1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قرآن اور سرمایہ دارانہ نظام کا کالا قانون

'حکومت' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جون 07، 2011۔

  1. ‏جون 07، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قرآن اور سرمایہ دارانہ نظام کا کالا قانون

    قرآن اور قانون دو مختلف ضابطۂ حیات اور متضاد تہذیبیں ہیں۔ ان کا طرز معیشت ان کا طرز معاشرت ان کا نظام حکومت اور مالیاتی نظام ایک دوسرے سے مختلف اور جدا جدا ہے قرآن و حدیث جس چیز کو حرام قرار دیتے ہیں کالا قانون اس برائی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
    اس طرح طبقاتی نظام معرضِ وجود میں آتا ہے امیر امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور غریب غریب کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔
    1. اس وقت اسلام کے مد مقابل سرمایہ دارانہ نظام ہے بلکہ مسلمان ممالک خود اس باطل معاشی نظام میں مبتلا ہیں سرمایہ دارانہ نظام کی مناسبت سے اسلام کا معاشی، سیاسی اور عسکری پہلو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو نظام فطرت کے مطابق ہو گا عوام اسے قبول کریں گے اور خلافِ فطرت نظام مسترد ہو جائے گا۔
    2. سرمایہ دارانہ نظام یہ ہے کہ غریب عوام سے ٹیکس لے کر امیر حکمرانوں کو دیئے جائیں وہ خرچ کرنے میں با اختیار ہوں گے۔ اسلام نے ٹیکسوں کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ خلافِ فطرت فعل ہے جب سو فی صد ٹیکس ختم ہوں گے تو سو فی صد مہنگائی ختم ہو گی پورا ملک ٹیکس فری ہونے سے بے پناہ سرمایہ کاری ہو گی معیشت کو فروغ ملے گا بے روزگاری ختم ہو گی پھر امیروں سے عشر زکوٰۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کی جائے گی اس طرح مسلم معاشرے میں دولت کی گردش ہوتی ہے اور معاشرے کے بے سہارا لوگوں کی مالی معاونت ہوتی ہے۔
    1. رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكَسٍ يَعْنِيْ الْعَشَّارُ) (دارمی ص: ۲۰۹، مسند احمد ج: ۴، ص:۱۰)
    ترجمہ: ’’نہیں داخل ہو گا جنت میں ٹیکس وصول کرنے والا یعنی تجارتی عشر لینے والا۔‘‘ (المستدرک ج:۱، ص:۴۰۴)
    2. رسول اللہ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا: (اِنَّ صَاحِبَ الْمَکَسِ فِیْ النَّارِ) (مسند احمد ج:۴، ص: ۱۰۹۔ الترغیب والترہیب ص: ۵۶۸)
    ترجمہ: ’’بے شک ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں ہو گا۔‘‘
    3. رسول اللہ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا: (یَا مَعْشَرَ الْعَرْبِ اِحْمَدُ وَاللہَ الَّذِیْ رَفَعَ عَنْکُمْ الْعَشُوْرَ) (مسند احمد ج:۱، ص:۱۹۰)
    ترجمہ: ’’اے عرب کے گروہ اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو جس نے اُٹھا لیا ہے تم سے عشور کو۔‘‘ (مجمع الزوائد ج۳، ص:۱۸۷، مصنف ابن ابی شیبہ ج:۳، ص:۱۹۷)
    اگر اسلام نے سود اور ٹیکسوں کو حرام قرار دیا ہے تو سود اور ٹیکسوں کے بغیر اسلامی رفاہی سلطنت کو چلانے کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔
    علامہ اقبالؒ نے بڑے خوبصورت انداز میں اس ’خاص ترکیب‘ کی جانب اشارہ کیا تھا اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

    1. مسلم ممالک میں خلفشار اور انتشار کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن پاک اور کالے قانون کے مابین الجھے ہوئے ہیں لہٰذا مسلم امہ کو دو متضاد ضابطہ حیات میں سے کسی ایک نظام کو اختیار کرنا ہو گا۔ ’’قرآن و حدیث کے سنہری اصول یا سرمایہ دارانہ نظام کے کالے قوانین۔‘‘
    اگر دو بیڑیوں میں پاؤں رکھیں گے تو ذلت و رسوائی سے دو چار ہوں گے دو بیڑیوں میں پاؤں رکھنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔
     
  2. ‏اکتوبر 06، 2011 #2
    ندیم محمدی

    ندیم محمدی مشہور رکن
    جگہ:
    Wah, Pakistan, Pakistan
    شمولیت:
    ‏جولائی 29، 2011
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,274
    تمغے کے پوائنٹ:
    140

    جزاک اللہ واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد عامر یونس
    جوابات:
    2
    مناظر:
    2,875
  2. آفاق احمد
    جوابات:
    8
    مناظر:
    308
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    3
    مناظر:
    733
  4. محمد ارسلان
    جوابات:
    3
    مناظر:
    192
  5. محمد ارسلان
    جوابات:
    0
    مناظر:
    194

اس صفحے کو مشتہر کریں