1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعلی اخلاق در اصل ایک عطر ہے جس کی خوشبو ہمیشہ باقی رہتی ہے

'مختلف الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از فیاض ثاقب, ‏اکتوبر 06، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2016 #1
    فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 30، 2016
    پیغامات:
    80
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ
    موجودہ دور کا قابل افسوس رویہ جو حد درجہ رائج ہوگیا ہے وہ یہ ہے

    جس نے مجھے تحفہ دیا میں اسے دوں گا..
    جس نے مجھے فون کرکے خیریت معلوم کی، میں بھی اسے فون کروں گا.
    جو میری دعوت پر آئے گا، میں اس کی دعوت پر جاؤں گا.

    یہاں تک کہ وفات جیسے موقع پر بھی ہمارا رویہ یہ ہے کہ جو میرے عزیز کی تعزیت کرنے آیا ، میں بھی اس کے عزیز کی تعزیت کرنے جاؤں گا.

    لوگوں کے ساتھ جذبات پر مبنی رویہ نہ رکھیں، نہ انہیں تحفوں پر تولیں، نہ ہی نفع و نقصان جیسے مادی چیزوں سے ناپیں.
    لوگوں کے لئے جود کرم اور اعلی اخلاق کا معاملہ رکھیں.

    جس نے تم سے روکا، تم اسے دو۔
    جس نے غلطی کی، اسے معاف کردو۔
    اگر آپ سے غلطی ہوئی تو بلا جھجھک معافی مانگیں۔

    آپ کو اس دنیا میں صرف ایک مرتبہ زندگی ملی ہے، اسے اس طرح گزاریں کہ جب آپ کو کوئی دیکھے، تو آپ جیسا بننے کی خواہش کرے، جو آپ کے بارے میں سنے ، اسے آپ سے ملنے کا اشتیاق ہو.

    کیا آپ کو نہیں معلوم کہ اعلی اخلاق در اصل ایک عطر ہے جس کی خوشبو ہمیشہ باقی رہتی ہے
     
  2. ‏دسمبر 06، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,344
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم
     
  3. ‏دسمبر 09، 2016 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    حدیث نمبر: 6029 بخاری --- ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا ، انہوں نے مسروق سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ عمر ؓ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ ؓ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم ﷺ بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے ، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔

    حدیث نمبر: 6035 بخاری--- ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا مجھ سے شفیق نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے (کہ منہ سے گالیاں نکالیں) بلکہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں

    حدیث نمبر: 6072 بخاری --- اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی ، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی

    حدیث نمبر: 2004 ترمذی--- حکم البانی: حسن الإسناد... ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا : ” اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا : ” منہ اور شرمگاہ “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔

    حدیث نمبر: 4643 بخاری--- ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر ؓ نے بیان کیا کہ آیت « خذ العفو وأمر بالعرف‏ » ” معافی اختیار کیجئے اور نیک کام کا حکم دیتے رہئیے ۔ “ لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کے لیے ہی نازل ہوئی ہے ۔
     
  4. ‏دسمبر 09، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    عمدہ تحریر ۔ پسند آئی

    لیکن ۔۔۔۔۔ اس کا موازنہ شرک و بدعت کے خاتمہ کے لیئے کئیے جانے والے عمل سے هرگز نہیں کیا جاسکتا ۔
    وہاں مثال اس حدیث سے دی جاتی ہیکہ هر برائی کو آگے بڑهکر پوری طاقت سے روک دو ، اگر نہیں تو اپنی زبان سے روک دو اور اگر اس پر بهی قدرت ناهو تو اپنے دل میں اللہ سے دعاء کرو ۔۔۔۔ الخ
    بهلے آپ نا مانیں لیکن شرک و بدعت کے خلاف خاموشی ایمان کی کمزوری هے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں