1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

***امام احمد بن حنبل اور اتباع سنت ***

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 04، 2015۔

  1. ‏جنوری 04، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ***امام احمد بن حنبل اور اتباع سنت ***

    امام ابو القاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز البغوی رحمہ اللہ نے فرمایا:

    میں نے ( امام)احمد بن حنبل ( رحمہ اللہ ) کے پیچھے ایک جنازے پر نماز پڑھی ، آپ نے چار تکبیریں کہیں اور سورۂ فاتحہ پڑھی اور ( صرف ) ایک طرف سلام پھیرا پھر جب آپ قبرستان کے پاس پہنچے تو جوتے اُتار کر ننگے پاؤں چلنے لگے۔
    ( الطیوریات ۲؍ ۲۶۴، ۲۵۶ح ۱۸۸، وسندہ حسن)

    سبحان اللہ ! امام اہلِ سنت اتباعِ سنت میں کتنے اعلیٰ مقام پر تھے۔

    جنازے میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔
    ( دیکھئے صحیح بخاری : ۱۳۳۵)

    اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح امامِ عالی مقام نے تکبیریں اور سلام جہراً پڑھا ، اسی طرح سورۂ فاتحہ بھی جہراً پڑھی۔قبرستان میں اگر کانٹے اور پاؤں کو تکلیف دینے والی اشیاء نہ ہو تو ننگے پاؤں چلنا بہتر ہے جیسا کہ سیدنا بشیر بن الخصاصیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔

    ( دیکھئے سنن ابی داود : ۳۲۳۰ وسندہ صحیح و صححہ ابن حبان [ الموارد : ۷۹۰] والحاکم ۱؍ ۳۷۳ والذہبی)

    اور جوتوں کے ساتھ بھی چلنا جائز ہے جیسا کہ صحیح بخاری ( ۱۳۳۸) کی حدیث سے ثابت ہے۔

    [مقالات جلد نمبر ۲،ص 537-538]

    https://www.facebook.com/IshaatulHadith/posts/742205582525216
     
  2. ‏جنوری 04، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    میں نے ( امام)احمد بن حنبل ( رحمہ اللہ ) کے پیچھے ایک جنازے پر نماز پڑھی ، آپ نے چار تکبیریں کہیں اور سورۂ فاتحہ پڑھی اور ( صرف ) ایک طرف سلام پھیرا پھر جب آپ قبرستان کے پاس پہنچے تو جوتے اُتار کر ننگے پاؤں چلنے لگے۔ ( الطیوریات ۲؍ ۲۶۴، ۲۵۶ح ۱۸۸، وسندہ حسن)
    احمد بن حنبل.jpg
     
  3. ‏مارچ 08، 2015 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11025160_857722850932766_5291095005773077986_n.png
     
  4. ‏مارچ 08، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10422157_857723017599416_4053837680696968893_n.png
     
  5. ‏ستمبر 15، 2016 #5
    سیدعبدالبصیرمدنی

    سیدعبدالبصیرمدنی مبتدی
    جگہ:
    پشاور
    شمولیت:
    ‏ستمبر 15، 2016
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    امام احمد بن حنبل (رحمہ اللہ)کے فرزند عبداللہ کہتا ہے کہ: میرے والد محترم نے ۶۳سال کی عمر میں سر کے بال اور داڑھی پر مہندی لگائی تھی۔’(مناقب امام احمد بن حنبل لابن جوزی: ص:۲۸۶)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں