1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں دعوتوں کا حکم

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از Abdul Mussavir, ‏ستمبر 27، 2018۔

  1. ‏ستمبر 27، 2018 #1
    Abdul Mussavir

    Abdul Mussavir مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 22، 2017
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    السلام وعلیکم شیخ
    میرا ایک سوال ہے کیا اسلام میں صرف 2 طرح کی دعوت جائز ہے ولیمے اور عقیقہ کی دعوت اسکی علاوہ کوئی دعوت ہے یہ نہیں۔

    جیسا کہ کوئی افتتاح کی دعوت دے یا حج سے واپسی کی دعوت ؟
    کیا ہمیں اس طرح کی کوئی حدیث ملتی ہے جسمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمام دعوتوں میں بہتر ولیمہ اور عقیقہ کی دعوت ہے
     
  2. ‏ستمبر 29، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    سفر سے واپسی پر دعوت
    امام نوویؒ فرماتے ہیں :
    قال النووي رحمه الله - :
    يستحب النقيعة ، وهي طعام يُعمل لقدوم المسافر ، ويطلق على ما يَعمله المسافر القادم ، وعلى ما يعمله غيرُه له ، ... ومما يستدل به لها : حديث جابر رضي الله عنه " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة من سفره نحر جزوراً أو بقرةً " رواه البخاري .
    " المجموع " ( 4 / 400 )

    ترجمہ :
    "نقعیہ" بنانا مستحب ہے، [نقیعہ ] اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو مسافر کے آنے پر تیار کیا جائے، اور اسکا اطلاق مسافر یا کسی اور کی طرف سے بنائے گئے کھانے سب پر ہوتا ہے، ۔۔۔ اور اسکی دلیل یہ ہے کہ کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : "آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو اپ نے اونٹ یا گائے ذبح کی تھی" بخاری"
    " المجموع " ( 4 / 400 )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور سعودی عرب کے مشہور سلفی محقق عالم شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ کا فتوی ہے کہ :
    وسئل الشيخ محمد بن صالح العثيمين – رحمه الله - :
    ظاهرة تنتشر في القرى خاصة بعد عودة الحجاج من مكة .
    الشيخ :
    السنة هذه ؟ .
    السائل :
    كل سنة تقريباً ، يعملون ولائم يسمونها " ذبيحة للحجاج " أو " فرحة بالحجاج " أو " سلامة الحجاج " ، وقد تكون هذه اللحوم من لحوم الأضاحي ، أو لحوم ذبائح جديدة ، ويصاحبها نوع من التبذير ، فما رأي فضيلتكم من الناحية الشرعية ، ومن الناحية الاجتماعية ؟ .
    الشيخ :
    هذا لا بأس به ، لا بأس بإكرام الحجاج عند قدومهم ؛ لأن هذا يدل على الاحتفاء بهم ، ويشجعهم أيضاً على الحج ، لكن التبذير الذي أشرت إليه والإسراف هو الذي ينهى عنه ؛ لأن الإسراف منهي عنه ، سواء بهذه المناسبة ، أو غيرها ، قال الله تبارك وتعالى : ( وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ) الأنعام/141 ، وقال تعالى : ( إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ) الإسراء/27 ، لكن إذا كانت وليمة مناسبة ، على قدر الحاضرين ، أو تزيد قليلاً : فهذا لا بأس به من الناحية الشرعية ، ومن الناحية الاجتماعية ، وهذا لعله يكون في القرى ، أما في المدن فهو مفقود ، ونرى كثيراً من الناس يأتون من الحج ولا يقام لهم ولائم ، لكن في القرى الصغيرة هذه قد توجد ، ولا بأس به ، وأهل القرى عندهم كرم ، ولا يحب أحدهم أن يُقَصِّر على الآخر .
    " لقاءات الباب المفتوح " ( 154 / السؤال رقم 12 )

    ترجمہ :
    شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

    سائل: "مکہ سے حجاج کی واپسی کے بارے میں ایک رسم ہے جو کہ دیہاتوں میں بہت زیادہ پھیل چکی ہے"
    شیخ: "کیا اس سال پھیلی ہے؟"
    سائل: "تقریبا ہر سال ہوتی ہے، اس کیلئے کھانا تیار کیا جاتا ہے، جسے وہ "حجاج کیلئے ذبیحہ" یا "حجاج کی خوشی" یا "حجاج کی سلامی" جیسے مختلف نام دیکر پکارتے ہیں، اور بسا اوقات اس میں استعمال ہونے والا گوشت قربانی کا گوشت بھی ہوتا ہے، اور بسا اوقات خصوصی طور پر جانور ذبح بھی کیا جاتا ہے، اس میں کچھ نہ کچھ فضول خرچی بھی ہوتی ہے، تو اس بارے میں آپکا شرعی نقطہ نظر کیا ہے؟ اور سماجی اعتبار سے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟"
    شیخ: "اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حجاج کرام کی آمد پر انکی عزت افزائی میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ انکی خوشی میں شراکت ہے، اور اس سے لوگوں میں حج کرنے کی مزید تڑپ پیدا ہوتی ہے، لیکن فضول خرچی کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، یہ منع ہے؛ کیونکہ فضول خرچی شریعت میں بالکل منع ہے، چاہے مذکورہ محفل میں ہو یا کسی اور جگہ، فرمان الہی ہے: ( وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ) اور فضول خرچی مت کرو، بیشک اللہ تعالی فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [الأنعام:141 ]، ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: ( إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ) بیشک فضول خرچ لوگ شیاطین کے بھائی ہیں۔ [الإسراء:27 ] لیکن اگر حاضرین کی تعداد کو مد نظر رکھ کر کھانا مناسب مقدار میں بنایا جائے، یا احتیاطا کچھ زیادہ بنا لیں، تو شرعی اعتبار سے اس میں کچھ نہیں ہوگا ، جبکہ سماجی اعتبار سے یہ رسم صرف دیہاتوں میں ہے، اور شہروں میں نہیں ہے، کیونکہ ہم بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ حج سے واپس آتے ہیں ، لیکن اسکے باوجود انکے لئے کھانے تیار نہیں کروائے جاتے، اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ رسم چھوٹے دیہاتوں میں موجود ہو، اور اس میں کوئی حرج والی بات بھی نہیں ہے، دیہات والے عموماً سخی ہوتے ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی دوسروں کے حقوق میں کسی قسم کی کمی نہیں کرتا"
    " لقاءات الباب المفتوح " ( 154 / سوال نمبر: 12 )
    https://islamqa.info/ar/97879
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں