1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعمال ایسے کہ رب روٹھے

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن الياس آسي الكلائي, ‏مارچ 11، 2020۔

  1. ‏مارچ 11، 2020 #1
    ابن الياس آسي الكلائي

    ابن الياس آسي الكلائي مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 14، 2018
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اعمال ایسے کہ رب روٹھے

    دین اسلام واحد وہ دین ہے جو کامل امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ اسلام ایسے اصول و ضوابط بتلاتا ہے جنھیں اختیار کر کے امن قائم کیا جاسکتا ہے،یہی وہ دین حنیف ہے جو حصول جنت کی ترغیب دینے کے ساتھ دخول جنت والے اعمال و ذرائع بھی بیان کرتا ہے۔ یہ ترہیب جہنم کے ساتھ آتش دوزخ سے بچاؤ کا لائحہ عمل بھی بتلاتا ہے۔ حصول جنت اور جہنم سے بچاؤ کے بنیادی عوامل و اسباب اور کلیدی اعمال میں سے ایمان و توحید بھی ہے، بلکہ شریعت کا اصل مطلوب و مقصود ہی یہی ہے اور اسی کی بنا پر دیگر اعمال قبول ہو کر جنت نصیب ہوتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    (وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُولَ ءِکَ أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُون) (البقرۃ۲:۲۸)
    ”جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد اعمالِ صالحہ کو سرانجام دیا، یہی جنت کے مالک ہیں جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
    رسول اللہe نے ایمان کو کلید ِجنت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
    ((وَالَّذیْ نَفْسِیْ بَیَدِہِ! لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْ مِنُوْا)) (صحیح مسلم: ۴۵)
    ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم صاحب ایمان ہونے تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے“
    کچھ ایسے اعمال بھی ہیں جن کی وجہ سے آدمی خود کو صاحبِ ایمان سمجھنے کے باوجود رحمت الٰہی کا حقدار قرار نہیں پاتا اور رب کی ناراضگی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے، جیسے کہ شرک ہے۔ اس کی سنگینی بیان کرتے ہوئے رب تعالیٰ نے فرمایا:
    (إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ)(المائدہ:۵/۲۷)
    ”بلاشبہ جو اللہ کے سوا کسی کو شریک بنائے گا، اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا ہے، اس کا ٹھکانہ آتش دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا“
    شریعت اسلامیہ نے اس شرک جیسے مہک مرض سے بچنے کے لیے تمام وہ رستے مسدود کردیئے جن کا بالواسطہ یا بلا واسطہ شرک سے تعلق ہے تاکہ ایک بندہ مؤمن اپنے ایمان کو بچا کر جنت کا حقدار بن سکے۔ انھیں شرکیہ اور اعمالِ بد میں سے چند ایک کا ذیل میں تذکرہ کیا جاتا ہے۔
    ۱۔نظر بد:
    نظر بد لگنا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہeنے فرمایا: ”اَلْعَیْنُ حَقُّ“ (صحیح البخاری، ۰۴۷۵) ”نظر لگنا برحق ہے۔“ خود رسول اللہ e نے نظر بد سے بچنے کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔ اس کے لیے آپ اپنے نواسے حضرت حسن اور حضرت حسینw کو یہ دعا پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ”أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَھَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ“ (صحیح البخاری:۱۷۳۳)
    نظر بد سے بچاؤ کے لیے مسنون عمل چھوڑ کر شرکیہ اور غیر مسنون طریقہ کار اختیار کرنا ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے جیسے: مکان پر اوندھی ہنڈیا رکھنا، گاڑی وغیرہ کے سامنے یا پیچھے جوتا لٹکانا، سیاہ کپڑا باندھنا یا شرکیہ تعویذ لٹکانا۔ اسی طرح کسی قسم کی دھات، لکڑی اور پتھر کے متعلق نفع یا نقصان کا عقیدہ رکھنا سراسر غلط اور شرکیہ عمل ہے، جس سے اجتناب ضرور ی ہے۔
    ۲۔ حصول نفع کے لیے انگوٹھی پہننا:
    عورتوں کی طرح مردوں کے لیے بھی چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔ لیکن حصولِ منفعت یا دفع بلا کے لیے کسی قسم کی بھی انگوٹھی پہننا بالکل ناجائز اور شرکیہ عمل ہے، کیونکہ اس میں غیر اللہ کے لیے الٰہی اختیارات کو ثابت کرنا ہے۔ حدیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ ایک آدمی رسول اللہeکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی، آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ یہ بیماری سے بچاؤ کے لیے ہے۔ اس پر آپ فرماتے ہیں کہ اس سے تو تیری بیماری میں اضافہ ہی ہوگا اور کچھ نہیں۔ (المعجم الکبیر: ۰۰۶۷)
    ۳۔ بیماری سے بچاؤ کے لیے کڑا پہننا:
    حصول نفع یا نقصان سے بچاؤ کے لیے بازو یا ٹانگ میں کڑا پہننا بھی ممنوع اور شرکیہ عمل ہے۔ سیدنا حضرت عمرانt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہeنے ایک آدمی کو بازو میں پیتل کا کڑا پہنے دیکھ کر فرمایا: تم پر صد افسوس! یہ کیا ہے؟ وہ بولا کہ یہ بیماری اور کمزوری کا علاج ہے۔ آپe نے فرمایا: اس سے تو تیری بیماری اور کمزوری مزید بڑھے گی، جلدی کرو ابھی اتار دو، اگر اسی حالت میں تیری موت واقع ہو گئی تو کبھی نجات نہیں پائے گا۔ (مسند احمد: ۰۰۰۰۲)
    ۴۔شرکیہ دم کیا دھاگا باندھنا یا تعویذ لٹکانا:
    کسی بھی نیک یا برے مقصد سے ہاتھ،پاؤ، یا گلے میں دھاگا باندھنا بھی شرکیہ عمل ہے جس سے احتراز ضروری ہے۔ اس کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓسے منقول حدیث ہے، ایک روز حضرت عبداللہؓ اپنے گھر آئے تو اپنی بیوی کو گلے میں دھاگا باندھے دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟! بتلایا کہ بیماری کی وجہ سے فلاں عورت سے دم کر و ا کر ڈالا ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ غصہ سے دھاگے کو توڑ کر پھینک دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: عبداللہ کے گھر والے تو اس شرک سے بیزار ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ((اِنَّ الرُّقیٰ وَالتَّماءِمَ وَالتِّولَۃَ شِرْکٌ))
    اس پر ان کی بیوی کہتی ہیں کہ آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔ میری آنکھ میں تکلیف تھی، فلاں یہودی سے دم کروانے پر وہ رک جاتی۔ حضرت عبد اللہt فرماتے ہیں کہ یہ شیطان کی کارستانی تھی۔ وہ اپنے ہاتھ سے یہ شرارت کر رہا تھا، جب یہودی سے دم کرواتی وہ شرارت کرنے سے رک جاتا۔ تجھے اس طرح کرنا چاہیے تھا جس طرح رسول اللہeکیا کرتے تھے، آپ پڑھا کرتے تھے:
    ((اَذْھِبِ لْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لَاشِفاءَ اِلّاشِفَاءُ کَ شِفَاءً لَایُغَادِرُ سَقَمًا)) (مسنداحمد:۵۱۵۳)
    اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا ہے کہ صرف کسی بزرگ کی نسبت سے تو کیا، دم کیا ہوا دھاگا بھی ناجائز ہے۔ کسی کے دم سے کوئی تکلیف ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عمل درست ہے، بلکہ دم کرونے والے آدمی کا بھی توحید پرست ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ شرکیہ دم کردے گا جس سے شیطان کا مطلب پورا ہونے پر وہ تکلیف دینے سے رک جائے گا۔
    اسی طرح ابن ابی شیبہ میں ایک واقعہ مذکور ہے۔ حضرت حذیفہt ایک آدمی کی بیمارپرسی کے لیے گئے، دیکھتے ہیں کہ اس نے اپنے بازو پر دھاگہ باندھا ہوا ہے، اس سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟! وہ بولا کہ یہ دھاگہ دم کیا ہوا ہے۔ حضرت حذیفہt اس دھاگے کو کھینچ کر توڑ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں ”لَوْمُتَّ مَاصَلَّیْتُ عَلَیْکَ“ (ابن ابی شیبہ:۳۶۴۳۲)
    ”اگر اسی طرح تیری موت واقع ہوجاتی تو میں کبھی تیری نمازجنازہ نہ پڑھاتا“
    ۵۔ ستاروں کی گردش پر یقین رکھنا:
    نجومی نجم سے ہے۔ نجم کا معنی ستارہ ہے۔ نجومی کا مطلب ہے ستاروں سے حساب و کتا ب لگانے والا۔ کسی ایسے آدمی کے پاس جانا بالکل حرام ہے جو ستاروں کے ذریعے”کل کیسا گزرے گا“ کی باتیں بتائے یا حالات کی خرابی اور بہتری کی خبر دے کیونکہ ستاروں میں کسی طرح کا کرشمہ ماننا کفر ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ایک دفعہ بارش ہوئی، آنحضرتe نے نماز پڑھانے کے بعد صحابہy کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: جس نے کہا کہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے بارس ہوئی ہے اس نے ستاروں کا کفر کیا اور اللہ پر ایمان کا اظہار کیا جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے اس نے اللہ کا کفر کیا اور وہ ستارے پر ایمان لایا۔ (صحیح البخاری: ۷۴۱۴صحیح مسلم: ۱۷)
    ۶۔مظاہرِ قدرت میں کرشمہ ماننا:
    مظاہرِ قدرت کو کسی طرح کا کرشمہ ماننا بھی شرعی طور پر ناجائز ہے۔ اس کی مثال حدیث مبارکہ سے بھی ملتی ہے۔ رسول اللہe کے بیٹے سیدنا ابراہیم کی وفات پر سورج کو گرہن لگا۔ کافر کہنے لگے کہ حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ آپe نے اس باطل عقیدے کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
    ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمرَ لَا یَخْسِفَانِ لمَوتِ أَحَدٍ، وَ لَا لِحَیاتِہِ وَلَکِنَّھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہ فَإذَا رَأَیْتُمُوھَا فَصَلُّوا)) (صحیح البخاری: ۳۴۰۱ و صحیح مسلم:۱۰۹)
    ”ان سورج اور چاند کو کسی کی موت اور پیدائش کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انھیں اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو۔“
    دیگر حدیث میں آپe نے فرمایا:
    (أربع فی أمتی من أمر الجاھلیۃ لا یتر کونہن: الفخر فی الأحساب و الطعن فی الأنساب والاستسقاء بالنجوم) (صحیح مسلم:۴۳۹)
    ”میری امت میں چار کام دورِ جاہلیت کے ہیں …… ستاروں کے ذریعے بارش مانگنا۔“
    سورج، چاند، ستاروں، سیاروں یا دیگر خلائی یا زمینی مخلوق میں کس طرح کا کرشمہ ماننا اور پھر اس سے نفع یا نقصان کا عقیدہ رکھنا شرکیہ عمل ہے۔
    ۷۔ کاہن اور عرّاف کے پاس جانا:
    کاہن یا اعرّاف ہر وہ آدمی ہے جو ہاتھ کی لکیر دیکھ کر، خط کھینچ کر، کنکریوں کے ذریعے یا کسی اور علم کا دعوےٰ کرتے ہوئے ماضی یا مستقبل کی غیبی خبریں دے، ایسے آدمی کے پاس قسمت معلوم کروانا یا ہاتھ دکھانے کے لیے جانا منع ہے۔ رسول اللہe نے اس کی سخت وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا:((من اتی کاھنا فصدقہ بما یقول فَقَدْ بَرِیَ مِمَّا أَنْزَلَ اللہ َ عَلَی مُحَمَّدٍ)) (ابوداؤد: ۴۰۹۳)
    ”جو غیب کی باتیں بتانے والے کسی کاہن یا عرّاف کے پاس جا کر اس کی تصدیق کرتا ہے اس نے مجھ پر نازل ہونے والی وحی کا انکار کر دیا۔“
    ۸۔ جادو ٹونا کرنا کروانا:
    جادو برحق ہے، لیکن جادو کرنا یا کروانا حرام ہے۔ جادوگر اگرچہ باذن اللہ ہی اپنے غلط مقصد میں کامیاب ہوتا ہے لیکن پھر بھی جادو کے ذریعے مطلوب تک پہنچنا شرعاً ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن کریم میں عمل جادو کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ e نے سات ہلاک کرنے والے امور بتلائے،فرمایا:((اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ)) (صحیح البخاری:۶۶۷۲)ان سات میں سے ایک جادو بھی ہے۔
    جادو کی سنگینی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس بھیانک دھندے میں مبتلا جادوگر کی سزا قتل ہے۔ حضرت عمر فاروقt نے اپنے عہد خلافت میں باقاعدہ یہ حکم نامہ جاری کیا تھا کہ تمام جادوگر مرد عورت قتل کر دیے جائیں۔
    جادو کا علاج بذریعہ جادو کروانا بھی ناجائز ہے۔ جادو کا علاج جائز دم اور قرآنی آیات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    حافظ محمد فیاض الیاس الاثری
    رکن دارالمعارف لاہور
    ۲۶۶۶۳۴۴۔۶۰۳۰
    ۰۲۰۲۔۲۔۲۱
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • COPY.pdf
      فائل سائز:
      282.9 KB
      مناظر:
      24
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں