1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام محمدؒ بن عثمان بن ابی شیبہ جرح وتعدیل کے میزان میں

'محدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏جنوری 26، 2019۔

  1. ‏جنوری 26، 2019 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    محمد بن عثمان بن ابی شیبه پر جرح کرنے والے.
    .
    ۱.
    دارقطنی "ضعیف
    یقال اخذ کتابی ابی انس وکتب عنه فحدث.
    فقال ازل اسمع الشیوخ یذکرون انه مقدوح"
    الجواب:
    یهاں "اسمع الشیوخ" اور "یقال" مجھول هیں
    اور جو ضعیف کی جرح هے وه ایک تو جرح مفسر نهیں دوسری بات یه هے که یه جمهور کے خلاف هے.

    .
    ۲. منادی
    "اکثر الناس عنه علی اضطراب فیه وذکر بن المنادی وفاته ثم قال کنا نسمع شیوخ اهل الحدیث وکهولهم یقولون مات حدیث الکوفه بموت موسی بن اسحاق ومحمد بن عثمان وابی جعفر الحضرمی وعبید بن غنام..."
    (بغداد ج 3 ص 46, 47 وسند صحیح.)
    "لوگوں کے اضطراب کے ساتھ اس سے کثرت سے روایتیں لیں... میں نے اهل حدیث کے استادوں اور بوڑهوں کو یه کھتے هوئے سنا که کوفه کی حدیث موسی بن اسحاق محمد بن عثمان ابوجعفر الحضرمی مطین اور عبید بن غنام کی موت کے ساتھ مرگی یه چاروں ایک هی سال میں فوت هوئے."
    .
    الجواب:
    یه کوئی جرح نهیں هے بلکه اس میں تو توثیق هے که کے انکے موت کے ساتھ هی انکی حدیث بھی فوت هو گی.
    نیز اس میں جو مجھول "نسمع شیوخ اهل الحدیث" هے
    یه کون هیں اسکا کوئی اته پتا نهیں. اضطراب والی جرح کی بابت عرض هے که یه کوئی جرح نهیں
    الثانی:ـ
    بات یه هےکه
    اضطراب اس سے نقل کرنے والوں میں هے
    الثالثه:ـ
    انکے شاگرد عقیلی الاسماعلی نے بھی ان کو اس جرح سے منسوب نهیں کیا اور استاد کے حالات سے شاگرد دوسروں سے زیاده واقف هوتا هے.
    جس سے معلوم هوتا هے که یه جرح هی صحیح نهیں. اور پهر امام علی بن مدینی کے یه شاگرد هیں امام علی سے محمد بن عثمان نے کتاب نقل کی. امام علی بن ان سے واقف تھے اسکے باوجود وه محمد بن عثمان پر جرح نهیں کرتے آخر کیوں.؟
    یه استاد شاگردوں کا قراینه بتاتا هے که اضطراب والی جرح صحیح نهیں اگر محمد بن عثمان کے حفظ میں کلام هوتا تو یه حضرات ضرور اسکو بیان کرتے خاص کر عقیلی جو که جرح میں متشدد هیں
    .
    اگلی بات یه هے که اضطراب هوا اگر هے بھی تو وه اضطرابه فی بعض حدیثه لیس بموجب جرحا
    .
    ۳. بیھقی
    لیس بالقوی.
    (السنن الکبری)
    پهلی بات تو یه هے امیر علی نے بتایا که یه جرح نهیں بلکه یه تو صدوق کے بارے میں بولا جاتا هے.
    (التذنیب ص ۲۴.)
    امیر علی حنفی کے بارے محمد حسن قلندرانی بریلوی نے کها
    "حضرت علامه مولانا امیر علی حنفی مترجم فتاوی عالمگیری اور مترجم تفسیر مواهب الرحمن."
    (غائبانه نماز جنازه کی شرعی حیثیت ص ۱۷.)
    عرض هے که یه جرح کا هی صیغه نهیں الا کوئی قراینه موجود هو.
    .
    بالفرض اگر اسکو صدوق کے متعلق نه بھی مانا جائے تو یه بهت هلکی جرح هے جیسا که حافظ ابن حجر نے بتایا.
    .
    ۴. سخاوی ضعیف.
    (فتح المغیث.)
    تو اسکا جواب یه هے که یه ضعیف کی جرح هی مفسر نهیں نیز یه جمهور کے خلاف هونے کی وجه سے مردود هے.
    .
    ۵. علامه خلیلی ضعفوه کھتے هیں.
    (الارشاد)
    الجواب:
    یه جرح هی صحیح نهیں قائل مجھول هے.
    .
    ابن العماد الدمشقی فی شذرات الذهب.
    الجواب:
    یه ناقل هیں ویسے بھی یه بهت بعد کے هیں.
    *اور اس پر عبدالله بن احمد بن حنبل وغیرهم سے کذاب اور وضع الحدیث کی جرح مروی هے.
    انکی اسانید میں ابن عقده رافضی هے جو که خود ضعیف هے.
    .
    یه کل ملا کر پانچ لوگ هیں جنهوں نے اس پر جرح کی هے.
     
  2. ‏جنوری 26، 2019 #2
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    توثیق کرنے والے.
    ۱.
    ابن عدی نے اسکو
    " لا باس به ولم ار له حدیثه منکرا فاذکره"
    بتایا
    (الکامل)
    ابن عدی جرح وتعدیل کے امام هیں صاحب استقراء هیں. ابن عدی اسکو لا باس به کھتے هیں اور پهر کھتے هیں که اسکی کوئی حدیث منکر مجھ کو نهیں ملی جسکو یهاں نقل کروں. جس سے معلوم هوتا هے که ابن عدی کی تحقیق میں یه بنده حفظ کے اعتبار سے ویسا نهیں تھا جیسا المنادی نے بتایا اگر ایسا هوتا تو ابن عدی ضرور اسکی وضاحت کرتے یا اسکی کوئی نه کوئی حدیث منکر بیان کرتے.
    جب ایسا کپھ بھی ابن عدی نے ذکر نهیں کیا تو اس قراینه سے معلوم هوا که اضطراب والی جرح هی صحیح نهیں
    .
    ۲. عبدان الاهوازی شیخ ابن عدی نے اسکو لا باس به بتایا. اور کها ما علمنا الا خیرا کتبنا عن ابیه المسند بخط ابنه.
    (الکامل, تاریخ بغداد ج ۳ ص ۴۲, ۴۳.)
    .
    ۳.
    علامه منذری نے رواه الطبرانی ورواته ثقات بتایا
    (الترغیب والترهیب ج ۳ ص ۱۶۱, ح ۳۳۶۴. الصحیحه ج ۵ ص ۴۶۶ ح ۲۳۵۲. حلیه الاولیا ج ۴ ص ۳۷۸.)
    نیز الترغیب ج ۲ ص ۱۱۹, ۱۲۰ پر ایک روایت طبرانی سے نقل کر کے کھتے هیں
    رواه الطبرانی فی الاوسط باسنادین رجال الصحیح
    (الاوسط ج ۷ ص ۳۷۹ ح ۷۹۴۳.)
    .
    یاد رهے که رجال الصحیح سے مراد تشبیه هوتی هے.
    .
    ۴.
    شیخ السلام امام ابن تیمیه نے اسکو حافظ اور امام بخاری کے طبقه کا قرار دیا.
    (مجموع الفتاوی.)
    .
    ۵. محمد بن عثمان کے شاگرد اسماعیلی نے اس سے روایت لی
    (معجم ج ۱ ص ۳۹۱, رقم ۶۰.)
    اور اسماعیلی اپنی کتاب میں اس سے روایت کرتے هیں جو ثقه یا صدوق هو. نیز اسماعیلی نے اپنی کتاب میں تصریح کی هے که جس پر کوئی کلام هو گا وه بیان کیا جائے گا یعنی کذاب یا کوئی دوسری جرح.
    اسماعیلی نے بتایا هے که معجم میں شرط لگائی که جو شیخ اسماعیل هوں گے جن پر جرح هو گی ان سے روایت نهیں لی جائے گی انکا بیان کردیا جائے گا
    (معجم شیوخ الاسماعیلی ج ۱ ص ۳۰۹.)
    نیز علماء نے اعتماد بھی کیا اس پر.
    (لسان ج ۵ ص ۱۱۵. ت محمد بن حبان بن الازهر ابوبکر القطان)
    (لسان ج ۳ ص ۳۳۶, فتح الباری ج ۴ ص ۹۸ نیز دیکھیں تاریخ جرجان ص ۴۳۰, ص ۴۳۱.)
    نیز اگر اس پر اضطراب والی جرح صحیح هوتی تو اسماعیلی ذکر کرتے کیوں که وه المنادی سے زیاده واقف تھے محمد بن عثمان سے یه قراینه هے که محمد بن عثمان پر اضطراب والی جرح مردود هے.
    نیز ایک قراینه یه بھی هے که عقیلی متشدد هیں انهوں نے بھی اس کو اضطراب سے محمول نهیں کیا وه بھی تو محمد بن عثمان کے شاگرد هیں. اور متشدد بھی هیں حتی که علی بن المدینی کو بھی الضعفاء میں نقل کر دیا جس پر ذهبی نے تنقید کی.
    جب محمد بن عثمان کے دو شاگردوں نے اس کے حفظ پر کوئی اعتراض نهیں کیا تو المنادی کو کیسے معلوم هوا.؟
    لهذا ترجیح شاگردوں کو هے.
    .
    .
    ۶. ابن حبان نے کتاب الثقات میں ذکر کیا اور بتایا "کتب عنه اصحابنا"
    یعنی ابن حبان محمد بن عثمان سے احپهی طرح واقف تھے یهاں ان کا تساهل نهیں هے. ابن حبان بھی جرح میں متشدد هیں.
    بعض حضرت نے تو بتایا هے که:
    "حافظ ابن حبان کی عادت یه هے که وه ثقه راوی کا وهم یا تفرد دیکھتے هی اس پر "ربما اغرب" کا لیبل لگادیتے هیں, چاهے وه ایک هی روایت میں کیوں نه هو."
    (لسان المحدثین از خلف سلامه ج ۴ ص ۳۰. نیز معجم اصطلاحات حدیث از ڈاکٹر سهیل حسن ص ۴۳۷.)
    اب یهاں دیکھیں که ابن حبان نے محمد بن عثمان کو اپنے تشدد وعادت ککی وجه کے باوجود بھی اسکو یخطی اضطراب وغیره کی جرح سے منصف نهیں کیا
    جس سے معلوم هوتا هے اضطراب والی جرح صحیح نهیں هے. ابن حبان نے استقراء سے هی کام لیا هے. والله اعلم
    اور عقیلی اور اسماعیلی اور علی بن مدینی نے بھی کوئی دوسری جرح تک بیان نهیں کی جو که شاگرد واستاد هیں جس سے معلوم هوتا هے که ان پر جرح مردود هے یه ایک مظلوم محدث هیں.
    .
    ۷. ضیاء المقدسی
    نے المختارۃ میں روایت لی
    ضیاء الدین المقدسی نے روایت لی
    (ج ۱۰ ص ۳۴ ح ۲۷.المختارۃ ج ۷ ص ۱۳۹.)
    .
    ۸.
    امام حاکم نے مستدرک ح ۲۷۹۴, ج ۲ ص ۱۹۶.
    .
    ۹. خطیب بغدادی
    "وکان کثیر الحدیث واسع الروایه ذا معرفه وفهم وله تاریخ کبیر."
    (تاریخ ج ۳ ص ۴۲.)
    .
    ۱۰.
    هیثمی نے ثقه وقد ضعفه غیر واحد
    (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۰ باب کتابه العلم)
    یه جو ضعفه غیر واحد بتایا هے تو یه مردود هے کیوں که اسکا جمهور سے یه ثابت هی نهیں هے.
    نیز دو جگه تو اس سے مروی روایات کی توثیق کی.
    هیثمی نے طبرانی سے ایک روایت نقل کی اور پهر بتایا
    رواه الطبرانی وفیه عمرو بن القاسم ولم اعرفه وبقیه رجاله رجال الصحیح.
    (مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۷۸. طبرانی الکبیر ج ۱۰ ص ۲۵۳. ج ۹ ص ۱۸۳.)
    .
    یه بتایا جاچکا هے که رجاله رجال الصحیح سے صحیحین کے راویوں کے ساتھ تشبیه مراد هوتی هے.
    .
    ۱۱.
    اور علامه المناوی نے بھی ایسا هی کها
    (فیض القدیر بحواله الضعیفه ج ۵ ص ۴۳۰ ح ۲۴۰۹.)
    .
    ۱۲.
    حافظ ابن کثیر نے اس سے مروی سند کو جید حسن بتایا
    (البدایه ج ۲ ص ۲۲۴.)
    .
    ۱۳.
    مسلمه بن القاسم
    لا باس به کتب الناس عنه ولا علم احد ترکه.
    (لسان.)
    مسلم اگرچه ضعیف هے لیکن اسکی متابعت علماء نے کردی هے.
    .
    ۱۴.
    وقال صالح جزرۃ ثقه
    (تاریخ الاسلام ج 1 ص 2288, تذکرۃ للذهبی ج 2 ص 661, سیر ج 14 ص 21, العبر ج 1 ص 107, میزان ج 5 ص 254, البدایه ج 11 ص 148, لسان ج 5 ص 280, طبقات الحفاظ للسیوطی ج 1 ص 292, الطبقه العاشرۃ)
    حافظ زبیر علی زئی نے بتایا که اسکی سند ضعیف هے وجه محمد بن علی کا عدم تعین.
    .
    ۱۵.
    ابن ملقن نے اس سے مروی ایک حدیث کو صحیح بتایا
    (البدر المنیر ج ۸ ص ۱۸۸.)
    .
    ۱۶.
    ابن عبدالهادی نے اسکی سند کو اسناد جید بتایا
    (تنقیح التحقیق ج ۴ ص ۴۴۴. نیز دیکھیں نصب الرایه ص ۵۱۵ کتاب الطلاق باب اللعان)
    زیعلی نے بھی اسکو نقل کر کے سکوت اختیار کیا.
    .
    یه کل ۱۵ محدثین هیں جن سے محمد بن عثمان کی توثیق کی ثابت هے.
     
  3. ‏جنوری 26، 2019 #3
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اب وه اقوال جو ایک محدث سے مختلف فیه هیں.
    .
    علامه ذهبی نے ضعف, ضعیف اور جمهور نے ضعیف بتایا.
    (العبر ج ۱ ص ۳۴, التاریخ السلام ج ۲ ص ۲۵. و ذکر من یعتمد قوله فی الجرح والتعدیل)
    .
    پهلی بات تو یه هے که ضعف بهت هلکی پلکی جرح هے اور ضعیف جرح مفسر نهیں اور جمهور والی بات تو ثابت نهیں وه جمهور کهاں هیں.؟
    دوسری بات یه هے خود علامه ذهبی نے توثیق بھی کی هے.
    ذهبی کھتے هیں
    محدث الکوفه فی وقته وقد تکلم فیه
    (العلو ج ۲ ص ۱۱۹۸.)
    اور التذکره میں کھتے هیں محمد بن عبدالله مطین ثقه مطلقا ولیس کذلک العبسی
    (التذکره ۶۶۲.)
    اور پهر ایک جگه کھتے هیں محمد بن عبدالله مطین اوثق منه
    (السیر ج ۱۴ ص ۴۲.)
    اور پهر تلخیص المستدرک میں اسکی روایت کو شرط مسلم بھی کها
    (ح ۲۷۹۴, ج ۲ ص ۱۹۶.)
    اور (کتاب العرش ج ۲ ص ۲۶۳) پر کھتے هیں "محمد بن عثمان حافظ اهل الکوفه... سمع عامه شیوخ الائمه."
    .
    جب تعارض هو تو یا تطبیق دی جاتی هے یا پهر اقوال ساقط کردیے جاتے هیں
    متناقض اقوال کے بارے میں احناف کا اصول کیا هے.
    جب ایک هی محدث سے جرح وتعدیل میں اختلاف هو تو.
    حنفی حضرات کے نزدیک ترجیح تعدیل کو هوتی هے.
    (انهاء السکن ص ۱۰۵, قواعده علوم ص ۲۶۵ حاشیه ابوغده صاحب, الرفع والتکمیل ص ۱۷۲, ۱۷۳, انهاء السکن ص ۶۴.)
    .
    حافظ ابن حجر
    التلخیص میں ضعیف کھتے هیں
    (التلخیص ج ۴ ص ۲۹.)
    اور (الامالی المطلقه ۲۰۴) پر کھتے هیں
    "فیه بعض الضعف لکنه لم یترک"
    .
    اب اسکے مخالف کھتے هیں
    "فیه مقال مع انه کان من الحفاظ"
    (موافقه الخبر الخبر ج ۱ ص ۲۴۷)
    (التلخیص ج ۴ ص ۲۹) پر
    "لا یستحق ان یحکم علی احادیثه بالوضع"
    اور ابن حجر نے اس سے مروی ایک روایت کی سند کے بارے کها
    "اسناده لا باس به"
    (الدرایه فی تخریج احادیث الهدایه ج ۲ ص ۷۶. ۱۷۰)
    .
    حنفی حضرات کے نزدیک ترجیح تعدیل کو هوتی هے.
    (انهاء السکن ص ۱۰۵, قواعده علوم ص ۲۶۵ حاشیه ابوغده صاحب, الرفع والتکمیل ص ۱۷۲, ۱۷۳, انهاء السکن ص ۶۴.)
    .
    ایسے هی شیخ البانی هیں لیکن ایک جگه اپنا فیصله سنتے هیں
    "وهذا اسناد حسن رجاله کلھم ثقات رجال الشیخین غیر محمد بن عثمان بن ابی شیبه و فیه کلام لا ینزل حدیثه عن رتبه الحسن ان شاءالله کما بینته فی مقدمه مسائل ابن ابی شیبه شیوخه تالیف محمد بن عثمان هذا."
    (الصحیحه ج ۴ ص ۱۵۶ ح ۱۶۲۱.)
    .
    خلاصه کلام محمد بن عثمان بن ابی شیبه جمهور کے نزدیک حسن الحدیث راوی هے بعض حضرات کا اسکو ضعیف بتانا مردود هے اور معاصرین کی جرح کا کوئی اعتبار نهیں. والله اعلم.
     
  4. ‏جنوری 27، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ عبارت غلط نقل کی گئی ہے ، تاریخ بغداد میں صحیح عبارت یہ ہے :
    سألت البرقاني عن ابن أبي شيبة، فقال: لم أزل أسمع الشيوخ يذكرون أنه مقدوح فيه.
    میں نے برقانیؒ (علامہ احمد بن محمدم 425ھ)سے محمدؒ بن عثمان بن ابی شیبہ کے متعلق پوچھا ،تو انہوں نے کہا کہ میں شیوخ سے سنتا آرہا ہوں کہ محمد بن عثمان مجروح ہے "
    اور "سؤالات حمزہ السہمی " میں ان الفاظ سے ہے :
    وسألته عن محمد بن عثمان بن أبي شيبة فقال كان يقال أخذ كتاب أبي أنس وكتب منه فحدث
    علامہ ابوالقاسم حمزہ السہمی (المتوفی 427ھ) کہتے ہیں کہ میں امام دارقطنیؒ (المتوفى: 387 ھ)سے محمدؒ بن عثمان بن ابی شیبہ کے متعلق پوچھا ،تو انہوں نے فرمایا : "کہا جاتا ہے " کہ انہوں نے ابو انس کی کتاب لی ،اور اس سے لکھا (یعنی نقل کیا ) او پھر ان روایات کو آگے (بالاسناد) بیان "
    دیکھئے سؤالات حمزہ
    https://archive.org/details/SualatHamza/page/n98
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہ دو عبارتیں نمونہ کے طور پر بتائی ہیں ، ورنہ حقیقت میں سارا مضمون (تینوں پوسٹیں ) اسی طرح کی غلطیوں سے بھری پڑی ہیں ،
    آپ اپنے اس مضمون کو کاپی کرکے اس عمام عبارتوں پر نظرثانی کرکے اس میں موجود عبارتوں کو درست کریں ،
     
    Last edited: ‏جنوری 27، 2019
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 27، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    تاریخ بغداد میں موجود عبارت دیکھئے :
    أَخْبَرَنَا محمد بن عبد الواحد، قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بن العباس، قَالَ: قرئ على ابن المنادي وأنا أسمع، قَالَ: أبو جعفر محمد بن عثمان بن أبي شيبة أكثر الناس عنه على اضطراب فيه.
    اس کا اردو میں آسان ترجمہ دیکھئے :
    امام (ابو جعفر محمدبن ابی داود ) المُنَادِي (المتوفی 271ھ ) کہتے ہیں :لوگوں نے محمد بن عثمان میں اضطراب کے باوجود کثرت سے اس سے احادیث نقل کی ہیں ،

    پھر دوسری عبارت میں امام (ابو جعفر محمدبن ابی داود ) المُنَادِي کہتے ہیں کہ :
    وذكر ابن المنادي وفاته، ثم قَالَ: كنا نسمع شيوخ أهل الحديث وكهولهم يقولون: مات حديث الكوفة بموت موسى بن إسحاق ومحمد بن عثمان وأبي جعفر الحضرمي وعبيد بن غنام.
    یعنی ابن المنادی ؒ نے محمد بن عثمان کی وفات کا ذکر کیا ،اور فرمایا :ہم نے اہل حدیث کے شیوخ اور بڑے بزرگوں کو کہتے سنا ہے کہ :موسیٰ بن اسحاق ،محمد بن عثمان ، ابوجعفر الخضرمی ، اور عبید بن غنام رحمہم اللہ کی وفات سے گویا کوفہ میں حدیث کی موت ہوگئی ۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ آخری عبارت تو محمد بن عثمان کی زبردست تعریف ہے ،
     
  6. ‏جنوری 27، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اگر آپ امام محمدؒ بن عثمان بن ابی شیبہ کے حالات وترجمہ پڑھنے ،لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ان کی کتاب "العرش وما روی فیہ " کا جدید ایڈیشن جو مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہے اس میں ان کے بارے جرح و تعدیل کے اکثر اقوال ایک جگہ مجتمع مل جائیں گے ،
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں