1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں شراب نوشی کیوں حرام ہے؟؟؟؟

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏ستمبر 20، 2013۔

  1. ‏ستمبر 20، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    [​IMG]
    شراب نوشی کی ممانعت اور اسکے نقصانات

    محمد حسین میمن
    رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔
    ''لا تشرب الخمر فإنھا مفتاح کل شر''
    ''شراب مت پیو یقیناً یہ ہر برائی کی چابی ہے''۔
    (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب الخمر رقم ۳۳۷۱)
    دوسری حدیث میں ہے۔
    ''کل مسکر حرام وما اسکر کیثرہ فقلیلہ حرام''
    ''ہر نشہ لانے والی شے حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لائے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے''۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ رقم ۳۳۹۲)
    دونوں احادیث کے مطابق واضح طور پر شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے قرآن حکیم میں بھی شراب نوشی سے روکا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ تمام انسانیت کےلیے نبی بنائے گئے اور آپکی نبوت تا قیامت تک کےلئے ہے آپﷺ نے ہر ان خطرات سے امت کو آگاہ فرما دیا جس کے کرنے سے امت گمراہ اور راہ حق سے بہک جائے، شراب ایک ایسی لعنت ہے کہ جو اسکا عادی ہوتا ہے اسکے سامنے اسکی محرمات کی حرمت بھی برقرار نہیں رہتی۔
    امریکہ محکمہ انصاف کے بیورو آف جسٹس کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں صرف1996ء کے دوران میں زنا بالجبرکے روزانہ 2713 واقعات پیش آئے، اعدا و شمار کے مطابق ان زانیوں میں اکثر یت ان کی تھی جو ارتکاب جرم کے وقت نشے میں مدہوش تھے۔ سروے کے مطابق عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کےواقعات بھی زیادہ تر شراب نوشی کی حالت میں ہی کئے گئے ہیں۔
    حساب و کتاب کے اعتبار سے 8فیصد امریکی محرمات سے مباشرت اسی شراب نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لہذا شراب نوشی ایک قبیح اور غیر اخلاقی فعل ہے جسے شریعت میں قانونی طور پر ممانعت فرمائی ہے۔
    شراب نوشی کے نقصانات:

    شراب نوشی سے ہر سال کئی ہزار لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہیں اسکے علاوہ شراب نوشی سے جسم کے تمام افعال تباہ و برباد ہو کہ رہ جاتے ہیں۔مثلاً
    A جگر کا سرطان
    B معدے کی نالی کا سرطان
    C لبلبے اور جگر کی سوزش
    D دل کے عضلات کا تباہ ہونا
    E دل کی شریان کا خراب ہونا
    F دماغی فالج
    G مختلف اعصابی اور دماغی امراض
    H یادداشت خراب ہونا
    I غدود کی خرابیاں
    J خون کے سفید زرات (Platelets) میں کمی اور انکی دیگر خرابیاں
    K چھاتی کے عفونت، نمونیا
    L پھیپھڑوں میں سوزش
    M پھیپھڑوں کی دق (ٹی بی)
    N عورتوں میں شراب خوری کے زیادہ نقصان واقع ہوتے ہیں۔خصوصاً حاملہ عورت کےلئے۔
    ان امراض کے علاوہ بھی کئی اور امراض ہیں جو شراب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں نبی کریمﷺ نے اپنی احادیث میں ہر اس اشیاءو خرد نوش سے روکا ہے جسے آج ماڈرن سائنس پروف کرکے ثابت کررہی ہے کہ یہ اشیاء انسانی جسم کےلیے خطرناک ہیں۔
    شریعت کی خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو معاشرےمیں بہترین مقام عطا کرتا ہے شراب نوشی کی وجہ سے انسان معاشرتی زندگی۔ (Social Life)میں ناکام ترین شمار کیا جاتا ہے لہذا تمام انسانیت کا حل صرف وصرف دین اسلام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 20، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10685436_688239214577684_596461724709844593_n.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں