1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام شعبی اور رفع الیدین؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏اپریل 12، 2011۔

  1. ‏اپریل 12، 2011 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیا امام شعبی سے رفع الیدین ثابت ھے؟ جیسا کہ حنفی حضرات کا دعویٰ ھے؟
    جزاک اللہ خیر
     
  2. ‏نومبر 05، 2019 #2
    asad farhan

    asad farhan مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 29، 2017
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    جی امام الشعبی، امام ابو اسحاق السبیعی اور امام ابراہیم النخعی ان تینوں سے ترک رفع الیدین ثابت ہے
     
  3. ‏نومبر 05، 2019 #3
    asad farhan

    asad farhan مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 29، 2017
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    upload_2019-11-5_1-48-28.png
    *تابعی الکبیر امام شعبیٰ عاعمر بن شرحیل جنکے بارے معروف ہے کہ انہون نےتقریبا ۵۰۰ صحابہ کرام کی ذیارت کی وہ ترک رفع الیدین کے قائل تھے اور یہ امام ابی حنیفہ کے اکبر شیخ تھے*

    امام شعبی کا تعارف:
    113 - الشعبي عامر بن شراحيل بن عبد بن ذي كبار
    وذو كبار: قيل من أقيال اليمن، الإمام، علامة العصر، أبو عمرو الهمداني، ثم الشعبي.
    مولده: في إمرة عمر بن الخطاب، لست سنين خلت منها، فهذه رواية.
    وعن أحمد بن يونس: ولد الشعبي سنة ثمان وعشرين
    وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان.
    قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه.
    وسمع من: عدة من كبراء الصحابة.
    وحدث عن: سعد بن أبي وقاص، وسعيد بن زيد، وأبي موسى الأشعري، وعدي بن حاتم، وأسامة بن زيد، وأبي مسعود البدري، وأبي هريرة، وأبي سعد، وعائشة، وجابر بن سمرة، وابن عمر، وعمران بن حصين، والمغيرة بن شعبة، وعبد الله بن عمرو، وجرير بن عبد الله، وابن عباس، وكعب بن عجرة، وعبد الرحمن بن سمرة، وسمرة بن جندب، والنعمان بن بشير، والبراء بن عازب، وزيد بن أرقم، وبريدة بن الحصيب، والحسن بن علي، وحبشي بن جنادة، والأشعث بن قيس الكندي، ووهب بن خنبش الطائي، وعروة بن مضرس، وجابر بن عبد الله، وعمرو بن حريث، وأبي سريحة الغفاري، وميمونة، وأم سلمة، وأسماء بنت عميس، وفاطمة بنت قيس، وأم هانئ، وأبي جحيفة السوائي، وعبد الله بن أبي أوفى، وعبد الله بن يزيد الأنصاري، وعبد الرحمن بن أبزى، وعبد الله بن الزبير، والمقدام بن معد يكرب، وعامر بن شهر، وعروة بن الجعد البارقي، وعوف بن مالك الأشجعي، وعبد الله بن مطيع بن الأسود العدوي، وأنس بن مالك، ومحمد بن صيفي،
    وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة
    امام شعبیٰ یہ حضرت عمر بن خطاب کے دور میں ۲۱ ھ کو پیدا ہوئے
    اسکے بعد امام ذھبی کہتے ہیں : میں کہتا ہون انہوں نے حضرت علی کو پایا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے
    اور کئی عدد کبیر صحابہ سے سماع کیا ہے پھر اسکے بعد امام ذھبی کثیر صحابہ جو جلیل القدر اور مشہور و معروف صحابہ تھے اسکے بعد لھکتے ہیں وغير هؤلاء الخمسين من الصحابة کہ یہ ۵۰ صحابہ کرام ہیں
    آگے امام ذھبی ابن عساکر کے حوالے سے سند کے ساتھ نقل کرتے ہین :
    روى: عقيل بن يحيى، حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن منصور الغداني، عن الشعبي، قال:
    أدركت خمس مائة صحابي، أو أكثر، يقولون: أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي
    امام شعبیٰ فرماتے ہیں : کہ میں نے پانچ سو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی۔

    اسکے بعد امام ذھبی الفسوی کے حوالے سے صحیح سند سے لکھتے ہیں :
    الفسوي في (تاريخه (4)) : حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شبرمة، سمعت الشعبي يقول:
    ما سمعت منذ عشرين سنة رجلا يحدث بحديث إلا أنا أعلم به منه، ولقد نسيت من العلم ما لو حفظه رجل لكان به عالما.
    امام حمیدی سفیان سے اور وہ امام شعبی سے سنا ہے کہ : امام شعبی کہتے
    کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں

    پھر امام ابن عساکر کے حوالے سے نقل کرتے ہیں
    قال ابن ابی لیلیٰ : كان إبراهيم صاحب قياس، والشعبي صاحب آثار
    امام ابن ابی لیلیٰ کہتے تھے کہ ابراہیم النخعی صاحب قیاس یعنی مجتہد تھے اور امام شعبیٰ صاحب آثار یعنی آثار صحابہ کے بڑے عالم ہیں

    اور امام شعبیٰ کی وفات ا۱۰۳ سے ۱۰۹ ھ کے درمیان وفات ہوئی
    (سیر اعلام النبلاء)

    امام ذھبی انکا ذکر تذکرہ حفاظ میں یوں کرتے ہیں :
    76- 11/ 3ع- الشعبي علامة التابعين أبو عمرو عامر بن شراحيل الهمداني الكوفى من شعب همدان: مولده في أثناء خلافة عمر في ما قيل كان إماما حافظا فقيها متفننا ثبتا متقنا وكان يقول: ما كتبت سوداء في بيضاء وروى عن علي فيقال مرسل وعن عمران بن حصين وجرير بن عبد الله وأبي هريرة وابن عباس وعائشة وعبد الله بن عمر وعدى بن حاتم والمغيرة بن شعبة وفاطمة بنت قيس وخلق وعنه إسماعيل بن أبي خالد وأشعث بن سوار وداود بن أبي هند وزكريا بن أبي زائدة ومجالد بن سعيد والأعمش وأبو حنيفة وهو أكبر شيخ لأبي حنيفة وابن عون ويونس بن أبي إسحاق والسرى بن يحيى وخلق قال أحمد العجلي مرسل الشعبي صحيح لا يكاد يرسل الا صحيحا.

    الشعبی تابعین میں علامہ تھے یہ حضرت عمر کے دور خلافت میں ۲۱ھ کو پیدا ہوئے یہ امام حافظ فقیہ یعنی مجتہد متقن ثبت تھے انہوں نے حضرت علی ، عمران بن حصین، جریر بن عبداللہ ، ابی ھریرہ، ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عبداللہ بن عمر ، عدی بن حاتم ، مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے
    اور ان سے روایت کرنے والے امام ابی حنیفہ یہ اما م ابو حنیفہ کے بڑے کبیر شیخ تھے ، اور ابن عون ، یونس بن ابی اسحاق ، وغیرہ ہیں
    اور امام عجلی کہتے ہیں شعبی کی مراسل صحیح کے علاوہ روایت نہ کرتے
    (تذکرہ الحفظ امام ذھبی)
    امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں :
    2444 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرِ، ثُمَّ لَا يَرْفَعُهُمَا»
    (مصنف ابن ابی شیبہ، برقم: ۲۴۴۴)

    امام عبداللہ بن مبارک الحنفیؒ فرماتے ہیں اشعت کے حوالے سے : امام شعبی (نماز) میں اول تکبیر میں رفع الیدین کرتے پھر نہ کرتے تھے
    سند کی تحقیق:
    سند کا پہلا راوی : امام ابن ابی شیبہ
    امام ابن ابی شیبہ متفقہ علیہ ثقہ ہیں

    سند کا دوسرا راوی: امام عبداللہ بن مبارک متفقہ علیہ ثقہ متقن

    سند کا تیسرا راوی : اشعت بن سوار
    یہ حسن الحدیث راوی ہے

    امام ذھبی کے نزدیک یہ لین ہے اور حسن الحدیث جبکہ امام ابن حجر کے نزدیک یہ ضعیف ہے
    لیکن اس پر کوئی خاص جرح مفسر نہین ہے اور امام ذھبی کا موقف صحیح ہے نیز اسکی متابعت بھی ثابت ہے جو کہ بعدمیں ذکر ہوگی پہلے اس پر توثیق پیش کرتے ہیں

    1385 - أشعث بن سوار الكندي الكوفي، قاله مروان، وقال علي بن المديني هو مولى لثقيف، وهو الأثرم، سمع الشعبي ونافعا روى عنه الثوري، وقال لي ابن أبي الأسود سمعت عبد الرحمن بن مهدي قال سمعت سفيان يقول أشعث أثبت من مجالد
    ، قال شعبة حدثني أشعث الأفرق، قال أحمد: الأفرق النجار

    امام بخاری امام ابن مہدی کے حوالے سے اما م سفیان الثوری سے نقل کرتے ہیں کہ اشعت مجالد سے یہ ثبت ہے
    (التاریخ الکبیر ، امام بخاری)


    440- أشعث بن سوار الكندي عن الشعبي وطائفة وعنه هشيم وابن نمير وخلق صدوق لينه أبو زرعة توفي 136 م ت س ق
    (امام ذھبی الکشف میں کہتے ہیں کہ صدوق ہے اور امام ابو زرعہ نے کمزور قرار دیا ہے
    (الکشف)



    3 - (ابن سوار الكندي)
    أشعث بن سوار الكندي الكوفي الأفرق التوابيتي النجار روى عن عكرمة والشعبي وابن سيرين روى له مسلم تبعا وروى له الترمذي والنسائي وابن ماجة ضعفه النسائي وقواه غيره وقال ابن عدي لم أجد له حديثا منكرا وقال ابن خراش هو أضعف الأشاعثة وقال الدراقطني يعتبر به وتوفي سنة ست وثلاثين ومائة
    (الكتاب: الوافي بالوفيات
    امام ابن خلیل بن ایبک فرماتے ہیں :
    امام مسلم نے انکو متابعت میں لیا ہے ، امام ترمذی امام ابن ماجہ نے
    اور امام نسائی نے انکی تضعیف کی ہے اور قوی بھی
    اور امام ابن عدی کہتے ہیں مین اسکی کوئی بھی منکر روایت پر مطلع نہیں ہوسکا
    ابن خراش(رافضی ) نے تضعیف کی
    اور امام دارققطنی کہتے ہیں معتبر ہے

    المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (المتوفى: 764هـ)


    57- قُلْت لأبي دَاوُد: "أشعث1 وإسماعيل بْن مُسْلم2 أيهما أعلَى؟ قَالَ: إِسْمَاعِيل دُونَ أشعث وأشعث ضعيف" .
    قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سمعت يَحْيَى بْن معين يَقُول: "كَانَ أَشْعَث بْن سَوَّار يرى القدر".
    امام ابی داود نے اشعت کو ضعیف قرار دیا ہے
    اور ابی داود کہتے ہین یحییٰ بن معین سے سنا ہے کہ اشعت بن سوار اس میں قدری خیالات تھے
    (سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود السجستاني في الجرح والتعديل)


    951- أشعث بن سوار 1: "م, ت, س, ق"
    الكندي, الكوفي, النجار, التوابيتي, الأفرق. وهو الذي يقال له: صاحب التوابيت, وهو أشعث القاص.
    وهو مولى ثقيف, وهو الأثرم وهو قاضي الأهواز.
    روى له مسلم متابعة. وقد حدث عنه من شيوخه: أبو إسحاق السبيعي. وكان أحد العلماء على لين فيه.
    امام ذھبی فرماتے ہیں: اپنی آخری تصنیف سیر اعلام میں کہ امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے یہ علماء میں سے تھے لیکن ان میں کمزوری (معمولی) تھی
    (سير أعلام النبلاء)

    41 - أشعث بن سوار الكندي (م ت س) :
    عن الشعبي وغيره حسن الحديث قال أبو زرعة لين وضعفه وقال النسائي
    امام ذھبی کہتے ہیں کہ اشعت یہ حسن الحدیث ہے اور ابو زرعہ نے انکو کمزور قرار دیا ہے اور امام نسائی نے تضعیف کی ہے
    (ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق، امام ذھبی)


    وأشعث بن سوار الكوفي، يعتبر به، وهو أضعفهم، روي عنه شعبة حديثًا واحدًا
    امام دارقطنی کہتے ہیں : کہ یہ معتبر ہے اور اس میں ضعف ہے
    موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله)

    وأشعث بن سوار قد روى عنه أبو إسحاق السبيعي، وشعبة وشريك ولم أجد لأشعث فيما يرويه متنا منكرا إنما في الأحايين يخلط في الإسناد ويخالف
    امام ابن عدی کہتے ہیں : مجھے اس کی کوئی منکر روایت نہیں ملی البتہ یہ اسناد بیان کرنے میں مخالفت کر جاتا
    (الکامل فی الضعفاء)

    رواه الطبراني في الأوسط، وفيه أشعث بن سوار، وهو ثقة، وفيه كلام.
    امام ہیثمی کہتے ہیں اشعت یہ ثقہ ہے لیکن اس پر کلام ہے (غیر مفسر)
    (مجمع الزوائد)



    150) عن أشعث بن سوار عن ابن أشوع عن حنش.
    وهذا إسناد لا بأس به فى المتابعات , فإن حنش بن المعتمر صدوق له أوهام , وابن أشوع اسمه سعيد بن عمرو بن أشوع , وهو ثقة من رجال الشيخين.
    وأشعث بن سوار , فيه ضعف من قبل حفظه , وروى له مسلم متابعة.
    البانی اشعت سے مروی ایک روایت کے بارے کہتا ہے : اس سند میں کوئی حرج نہیں ہے متابعت میں اشعت بن سوار اس کے حافظے میں کمزوری ہے امام مسلم نے اسکو متابعت میں لیا ہے

    یعنی البانی اسکو متابعت میں قبول کرتا ہے اور امام مسلم کا حوالہ بھی دیتا ہے
    (إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل)

    حدثنا ابن حماد، قال: حدثنا عباس ومعاوية، عن يحيى، قال: أشعث بن سوار ضعيف.
    حدثنا عبد الله بن أحمد الدورقي، قال: سمعت يحيى بن معين يقول أشعث بن سوار الأفرق كوفي ثقة.
    امام ابن عدی نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے کہ امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں اشعت ضعیف ہے (غیر مفسر جرح )
    اور غالبا یہ انکے عقیدے قدری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابن معین سے قدری کی جرح امام ابی داود نے بیان کی ہے یحییٰ بن معین سے
    پھر امام ابن عدی صحیح سند سے بیان کرتے ہیں کہ امام الدروقی کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے سنا کہ اشعت بن سوار یہ کوفی ثقہ ہے
    (الکامل فی الضعفاء)

    معلوم ہوا کہ یہ سند حسن سے بالکل کم درجے کی نہیں ہے اس پر جرح غیر مفسر ہے اور متشدد محدثین نے بھی اسکی توثیق کی ہے نیز جن سے جرح ہے انہی سے توثیق بھی مروی ہے
    معلوم ہوا اسکی تضعیف میں بہت حد تک اختلاف تھا اور امام ذھبی کی بات صحیح ہے کہ یہ حسن الحدیث ہے لیکن اس مین کمزوری ہے
    اور متابعت و شواہد میں تو اسکی روایت لینے میں بالکل حرج نہیں جیسا کہ البانی سے اوپر ثبوت پیش کیا ہے اب اسکی متابعت پیش کرتے ہیں :

    ****************
    2454 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ»
    قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»
    امام ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں مجھے یحییٰ بن آدم(ثقہ) نے حسن بن عیاش(ثقہ) سے اور وہ عبدالملک(ثقہ) سے
    اسکے بعد آگے مکمل سند بیان کر کے امام ابن ابی شیبہ ایک روایت بیان کرتے ہین ، اور روایت کے ختم کرکے امام عبدالملک کا قول نقل کرتے ہیں کہ
    امام عبدالملک کہتے ہیں : میں نے امام شعبی(کبیر تابعی) ، امام ابو اسحاق السبیعی(کبیر تابعی) اور ابراہیم النخعی(کبیر تابعی) تینوں کو دیکھا وہ صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے تھے
    (مصنف ابن ابی شیبہ)

    اس روایت میں ہم نے حدیث کو دلیل نہیں بنایا بلکہ امام عبدالملک کے قول کو بیان کیا ہے کہ انہوں نے خود حضر ت امام شعبی سمیت امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا نماز مین صرف شروع میں رفع الیدین کرتے تو ہم سند بھی امام ابن ابی شیبہ سے امام عبدالملک تک کی تحقیق پیش کرتے ہیں

    سند کا پہلا راوی: یحییٰ بن آدم یہ امام ابن ابی شیبہ کا شیخ ہے

    204 - يحيى بن آدم بن سليمان الأموي مولاهم * (ع)
    العلامة، الحافظ، المجود، أبو زكريا الأموي مولاهم، الكوفي، صاحب التصانيف، من موالي خالد بن عقبة بن أبي معيط.
    وثقه: يحيى بن معين، والنسائي.
    قال أبو عبيد الآجري: سئل أبو داود عن معاوية بن هشام، ويحيى بن آدم، فقال: يحيى واحد الناس (1) .
    وقال أبو حاتم: ثقة، كان يتفقه (2) .
    وقال يعقوب بن شيبة: ثقة، كثير الحديث، فقيه البدن، ولم يكن له سن متقدم، سمعت عليا يقول:
    يرحم الله يحيى بن آدم، أي علم كان عنده! وجعل علي يطريه.
    وسمعت عبيد بن يعيش، سمعت أبا أسامة يقول:
    ما رأيت يحيى بن آدم قط إلا ذكرت الشعبي - يريد: أنه كان جامعا للعلم

    امام ذھبی انکے بارے میں سیر اعلام میں کہتے ہیں : العلامہ ، حافظ صاحب تصانیف ہیں
    امام یحیٰ بن معین نے انکو ثقہ قرار دیا اور امام نسائی نے بھی ثقہ قرار دیا
    امام ابی حاتم نے انکو ثقہ قرار دیا
    وغیرہ
    (سیر اعلام النبلاء)


    دوسرا راوی :الحسن بن عیاش ہے
    12795 - الحسن بن عياش مولى بنى أسد أخو أبي بكر بن عياش من أهل الكوفة يروي عن الثوري وزائدة روى عنه عبد الرحمن بن أبي حماد الكوفي
    ابن حبان نے ثقات میں درج کیا
    (الثقات ، ابن حبان)

    304 - الْحسن بن عَيَّاش بن سَالم الْأَسدي ثِقَة
    امام عجلی نے ثقات میں درج کیا
    (الثقات ، عجلی)


    حدثنا عبد الرحمن أنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سمعت يحيى بن معين يقول: الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش ثقة.
    حدثنا عبد الرحمن أنا يعقوب بن إسحاق [الهروي - 1] فيما كتب إلي قال نا عثمان بن سعيد [الدارمي - 1] قال قلت ليحيى [بن معين - 2] الحسن بن عياش أخو أبي بكر بن عياش كيف حديثه؟ فقال: ثقة.
    قلت هو أحب إليك [أو - 1] أبو بكر؟ فقال: هو ثقة وأبو بكر ثقة.
    قال عثمان [بن سعيد - 1] :
    أبو بكر والحسن ليسا بذاك في الحديث وهما من اهل الصدق والامانة.
    امام یحیٰ بن معین نے کہا الحسن بن عیاش یہ ابی بکر عیاش کا بھائی ہے اور ثقہ ہے
    پھر ابن معین سے دوسری توثٰیق الدارمی کہتا ہے کہ میں نے ابن معین سے پوچھا کہ الحسن بن عیاش کا حدیث مین کیا حال ہے ؟ فرمایا ثقہ
    (الجرح والتعدیل)

    تیسرا راوی : عبدالملک ہے :

    905 - عبد الْملك بن أبجر ثِقَة قَالَه أَحْمد
    امام ابن شاہین نے ثقات میں درج کیا
    (الثقات ، ابن شاہین)

    1025- عبد الملك بن أبجر5: كان عبد الملك بن أبجر "ثقة، ثبتًا في الحديث، صاحب سنة)
    امام ابن عجلی نے ثقات میں درج کیا
    (الثقات العجلی)


    نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد [بن محمد - 1] بن حنبل فيما كتب إلى قال سألت أبي عن ابن ابجر فقال: بخ ثقة.
    [ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال: عبد الملك بن ابجر ثقة - 2] .
    نا عبد الرحمن قال سمعت أبي وأبا زرعة يقولان:
    ابن ابجر احب الينا من اسراءيل.

    امام ابن ابی حاتم اپنے والد ابی حاتم سے بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن ابحبر ثقہ ہے
    یحییٰ بن معین نے فرمایا ثقہ ہے
    اور یہی ابو زرعہ سے سنا کہ عبد الملک یہ مجھے اسرایل سے زیادہ محبوب ہے
    (الجرح والتعدیل)



    اس تمام تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام شعبیٰ جنہوں نے ۵۰۰ صحابہ کرام کی زیارت کی ہے وہ بھی ترک رفع الیدین کے قائل تھے

    تحقیق: دعاگواسد الطحاوی الحنفی البریلوی​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں