1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب تذکرة الحفاظ راویوں کے متعلق ایک شبہ کا ازالہ

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏فروری 23، 2019۔

  1. ‏فروری 23، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    تحریر : حافظ عمر صادق

    تذکرۃ الحفاظ للذهبی.!
    .
    بعض حضرات یه کھتے نظر آتے هیں که امام ذهبی نے تذکرۃ الحفاظ میں صرف ان لوگوں کو ذکر کیا هے جو حافظ الحدیث هے جنکے ضبط مضبوط هیں اور ثقه راوی هیں.
    حالانکه ایسا نهیں هے حافظ ذهبی تو تذکرۃ میں ان راویوں کا ذکر بھی کرتے هیں جن کے حفظ پر جرح هوئی اور انکا بھی ذکر کیا جنکو شهرت حاصل رهی هے خواه وه ضعیف یا متروک کذاب هی کیوں نه هو مثلا دیکھیں:
    ۱. علی بن زید بن جدعان
    اسکے متعلق کھتے هیں
    "وهو من اوعیه العلم وفیه تشیع ثم ذکر من "تکلم فیه من قبل حفظه", ثم قال لم یحتج به الشیخان لکن قرنه مسلم بغیره"
    (تذکرۃ الحفاظ ج ۱ ص ۱۴۰, ۱۴۱.)
    .
    ۲. محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی.
    اسکے حفظ پر کلام نقل کرتے هیں اور کھتے هیں:
    "حدیثه فی وزن الحسن ولا یرتقی الی الصحه لانه لیس بالمتقن عندهم."
    (ایضا ص ۱۷۱.)
    ۳.
    مبارک بن فضاله القرشی العدوی
    اسکے ضبط پر جرح وتعدیل نقل کر کے کھتے هیں
    "لم یبلغ حدیثه درجه الصحه ولا اخرج له النسائی"
    (ایضا ص ۳۰۰, ۳۰۱.)
    ۴. قیس بن الربیع الاسدی الکوفی:
    کے متعلق کها:
    "احد الاعلام علی ضعف فیه"
    پهر کھتے هیں
    "وقد کان قیس من اوعیه العلم واری الائمه تکلموا فیه لظلمه."
    (ایضا ص ۲۲۶.)
    ۵. شریک بن عبدالله قاضی:
    "احد الائمه الاعلام"
    پهر کها
    "شریک حسن الحدیث اماما فقیھا ومحدثا مکثرا لیس هو فی الاتقان کحماد بن زید وقد استشهد به البخاری وخرج له مسلم متابعه"
    (ایضا ص ۲۳۲.)
    ۶. عبدالله بن لھیعه:
    "ولم یکن علی سعه علمه بالمتقن..یروی حدیثه فی المتابعات ولا یحتج به"
    (ایضا ص ۲۳۸, ۲۳۹.)
    .
    یه تو رهی وه مثالیں جن سے یه حقیقت واضح هوتی هے که حافظ ذهبی نے صرف حافظ الحدیث وغیره کا هی ذکر نهیں کیا
    اب وه مثالیں دیکھیں جن سے یه معلوم هو گا که حافظ ذهی نے صرف ثقه وغیره کا هی ذکر نهیں کیا.
    .
    ۱. ابوبشر احمد بن محمد بن عمرو بن مصعب بن بشر بن فضاله المروزی:
    یه ابوبشر کذاب هے حافظ ذهبی نے اسکا ذکر تذکرۃ الحفاظ میں کیا
    "المصعبی 'الحافظ' الاوحد ابوبشر الا انه کذاب."
    (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۱۸.)
    اسکے بعد حافظ ذهبی نے ابوبشر کو وضع الحدیث بتاتے هوئے ناقدین کے اقوال کو ذکر کیا هے.
    ایک قابل غور بات یه هے که حافظ ذهبی نے ابوبشر کو کذاب کھنے کے ساتھ ساتھ 'حافظ' بھی کها هے. فتدبر.!
    .
    ۲. ابراهیم بن محمد بن ابی یحیی الفقیه المحدث ابو اسحاق المدنی:
    موصوف کے بارے حافظ ذهبی نے ناقدین کے اقوال ذکر کیں جن میں سے ایک قول امام ابوداود کا کذاب هے
    (ایضا ج ۱ ص ۱۸۱.)
    .
    ۳. محمد بن عمر بن واقد الاسلمی المعروف واقدی:
    حافظ ذهبی نے تو موصوف کا ترجمه هی پورا ذکر نهیں کیا
    (ایضا ج ۱ ص ۲۵۴.)
    .
    ۴. ابوالعباس محمد بن یونس بن موسی القرشی السامی البصری:
    اسکے متعلق کھتے هیں
    "واه ثم ذکر قال ابن عدی اتهم الکدیمی یوضع الحدیث وقال ابن حبان لعله قد وضع اکثر من الف الحدیث...وقال الدارقطنی یتھم بالوضع"
    (ایضا ج ۲ ص ۱۴۴, ۱۴۵.)
    .
    سمجھدار کیلئے تو اشاره هی کافی هوتا هے هم نے چند مثالیں ذکر کردی, کے حافظ ذهبی تذکرۃ میں صرف مضبوط حفظ یا حافظ الحدیث یا صرف ثقه راوی سے هی روایت نهیں کرتے اور اس طرح کے مزید مثالیں تذکرۃ الحفاظ میں سے تلاش کی جاسکتی هیں جس سے واضح هوتا هے که حافظ ذهبی صرف ثقه یا حافظ الحدیث امام الحدیث وغیره کا هی صرف ذکر نهیں کرتے.
    .
    الله سمجھنے کی توفیق دے.
    آمین.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں