومت اسلامی نہیں رہے گی بلکہ طاغوت کی حکومت ہوگی۔۔۔
    یہ بڑا بایک نکتہ آپ نے بیان فرمایا۔۔۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کے اگر کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر دستور مرتب صورت میں تیار کرہی لیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟؟؟۔۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہئے کے ہم ماشاء اللہ اہلسنت اہلحدیث ہیں یعنی ہمارا مسلک صرف کتاب وسنت ہے ہم کسی فرقہ وارانہ فقہی پابندی کو قبول نہیں کرتے ہمارا مقلدین سے ہمیشہ یہ ہی جھگڑا رہا ہے کے وہ نصوص فقہ کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا دعوٰی یہی ہے کے ہماری فقہ کتاب وسنت کے مطابق مرتب کی گئی ہے ہم کہتے ہیں فقہ اول وآخر انسانی کاوش ہے جس میں صواب وخطا کا احتمال ہے یہی وجہ کے فقہ کو شریعت کوئی نہیں کہتا حتٰی کے ہمارے، حنفی دوست بھی فقہ حنفیہ کو شریعت کا نام نہیں دیے سکتے شریعت صرف کتاب وسنت ہے اور فقہ انسانی سمجھ بوجھ کو کہتے ہیں۔ کسی ایک انسان یا متعدد انسانوں کی اجتماعی سمجھ کو شریعت قرار نہیں دیا جاسکتا جب وہ شریعت نہیں تو وہ کسی اسلامی مملکت کا دستور نہیں بن سکتی۔۔۔ حنفی حضرات یہی نعرہ تو لگاتے ہیں کے حنفی فقہ کو پاکستان کا دستور قرار دیا جائے اور اہلحدیث ان کے مقابلے میں کتاب وسنت کے نفاذ کا نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن جب جمہوریت کی بات آتی ہے تو حنفی اور اہلحدیث باہم بلغگیر ہوجاتے ہیں دونوں ١٩٧٣ء کے انسانی دستور کی پابندی کا حلف اٹھا کر اہلحدیث کتاب وسنت کو اور حنفی اپنے فقہ کو فراموش کردیتے ہیں۔۔۔
    لیکن دستور میں ترمیم کی گنجائش کو سب ہی مانتے ہیں یعنی دستور میں جو بات کتاب وسنت کے مخالف ہو اس میں ترمیم ہوسکتی ہے حتی کے حنفی حضرات بھی فقہ حنفی میں ترمیم کے قائل ہیں۔

    ترمیم کی یہ گنجائش دستور کی ناپائیداری کی دلیل ہے آپ ہزار ترمیمیں کرتے رہیں وہ اول وآخر انسانی کاوش ہی قرار پائے گی اور وہ صاف ظاہر ہے شریعت نہیں بن سکتی اس طرح کی بےشمار انسانی کاوشیں ہوسکتی ہیں ان سے استفادہ ہوسکتا ہے راہنمائی بھی لی جاسکتی ہے۔۔۔۔ لیکن ان کو نہ شریعت قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملک کا دستور بنایا جاسکتا ہے اگر ملک کا دستور کتاب وسنت کو قرار دیا جائے تو پھر ترمیم وتنسیخ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔آپ ذرا خلافت راشدہ کو ملاحظہ کیجئے اس وقت کیا دستور تھا وہاں کونسی پارلمنٹ دستورسازی کے لئے بیٹھی تھی؟؟؟۔۔۔
    جب ہم کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر کوئی چیز اخذ کرہی نہیں سکتے نہ دستور بنا سکتے ہیں تو پھر اجتہاد کس چیز کا نام ہے خلافت راشدہ میں صحابہ کرام اجتہاد کرتے تھے اور آج پارلمنٹ یہ کام کرلیتی ہے۔۔۔

    میرے بھائی!۔ آپ ایک بہت بڑے مغالطہ میں مبتلا ہیں میں نے یہ کہا کے کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر ہم کچھ اخذ نہیں کرسکتے ہم بہت کچھ اخذ کرسکتے ہیں اور اخذ کرتے بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے کے ہم جو کچھ بھی کتاب وسنت سے اخذ کریں گے وہ کیا ہوگا آیا وہ منزل من اللہ ہے۔۔۔ صاف ظاہر ہے وہ منزل من اللہ نہیں ہے وہ تو ہماری سمجھ ہے لہذا وہ شریعت نہیں۔۔۔ فہم شریعت ہے اس لئے اس کو اسلامی مملکت کا دستور نہیں بنایا جاسکتا۔۔۔ اور آپ کو یہ بھی زبردست غلط فہمی ہے کے پارلمنٹ کا دستور سازی کا شغل اور صحابہ کرام کا مسائل واحکام میں اجتہاد ایک جیسی چیزیں معلوم ہورہی ہیں اس سے پتہ چلا ہے آپ کو اجتہاد کا صحیح مفہوم بھی واضح نہیں۔۔۔۔ اجتہاد کا مطلب دستور سازی نہیں ہوتا اور نہ ہی صحابہ کرام نے کوئی دستور اپنے اجتہادات سے مرتب کیا تھا اگر وہتا تو آج ہمارے تاریخ اس دستور کا پتہ دیتی۔۔۔
    جمہوریت میں پارلمینٹ ایک دستور ساز ادارہ ہوتا ہے جبکہ اسلام میں شورٰی ہوتی ہے جس کا دستور سازی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اس کا کام امیر المومنین کو ضرورت کے وقت تدبیری امور میں مشورے دینا ہوتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کے شورٰی کے ارکان کی تعداد مقرر ہو نہ ہی ان ارکان کا نامزد یا منتخب ہونا ضروری ہے۔۔۔ اصل مصیبت یہ ہے کے ہم مغربی تصور کو مشرف بہ اسلام کرنے پر تلے رہتے ہیں پہلے جمہوریت کو اسلامی بناتے ہیں پھر اس کے تمام متعلقات کو اسلامی اور ووٹ کے تصور کو برابر ثابت کرنے کی زحمت فرماتے ہیں۔۔۔۔ یہ سب تکلفات اس لئے کرنے پرتے ہیں کے اسلام کا اپنا مثالی نظام ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔۔۔ آپ مجھے بتائیے یہ جمہوریت آئی کہاں سے ہے؟؟؟۔۔۔ کتاب وسنت میں اس کا کہیں کوئی نام ونشان ملتا ہے صحابہ کرام کی زندنگی یا سلف صالحین میں کوئی اس کا وجود ہے پھر ہم کیوں اس کے اتنے دیوانے ہوگئے ہیں؟؟؟۔۔۔ ہمیں سلف کی طرف نسبت کرتے ہوئے سلفیت وجمہوریت کی باہمی تعلق وتصادم کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔۔۔
    مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے کوئی ملک کسی دستور کے بغیر کیسے چل سکتا ہے؟؟؟۔۔۔

    میں نے کب کہا ہے کے کوئی ملک دستور کے بغیر چل سکتا ہے میں تو کہہ رہا ہوں کے مسلمانوں کا دستور اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے انسانوں کا بنایا ہوا نہیں اور وہ کتاب وسنت ہی ہے۔۔۔
    میرا مطلب یہ ہے کے حالالت کے مطابق جب تک کوئی دستور مرتب نہ کیا جائے کیسے چلے گا یہ بات ٹھیک ہے کے کتاب وسنت کو دستور ہونا چاہئے اور وہ مستقل دستور ہے اور ایک دستور رہے جو ملک کا نظام کے لئے بنانا ضروری ہے۔۔۔

    آپ کے خیال میں دستور دو ہیں ایک بڑا دستور یعنی کتاب وسنت اور دوسرا اس کی روشنی میں مرتب کردہ چھوٹا دستور!۔
    ہاں بالکل ایسے ہی کہہ رہا ہوں۔۔۔

    پھر آپ دستور کو سمجھے ہی نہیں آپ بالکل بریلویوں والی توحید بیان کرنے لگ گئے ہیں وہ کہتے ہیں اللہ تو ایک ہے مگر یہ بزرگ اسی اللہ کے عطاء کردہ اختیارات سے تصرف فرماتے ہیں یہ بڑے الہ کیساتھ چھوٹے الہوٰں کا تصور ہی شرک کی اصل بنیاد ہے جیسے بریلوی توحید سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے تمام اختیارات بزرگوں میں تقسیم کردیئے ہیں اب اللہ کا بظاہر کوئی کردار نہیں اسی طرح آپ اللہ کو دستور ساز مان کر انسان کو بھی ساتھ ساتھ مرتب کرلیں جس کی پابندی انسانوں پر واجب ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسان کو انسان کے آگے جھکانا نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔
    پھر بتائیے آپ ملک کا نظام کیسے چلائیں گے۔۔۔

    دراصل آپ کے ذہن میں یہ الجھن ہے کے جب تک حالات حاضرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی دستور مرتب نہ کرلیا جائے اس وقت تک کوئی حکومت چل ہی نہیں سکتی حالانکہ اس کی بہت سی مثالیں تاریخ میں اور موجودہ دور میں موجود ہیں اس کی سب سے بڑی مثال تو مسلمانوں کی خلافت کی عظیم تاریخ ہے اس دور میں کوئی مرتب ومدون دستورمملکت جو انسانوں نے مل کر بنایا ہو موجود نہ تھا خلفائے راشدین ہوں یا خلفائے بنی امیہ اور اس کے بعد بھی مسلمان حکمرانوں نے بعض شخصی کمزوریوں کے باوجود کتاب وسنت کو ہی دستور قرار دیا ہوا تھا قاضی کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کرتے تھے آج سعودی عرب کا کوئی تحریری دستور موجود نہیں وہاں سب قاضی کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کرنے کے پابند ہیں جب کے ہمارے ملک میں جج صاحبان ١٩٧٣ء کے دستور کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔۔۔ ہماری شرعی عدالتیں بھی ١٩٧٣ء کے دستور کے خلاف کوئی مقدمہ سننے کی مجاز نہیں جیسا کے حال ہی میں عورت کی سربراہی کا مسئلہ کھڑا ہوا بعض لوگوں نے وفاقی شرعی عدالت کی طرف رجوع کیا اُن کی درخواست اس بناء پر خارج کردی گئی کے ١٩٧٣ء کے دستور کے منافی عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی اسمبلی ہی دستور میں ترمیم کرے تو کرے وہ چاہئے تو شریعت کے کسی حکم کو قانون بنائے ورنہ شریعت کا کوئی حکم ازخود یہ صلاحیت نہیں رکھتا کے اسے ملکی قانون تصور کیا جائے گویا شریعت پر پارلیمنٹ کی بالادستی ہے نہ کے پارلمنٹ پر شریعت کی۔۔۔

    یہ تو میں نے آج سنا ہے کے بعض ممالک میں بغیر کسی تحریری دستور کے بھی نظام چل رہا ہے۔۔۔

    یہ صرف اسلامی ملک کی بات نہیں برطانیہ جو بہت بڑا جمہوری ملک ہے وہاں بھی کوئی تحریری دستور موجود نہیں یہ کم بختی صرف مسلمانوں کے لئے ہے کے وہ اللہ کے نازل کردہ دستور ( جو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے) کی موجودگی میں خود دستور بنانے لگتے ہیں۔۔۔
    یہ بات تو واضح ہوگئی کے اسلامی مملکت میں دستور صرف اور صرف کتاب وسنت ہی ہوسکتا ہے لیکن یہ ذرا سمجھائیے کے قاضی جو فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق کرے گا اس کی کیا قانونی اور دستوری حیثیت ہوگی؟؟؟۔۔۔

    قاضی کا فیصلہ کبھی دستور نہیں کہلاسکتا مجتہد کا اجتہاد کا فیصلہ اور مفتی کا فتوٰٰی یہ سب چیزیں فہم شریعت ہیں نہ کے شریعت قاضی کا فیصلہ نافذ العمل تو ہوتا ہے لیکن اس کو شریعت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس میں بھی غلطی کا احتمال ہے۔۔۔
    جب اس میں بھی غلطی کا احتمال ہے تو نافذ العمل کیسے ہوگا؟؟؟۔۔۔

    غلطی کا احتمال ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کے وہ نافذ العمل بھی نہ ہو مقدمات کے فیصلے تو آخر انسانوں کو ہی کرنے ہوتے ہیں قاضی فیصلہ کرتے وقت صرف کتاو سنت کا ہی پابند ہوتا ہے وہ وقتی ہوتا ہے وہ دستور نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس کو دلیل بنا کر مزید فیصلے کئے جاسکتے ہیں ہر قاضی براہ راست کتاب وسنت سے دلیل اخز کرے گا اگرچہ وہ فقہاء اور مجتہدین کی آراء سے راہنمائی لے سکتا ہے لیکن کسی انسانی راہنمائی کو دلیل وحجت کے طور پر پیش نہیں کرسکتا یہی تو فرق ہے اہلحدیث اور اہل الرائے کے طرف فکر میں کے اہلحدیث ایک اجتہاد سے دوسرا اجتہاد نہیں کرتے ہر دور میں ہر نئے مسئلہ کے لئے کتاب وسنت سے ازسرنو اجتہاد ہوگا اور سابقہ اجتہادات سے صرف راہنمائی لیجاسکے گی۔۔۔ یہ ہی وجہ ہے اہلحدیث مفتی فتوٰٰی لکھتے وقت آئمہ دین کی آراء سے راہنمائی لیتے ہیں لیکن دلیل کے طور پر کتاب وسنت کو ہی پیش کرتے ہیں کیونکہ شریعت کی دلیلیں صرف دو ہیں کتاب وسنت یہاں یہ بات بھی خوب سمجھ لیں کے اجتہاد دین وشریعت میں قطعاََ کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ اجتہاد کا مطلب نئے پیش آمدہ مسائل کا حل کتاب وسنت سے تلاش کرنا ہے دین وشریعت مکمل ہے احکامات بھی سب موجود ہوتے ہیں شریعت میں موجود احکامات کو نئے حالات میں منطبق کرنے کا نام اجتہاد ہے نہ کے حالات کے مطابق شریعت کو تبدیل کرنے کا نام۔۔
     
  2. ‏اپریل 16، 2012 #2
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اسلامي نظام سياست اور جمہوريت کے مابين فرق کو سمجھنے کے ليے اس کتاب کا مطالعہ ضروري ہے ۔ يہ کتاب عبد القدوس سلفي صاحب کي تصنيف ہے اور اسکا مقدمہ پروفيسر محمد شفيع ناطق کے قلم سے ہے اور کتاب کے آخر ميں مولانا عبد الرحمن کيلاني صاحب کا مضمون "جمہوريت کيا ہے" بطور ضميمہ شامل کيا گيا ہے ۔ اس کتابچہ کو طلباء مرکز الدعوۃ والارشاد نے شائع کيا تھا


    جمہوری انتخابات اور قیام خلافت؟

    اچھا آپ یہ بتایئے کے جمہوریت میں جو انتخابات کا تصور ہے کیا وہ بھی اسلام سے متصادم ہے؟؟؟۔۔۔
    جی ہاں!۔ اسلام اور جمہوریت جوہری فرق انتخابات کے تصور پر مبنی ہے جمہوریت میں عدد کو اہمیت حاصل ہے اسلام میں عدد کی کوئی حیثیت کسی بھی درجہ میں نہیں۔۔۔بلکہ اسلام اہلیت کو اہمیت دیتا ہے یہ ہے بنیادی تھیوری جہاں اسلام جمہوریت سے ممتاز ہوتا ہے۔
    آپ کا مطلب یہ ہے اگر ووٹروں کی اہلیت کی شرط مقرر ہو تو پھر انتخابات درست ہیں؟؟؟۔۔۔

    نہیں پھر بھی غلط ہیں کیونکہ آپ جو بھی اہلیت مقرر کریں گے پھر ان اہل لوگوں کی تعداد کو اہمیت دینا ہوگی دراصل ووٹنگ کا تو اسلام میں سرے سے تصور نہیں یہ الیکشن کا نظام ہی ایسا ہے کے یہاں اول وآخر عددی اکثریت کو اہمیت دینا پڑتی ہے۔۔۔

    تعداد کو اسلام میں اہمیت کیوں نہیں؟؟؟۔۔۔ بس شرط یہ ہے کے وہ تعداد اہل علم وتقوٰی لوگوں کی ہو ہماری فقہ وتفسیر کی کتابوں میں جمہور کا لفظ عام پایا جاتا ہے کے فلاں مسئلہ جمہور کے نزدیک اس طرح ہے آپ کہتے ہیں اسلام میں جمہوریت نہیں۔۔۔

    فقہ وتفسیر کی کتب میں جب علمائ اسلام کی آراء نقل ہوتی ہیں تو ان کا مقصد محض یہ وضاحت کرنا ہوتا ہے کے فلاں مسئلہ کے بارے میں فلاں فلاں علماء کی یہ رائے ہے اور جمہور اس طرف گئے ہیں اب اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے آیا جمہور نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کی ان کے پاس کیا دلیل ہے؟؟؟۔۔۔ وزن یہاں بھی دلیل کا ہوتا ہے اگر جمہور کے مقابلے میں کسی دوسرے عالم کی رائے دلیل سے ثابت ہوتو اسی کو اختیار کیا جاتا ہے۔۔۔اصول فقہ میں کوئی ایسی اصل موجود نہین جہاں جمہور کے مؤقف کو دلیل بنایا گیا ہو کتنے مسائل ایسے ہیں جنہیں جمہور کے کمزور استدلال کی بناء پر آج تسلیم نہیں کیا جاتا۔۔۔
    جب جمہور کی بات دلیل نہیں تو پھر کتابوں میں بیان کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟۔۔۔

    کتابوں میں تو اقلیت کی آراء بھی نقل ہوتی ہیں یہاں قلت وکثرت کا مقابلہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ اہل علم کو علماء اسلام کی آراء سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا ہے تھوڑے لوگوں کے نام لے کر بیان کردیا جاتا ہے تاکہ علماء استفادہ کرتے وقت اپنی رائے قائم کرسکیں جس مسئلہ پر جمہور کا عمل ہو تو اس کا یہ مطلب کوئی بھی نہیں لیتا کہ اب دوسرے علماء کی آراء کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جمہور کے مقابلہ میں کوئی ایک امام مضبوط دلیل پیش کردے تو پھر اس کی دلیل کو قبول کیا جائے گا فقہ کی کتب میں جمہور کا مسلک بیان ہونے سے ان کی پابندی مقصود نہیں ہوتی اور نہ ہی اصول فقہ میں کوئی اصل ایسی ہے جس میں اجتہاد کرتے وقت جمہور کو دلیل بنایا جاسکے۔
    اسلام کا سیاسی نظام


    اچھا تو پھر بتائیں اسلام کا اپنا سیاسی نظام کیا ہے؟؟؟۔۔۔
    اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے جس میں الیکشن یا سلیکشن کا کوئی چکر نہیں نہ ہی دستور سازی کی مصیبت ہوتی ہے اسلام کے سیاسی نظام (خلافت) میں خلیفہ اور عوام سب دستور الٰہی (شریعت) کے پابند ہوتے ہیں شورٰی کا کام بوقت ضرورت خلیفہ کو مشورہ دینا ہوتا ہے۔۔۔۔

    یہ خلافت قائم کس طرح ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔
    خلافت خلیفہ کے وجود سے قائم ہوتی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی جانیشن ہوتا ہے۔

    خلیفہ کا وجود کس طرح ہوگا؟؟؟۔۔۔
    مشورے سے۔۔

    مشورہ کون لوگ دیتے ہیں؟؟؟۔۔۔
    جو لوگ مشورہ کے اہل ہوں وہی مشورہ دیتے ہیں۔۔۔

    ان لوگوں کی اہلیت کا پتہ کیسے چلتا ہے۔
    ان کے تقوٰی اور علم وبصیرت سے۔۔۔

    یہ کون معلوم کرے گا کے فلاں شخص متقی اور عالم ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔
    یس یہی وہ جوہری فرق ہے جو جمہوریت اور خلافت میں پایا جاتا ہے تقوٰی اور علم بصیرت ایک کیفیت ہے جس کی گنتی ہوسکتی ہے نا پیمائش کے لوگ متقویوں کو ووٹوں کے ذریعے منتخب کرتے پھریں اور نہ ہی تقوٰی کی کوئی تحریری سند کہیں سے حاصل کی جاسکتی ہے کے اس بناء پر نامزدگی ہوسکے ایمان وتقوٰی ایسی کیفیات ہیں جن کو اسلامی معاشرہ خود جج کرتا ہے۔۔۔

    دیکھئے! اسلام نے مسلمانوں کو وحدہ عقیدہ کی بناء پر ایک ملت قرار دیا ہے ملت افراد معاشرہ کا نام ہے ان اراد میں سے ملی ودینی خدمات کی بجاء پر ملی راہنماء خود بخود فطری طریق سے ابھرتے ہیں اور ایسا ہر معاشرہ میں ہوتا ہے معاشرہ اسلامی ہوگا تو وہاں جس کی دینی خدمات زیادہ ہونگی مسلمان اس کو دینی راہنما تصور کرتے ہوں گے یہ اہنما نہ پیسے کے زور پر اُبھرتے ہیں نہ جمہوری ہلڑبازی ان کو میدان میں لاتی ہے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین دکھائی نہیں دیتے یہ جو آپ نام سنتے ہیں عشرہ مبشرہ، اصحاب بدر، اصحاب شجرہ، انصار ومہاجرین یہ سب گروہ کس طرح وجود میں آئے یہ مسلمانوں کے وہ ملی راہنما تھے جو منتخب ہوتے تھے نہ کے نامزد یہ لوگ دینی خدمات کی بدولت معاشرے میں ابھر کر سامنے آگئے تھے یہی لوگ مشورہ دینے کے اہل سمجھے گئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب لوگوں نے خلیفہ بنانا چاہا تو آپ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا شوریٰ میں تو مہاجریں وانصار کے لئے ہے انکو لاؤ یہ غلط فہمی بھی آپ کے ذہن سے نکال دوں کے بعض لوگ انصار ومہاجرین کو سیاسی جماعتیں باور کراتے ہیں حالانکہ یہ صحابہ کے اوصاف کی بناء پر نام پڑ گئے تھے ورنہ انصار وہ مہاجرین ایک ہی جماعت ہیں اگر یہ سیاسی جماعتیں ہوتی تو بتایئے کیا کوئی انصاری مہاجر بن سکتا ہے یا کوئی مہاجر انصاری بن سکتا کیونکہ سیاسی جماعتوں کے افراد ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں جاسکتے ہیں۔۔۔ انصار ومہاجرین کو سیاسی جماعتیں باور کرانا محض جہالت ہے۔۔۔ انصار ومہاجرین کو انکی ملی خدمات کی بناء پر مسلمانوں کی قیادت ملی اور ایسی قیادت ہی ملت کی نمائندگی کا حق ادا کرسکتی ہے جمہوریت میں قیادت علاقہ کی بناء پر اکثریت کی بنیاد پر ابھرتی ہے جو بعض لوگوں کی نمائندہ ہوتی ہے پوری قوم کی نمائندگی کا جو تصور اسلام میں ہے وہ جمہوریت میں اس کا پاسنگ بھی نہیں اسلام میں ملی راہنما ملت کے خیر خواہی کا خذبہ لے کر کام کرتے ہیں جبکہ جمہوریت خواہشات پرستی کو جنم دیتی ہے اسلام میں دلیل کی بنا پر اپنا موقف منوایا جاتا ہے جمہوریت میں دو تہائی اکثریت ثابت کرکے اپنا موقف کوئی منوانے تو منوائے ورنہ یہاں دلیل وبرھان نام کی کوئی چیز نہیں۔۔

    دیکھئے!۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے حق مہر مقرر کرنے کے مسئلہ پر ایک عورت نے کھڑے ہوکر قرآن کریم کی آیت پڑھی اور امیر المومنین کو اس عورت کی دلیل کے سامنے سرجھکانا پڑا اگر وہاں جمہوریت ہوتی تو اس عورت کی آواز صدائے الصحراء ثابت ہوتی مسئلہ پارلمنٹ میں پیش ہوتا پھر اس پر دو تہائی اکثریت متفق نہ ہوتی تو شریعت کا فیصلہ رد کردیا جاتا قرآن کی آیت کو کوئی نہ سنتا جس طرح ہماری قومی اسمبلی میں عورت کی سربراہی کے مسئلہ پر کسی صاحب درد نے حدیث رسول سنانی چاہی تو یہ کہہ کر اُسے چپ کروا دیا گیا کے یہ غیر آئینی ہے۔۔۔

    کبر کلمۃ تخرج من افواھم۔
    آپ نے بڑی تفصیل سے میری کافی الجھنیں دور کی ہیں جزاکم اللہ خیرا اچھا تو فرمایئے کے انصار ومہاجرین تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فطری طور پر ابھر کر سامنے آگئے تھے لیکن ہمارے لئے اس وقت انصار ومہاجرین کہاں ہیں کیسے وجود میں آسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اس لئے واحد طریقہ انتخابات کا ہی ہوسکتا ہے جو ملی قیادت کو سامنے لائے۔

    آپ اس بات پر غور کر لیں تو بات واضح ہوجائے گی کے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں انصار ومہاجرین کیسے وجود میں آگئے تھے دراصل ہم وہ کام کرنا نہیں چاہتے جس کے نتیجہ میں انصار ومہاجرین جیسے کردار وجود میں آئیں ہم جمہوری کام کو ہی دینی خدمت سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔۔۔

    وہ کام کیا ہے جو ہمیں کرنا چاہئے؟؟؟۔۔۔
    وہ کام وہی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا یعنی دعوت وجہاد یہ نبوی منہج ہے جس کا جمہوریت سے زبردست تصادم ہے۔

    یہ کام تو پہلے ہی تبلیغی جماعت کررہی ہے۔
    وہ کیسے!۔ تبلیغی جماعت تو جہاد مخالف تحریک ہے رہی دعوت تو ان کی دعوت میں سیاست شجرممنوعہ ہے حکمرانوں کو کلمہ حق کہنا ان کا مشن ہی نہیں وہ تو لوگوں کو محض صوفی بناتے ہیں ہم جب دعوت وجہاد کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کے ہم صرف عوام کو اسلام کی دعوت دیں گے اور ارباب سیاست کو چھٹی ہوگی جو مرضی کرتے پھریں نہیں ہمارامسلک جس قدر جامع ہے اسی قدر ہماری دعوت بھی جامع ہے ہر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا اور طاغوتی نظام کی علی الاعلان تردید ونفی ہماری دعوت کا حصہ ہے ہمیں چاہئے کے ہم حکمرانوں، سیاستدانوں اور عوام سب کو دین حق پہنچائیں ان لوگوں کو اسلام کی حاکمیت اعلٰی کا تصور بتائیں۔ یہ ہماری دعوت کا اہم ترین موضوع ہو دعوت جب اس سطح پر آتی ہے تو جہاد بن جاتی ہے تبلیغی جماعت کی طرح فضائل کو ہی دعوت کا موضوع بنانے کی بجائے عقائد ومسائل ہماری دعوت کا عنوان ہوں دعوت کا موضوع بنانے کی نجائے عقائد ومسائل ہماری دعوت کا عنوان ہوں دعوت کا کام ایسا فطری عمل ہے جو داعیوں کو جنم دیتا ہے یہی داعیان الی اللہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ملت کے راہنما متصور ہوتے ہیں یہ دعوت اگر جاندار ہو (تبلیغی جماعت کی دعوت کی طرح بےجان نہ ہو) تو پھر دعوت ہجرت وجہاد کے مقامات کو قریب لاتی ہے حق وباطل کی کشمکش میں مجاہدین پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں یہی مجاہدین اور داعی لوگ انصار ومہاجرین ہیں جنہیں شورٰی کا حق ہے یہ لوگ جب مل کر بیٹھتے ہیں تو ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کے مجھے خلافت نہ ملے اس لئے خلیفہ کا انتخاب فورا ہوجاتا ہے سب لوگ بلا اختلاف ایک شخصیت پر جمع ہوکر بیعت کرلیتے ہیں اور خلافت کا نظام قائم ہو جاتا ہے۔۔۔

    شورٰی کے لوگ خلیفہ کا انتخاب کیسے کریں گے؟؟؟۔۔۔
    آپ کے ذہن میں دراصل جمہوری انتخاب بیٹھا ہوا ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کے ووٹنگ کے بغیر انتخابات ممکن ہی نہیں شورٰی کا مطلب رائے کو پختہ کرنا ہوتا ہے شہد کی مکھیاں جو شہد بناتی ہیں اس عمل کو عربی میں شورٰی کہتے ہیں جس طرح وہ مختلف پھولوں اور پھلوں سے شہد تیار کرتی ہیں اسی طرح مسلمان اہل شورٰی بیٹھ کر مختلف تجاویز دیں گے وہ تجاویز پختہ ہوتی چلی جائیں گی چونکہ ہر شخص کے دل میں ملت کا درد ہوگا وہ خلوص سے اختلاف بھی کرے گا اور اتفاق بھی بلآخر مسئلہ حل کرہی لیا جائے گا چونکہ اس وقت ہم نظری بحث کررہے ہیں اس لئے یہ مسئلہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے دراصل اس کا تعلق عمل وتجربہ سے ہے آپ دیکھیں جب ہم سفر کرتے ہیں اپنا امیر کیسے بناتے ہیں آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کے لوگوں نے ووٹنگ کے ذریعہ اپنے سفر کا امیر منتخب کیا ہو تمام ساتھی مشورہ کرتے ہیں خود بخود ایک شخصیت پر لوگ جمع ہوجاتے ہیں کبھی ایک آدمی کسی کا نام لیتا ہے تو سب اس کی تائید کر لیتے ہیں یا کبھی چند آدمی کسی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے کردیتے ہیں اور وہ امیر بن جاتا ہے اسی طرح آپ خلفائے راشدین کے انتخاب کو دیکھیں آپ کو کہیں یہ دکھائی نہ دے گا کے شورٰی نے الیکشن کے ذریعہ خلیفہ کا انتخاب کیا ہو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتخاب ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہاتھ آگے کر کے بیعت کر لی اور باقی تمام انصار ومہاجرین فوار متفق ہوگئے حالانکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جو جھگڑا صحابہ کرام میں چل رہا تھا اس کا یہ حل پیش کیا جاسکتا تھا کے ابھی ہم ووٹنگ کروالیتے ہیں جس کی اکثریت ہو وہ خلیفہ منتخب ہو۔۔۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شوری کو اعتماد میں لے کر نامزد کیا جن لوگوں نے اختلاف کیا اُن کی آراء کو ہموار کرتے رہے حتی کے سب متفق ہوگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوئی ہدایت ایسی نہیں کے جس طرف زیادہ ہوں بعض لوگوں میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ انہوں نے اکثریت کے مطابق فیصلہ کی وصیت کی تھی ثبوت کے لئے سند درکار تھی اس کو خلافت دینا اور نہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اکثریت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔۔۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عالٰی عنہ سے اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دونوں سے الگ الگ انٹرویو کیا اس انٹرویو نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کی راہنمائی کی کے خلافت کس کو ملنی چاہئے چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ بنادیا اسی طرح آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا معاملہ پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔

    حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں تو کہا جاتا ہے عوام سے پوچھا گیا تھا اکثریت نے ان کو پسند کیا اس لئے انہیں خلیفہ بنایا گیا۔۔۔
    کیا خلیفہ مقرر کرنے کے بعد پوچھا گیا یا پہلے؟؟؟۔۔۔

    یہ تو معلوم نہیں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ فیصلہ کرچکے تھے کے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ہونگے۔۔۔

    انہوں نے اپنے اس فیصلے کو توثیق کے لئے ان قافلوں سے جو حج کی طرف آرہے تھے سر راہ پوچھا کے تم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ میں سے کس کو خلافت کے لئے پسند کرتے ہو تو تمام لوگ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں تھے یہ نہیں کے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خلیفہ بننے کی بنیاد ہی یہ تھی۔۔۔۔

    اچھا تو ہم پھر خلافت کو کیسے قائم کریں۔
    میں تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کے ہمیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی خالص سلفیت کو اختیار کرنا ہوگا اور وہ دعوت وجہاد ہے۔۔۔

    دل کو یہی لگتا ہے کے اصل کام کرنے کا یہی ہے لیکن اس سے خلافت کا قیام بہت دور ہوجائے گا۔۔۔

    دور ہونے کو نہ دیکھیں راستہ صھیح ہونا چاہئے خواہ فاصلہ تھوڑا ہی طے ہو غلط راستہ پر دوڑنا خواہ مخواہ اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کرنا ہے۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کے موجودہ سیاست سے بھی تو ہم کنارہ کش نہیں ہوسکتے نا۔

    ہم کب کہتے ہیں کنارہ کش ہوں آپ موجودہ سیاست کو مسلمان بنائیں آپ اپنی دعوت کے میدان میں سیاستدانوں کو کھینچ لائیں کوئی بات سنے یا نہ سنے سب کو توحید وسنت کی کھری کھری بات سنائیں ہوسکتا ہے کوئی برسراقتدار ہی دعوت کو سمجھ جائے اور انقلاب لے آئے یہی طریقہ ہمارے سلف نے اختیار کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ، ابن وہاب رحمہ اللہ علیہ ان سب لوگوں نے حکمرانوں کو دین پہنچایا قربانیاں بھی دیں اور اُن کی مساعی کے بڑے مثبت نتائج بھی نکلے یہی وہ شرعی سیاست ہے جو ہمارے سلف نے اختیار کی اور ہم بھی اس کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

    آپ نے فرمایا ہے وحی کے علاوہ کسی بھی چیز کو دستور قرار دینا خواہ وہ قرآن وسنت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو شرک ہے اگر ہماری اسمبلی دستور بنائے کے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ بھی شرک ہوگا؟؟؟۔۔۔
    ہاں یہ بھی شرک ہوگا آپ نے ہمارا مضمون (مکالمہ) غور سے نہیں پڑھا ورنہ آپ یہ سوال نہ کرتے ہم نے سارا مکالمہ اسی نکتہ کی وضاحت کے لئے ہی لکھا تھا آپ بتائیے چور کا ہاتھ کاٹنا کس کا حکم ہے؟؟؟۔۔۔ اسمبلی کی منظوری کے بغیر یہ دستور کیوں نہیں؟؟؟ کیا کسی جمہوری ملک کی عدالت اللہ کے اس نازل کردہ دستور کے مطابق چور کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرسکتی ہے جبکہ اسے اسمبلی نے قانون نہ بنایا ہو آخر اسمبلی کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کے وہ اللہ کے نازل کردہ دستور وقانون پر پھر سے غور کرے جس کا جی چاہئے تو اس کو قانون بنادے جی چاہئے تو ٹھکرادے اسمبلی کو یہ اختیار دینا ہی شرک فی الحاکمیہ ہے اسمبلی کی منظوری کے بعد دستور مانا تو کیا مانا۔۔۔ یہ اللہ کی اطاعت ہوئی یا اسمبلی کی۔۔۔

    آئیے اب آپ کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں اہلحدیث نماز میں رفع یدین کرتا ہے اور ایک شافعی بھی نماز میں رفع یدین کرتا ہے اب آپ بتائیں کی دونوں کی نماز سنت کے مطابق ہے ہرگز نہیں ہمارے نزدیک شوافع کا رفع یدین کرنا اور حنفیوں کا رفع یدین نہ کرنا دونوں برابر ہیں حالانکہ شوافع نے سنت کے مطابق رفع یدین کیا ہے چونکہ انہوں نے اس کو سنت امام شافعی کی تقلید میں تسلیم کیا ہے اس لئے ان کا یہ عمل سنت پر عمل نہیں بلکہ امام شافعی کی تقلید ہے عمل کتنا بھی مطابق سنت کیوں نہ ہو اس کے پیچھے جذبہ اتباع کا نہ ہو بلکہ تقلید کارفرما ہوتو عمل کی حیثیت متاثر ہوتی ہے آپ سارا اسلام نافذ کردیں لیکن اس کی منظوری پارلیمنٹ سے لیں تو وہ اسلام اسلام نہیں رہے گا مسلمان کا کام کلمہ پڑھنے کے بعد اسلام کو قبول کرتے چلے جانا ہے نہ کے اسلام کو قانونی حیثیت دینے کے لئے خود حاکم بن بیٹھنا اس سے اسلام کی حاکمانہ حیثیت پر حرف آتا ہے۔۔۔۔ تمام حُکام شریعت سے پوچھ کر چل سکتے نہ کے شریعت ان حُکام سے پروانہ نفاذ حاصل کر کے نافذ ہوگی۔۔۔

    میرے بھائی آپ ذرا غور تو کریں اللہ نے دستور نازل ہی اس لئے کیا ہے کے حکمران اور عوام سب اس پر عمل کریں اب ہم اللہ کے بنائے ہوئے دستور کو پھر دستور بنائیں تو یہ قانون سازی اور تشریح ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اللہ کے نازل کردہ کسی حکم کے بارے میں صحابہ کرام سے کبھی مشورہ کیا تھا کے اس دستور کو مانیں یا نہ مانیں یہ مشورہ کرنا ہی شرک فی التشریح تھا۔۔۔۔ اگر آپ سلفی مہنج کے حامل ہیں تو کچھ تو سوچنا چاہئے کے وہ لوگ جو انسان کو اللہ کا خلیفہ نہیں مانتے کے اس سے شرک لازم آتا ہے وہ اسمبلی کو حق حاکمیت کس طرح دے سکتے ہیں ہمارا مشورہ ہے آپ اپنے اسلاف کا مطالعہ کریں اور خصوصا امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بغور پڑھیں آپ کا یہ سوال اور اس قسم کے دوسرے اشکالات ان شاء اللہ رفع ہوجائیں گے۔۔۔

    اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے جس میں الیکشن یا سلیکشن کا کوئی چکر نہیں؟؟؟۔۔۔

    اگر ایسا نہیں تو پھر خلفاء راشدین کا تقرر کیسے ہوا اگر نامزدگی تھی (جیسے حضرت ابوبکر صدیق ہوئے بقول آپ کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نامزد کیا) تو اسلام کے مطابق یا خلاف؟؟؟۔۔۔

    یہی سوال آپ پر بھی ہ کے کیا خلفائے راشدین کا تقرر جمہوری طریقے سے ہوا ہے؟؟؟۔۔۔ پوری خلافت اسلامیہ کی تاریخ میں ایک مثال نہیں ملتی مثال تو دور کی بات ہے جمہوریت کا لفظ کہیں نہیں پایا جاتا رہا یہ کے پھر خلفاء کا تقرر کیسے ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کے وہ غیر جمہوری طریقے سے ہوا ہے اور مسلمانوں کا خلیفہ جب بھی بنے گا وہ جمہوریت سے نہیں بننے گا امام مہدی جو خلیفہ المسلمین ہوں گے وہ بھی غیر جمہوری طریقے سے برسراقتدار آئیں گے اور ہمارے بچے جمہورے اس وقت بھی یہی راگ الاپیں گے کے یہ غیر آئینی حکمران ہے ہم اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اب رہا یہ سوال کے یہ غیر جمہوری طریقہ کس بلا کا نام ہے جس کے ذریعے خلیفہ کا تقرر ہوتا ہے تو بھائی ہم نے اپنے اس مکالمہ میں اس کی خوب وضاحت کردی تھی کے وہ اسلام کا مسلمہ اصول “شورٰی“ ہے شوریٰ ایک ایسا فطری عمل ہے جس کو نہ آپ نامزدگی قرار دے سکتے ہیں اور نہی ہی سلیکشن یا الیکشن۔۔۔۔

    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔

    شوریٰ اسلام کا ایک منفرد انداز ہے اس کو کسی مغربی طاغوتی عینک سے نہ دیکھا جائے خلافت کی کرسی پر بٹھانے کے لئے اہل شورٰی مل بیٹھتے ہیں مخلصانہ تجاویز سامنے آتی چلی جاتی ہیں اور ایک رائے پختہ ہوتی چلی جاتی ہے اور اللہ کے فضل سے سب اہل حل وعقد ایک شخصیت پر متفق ہوجاتے ہیں اور فیصلہ ہوجاتا ہے یہ فیصلہ اور اتفاق کس طرح ممکن ہوتا ہے اس کے لئے خلفاء کا تقرر آپ سامنے رکھیں آپ نے پوچھا ہے کے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو نامزد کیا تھا وہ اسلام کے مطابق تھا یا مخالف۔۔۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کے کیا وہ جمہوریت کے مطابق تھا یا مخالف۔۔۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں وہ اسلام کے مطابق تھا س طرح کے اس میں باقاعدہ مشورہ کیا گیا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلسل متعدد صحابہ کرام سے مشورہ دینے والے لوگوں کے دلائل لیتے رہے اور اپنے دلائل بھی دیتے رہے انہوں نے مشورہ دینے والے لوگون کی گنتی کر کے فیصلہ نہیں کیا مشورہ کے بعد ایک عزم پر جم گئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کا تقرر ہوا نہ یہ مطلقا نامزدگی تھی اور نہ انتخاب۔۔۔

    اب رہی یہ بات کے اگر کوئی حکمران جمہوری طریقے سے آجائے تو اسلام کی ہدایت کیا ہے اسلام کی ہدایت یہ ہے کے اس کی اصلاح کی جائے اگر وہ اسلام نافذ کرتا ہے تو اس کی حمایت کی جائے اسی طرح کوئی مارشل لاء کے ذریعے یا کسی اور ذریعے سے برسراقتدار آجائے تو اس حکمران کو اسلام کی دعوت کے ذریعے یا کسی اور ذریعے اس بات کا قائل کیا جائے کے وہ اسلام نافذ کرے اسلام جمہوریت کی طرح یہ نہیں کہتا کے وہ ایک غیرآئینی حکمران ہے اس کو ہٹاؤ خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اور اگر جمہوریت کے ذریعے کوئی بےدین حکمران بھی مسلط ہوجائے تو سے بصد خوشی قبول کرلو حتٰی کہ ایک عورت کی حکمرانی بھی قبول کرلو اسلام نے اُمت کو سیاسی انتشار سے بچانے کے لئے کس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت ہدایات دی ہیں حتی کے اگر نماز کا امام فاسق وفاجر ہو تو اس کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے بشرطیکہ کفروشرک کی کوئی واضح صورت اس میں نہ پائی جاتی ہو جمہوریت تو تشیع اور خارجیت سکھاتی ہے جس نے اُمت کو آج تک سُکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔۔۔۔

    آپ فرماتے ہیں خلیفہ نبی کا سیاسی جانشین ہوتا ہے مگر مذہبی جانشین کون ہوتا ہے کیا یہ بقول اقبال۔۔۔
    جدا ہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی والا تصور تو نہیں؟؟؟۔۔۔

    میرے بھائی خلیفہ نبی کا سیاسی جانشین ہوتا ہے کا مطلب یہ نہیں کے خلیفہ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس کا صرف یہ مطلب ہے کے منصب نبوت میں جو حکومت کا پہلو ہوتا ہے وہ نبی سے خلیفہ کو منتقل ہوتا ہے یعنی نبی کی نبوت خلیفہ کو نہیں ملتی نبی بیک وقت اللہ کا نمائندہ (رسول) بھی ہوتا ہے اور ایک حکمران یعنی امیر المومنین بھی جب یہ کہا جاتا ہے کے فلاں شخص نبی کا خلیفہ ہے تو اس کا مطلب ہے حکومت کی جو کرسی ہوتی ہے خلیفہ اس کو سنبھالتا ہے رسالت کی کرسی پر رسول ہی بیٹھ سکتا ہے خلیفہ نہیں۔۔۔

    جن لوگوں نے خلیفہ کو نبی کا مذہبی ودینی جانشین سمجھا اُن کو یہ مشکل پیش آئی کے نبی اور خلیفہ میں کیا دینی قدرمشترک ہے نبی تو صاحب وحی اور معصوم ہے اس کا ہر حکم وحی کا امر ہے ان لوگوں کے نزدیک امام حکومت کے علاوہ تشریع کے اختیارات بھی رکھتا ہے اس کی ہربات نبی کی طرح وحی ہے کیونکہ وہ نبی کا جانیشن جو ہوا اسی عقیدے کی ایک بگڑی ہوئی شکل تصوف میں پائی جاتی ہے آپ نے دیکھا سنا ہوگا کے صوفیا میں بھی ایک قسم کی خلافت چلتی ہے وہ بھی نبی کی روحانی جانشینی ہے جو آج دین طریقیت کی شکل میں موجود ہے اس بنیاد پر ہی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور اپنے آپ کو نیا نبی نہیں کہتا تھا محمد کا کاظل قرار دیتا ہے یعنی اپنے آپ کو نبی کا جانشین ان معنوں میں سمجھتا ہے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کرسی اُسے مل گئی ہے اس لئے خلیفہ (خصوصا امت محمدیہ میں) نبی کے اس جانیشن کو کہتے ہیں جو نبی کے طریقے پر حکعمت کرے اور آپ نے یہ حدیث تو پڑھی سنی ہوگی۔۔۔

    عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلمامات منھم نبی “خلفہ نبی“ وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔۔۔۔ الخ
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کے آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوتا ایک نبی اس کا جانشین بن جاتا اور میرے بعد کوئی نبی میرے بعد کثرت سے خلفاء ہوں گے اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین آپ نے اپنی سنت کے ساتھ خلفائے راشدین کی سنت کو ملایا ہے اس کا یہی مطلب ہے کے خلفائے راشدین سے مراد ان کا طرز خلافت وحکومت ہے جس کو ہم نے لازم پکڑنا ہے صاف ظاہر ہے خلفائے راشدین کا نظام جمہوریت نہیں تھا۔۔۔

    رہی بات اقبال کے اس قول کی کے!۔
    جدا ہو سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
    تو ہم اس کے من وعن قائل نہیں اگر اس کا مطلب یہ ہے کے سیاست کو دین کے مطابق ہونا چاہئے تو یہ درست ہے اور اگر اس کا مطلب یہ ہو کے پورا دین ہی سیاست کا نام ہے تو ہم اس کے ہرگز قائل نہیں ہمارے نزدیک سیاست اسلام کے دوسری پہلوؤں معیشت ومعاشرت کی طرح ایک انتظامی پہلو ہے اور ظاہر ہے کے وہ دین الگ نہیں۔۔۔

    آپ نے فرمایا پوری قوم کی نمائندگی کا جو تصور اسلام میں ہے وہ جمہوریت میں اس کا پاسنگ بھی نہیں وہ کیا ہے اور کس طریقہ سے عملا پوری قوم کی نمائندگی ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔

    میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا دوبارہ عرض کئے دیتا ہوں اسلام کے نظام خلافت میں سیاسی قیادت ایمان وتقوٰی کی بناء پر ابھرتی ہے اسلامی معاشرہ ایک ملت ہوتا ہے دینی وملی خدمات کی بدولت کچھ شخصیات ابھر کر سامنے آجاتی ہیں ان کو ابھارنے کے لئے کوئی انتخابی مہم نہیں چلتی اور نہ سچے جھوٹے وعدے ہوتے ہیں نہ نعرہ بازی اور اسٹیج شو ہوتے ہیں بس اللہ سے تعلق کی بناء پر لوگوں کی انگلیاں خود بخود ان شخصیات کی طرف اٹھتی ہیں عوام کیلئے یہی لوگ مرجع بن جاتے ہیں یہ ایک فطری عمل ہے جیسا کے دور نبوی میں صحابہ میں انصارومہاجرین کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی تھی ان کی اہمیت ان کی ملی خدمات کی بدولت ابھر کر سامنے آئی ان میں ہر شخص پوری ملت کا درد اپنے اندر رکھتا تھا ان میں سے کوئی شخص کسی علاقہ کے بعض لوگوں کا منتخب شدہ نہ تھا وہ جب بھی نمائندگی کرتے تھے تو وہ پوری ملت کی نمائندگی کرتے تھے ان میں ہر شخص پر ملت کے ہرفرد کو اعتماد تھا ظاہر ہے جب یہ لوگ مل کر بیٹھتے ہوں گے اور خلیفہ کو مشورہ دیتے ہوں گے تو اس میں پوری ملت کی بھرپور نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوں گے نہ کے اپنی پارٹی یا علاقہ کی نمائندگی جمہوریت میں نمائندگیاں قطار اندر قطار اپنے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کوشاں ہوتی ہیں یہ ہے اسلام کی نمائندگی کا تصور جس کو ہم جمہوریت میں نمائندگی کے تصور کا پاسنگ بھی نہیں سمجھتے۔۔۔۔

    آپ نے فرمایا ہے کے آپ موجود سیاست کومسلمان بنائیں گویا جمہوری سیاست کو اسلامی بنایا جاسکتا ہے اور یہ اسلام کا کوئی نظام سیاست نہیں؟؟؟۔۔۔ کیونکہ بنانے اور اپنانے میں بہت فرق ہے۔۔۔

    ہم نے جہاں یہ فرمایا ہے کے آپ موجدہ سیاست کو مسلمان بنائیں تو اس سے آگے یہ بھی فرمایا کے کس طرح بنائیں اس سے کسی طرح بھی اسلامی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں نکلتا موجدہ سیاست جب مسلمان ہوگئی تو وہ خلافت کہلائے گی جس طرح جب کوئی کافر مسلمان ہوتا ہے تو کفر اسلامی نہیں ہوتا بلکہ کافر مسلمان ہوتا ہے یعنی کفر کو چھوڑ کر اسلام اختیار کرتا ہے اس طرح جب جمہوریت مسلمان ہوگئی تو وہ اسلامی نہیں اسلام ہوجائے گی۔۔۔

    آخر انتخاب امیر کا کوئی طریق تو ہوگا؟؟؟۔۔۔

    ضرورت ہوگا۔۔۔

    کیا اس کو دستور نہیں کہیں گے؟؟؟۔۔۔٤
    نہیں! دوستور وہ ہوتا ہے جس کی پابندی امیر جماعت کو بھی کرنی ہوتی ہے اور امیر جماعت کے فوت ہونے کے بعد بھی وہ دستور زندہ رہتا ہے نئ امیر کا انتخاب اسی کے مطابق کرنا ہوتا ہے جبکہ یہ مقام صرف کتاب وسنت کو حاصل ہے کے وہ ہمیشہ زندہ ہے اور مستقل ہے۔۔۔

    اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس میں کیا حرج ہے آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی خلیفہ کے انتخاب کے لئے ایک طریق کار خود وضع کیا ہی تھا کیا وہ دستور نہ تھا؟؟؟۔۔۔

    اس میں بہت حرج ہے سب سے بڑا حرج یہ ہے اس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت اور طریقہ سلف سے نہیں ملتا اور یہ جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بات کی جاتی ہے کے انہوں نے آئندہ خلیفہ کے انتخاب کا طریق وضع کیا تھا یہ درست ہے لیکن اس کو دستور نہیں بنایا تھا مسئلہ کا کوئی وقتی حل نکالنا دستور نہیں ہوتا یہی وجہ ہے اہلحدیث اجتہاد کو وقتی حل سمجھتے ہیں مقلدین اس کو مستقل حیثیت دیتے ہیں مقلدین اجتہاد پر اجتہاد کرتے ہیں جبکہ اہلحدیث ہر نئے مسئلہ کے لئے نیا اجتہاد کرتے ہیں یہ دستور اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بنایا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے بعد کے خلفاء کا انتخاب اس طریقے کے مطابق کیوں نہیں ہوا ہر خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ حالات کے ساتھ بدلتا رہا ہے یہی فرق ہے دستور اور وقتی طریق کار میں۔۔۔

    اس کا مطلب ہے آپ امیر کے انتخاب کے لئے کوئی طریقہ کار متعین نہیں کرنا چاہئے۔۔۔

    ہاں!۔ جب شریعت (کتاب وسنت) نے کوئی طریق کار متعین نہیں کیا تو ہم کس طرح متعین کرسکتے ہیں البتہ کوئی سا بھی طریقہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ کتاب وسنت کے منافی نہ ہو لیکن اس کا متعین کرکے دستوری حیثیت نہیں دی سکتی۔۔۔

    جب آپ یہ مانتے ہیں کے امیر کے انتخاب کا طریق کار کوئی بھی اختیار کیا جاسکتا ہے شریعت نے پابندی نہیں لگائی تو پھر پاکستان کے مسلمانوں نے ایک طریق کار بنایا ہوا ہے اس سے آپ اختلاف کیوں کرتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    پہلا اختلاف تو یہ ہے کے انہوں نے ایک طریق کار کثرت رائے والا متعین کردیا ہے اور اس کو دستور بنادیا ہے حالانکہ کتاب وسنت نے آزاد چھوڑا ہے امیر کے انتخاب کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں حالات کے مطابق کوئی سا بھی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے دوسرا اختلاف یہ ہے کے جو طریق کار حکومت نے متعین کیا ہے وہ بھی سراسر کتاب وسنت کے منافی ہے کیونکہ اس طریق کار کے مطابق پہلے رُکن سازی کے ذریعے چھوٹے یونٹوں میں کچھ لوگ بااختیار منتخب ہوجاتے ہیں آخر میں صدر کا انتخاب محض کثرت رائے سے ہوتا ہے مغربی جمہوری انداز پرووٹنگ ہوتی ہے صدر اور وزیر اعظم دونوں کا انتخاب الگ الگ بذریعہ ووٹنگ ہوتا ہے حالانکہ شریعت میں امیر کے علاوہ کوئی منصب ایسا نہیں جس کا الگ سے انتخاب ہو پھر صدر کے اختیارات مزید تقسیم کرکے وزیر اعلٰی کو دے دئے جاتے ہیں اس طریقے سے بےاختیار صدر سامنے آتا ہے جو وزیر اعظم پر بھی حکم چلانے کا اختیار نہیں رکھتا ہم اس سارے ڈھانچے اور طریق کار کو شریعت کے منافی سمجھتے ہیں جب تک ہمارے اکابرین اس طریق کار سے رجوع نہیں فرماتے ہم ان کا ساتھ کس طرح دے سکتے ہیں؟؟؟۔۔۔

    اگر یہ سب کچھ غلط ہے تو آپ کے پاس متبادل کیا ہے؟؟؟۔۔۔
    ہمارا دستور کتاب وسنت ہو کتاب وسنت کی روشنی میں امیر کا انتخاب اہل علم کے صلاح مشورے سے کر لیا جائے پھر وہ امیر ملکی اُمور کو چلانے کے لئے جو قواعد و ضوابط بنائے ہم ان کی پابندی کریں یہ امیر کی سمع وطاعت کہلائے گی جو کتاب وسنت کا حکم ہے۔۔۔

    امیر کا انتخاب کرنے میں اگر کوئی اختلاف ہوجائے تو پھر؟؟؟۔۔۔
    اختلاف تو طریق کا متعین کرنے میں بھی ہوسکتا ہے اور یہ اختلاف اس اختلاف سے کہیں زیادہ شدید ہوگا جو امیر کے انتخاب کے وقت وقتی طور پر پیدا ہوگا اہلحدیث اور اہل الرائے کے طریق میں تو یہی بنیادی فرق ہے کے اہلحدیث مسئلہ پیدا ہونے پر اس کا حل نکالتے ہیں اس لئے جب اہل الشورٰی مل بیٹھیں گے امیر کے انتخاب کی بات چلے گی تو ہوسکتا ہے اتفاق رائے ہی سے مسئلہ حل ہوجائے اور اگر کوئی اختلاف پیدا بھی ہوگیا تو وہی مجلس اس کا حل بھی ان شاء اللہ نکال لے گی شورٰٰی کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کے پیدا شدہ مسائل کا حل ڈھونڈا جائے اس وقت ہمارے سامنے مسئلہ یہ نہیں کے امیر کا انتخاب کا کون ساطریقہ متعین کیا جائے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کے امیر کس کو بنایا جائے اہل علم جمع ہو کر یہ کام کریں جو جو مسائل پیدا ہوتے رہیں ان کو بھی ساتھ ساتھ حل کیا جائے۔۔۔

    امیر کے لئے شخصیت کے چناؤ میں اختلاف واقع ہوجائے اور ایک سے زیادہ گروپ بن جائیں تو اس کا حل کیا ہے؟؟؟۔۔۔

    صحابہ کرام وہ مسائل پیدا ہونے پر ہی ان کا حل سوچتے تھے محض تصور میں نہ تو اختلاف پیدا کرتے تھے اور نہ اُس کو حل کرنے کا تکلف فرماتے تھے کیونکہ جب بھی تدبیری معاملات میں اختلاف روننما ہوتا ہے تو اس کے کچھ اسباب ہوا کرتے ہیں اور اسباب کا تعلق حالات سے ہوا کرتا ہے اس لئے اُن اختلافات کا ان حالات میں ہی اسباب دور کرکے حل نکال لیا جاتا ہے یہی وجہ ہے شریعت نے اس میدان میں آزادی دی ہوئی ہے ہم خواہ مخواہ پابندی اختیار کرنا چاہتے ہیں دارصل ہم جمہوری ماحول سے اس حد تک متاثر ہیں کے اب ہم یہ سمجھتے ہیں کے شاید امیر کا انتخاب ایک بہت بڑا معرکہ ہوتا ہے اور دنگل کا ساسماں ہوتا ہے حالانکہ جب شرعی امیر کا تصور اور اس کی ذمہ داریاں سامنے ہوں تو کوئی شخص جو اللہ کا خوف رکھنے والا ہو امیر بننے کی خواہش تو کچا اس سے بھاگنے اور کترائے کی کوشش کرے گا جمہوری ماحول میں جس قدر امیر بننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے للہیت کی شرعی اور دینی ماحول یں اسی قدر امیر نہ بننے کی تمنا ہوتی ہے اس لئے اول تو اس ماحول میں اختلاف سراٹھاتا ہی نہیں عموما اتفاق رائے ہوجایا کرتا ہے اور اگر تھوڑا بہت اختلاف ہو بھی جائے تو اہل علم نہایت اخلاص کے ساتھ اس کو دور کرلیا کرتے ہیں۔۔۔ انما یخشی اللہ عبادہ العلموٰا اور اللہ کی نصرت بھی نازل ہوا کرتی ہے۔۔۔

    لگتا ہے آپ کسی ایسے امیر اور ایک ایسی شورٰی کا تصور پیش کررہے جو کم ازکم اس دور میں ممکن نہیں۔۔۔

    ہم اللہ کے فضل سے یہ ایمان رکھتے ہیں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق طائفہ منصورہ ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رہے گی اگرچہ اُن کی تعداد قلیل کیوں نہ ہو طائفہ منصورہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے گویا یہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے طرز کے لوگوں پر مشتمل ہے۔۔۔

    یہ تو عقیدہ ڈاکٹر اسرار اور دوسرے لوگوں کا ہے کے صحابہ کرام کے بعد اب دوبارہ خلافت راشدہ قائم ہونا ممکن ہے وہ خلافت عامہ کی اصطلاح استعمال کرے جمہوریت کو تحفظ فراہم کررہے ہیں ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کے خلافت راشدہ ان شاء اللہ پھر دنیا میں قائم ہوکررہے گی اس کے لئے ہر زمانے میں معیاری لوگ مل سکتے ہیں اس کی تیاری کے لئے شخصیات کے افکار وواقعات کو بنیاد بنانے کی بجائے خالصتاََ قرآن وحدیث کی بنیاد پر افراد سازی کرنا ہوگی اس کے لئے ہم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اس وقت اگر ایسے معیاری لوگ نہیں ہیں یا کم تعداد میں موجود ہیں تو ہم خود اس کے لئے محنت کریں۔۔۔

    آپ کے نزدیک امیر کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟؟؟۔۔۔
    امیر کی ذمہ داریاں یہ ہیں مثلا جماعت کو منظم کرنا، جہاد میں عملا شرکت اور دنیا بھر کی جہادی تحریکوں سے رابطے اور اُن کا تعاون بیت المال قائم کرنا جماعت کے غرباء ومساکین کی کفالت کا بندوبست مدارس اور مساجد کے نظام کو بہتر بنانا تعلیم وتربیت کے لئے پالیسی تربتی دینا اور اس کی منصوبہ بندی کرکے عمل درآمد کرانا۔۔۔
    انجینئر عبد القدوس سلفی
    جمہوریت کیا ہے؟
    شرعی لفظ نظر سے اس سوال کے مختلف جوابات درج ذیل ہیں۔


    جمہوریت شرک ہے۔ اگر پاکستان کے دستور میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیا ہے مگر عملا یہ بات نہ شرمندہ تعبیر ہوئی اور نہ ہی اس کا ہوناممکن ہے وجہ یہ ہے کے جمہوری نظام کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے جو بہر طور عوام کی حاکمیت پر منتج ہوتی ہے قانونی حاکمیت تو پارلیمنٹ کےپاس ہوتی ہے اور سیاسی حاکمیت عوام کے پاس جنہیں سیاسی شاطر ہردم نچاتے رہتے ہیں۔۔۔

    اسلام میں حاکمیت خواہ قانونی ہو یا سیاسی پوری کی پوری صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے ضس میں کوئی نبی بھی شریک نہیں ہوسکتا لہذا پارلیمنٹ کی قانونی بالادستی تسلیم کرنا اور طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھنا کھلا ہوا شرک ہے۔۔۔

    جمہوریت کفرہے!۔
    جمہوریت میں تمام فیصلے اکثریت کی بناء پر طے پاتے ہیں جبکہ قرآن کی رو سے فیصلہ ماانزل اللہ یعنی شریعت (کتاب وسنت) کے مطابق ہونا چاہئے اور جو لوگ ماانزل اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے انہیں اللہ تعالٰی کافر، ظالم اور فاسق قرار دیتا ہے۔۔۔

    جمہوریت گناہ کبیرہ ہے!۔
    جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں اور حزب اختلاف کا وجود ناگزیر ہے جن کے بغیر جمہوریت کی گاڑی ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی مگر اسلام کی رو سے پارٹی بازی گناہ کبیرہ ہے۔

    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
    اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، (ربط)

    اس پارٹی بازی کو دوسرے مقام پر شرک قرار دیا ہے۔۔۔
    مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٣٢﴾
    ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے (ربط)۔

    ارشاد بارٰی تعالٰٰی!۔
    أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ
    یا تمہیں فرقے فرقے بنادے اور آپس میں لڑا کر (لڑائی) کا مزہ چکھادے (ربط)۔


    جمہوریت معصیت ہے!۔
    اسلامی نقطہ نظر سے طلب امارت حرام ہے ارشاد نبوی ہے!۔
    انا اللہ لانولی علی ھذا العمل احدا سائلہ ولا احد احرص علیہ
    اللہ کی قسم ہم اس شخص کو حاکم نہیں بناتے جو امارات طلب کرے یا اس کی طمع رکھے(رواہ مسلم)۔۔۔

    دیکھئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قسم اٹھا کر فرمارہے ہیں کے مانگنے والے تو درکنار امارت کی طمع رکھنے والوں کو بھی امارت نہیں دیتے لیکن جمہوریت میں طلب امارت تو درکنار، اس کے لئے کنویسنگ، اشتہار بازی اور دربدر کی خاک بھی چھاننا پڑتی ہے پھر یہ کیونکہ جائز ہوسکتی ہے۔۔۔

    اسلام میں امارت ایک ذمہ داری ہے لیکن جمہوریت میں یہ ہر ایک کا حق ہے اس حق کو حقدار تک ہہنچانے کے لئے ہر پانچ سال بعد الیکشن کرانا پڑتے ہیں اس الیکشن بازی پر حکومت رعایا دونوں کا بے انداز خرچ ہوتا ہے اور ناکام امیدواروں کا (جن کی تعداد کامیاب ہونے والوں سے کئی گناہ ہوتی ہے) تو پیسہ بالکل برباد ہوجاتا ہے اس ضیاع مال کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔

    الیکشن کے دوران جن اخلاق سوز گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے وہ سب جانتے ہیں ایسے جرائم نے الیکشن کو ایک گندہ کھیل بنادیا ہے ایسی تمام حرکات و افعال اسلامی نقطہ نظر سے کبیرہ گناہ ہیں۔۔۔

    جمہوریت میں عورت بھی ووٹ اور منصب حتٰی کہ امارات کا اتنا ہی حق رکھتی ہے جتنا ایک مرد رکھتا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے جب تمہارے معاملات عورتوں کے حوالے ہوں تو اس وقت تمہاری زندگی سے تمہاری موت بہتر ہے(ترمذی بخوالہ مشکوہ تغیر الناس)۔۔۔

    پھر اس عورت کے حق سے ایک اور گناہ جنم لیتا ہے اور وہ ہے اختلاط مرد وزن جمہوری تہذیب کا تقاضا ہی یہ ہے کے پردہ ختم کرکے آزادی اختلاط مرد وزن کی راہیں کھولی جائیں جبکہ اسلام نے حجاب کا مربوط سلسلہ اس اختلاط کے سدباب کے لئے پیش فرمایا ہے۔۔۔

    جمہوریت صریح گمراہی ہے
    جمہوریت کا بنیادی اصول کثرت رائے کا برحق ہونا ہے جبکہ قرآن کریم کی روسے عوام کی اکثریت صرف خود ہی جاہل اور گمراہ نہیں ہوتی بلکہ کسی عقلمند کو بھی گمراہ بنادیتی ہے۔۔۔

    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے!۔
    وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ
    اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کردیں (ربط)

    قرآن کریم میں تقریبا ٩٠ آیات ایسی ہیں جن میں اکثریت کو جاہل، ظالم، فاسق، کافر اور مشرک قرار دیا گیا ہے اور یہ خطاب مسلمانوں اور کافروں سب کے لئے عام ہے کیونکہ لوگوں میں اکثریت جاہل، ظالم، فاسق، اور مشرک ہی ہوتی ہے۔۔

    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے!۔
    وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ ﴿١٠٦﴾
    ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں (ربط)۔
    جمہوریت خلاف عقل ہے۔
    کیونکہ اس میں بےوقوفوں اور جاہلوں سے ووٹ لیا جاتا ہے حالانکہ کوئی عقلمند آدمی دوسرے معاملات میں ایسا کبھی نہیں کرتا۔۔۔

    عقل مند اور بےوقوف، خاکروب اور وزیر سب کی رائے کی قیمت یکساں قرار پاتی ہے۔۔۔

    اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے!۔
    هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
    کیا عالم اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں (ربط)۔

    ایک اور جگہ ارشاد ہوا!۔
    هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ
    کیا نابینا اور بینا برابر ہیں (ربط)،

    لیکن جمہوریت نواز بتلاتے ہیں کے گدھے اور گھوڑے کی قیمت ایک جیسی ہونی چاہئے۔۔۔

    یہ ہے وہ جمہوریت جسے آج کا مسلمان ناواقفی کی وجہ سے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔۔۔۔

    رشحات قلم طاہری: اسلاف کی سیاست اور جمہوریت
     
  3. ‏اپریل 16، 2012 #3
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جزاک اللہ خیرا اویس بھائی ۔،۔،۔،
    بے شک جمہوریت اسلامی نہیں ۔،۔،۔،۔،۔ اور اس نظام کا جلد از دفع ہونا اور کیا جانا ضروری ہے ، تاکہ مسلمانوں کو اس سے جنم لینے والے فتنوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔،۔،

    مگر ایک بات یاد رہے::::::کہ جمہوریت کفر ہے مگر اس میں شامل ہر جمہوری کافر یعنی مرتد نہیں ہے:::::::::: حتی کے اس پر شرعی ضابطہ کار کی تکمیل کے بعد علماء کی جماعت متفقہ طور پر حکم لگا دے۔،۔،۔،۔،
    ہم صرف اس کے عمل پر حکم لگانے کے مجاز ہیں نہ کے اس جمہوری شخص کی ذات پر۔،۔،۔،

    اور اس نظام کو دفع کس طرح کیا جائے تو اس بارے محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ایک شاندار وضاحت پیش کی ہے جو پیش خدمت ہے::::

    ہماری دعوت

    1۔ فہم سلف کی بنیادپر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ دعوت دیتے ہیں۔

    2۔ ہم اپنا یہ اہم ترین دینی فریضہ سمجھتے ہیں کہ درآمد شدہ افکار اور درآئندہ بد عات کا مقابلہ علم نافع اور دعوت الی اللہ کے ساتھ کیا جائے اس کے لئے بیداری پید ا کی جائے۔ عقائد اور مفہومات درست کئے جائیں اور اس پر مسلمانوں کی وحدت مجتمع ہو۔

    3۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تختے الٹنا قاتلانہ حملے اور فتنے امت کی ضرورت نہیں، بلکہ امت کی ضرورت یہ ہے کہ اس کوایمانی تربیت دی جائے اور فکر کو صاف ستھرا بنایا جائے، امت کو اپنی شوکت رفتہ اورعظمت کی راہ پر پھر سے گامزن کرنے کےلئے یہی سب سے کامیاب ذریعہ ہے۔

    فتوی البانی جلد۱، صفحہ ۹
     
  4. ‏اپریل 17، 2012 #4
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اسلامي نظام سياست اور جمہوريت کے مابين فرق کو سمجھنے کے ليے اس کتاب کا مطالعہ ضروري ہے ۔ يہ کتاب عبد القدوس سلفي صاحب کي تصنيف ہے اور اسکا مقدمہ پروفيسر محمد شفيع ناطق کے قلم سے ہے اور کتاب کے آخر ميں مولانا عبد الرحمن کيلاني صاحب کا مضمون "جمہوريت کيا ہے" بطور ضميمہ شامل کيا گيا ہے ۔ اس کتابچہ کو طلباء مرکز الدعوۃ والارشاد نے شائع کيا تھا

    ڈاؤنلوڈ



    http://ia601207.us.archive.org/12/items/aslaf-ki-siyast/aslaf-ki-siyast.pdf
     
  5. ‏اپریل 17، 2012 #5
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    [​IMG]
     
  6. ‏اپریل 17، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا رانا صاحب
     
  7. ‏مئی 14، 2012 #7
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    السلام علیکم۔
    اسلاف کی سیاست اور جمہوریت کتاب یونیکوڈ میں اردومجلس فورم پر موجود ہے۔ جسے رفیق طاھر کی خواھش پر میں نے یونیکوڈ کیا تھا آپ وہاں سے پوری کتاب یہاں پر پیش کرسکتے ہیں۔
    شکریہ۔۔۔
    لنک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں