1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ہیثمی کے حکم الحدیث کی وضاحت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاضی786, ‏نومبر 26، 2014۔

  1. ‏نومبر 26، 2014 #1
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم

    امید ہے سب خیریت سے ہوں گے

    سوال یہ پوچھنا تھا کہ امام ہیثمی اپنی مجمع الزوائد میں کبھی کہتے ہیں

    رجالہ ثقات

    اور کبھی کہتے ہیں

    رجالہ رجالہ الصحیح

    دونوں میں فرق کیا ہے؟

    نیز کیا مجع الزوائد میں انہوں کبھی سند کے اتصال پر بھی بات کی ہے؟؟؟

    شکریہ
     
  2. ‏نومبر 27، 2014 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ملتقیٰ اہل الحدیث پر اس سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے :
    في كتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد تارة يحكم الهيثمي على الحديث بقوله: ( رجاله رجال الصحيح)
    وتارة:(رجاله ثقات)
    وتارة: (رجاله موثقون)
    فما الفرق بينها؟
    وهل هناك من تكلم على منهج الهيثمي في أحكامه سواء في بحث أو درس علمي؟
    أرجو الإفادة بارك الله فيكم
    --------------------------
    و عليكم السلام و رحمة الله و بركاته،
    حياك الله أخي الكريم.
    أما قول الهيثمي رحمه الله رجاله رجال الصحيح أي رجال الإسناد من الرجال الذين يروي لهم أحد الشيخان البخاري أو مسلم.
    رجاله ثقات أي رجاله كلهم اجتمع فيهم العدالة و الضبط و الدين فلا متكلم فيهم.
    أما رجال موثقون فهو أقل درجة من ثقات فهناك من وثقهم و هناك غير ذلك، فيكون بذلك توثيقهم لين.
    و الله تعالى أعلم.

    علامہ نورالدین ہیثمیؒ اپنی کتاب "مجمع الزوائد" میں جب کسی روایت کے ساتھ "رجالہ رجال الصحیح کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے رواۃ سے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ میں سے کسی نے روایت لی ہے ؛
    اور "رجالہ ثقات " کا مطلب ہے کہ اس روایت کے تمام راوی عادل و ضابط ہیں ان میں سے کوئی بھی مجروح اور متکلم فیہ نہیں "
    اور "موثقون " کا درجہ "ثقات " سے کم ہے ،واللہ اعلم
    https://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=213628
     
    Last edited: ‏ستمبر 22، 2019
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 27، 2014 #3
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    بہت شکریہ بھائی اپ نے جواب عنایت کیا

    اس کی بھی وضاحت کر دیں

    نیز کیا مجع الزوائد میں انہوں کبھی سند کے اتصال پر بھی بات کی ہے؟؟؟

    یعنی اگر وہ کہیں کہ رجالہ رجال الصحیح

    تو کیا یہ سند کے اتصال پر دلیل ہو گی؟

    کیونکہ اسنادہ حسن تو میری نظر سے گذری ہے

    اسنادہ صحیح کے الفاظ امام صاحب نے کہیں اس کتاب میں فرمائے ہیں؟

    شکریہ
     
  4. ‏نومبر 27، 2014 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    _____________________________-

    [بَابُ زَكَاةِ أَمْوَالِ الْأَيْتَامِ]
    4359 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «اتَّجِرُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لَا تَأْكُلُهَا الزَّكَاةُ» ".
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَخْبَرَنِي سَيِّدِي وَشَيْخِي أَنَّ إِسْنَادَهُ صَحِيحٌ.
    ------------------------
    [بَابُ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ]
    5332 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ: مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ: مِنْكَ لَعَمْرِي. قَالَ: طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ. قَالَ: اذْهَبْ فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَغَسَلَتْهُ.
    رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ بَعْدَ الْأَمْرِ بِغَسْلِهِ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْحَاجَّ الشَّعِثُ التَّفِلُ ".
    وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. إِلَّا أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ يَزِيدَ الْخُوزِيَّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
     
  5. ‏نومبر 27، 2014 #5
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    بہت نوازش بھائی

    خدا اس کی جزا دے آپ کو

    آمین
     
  6. ‏دسمبر 02، 2014 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  7. ‏ستمبر 21، 2019 #7
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    898
    موصول شکریہ جات:
    242
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    ایک سوال یہ ہے کہ کیا امام ہیثمی متساہل ہیں ؟
    کیا رواة کی توثیق میں ان کا قاعدہ ابن حبان والا ہے ؟
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظہ اللہ
     
  8. ‏ستمبر 22، 2019 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس سوال کے جواب کیلئے آپ یمن کے جید عالم الشیخ
    أبو الحسن علي بن أحمد بن حسن الرازحي

    کا مقالہ "القول الجلي في تحسينات الهيثمي " پڑھیئے ،ان شاء اللہ آپ کے علم میں اضافہ ہوگا ؛
     
  9. ‏ستمبر 23، 2019 #9
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    898
    موصول شکریہ جات:
    242
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    محترم شيخ عربي سے معذور ہوں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں