1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی بینکاری ... کتنی اسلامی؟

'اسلامی بینکاری' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جنوری 22، 2013۔

  1. ‏جنوری 22، 2013 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اسلامی بینکاری ... کتنی اسلامی؟


    شاہد حسن صدیقی​


    سورۃ البقرۃ کی آیتوں 278 اور 279 سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہےکہ اسلام میں سُود کی ہر شکل قطعی ممنوع ہے اور سُود اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ ظلم اور استحصال کا سبب بنتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سُودی نظام کےمتبادل کے طور پر اسلامی بینکاری کا جو بھی نظام وضع کیا جائے، اوّل: اس نظام میں سُود کا شائبہ بھی نہیں ہوناچاہیے۔ دوم: اس نظام سے سُودی بینکاری سے ہونے والے ہر قسم کے ظلم، ناانصافی اور استحصال کا لازماً خاتمہ ہونا چاہیے اور سوم: اس نظام کے نفاذ سے اسلامی نظامِ معیشت کے حصول میں نہ صرف معاونت ہونی چاہیے بلکہ تمام فریقوں کو لازماً سماجی انصاف ملنا چاہیے۔ گزشتہ برسوں کے تجربات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی بینکاری کے عملی نفاذ سے آخر الذکر دونوں مقاصد تو یقیناً حاصل نہیں ہورہےجبکہ اسلامی بینکوں کی آڈٹ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوّل الذکر مقصد کے ضمن میں بھی خاصے تحفظات موجود ہیں۔
    اس حقیقت کا اِدراک بھی ضروری ہے کہ اگر آنے والی ناانصافی کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کرے بھی تو وہ ناکام رہے گی کیونکہ اُسے اپنی فنانسنگ (قرضوں) پر لی جانے والی شرحِ منافع بڑھانی پڑے گی جس کے لیے سرمایہ لینے والی بیشتر پارٹیاں تیارنہیں ہوں گی کیونکہ انہیں سُودی بینکوں سے کم شرحِ سُود پر قرضہ دستیاب ہے۔ واضح رہےکہ اسلامی بینک اپنے بچت کھاتے داروں کو اسٹیٹ بینک کے احکامات کے تحت 6 فیصد سالانہ شرح منافع دے رہے ہیں جبکہ ملک میں افراطِ زر کی شرح تقریباً 10 فیصد سالانہ ہے یعنی 4 فیصد حقیقی منفی شرحِ منافع جو کہ استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔
    سُود پرمبنی معیشت کے ماحول میں اسلامی بینکاری کے تحت فنانسنگ کےطریقوں کو قابل عمل بنانے کے لئےعلما حضرات بہت زیادہ لچک کامظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ اسلامی بینکاری میں جبکہ بہانے بازی کے تصور کو پروان چڑھا دیا گیا ہے۔ اسلامی بینکاری کے فلسفہ میں علما کی منظوری سےبنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لائی جاچکی ہیں اور شریعت کے مقاصد پس پشت جاچکے ہیں۔ پاکستان میں سودی بینکوں کے اسلامی بینکاری کےضمن میں کچھ اہم فیصلے ان سودی بینکوں کی انتظامیہ ہی کرتی ہے۔
    بدنام زمانہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والی سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بنچ نے 24؍جون 2002ء کو اپنی ہی بنچ کے 23؍دسمبر 1999ء اور وفاقی شرعی عدالت کے 14؍نومبر 1991ء کے سُود کو حرام قرار دینےکے فیصلوں کو کالعدم کرکےمقدمہ از سر نو شنوائی کےلیے وفاقی شرعی عدالت کوبھیج دیا جہاں کے 122؍ماہ گزرنے کے باوجود شنوائی شروع ہی نہیں ہوئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل، مذہبی جماعتوں اور علما نے اِس پر کسی اضطراب کا اظہار نہیں کیا۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج تو کیفر کردار تک پہنچ چکے ہیں مگران کایہ تباہ کن فیصلہ پوری آب و تاب سے 10 برس کا عرصہ گزرنےکے باوجودبرقرار ہے۔ ان حالات میں عام مسلمان مایوسی کا شکار ہے۔
    اب ضرورت اس امر کی ہےکہ وہ چند علما جو مروجہ اسلامی بینکاری کی پشت پر ہیں فتویٰ جاری کریں کہ موجودہ نظام ؍متوازی بینکاری غیراسلامی ہے اور اگر سودی نظام کے تحت چھ ماہ بعد ڈپازٹس لینے اور ان کی تجدید کرنے پر پابندی نہ لگائی گئی تو وہ موجودہ اسلامی نظام بینکاری کی حمایت واپس لے لیں گے۔موجودہ اسلامی نظام بینکاری کو شریعت کی روح کےمطابق لانے کے لیے ان جید علما سے جنہوں نے28؍اگست 2008ء کو متفقہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ مروّجہ اسلامی نظام بینکاری غیر اسلامی ہے اور اسلامی ذہن رکھنے والے بینکاری کے ماہرین کی مشاورت سےبنیادی نوعیت کی تبدیلیاں اس نظام میں لانا ہوں گی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں