1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام اور صلہ رحمی (الأحاديث من كتاب "صلة الأرحام في ضوء الكتاب والسنه للقحطاني)

'رشتہ داروں کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از amateen777, ‏اگست 08، 2016۔

  1. ‏اگست 08، 2016 #1
    amateen777

    amateen777 رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2015
    پیغامات:
    65
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    اسلام اور صلہ رحمی (اسلام اور رشتہ داری)

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " يہ صلہ رحمى نہيں كہ جو صلہ رحمى كرے اس سے بدلے ميں صلہ رحمى كى جائے، ليكن صلہ رحمى كرنے والا تو وہ ہے جس سے اس كے رشتہ داروں نے قطع تعلقى كى ہو اور وہ ان سے صلہ رحمى سے پيش آتا ہو "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 5645 ).

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس کسی کو ولیمہ کے لئے بلایا جائے تو اسے اس کے لئے آنا چاہئے۔
    (صحيح مسلم 1429)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (ولیمہ) کی جب تمہیں دعوت دی جائے تو قبول کرو۔ نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگر روزے سے ہوتے جب بھی ولیمہ کی دعوت یا کسی دوسری دعوت میں شرکت کرتے تھے۔
    (صحيح البخاري 5179)

    ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
    (صحيح البخاري 5177)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
    (صحيح البخاري 5986)

    اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے۔
    (سورة الرعد 25)

    اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔
    (سورة محمد 22)

    اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو۔
    (سورة بني اسرائيل 26)

    ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں ہاں بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالٰی کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔
    (سورة النساء 114)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ مشرکہ تھیں میں نے ایک دن انہیں دعوت دی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسے الفاظ مجھے سنائے جنہیں میں گورا نہ کرتا تھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ انکار کرتی تھی میں نے آج انہیں دعوت دی تو اس نے ایسے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے سنائے جنہیں (سننا) مجھے گوارا نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لے کر خوشی سے نکلا جب میں آیا اور دروازہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بند کیا ہوا ہے پس میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہا اے ابوہریرہ اپنی جگہ پر رک جاؤ اور میں نے پانی گرنے کی آواز سنی پس اس نے غسل کیا اور اپنی قمیض پہنی اور اپنا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے جلدی سے باہر آئیں اور دروازہ کھولا پھر کہا اے ابوہریرہ (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور میں خوشی سے رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! خوشخبری ہو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرما لیا اور ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما دی پس آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اللہ عزوجل کی تعریف اور اس کی صفت بیان کی اور کچھ بھلائی کے جملے ارشاد فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! اپنے بندوں کے ہاں محبوب بنا دے اور مؤمنین کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے اور کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرا ذکر سنایا مجھے دیکھا ہوا اور اس نے مجھ سے محبت نہ کی ہو ۔
    (صحيح مسلم 2491)

    ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
    اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کردوں گا۔
    (سورة لقمان 14-15)

    اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالٰی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
    (سورة الحجرات 9)

    اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ تعالٰی کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ لوگ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وہ با یقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔
    (سورة البقرۃ 102)

    حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
    (صحيح مسلم 2556)

    {اور تم اللہ تعالى كي عبادت كرو اور اس كے ساتھ كسي كو بھى شريك نہ بناؤ، والدين اور رشتہ داروں اور يتيموں، مسكينوں اور رشتہ دار پڑوسيوں اور اجنبى ہمسايہ اور راہ كے مسافر، اور ان كے ساتھ جن كے تمہارے دائيں ہاتھ مالك ہوں ( يعني غلام ) كے ساتھ حسن سلوك اور نيكى كرو، يقينا اللہ تعالى تكبر كرنے والوں اور شيخى خوروں سے محبت نہيں كرتا} سورة النساء ( 36 ).

    {ليكن اچھا شخص وہ ہے جو اللہ تعالى اور يوم آخرت اور فرشتوں اور اللہ تعالى كي كتاب اور نبيوں پر ايمان ركھنے والا ہو، اور مال سے محبت ركھنے كے باوجود رشتہ داروں، يتيموں كو دے} سورة البقرۃ ( 177 ) .

    ابو ہريرہ رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " ميں اور يتيم اس كا رشتہ دار ہو يا كوئى اور جنت ميں اس طرح ہونگے اور مالك رحمہ اللہ نے اپنى درميانى اور شہادت والى انگلى سے اشارہ كيا" صحيح مسلم حديث نمبر ( 2983 ) .

    پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالٰی کا چہرہ دیکھنا چاہتے ہوں ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔
    (سورة الروم 38)

    آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجئے جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے۔
    (سورة البقرۃ 215)

    اور رشتے ناطے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں بیشک اللہ تعالٰی ہرچیز کا جاننے والا ہے۔
    (سورة الأنفال 75)

    اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے بنسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حقدار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے ۔
    (سورة الاحزاب 6)

    عائشہ رضي الله عنها سے مروی ہیں کہ نبی ﷺنے ان سے کہا: جسے نرمی دے دی گئی اسے دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی،صلہ رحمی ،اچھا اخلاق ،اور اچھا پڑوسی بننا گھروں کو آباد کرتا ہے، اور عمروں میں اضافہ کرتا ہے۔
    (سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني 519)

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قدر اپنا نسب جانو جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے“
    (سنن الترمذي 1979)

    ہرقل نے ابو سفيان رضي الله عنه سے پوچھا۔ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا وہ کہتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کا کسی کو شریک نہ بناؤ اور اپنے باپ دادا کی (شرک کی) باتیں چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔
    (صحيح البخاري 7)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔
    (صحيح البخاري 3)

    ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ایک صاحب نے کہا: یا رسول اللہ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے، اسے کیا ہو گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں ہو کیا گیا ہے؟ اجی اس کو ضرورت ہے بیچارہ اس لیے پوچھتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو۔ (بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے) چل اب نکیل چھوڑ دے۔ راوی نے کہا شاید اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
    (صحيح البخاري 5983)

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:
    "تعلموا أنسابکم ثم صلوا أرحاکم"
    اپنے نسب کو جانو ، پھر اپنے رشتہ داروں سے جڑو۔"

    اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین سے، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا برتاؤ کرو گے، لوگوں سے بھلی باتیں کہو گے، نماز کو قائم کرو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے [سورة البقرة: 83]

    عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں تشریف آوری کے وقت فرمایا تھا: (لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داریوں کو جوڑو، رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کرو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے)
    بخاری

    ''حضرت ابوہریرہؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : آپؐ نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔''
    (صحيح البخاري 6138)

    ''ابوبکر صدیقؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی کے علاوہ کسی اور کو اللہ تعالیٰ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتے۔ ان دونوں عملوں کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ دنیا میں فوراً سزا دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اُنہیں سزا ملے گی۔''
    (سنن ابي داود 4902)

    ''وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر صبر کرتاہے، ایسے مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے ملتاہے اور نہ ان کی تکلیفوں پر صبرکرتاہے۔''
    (سنن ابن ماجه 4032)

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ) نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو بلایا عام وخاص سب کو جمع فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے کعب بن لؤی کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبدشمس کے قبیلے والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبد مناف کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے بنی عبدالمطلب والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لے کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ میں تمہارا رشتہ دار ہوں اور بحثیت رشتہ داری کے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔
    (صحيح البخاري 5990)

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:"یا رسول اللہ! میں اپنے رشتہ داروں سے بنا کر رکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع تعلقی کرتے ہیں، میں انکی خیر خواہی کرتا ہوں ، لیکن وہ مجھ سے بُرا سلوک کرتےہیں، میں بردباری سے انکے ساتھ پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جاہلوں جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں"تو آپ نے فرمایا:(اگر معاملہ ایسے ہی ہے جیسے تم نے بیان کیا تو تُم انکے پیٹ میں گرم ریت ڈال رہے ہو، جب تک تم انکے ساتھ ایسے ہی اچھا سلوک کرتے رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار مقرر رہے گا)
    (صحيح مسلم)

    کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔
    (صحيح البخاري 5991)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
    (صحيح البخاري 6138)

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بنی آدم کے اعمال ہر جمعہ کی رات پیش کئے جاتے ہیں ، اور قطع رحمی کرنے والے کے اعمال قبول نہیں کئے جاتے)
    (مسند احمد)

    حكيم بن معاويہ القشيرى اپنے باپ سے بيان كرتے ہيں كہ كہتے ہيں:

    ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: ہم ميں سے كسى ايك كى بيوى كا اس پر كيا حق ہے ؟

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب تم خود كھاؤ تو بيوى كو بھى كھلاؤ، اور جب خود پہنو تو بيوى كو بھى پہناؤ، اور تم بيوى كو چہرے پر مت مارو، اور نہ ہى سے قبيح و بدشكل كہو، اور گھر كے علاوہ كہيں اور اسے مت چھوڑو يعنى بائيكاٹ مت كرو "

    سنن ابو داود حديث نمبر ( 2142 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " تم بيوى كو چھوڑ كر صرف اپنے ليے ہى لباس خاص مت كرو، اور نہ ہى اس كے بغير اپنے ليے كھانا، بلكہ بيوى اس ميں تمہارى شريك ہے، جس طرح اپنے آپ پر خرچ كرتے ہو بيوى پر بھى اسى طرح خرچ كرنا واجب ہے، حتى كہ اكثر علماء كرام كو تو يہ كہنا ہے كہ:

    " اگر آدمى اپنى بيوى پر خرچ نہ كرتا ہو اور بيوى نے قاضى كے پاس جا كر فسخ نكاح كا مطالبہ كر ديا تو قاضى كو فسخ نكاح كا حق حاصل ہے؛ كيونكہ خاوند نے اپنے اوپر واجب كردہ حق ميں كوتاہى كى ہے " انتہى

    ديكھيں: شرح رياض الصالحين ( 3 / 131 ).

    ”مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی“۔
    (سنن الترمذي 658)

    ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

    " ايك شخص رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر كہنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم لوگوں ميں سے ميرے ليے حسن صحبت اور حسن سلوك كا سب سے زيادہ كون مستحق ہے ؟

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى ماں اس نے كہا پھر كون ؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرى ماں، اس نے پھر پوچھا اس كے بعد كون ؟ تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تيرى ماں.

    اس نے عرض كيا: اس كے بعد كون ؟ تو آپ نے فرمايا تيرا والد "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 5514 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 4621 ).

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے“، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔
    (سنن الترمذي 1914)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی ۔
    (سنن ابن ماجه 3669)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی ۔
    (سنن ابن ماجه 3670)

    جابر بن عبداللہ رضي الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں جنہیں وہ رہائش/ ٹھکانا دے ، کفالت کرے ،اور ان پر رحم کرے، اس کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہوگئی، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول! اور دو بیٹیاں ہوں تو، آپ نے فرمایا: اور دو بیٹیاں ہوں تب بھی۔
    (سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني 2492)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی (حسن معاشرت کی تعلیم دی) ان کی شادیاں کر دیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے ۔
    (سنن ابن ماجه 5147)

    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے آئی میں نے اسے تین کھجور یں دیں اور اس نے اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو اپنے منہ میں کھانے کے لئے رکھ لیا پھر اس کی لڑکیوں نے اس سے یہ کھجور بھی کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو دو ٹکڑوں میں توڑ کر ان دونوں کو دے دیا جسے وہ خود کھانے کا ارادہ رکھتی تھی مجھے اس کی اس حالت نے متعجب کردیا پس میں نے اس کے اس واقعہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے اس عمل نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا ہے اور جہنم سے اسے آزاد کر دیا۔
    (صحيح مسلم 2630)

    ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» یعنی ”تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔“ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں کو دے دیا۔
    (صحيح البخاري 1461)

    کعب بن عجرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں کچھ اس طرح وارد ہے کہ :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا توصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس کی چستی ونشاط اورقوت دیکھی توانہیں بہت پسند آئی تووہ کہنے لگے کاش یہ فی سبیل اللہ ہوتی ؟

    تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

    ( اگرتویہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی روزی تلاش کرنے نکلا ہے تویہ فی سبیل اللہ ہے ، ، اوراگریہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنے کے لیے نکلا ہے تو پھر بھی فی سبیل اللہ ہے ، اوراگریہ اپنی عفت وعصمت کے لیے نکلا ہے توپھر بھی یہ فی سبیل اللہ ہے ، اوراگر یہ ریاء کاری اورفخر کرنے کے لیے نکلا ہے تویہ شیطان کے راستے میں ہے ) اسے طبرانی نے روایت کیا ہے دیکھیں صحیح الجامع ( 2 / 8 )۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ( ایک دینار تو وہ ہے جوتو اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرے ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے غلام آزاد کرنے میں خرچ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے کسی مسکین پر صدقہ کیا ، اورایک دینار وہ ہے جوتو نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ، ان میں سب سے زيادہ اجرو ثواب والا دینار وہ ہے جسے تونے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ) صحیح مسلم ( 2 / 692 ) ۔

    معاویہ بن حیدۃ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :

    اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر کسی ایک کی بیوی کا حق ہم پر کیا ہے ؟

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    جب تم خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، اورجب خود لباس پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اوراس کے چہرے کو بدصورت نہ کہو اورچہرے پر نہ مارو ۔

    سنن ابوداود ( 2 / 244 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 1850 ) مسند احمد ( 4 / 446 ) ۔

    سعد بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں فرمایا :

    ( توجوبھی اپنے اہل وعیال پر خرچہ کرے اورنان ونفقہ دے تجھے اس پر اجر دیا جائے گا ، حتی کہ وہ لقمہ جوتواپنی بیوی کے منہ میں ڈالے اس پر بھی اجرو ثواب ملے گا ) صحیح بخاری ( 3 / 164 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1628 ) ۔

    ابومسعود انصاری رضي اللہ تعالی کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ( جب مسلمان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے اوروہ اس میں اجرو ثواب کی نیت رکھے تووہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے ) صحیح بخاری ( 1 / 136 ) ۔

    وھب رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما کے غلام نے انہیں کہا کہ میں بیت المقدس میں ایک مہینہ قیام کرنا چاہتا ہوں ، توانہیں عبداللہ بن عمرو رضي اللہ تعالی عنہما کہنے لگے کیا تونے اس مہینے کا اپنے گھروالوں کوخرچہ دے دیا ہے ؟

    اس نے جواب دیا : نہیں ، تووہ کنہے لگے : اپنے گھرواپس جاؤ اورانہیں ایک ماہ کا راشن دے کرآؤ ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

    آدمی کویہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اسے ضائع کردے ۔ مسنداحمد ( 2 / 160 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1692 ) ۔

    اوراس کی اصل صحیح مسلم میں ان الفاظ کے ساتھ ہے :

    آدمی کویہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اس کا خرچہ بند کردے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 245 ) ۔

    ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے :

    وہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

    ( اللہ تعالی کی قسم ، تم میں سے کوئي ایک صبح جنگل میں جاکرلکڑیاں کاٹے اوراسے اپنی پیٹھ پر اٹھا کربیچے اور اس کے ساتھ غنا حاصل کرے اوراس میں سے صدقہ وخیرات کرے اس کےسوال کرنے سے بہتر ہے کہ وہ کسی مرد سے مانگے تواوروہ اسے دے یہ نہ دے ، اوریہ اس لیے کہ یقینا اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے ، اورجوآپ کی عیالت میں ہیں اس سے شروع کر ) صحیح مسلم ( 3 / 96 ) ۔

    اورایک روایت میں ہے کہ :

    آپ سے کہا گيا : اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیالت میں کون ہیں ؟

    تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا : تیری بیوی تیرے عیال میں شامل ہے ۔ مسند احمد ( 2 / 524 ) ۔



    مصدر: صلة الأرحام لسعيد بن علي بن وهف القحطاني
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں